مغرب میں ہونے والے دہشت گردی کے ان واقعات کو داعش کے پھیلاؤ اور اثر و نفوذ سے جوڑا جاتا ہے لیکن پیرس اور کیلی فورنیا کے واقعات سے منسلک دو پہلو اہم ہیں۔ ایک مختلف النوع پس منظر سے تعلق رکھنے والے نوجوان خصوصاً خواتین کا دہشت گردی کی وارداتوں میں ملوث ہونا اور دوسرا مذہبی اداروں کا کردار، جیسا کہ تاشفین ملک کے سلسلے میں الھدیٰ کا ذکر عام ہوا ہے۔

پہلے معاملے کا تعلق انتہا پسندی کے بدلتے ہوئے رجحانات سے ہے بالائی متوسط طبقات کے نوجوانوں میں یہ رجحانات خطرے کی حدوں کو چھونے لگے ہیں۔ اس کی مختلف سیاسی، سماجی، مذہبی اور نفسیاتی توجیحات کی جاتی ہیں اور ان موضوعات پر تحقیق مسلسل جاری ہے لیکن فی الوقت یہ یقین کرنے میں وقت درکار ہے کہ وہ کیا عامل ہے جو فرد کی یک دم تقلیب کر دیتا ہے اور وہ دہشت گردی کا ایندھن بننے پر تیار ہو جاتا ہے۔ لیکن یہ طے شدہ امر ہے کہ ایسے افراد دہشت گردی کے نیٹ ورکس سے منسلک ہونے سے پہلے مذہبی اجتماعیت کا حصہ بن چکے ہوتے ہیں اور عموماً ان کا یہ سفر غیر عسکری مذہبی جماعتوں اور تحریکوں سے شروع ہوتا ہے۔

غیر عسکری مذہبی تحریکیں ابہام کا شکار ہیں اور وہ دہشت گردی کی مکمل مخالف کرنے سے ہچکچاتی ہیں۔ مثلاً پاکستان میں دہشت گردی کے بارے میں تو یہ تحریکیں اور جماعتیں تقریباً اتفاق کرتی ہیں کہ یہاں پر یہ عمل جائز نہیں۔ لیکن دیگر ممالک حتیٰ کہ مسلم ممالک کے بارے میں ان کا نقطۂ نظر مختلف ہے۔ دہشت گرد رہنماؤں کی تکفیر سے اجتناب کرتی ہیں۔ ایسے بے شمار تضادات اور ابہامات ان جماعتوں کے پیروکاروں میں بے چینی اور اضطراب پیدا کرتے ہیں اور وہ واضح نقطہ نظر کی تحریکوں جو کہ عموماً عسکری نوعیت کی ہیں اور دہشت گردی کو اپنے مقاصد کے حصول کے لیے استعمال کرتی ہیں کی طرف مائل ہونے لگتے ہیں۔

مذہبی جماعتیں اور تحریکیں اس ابہام کا الزام اپنے اوپر لینے کے لیے تیار نہیں جب دینی مدارس یا ان سے منسلک تنظیموں کے وابستگان دہشتگردی کا ارتکاب کرتے ہیں تو جدید مذہبی ادارے ان سے اپنے آپ کو الگ کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور جب جدید تعلیمی اداروں سے نکلے ہوئے افراد دہشت گردی کا ارتکاب کرتے ہیں تو مدارس کے وابستگان انگشت نمائی دوسری جانب کرتے ہیں۔

یہ مسئلے کے ادارک سے انکار اور راہ فرار کے سوا کچھ نہیں۔ اس میں شک نہیں کہ مذہبی ادارے پاکستان میں ایک مذہبی سماج کو تشکیل دینے میں کامیاب ہو چکے ہیں اور مذہبیت کے رجحانات فروغ پذیر ہیں لیکن مذہبی رجحانات کو دہشت گردی کی دیمک سے شدید خطرات لاحق ہیں اس کا ادارک تمام مذہبی اداروں اور تحریکوں کو کرنا پڑے گا خواہ ان کا تعلق جدید اسلامی رجحانات کی تشکیل کرنے والے اداروں سے ہو یا روایتی مذہبی اداروں سے، ان کی مشترکہ کاوشوں کے بغیر مذہبی سماج کو دہشت گردی کے طوفان سے نہیں بچایا جا سکتا۔ اندازہ ہو جانا چاہیے کہ بات تاشفین ملک اور الھدیٰ تک پہنچ چکی ہے۔

Share.

Comments are closed.

Exit mobile version