Close Menu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    Home»کالم»بے بسوں کے درد کو سمجھنے والی ’مدر ٹریسا‘
    کالم

    بے بسوں کے درد کو سمجھنے والی ’مدر ٹریسا‘

    محمد اشتیاقBy محمد اشتیاقاگست 12, 2017کوئی تبصرہ نہیں ہے۔4 Mins Read2 Views
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest WhatsApp Email

    پاکستان میں سیاسی ہلچل سے متعلق خبروں اور تبصروں کے باوجود ایک افسوسناک خبر ایسی آئی جسے کسی طور نظر انداز نہیں کیا جا سکا۔

    ایک خاتون ڈاکٹر جس کا آبائی ملک جرمنی تھا، لیکن اُن کا دل پاکستان میں دھڑکتا تھا۔ ڈاکٹر روتھ کیتھرینا مارتھا فاؤ 87 برس کی عمر میں کراچی میں 10 اگست کو  انتقال کر گئیں۔

    ڈاکٹر روتھ پہلی مرتبہ جب پاکستان آئیں تو اُن کی عمر 30 برس تھی جس کے بعد اُنھوں نے اپنی زندگی کے لگ بھگ 57 سال اسی ملک میں گزار دیئے۔اُنھوں نے اپنی تمام زندگی جزام یعنی ’کوڑھ‘ کے خاتمے اور اس مرض میں مبتلا افراد کی خدمت میں گزار دی اور اسی بنا پر اُنھیں پاکستان کی ’مدر ٹریسا‘ کہا جاتا تھا۔

    ڈاکٹر روتھ اور اُن کی پاکستان سے دلچسپی کا قصہ بھی کچھ عجیب ہے، اُنھیں کیتھولک چرچ نے 1960 میں بھارت بھیجا تھا لیکن اس سفر کے دوران وہ کراچی رکیں جہاں اُنھوں نے ایک ڈسپنسری میں جزام یا ’کوڑھ‘ کے ایک مریض کو بہت ہی مشکل حالت میں دیکھا۔

    شاید یہ ہی وہ مناظر تھے، جس کے بعد وہ بھارت گئیں تو لیکن کچھ ہی وقت کے بعد وہ کراچی واپس آ گئیں اور یہیں زندگی گزارنے اور جزام کے مریضوں کے لیے زندگی وقف کرنے کا فیصلہ کیا۔اُن کا کہنا تھا کہ کسی کو تکلیف دیکھنا اور کچھ نا کرنا، اُن کے لیے ممکن نہیں۔

    کراچی کا میکلوڈ روڈ، جسے اب آئی آئی چندریگر روڈ کہا جاتا ہے، وہاں ریلوے لائن کے قریب پچاس کی دہائی کی اواخر میں جزام کے مریضوں کی بستی ہوا کرتی تھی اس مرض کے شکار افراد کی مشکلات کا تصور بھی دل دہلا دینے والا تھا کیوں کہ یہ مریض چوہوں کی خوراک بن گئے۔یہ اُس وقت کی بات ہے جب جزام یا کوڑھ کے مریضوں کو الگ کر دیا جاتا تھا اور لاعملی کے باعث کوڑھ کے مرض کو ’’گناہوں کی سزا‘‘ تصور کیا جاتا تھا۔ایک ایسے وقت جب ان مریضوں کے قریب جانے کے لیے کوئی تیار نہیں تھا ڈٓاکٹر روتھ فاؤ نے جزام سے متاثرہ افراد کو علاج کی مفت سہولت کی فراہم کے لیے ایک جھونپڑی میں کلینک کھولا۔بعد ازاں یہ کلینک ’میری ایڈیلیڈ لیپروسی سینیٹر‘ یا مرکز میں بدل گیا اور ڈاکٹر روتھ فاؤ اس مرکز سے متصل ایک چھوٹے سے کمرے میں اپنی تمام زندگی گزار دی۔

    اس طبی مرکزی کے عملے کے مطابق ڈٓاکٹر روتھ فاؤ نے کبھی چھٹی نہیں کی، شاید یہ اُنھی ہی کی تربیت کا اثر تھا کہ جس روز ڈاکٹر روتھ کا انتقال ہوا اُس دن بھی کلینک کھلا تھا اور مریضوں علاج جاری رہا۔

    ڈاکٹر روتھ کو اُن کی خدمات کے اعتراف میں پاکستان کے اعلیٰ ترین سول اعزازات، ستارہ قائداعظم، ہلال امتیاز اور ہلاک پاکستان سے نوازا گیا۔محض پاکستان ہی نے اُنھیں دنیا بھر میں اُن کی خدمات کو سراہا جاتا رہا اور اُنھیں کئی اعزازات بھی دیئے گئے۔لیکن اُن کا سب سے بڑا اعزاز وہ عزت اور قدر و منزلت ہے جس کا اعتراف معاشرے کے مختلف طبقوں سے تعلق رکھنے والے کر رہے ہیں اور حکومت نے اُن کی تدفین سرکاری طور پر کرنے کے احکامات جاری کیے۔بلا شبہ اُنھوں نے بڑی تعداد میں لوگوں کی زندگیاں بدلیں اور ایک مثال قائم کی۔ ڈاکٹر روتھ کی کوششیں ہی تھیں جن کی بنا پر عالمی ادارہ صحت نے 1996 میں کہا کہ پاکستان میں جزام یا ’کوڑھ‘ پر قابو پا لیا گیا ہے۔انسانی خدمت کرنے والی جرمن خاتون نے اپنی تمام زندگی سادگی میں گزار دی۔

    لیکن اُن کی خدمت لوگوں کے دلوں میں گھر کر گئی اور نا صرف وہ جزام کے خلاف جنگ جیت گئیں بلکہ وہ ایک ایسا درس بھی دے گئیں جس کی بطور معاشرہ ہم سب کو ضرورت ہے۔

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleبیوی کے حقوق
    Next Article خیبرپختونخوا حکومت کے خلاف تحریک عدم اتحاد میں اے این پی ، پی پی پی بڑی رکاوٹ
    محمد اشتیاق

    Related Posts

    جنگ مذاق نہیں

    اپریل 25, 2025

    امید کا ایک اور قطرہ

    اکتوبر 7, 2024

    پشتو اکیڈمی کوئٹہ ارتقا اور تنزل کے دو راہے پر

    ستمبر 17, 2024

    Comments are closed.

    تجزیات آن لائن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    © 2026 تجزیات آن لائن، جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.

    Powered by
    ►
    Necessary cookies enable essential site features like secure log-ins and consent preference adjustments. They do not store personal data.
    None
    ►
    Functional cookies support features like content sharing on social media, collecting feedback, and enabling third-party tools.
    None
    ►
    Analytical cookies track visitor interactions, providing insights on metrics like visitor count, bounce rate, and traffic sources.
    None
    ►
    Advertisement cookies deliver personalized ads based on your previous visits and analyze the effectiveness of ad campaigns.
    None
    ►
    Unclassified cookies are cookies that we are in the process of classifying, together with the providers of individual cookies.
    None
    Powered by