امریکا کے بانیوں سے لے کرآج تک کی امریکی قیادت مختلف مواقع پر اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں بہت مثبت خیالات کا اظہار کرتی چلی آئی ہے۔ خود امریکا اور دنیا کے دیگر خطوں میں بسنے والے مسلمانوں میں سے بھی بہت سے امریکی قیادت کے ان خیالات کو ان کے دل کی ترجمانی سمجھتے ہیں۔ تاہم آج دنیا بھر کے مسلمانوں کی اکثریت امریکا کو اپنا دشمن سمجھتی ہے۔ اس مسئلے کی بہت سی تہیں ہیں جنھیں شاید آج پوری طرح سے ہم نہیں پلٹ سکیں گے تاہم بعض اہم اور بنیادی پہلوؤں کا ذکر کرکے حقیقت کا کھوج لگانے کی کوشش کریں گے۔
جارج واشنگٹن نے 1783میں لکھا کہ ’’امریکا کا سینہ تمام قوموں اور مذاہب کے ستم رسیدہ اور جبر کے شکار افراد کو گلے لگانے کے لیے کشادہ ہے۔ ہم ان کا خیر مقدم کریں گے کہ وہ ہمارے تمام حقوق اور استحقاق میں شریک ہوں۔۔۔ وہ کسی بھی فرقے کے مسلمان، یہودی یا مسیحی یا وہ ملحد بھی ہوسکتے ہیں۔‘‘
جارج واشنگٹن کے نائب صدر جان ایڈمز نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دنیا میں ’’صداقت کے سنجیدہ جُویا‘‘ میں سے ایک کے نام سے یاد کیا۔ جان ایڈمز ہی نے 1797 میں یہ بیان دیا کہ امریکی حکومت کا ’’بذات خود مسلمانوں کے مذہب یا قوانین کے خلاف کوئی کردار یا مخاصمت نہیں ہے۔‘‘ بینجمن فرینکلن نے فلاڈلفیا میں تمام مذاہب کے لیے ایک عبادت گاہ کی تعمیر کے لیے مالی امداد کی تاکہ ’’اگر قسطنطنیہ کے مفتی کو بھی امریکا میں اسلام کی اشاعت کے لیے کوئی مبلغ بھیجنا ہو تو اسے یہاں منبر دستیاب ہو۔‘‘
یاد رہے کہ اس وقت قسطنطنیہ عثمانی خلافت کا دارالخلافہ تھا اور ایشیا،یورپ او رافریقہ کے وسیع علاقے اس کے زیراقتدار تھے۔
1777میں ورجینیا کے نوآبادیاتی قانون ساز فورم کے لیے مذہبی آزادی پر لکھی گئی ایک دستاویز میں تھامس جیفرسن نے کہا کہ ’’یہودی، غیر یہودی، مسیحی، مسلمانوں، ہندو اورکسی بھی گروہ کے لادین‘‘ افراد کا یہاں پر خیر مقدم کیا جائے گا۔ تھامس جیفرسن کا ایک مجسمہ جامعہ ورجینیا میں ایستادہ ہے۔ اس کے ہاتھ میں ایک تختی ہے جس پر ’’مذہبی آزادی1786‘‘ کے الفاظ لکھے ہوئے ہیں اور ان کے نیچے گاڈ، یہوداہ اور براہما کے ساتھ لفظ اللہ کندہ ہے۔
یہ عبارتیں ہمیں ایک مرتبہ پھر جرنی ان ٹو امریکا کے ہدایتکار کار کریگ کانسیڈائن نے اپنے ایک مضمون’’امریکی قوم کے بانی، اسلام کے بارے میں کیا کہتے ہیں‘‘ میں یاد دلائی ہیں۔ ان کا یہ مضمون سی جی نیوز نے شائع کیا ۔
مذکورہ بالا زیادہ تر عبارتیں امریکی بانیوں کے ذہن میں امریکا کے سیکولر تصور کی حکایت کرتی ہیں جس کے مطابق ریاست کو غیر فرقہ وارانہ ہونا چاہیے اور سیکولر حکومت کو تمام مذاہب و ادیان کو ایک ہی نظر سے دیکھنا چاہیے۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ دنیا کے بعض ممالک میں ایسے عبادت خانے موجود ہیں کہ جہاں مختلف مذاہب اور ادیان کے لوگ اپنے طریقوں کے مطابق عبادت کر سکتے ہیں۔ راقم نے ترکی میں ایک ایسی عبادت گاہ دیکھی ہے جس کے مختلف حصوں میں مسلمان، یہودی اور عیسائی اپنے طریقوں کے مطابق عبادت کر تے ہیں۔اس سے زیادہ عظیم تر بات ہماری نظر میں یہ ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مسجد نبویؐ میں آپؐ کی زندگی ہی میں خود آپ کی اجازت سے بلکہ آپ کی خواہش پر عیسائیوں نے اپنے طریقے کے مطابق عبادت انجام دی۔ یہ بات اس لحاظ سے عظیم تر ہے کہ جس عبادت خانے کا راقم نے ذکر کیا وہاں ایک بڑے کمپلیکس میں مختلف ادیان کے ماننے والوں کے لیے عبادت کرنے کا اہتمام الگ الگ عمارتوں میں کیا گیا تھا جبکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک ہی صحن اور ایک ہی چھت کے نیچے جہاں مسلمان نماز پڑھتے تھے وہاں عیسائیوں کو بھی اپنے طریقے کے مطابق نماز پڑھنے کی اجازت بلکہ ترغیب دی۔
اب آئیے عصر حاضر کے چند امریکی راہنماؤں کے اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں بیانات کا مطالعہ کرتے ہیں:
سابق امریکی صدر رونلڈریگن جنھوں نے سوویت یونین کے خلاف مسلمان مجاہدین کی تحریکیں اور تنظیمیں کھڑی کیں، ان کا کہنا ہے کہ یہ مجاہدین اخلاقی لحاظ سے امریکا کی بنیاد رکھنے والے ہمارے آبا کے درجے کے لوگ ہیں۔
موجودہ امریکی قیادت بھی مسلمانوں اور گاہے اسلام کے بارے میں مثبت خیالات کا اظہار کرتی ہے۔ 5 دسمبر2002 کو عیدالفطر کے موقع پر اسلام سنٹر واشنگٹن ڈی سی میں امریکی صدر جارج بش نے کہا :
امریکہ میں ہمارے مسلمان شہری، کاروبار، سائنس، قانون، میڈیسن اورتعلیم کے علاوہ کئی شعبوں میں بہت سی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ مسلح افواج اور میری انتظامیہ میں مسلمان اپنے دیگر ساتھی ملازمین کے ساتھ مل کر ہماری قوم کے آئیڈیلز آزادی اور پرامن دنیا میں انصاف کی بالادستی کے لیے کوشاں ہیں۔
اس بیان سے ایک روز پہلے صدر جارج بش ہی نے دنیا کے مسلمانوں کے نام اپنے پیغام عیدالفطر میں کہا کہ اسلام میرے ملک کے دسیوں لاکھ اور پوری دنیا کے ایک ارب سے زیادہ لوگوں کے لیے امید اور راحت کا باعث ہے۔ رمضان ایک ایسا موقع ہے جو یاد دلاتا ہے کہ اسلام نے کسب دانش کی ایک پربار تہذیب کو وجود بخشا جس نے انسانیت کو فائدہ پہنچایا ہے۔
جارج ڈبلیو بش ہی نے 15نومبر2001 کو رمضان المبارک کے موقع پر جاری کیے گئے اپنے ایک بیان میں کہا کہ جس اسلام کو ہم جانتے ہیں وہ ایک ایسا دین ہے جو ایک اللہ کی عبادت پر یقین رکھتا ہے جیسا کہ قرآن پاک میں نازل ہوا ہے۔ اسلام انفاق،رحم دلی اور امن کی قدر اور اہمیت سکھاتا ہے۔
امریکی صدر باراک اوباما کہتے ہیں کہ امریکا اور اسلام ایک دوسرے کے مدمقابل نہیں ہیں اور ان کو ایک دوسرے کے مدمقابل ہونے کی ضرورت بھی نہیں بلکہ اس کے بجائے دونوں کے بہت سے مشترکات ہیں ۔انصاف،ترقی ،برداشت اور سارے انسانوں کی عظمت کے حوالے سے ان کے اصول مشترک ہیں۔
صدر باراک اوباما کا ایک اور بیان بھی بہت معنی خیز ہے:
تجربہ میرے اس یقین کی توثیق کرتا ہے کہ امریکا اور اسلام کے درمیان اشتراک کی بنیاد اس پر ہونا چاہیے جو اسلام حقیقتاً ہے نہ کہ اس پر جو اسلام نہیں ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ بحیثیت امریکی صدر یہ میری ذمہ داری ہے کہ جہاں بھی اسلام کی منفی توجیہ کی جائے میں اس کے خلاف قیام کروں۔
گہری نظر سے دیکھا جائے تو یوں لگتا ہے کہ امریکا کے بانی کہیں زیادہ صاف دل، سادہ اور اپنے نظریے میں واضح تھے لیکن جوں جوں وقت گزرتا چلا گیا امریکی قیادت ان لوگوں کے ہاتھ میں آئی جو اپنے بانیوں سے زیادہ ’’ذہانت‘‘ کا مظاہرہ کرنے لگے ۔ لفظوں کی بازی گری میں وہ بہت آگے چلے گئے اور عمل کی دنیا میں بھی وہ بہت مختلف ثابت ہونے لگے۔ جو عبارتیں ہم نے صدر ریگن اور بعد کے امریکی صدور کی نقل کی ہیں ان سے تبدیل ہوتی ہوئی امریکی قیادت کا اندازہ کیا جاسکتا ہے۔
ساری تہذیبوں کو ایک نظر سے دیکھنے والوں اور سارے مذاہب کا احترام کرنے والوں کے’’جانشینوں‘‘ نے انسانیت کے ساتھ کیا کیا۔ جب امریکا پر سرمایہ داری نظام کے نمائندے برسراقتدارآئے تو وہ عالمی سلطنت کا خواب دیکھنے لگے۔ انھوں نے برطانوی زوال پذیر سامراج کی خالی جگہ پُر کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ دوسری جنگ عظیم میں جب برطانیہ شکست کے بالکل قریب تھا تو امریکی قیادت نے اپنے اس فیصلے کا اعلان جاپان کے دو شہروں ہیرو شیما اور ناگا ساکی پر ایٹم بم برسا کر کردیا۔ ان کے نعرے تو وہی تھے لیکن ان کے مقاصد تبدیل ہو گئے۔ ویت نام پر تباہی اور بربادی مسلط کرنے والے جارج واشنگٹن کے پیروکار نہیں ہوسکتے۔

سوویت یونین کو شکست دینے کے لیے امریکا نے مذہب کو جس طرح سے ہتھیار کے طور پر استعمال کیا ہے اُس نے برطانوی سامراج کے آخری دور کی یاد تازہ کردی اور سیکولرازم کے بارے میں امریکا کے بانیوں کے تصورات کوگہنادیا۔

افسوس امریکی صدر ریگن نے اپنے لے پالک ’’مجاہدین‘‘ کو امریکا کے بانیوں کی اخلاقیات کا نمائندہ بلکہ ہم پلہ قرار دے دیا۔ یہ وہی مجاہدین ہیں جن کا سرخیل بعد میں اسامہ بن لادن قرار پایا اور جن کے خلاف بعد ازاں امریکی قیادت نبردآزما رہی۔
انسانیت کو امن کا پیغام دینے والے اور اسلام اور مسلمانوں کی تعریف کرنے والے جارج ڈبلیو بش نے امریکا میں دو ٹاورز کے گرنے پر دو مسلمان ملکوں کی اینٹ سے اینٹ بجا دی۔ عراق میں بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کی موجودگی کا عالمی جھوٹ گھڑ کر اس پر چڑھائی کردی جس کے نتیجے میں دس لاکھ سے زیادہ انسان اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ۔کیا مسلمانوں کا قتل عام کرنے والے یہ امریکی قائدین اپنے آپ کو اسلام اورمسلمانوں کا ہمدرد کہنے میں حق بجانب ہیں؟ عراق کا تو کوئی شخص نیویارک کے جڑواں میناروں کے گرانے میں شریک نہ تھا اور خود کوئی افغانی بھی اس واقعے میں شریک ثابت نہ ہوسکا لیکن ابھی تک امریکی فوجی افغان عوام پر گولہ و بارود کی بارش کرنے کے لیے افغانستان میں موجود ہیں۔
یوں معلوم ہوتا ہے کہ باراک اوباما تمام پچھلے امریکی صدور سے کچھ زیادہ ہی ’’ذہین‘‘ ثابت ہوئے۔وہ مسلمانوں کے خلاف اپنی فوجی کارروائیوں کے لیے جس طرح کے جواز کا سہارا لیتے رہے، اُسے ان کے اس بیان میں ایک دفعہ پھر تلاش کیجیے:
’’تجربہ میرے اس یقین کی توثیق کرتا ہے کہ امریکا اور اسلام کے درمیان اشتراک کی بنیاد اس پر ہونا چاہیے جو اسلام حقیقتاً ہے نہ کہ اس پر جو اسلام نہیں ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ بحیثیت امریکی صدر یہ میری ذمہ داری ہے کہ جہاں بھی اسلام کی منفی توجیہ کی جائے میں اس کے خلاف قیام کروں۔‘‘

گویا وہ اسلام کے خلاف نہیں اسلام کی منفی توجیہ کے خلاف جنگ کررہے ہیں۔وہ امریکی صدر نہ ہوئے اسلام کے مفتی اعظم ہو گئے اور جو کچھ وہ اسلام کی توجیہ کریں گے وہی درست ہوگی اور جس کے خلاف وہ جنگ کریں گے وہ اسلام کی منفی توجیہ ہوگی۔

وہ اگر حماس کو دہشت گرد قرار دیں تو یہی اسلام کا منشا ہو گا۔ وہ ایران کے خلاف اقدام کریں تو یہ اسلام کی منفی توجیہ کے خلاف اقدام ہوگا۔وہ پرویز مشرف کی سرپرستی فرمائیں تو یہ اسلام کی مثبت توجیہ کی سرپرستی ہوگی۔ اے کاش خادم الحرمین شریفین اور دیگر مسلمان ریاستوں کے سربراہ امریکی صدر کی اسلام کے بارے میں مثبت توجیہ کو قبول نہ کرتے لیکن اب ڈونلڈ ٹرمپ کا دور ہے، جو بات کسی حد تک پردے میں تھی، باہر آگئی۔ اُن کا دورہءِ ریاض، ابھی تک سیاسی محفلوں میں موضوعِ سخن بنا ہوا ہے۔ جس دوران اُنھوں نے ’’خوبصورت امریکی ہتھیاروں‘‘ کی تعریف کی اور تباہ حال مشرقِ وسطیٰ کے تنزل پذیر مُلک سعودیہ کے ہاتھوں ایک سو دس بلین ڈالر اسلحے کی فروخت کا معاہدہ کیا، جب وہ ریاض سے تل ابیب پہنچے تو وہ پہلے امریکی صدر ہیں جن کی اس بات سے اسرائیلی قیادت کے دلوں میں لڈو پھوٹنے لگے کہ اس علاقے میں دو ریاستی حل کے علاوہ ہم ایک ریاستی حل پر بھی غور کر سکتے ہیں، گویا آئندہ فلسطین نام کی کسی ریاست کے بغیر بھی مسئلے کا حل نکل سکتا ہے۔ اُن کے مشرقِ وسطیٰ سے تشریف لے جانے کے بعد جب چند عرب ممالک نے قطر پر ایسی پابندیاں عائد کر دیں کہ جن کی مثال نھیں ملتی تو مسٹر ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ ٹویٹ کرنا ضروری سمجھا کہ ایسا کرنے کے لیے میں ہی اپنے دورہءِ ریاض میں کہہ آیا تھا۔ اپنی انتخابی مہم کے دوران میں اُنھوں نے مسلمانوں کے لیے جن خیالات کا اظہار کیا وہ اِس پر مستزاد ہیں۔
ایسے میں اگر اس تشویش کا اظہار کیا جائے کہ امریکا رفتہ رفتہ اپنے بانیوں کے ارمانوں اور آرزوؤں سے دور ہوتا جا رہا ہے، جس سے یقینی طور پر امریکی معاشرہ بھی منفی طور پر متاثر ہوگا اورجس سے انسانیت کی اُمید کے اِس چراغ کی لو مدھم پڑتی چلی جائے گی جسے امریکا کے اُن بانیوں نے روشن کیا تھا جو فطرتِ انسانی کی وسیع اور گہری رُوح لے کر سامنے آئے تھے، یقیناً یہ ایک المیہ ہی ہوگا۔اس کے لیے ضرور ی ہے کہ خود امریکا کے روشن فکراورباضمیر اہل دانش پوری دردمندی کے ساتھ سامنے آئیں اورزوالِ آدمیت کے اِس مرحلے کو مزید زوال کی طرف جانے سے روکیں، اگرچہ اس وقت بھی ایسے افراد کی موجودگی سے انکار نھیں کیا جا سکتالیکن ابھی اُن کی تعداد اور قوت اتنی نھیں کہ جو حالات کا رُخ موڑ سکے۔

Share.

Comments are closed.

Exit mobile version