عرب کے سادہ صحرائی معاشرے میں سادہ مگر گہرے دلائل کے ساتھ دین کی بنیادی تعلیمات پہنچا دی گئیں۔اجڈ بدو گہری علمی دلیلوں کو کب مانتے تھے۔ وقت گزرتا گیا مسلمان معاشرے میں جغرافیائی توسیع ہوتی رہی۔سرزمین حجاز کتابوں اورمطالعے کی سرزمین نہ تھی۔ اس لیے بھی’’اقرا‘‘ سے آغاز سخن ہونا زیادہ معنی خیز ہوجاتا ہے۔ لکھنے پڑھنے کا شوق آسمان ہدایت سے اترنے والی کتاب کی برکت اور پیغمبر اسلامؐ کی ترغیب وتشویق سے پروان چڑھنے لگا۔
جب تہذیب وتمدن کے عالمی مراکز سے رابطہ ہوا تو دانش مندانِ عالم کی کتب سے آگاہی شروع ہوئی، کتابوں کے ترجمے ہوئے۔ فلسفہ،ریاضی اورہیئت وغیرہ کے قدیمی علوم نے علم کے نئے معرکے برپا کردیے۔ سماجی اور عقیدتی موضوعات پر مبنی کتابوں نے نئے موضوعات چھیڑ دیے۔نئے نئے سوالات پیدا ہوئے۔ کیا، کیوں اور کیسے زبانوں پر آنے لگا۔ اسلامی تعلیمات اور خاص طور پر عقائد کے بارے میں نئی موشگافیاں ہونے لگیں۔ان پر کلام ہونے لگا۔ کلام کے جواب میں کلام کیا جانے لگا۔عرب محاورے کے مطابق ’’الکلام یجرّالکلام‘‘ حقیقت بن گیا اوریوں علمِ کلام معرض وجود میں آنے لگا۔بعض موضوعات زیادہ اہمیت اختیار کر گئے۔سوال اور پھر سوال، جواب اورپھر جواب سے کلامی مکاتب فکر پیدا ہونے لگے۔اس حوالے سے افراط و تفریط بھی ہوئی۔ دینی عقائد اس کا موضوع تھے لہٰذا ان کلامی نظریات کو تقدس بھی حاصل ہونے لگا۔ اس سے بات بڑھ بھی گئی۔ تاہم اپنے مقام پر علم کلام کی ضرورت اور عقائد کی پڑتال، تبیین اور تعریف اور نتیجۃً دینی عقائد کی حفاظت میں اس کے کردار کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ جہاں تک افراط وتفریط کے اثراتِ بد کا تعلق ہے وہ آج سبق آموز بھی ہوسکتا ہے۔ ہماری نظر میں خاص طور پر اس کا جدلی انداز قابل نقد ہے۔

تہذیبوں میں ارتقاء کے مختلف مراحل ہوتے ہیں کبھی تبدیلیاں تیز رفتار ہوتی ہیں کبھی تیز رفتار ہونے کے ساتھ ساتھ گہری بھی ہوتی ہیں۔تہذیبوں میں اتار چڑھاؤ کا علوم وافکار کے اتار چڑھاؤ سے گہرا تعلق ہوتا ہے۔ یہ انسانی آگاہی اور طرز فکر ہے جو حکمتِ عملی اوراندازِ عمل میں تبدیلی کا باعث بنتا ہے۔ یہ سلسلہ وسیع ہوتا جائے تومظاہرِ تہذیب وتمدن کی تبدیلی پر منتج ہوتا ہے۔

مغرب میں کلیسا کے زوال اور سیکولرزم کے رواج نے عقل وخرد کی دنیا ہی بدل دی۔جدید فلسفے کی جرأتِ رندانہ نے افکار کی رنگا رنگی کو جنم دیا۔ مادی کائنات کی تسخیر کے انسانی عزم نے معجزے کر دکھائے۔ سائنس اورٹیکنالوجی کی سرعت انگیز ترقیوں نے آنکھیں چندھیا دیں۔تبدیلیاں سرحدوں اور سمندروں کے اس پار اثرات مرتب کرنے لگیں۔عالمِ مشرق کی دنیا ئے مذہب تک بھی یہ غلغلہ آ پہنچا۔ اہلِ مذہب نے مختلف انداز سے اس کا استقبال کیا۔ انکار،توجیہ،دفاع، تصدیق، شک،مرعوبیت اور عدم التفات جیسے کئی انداز تھے۔اُدھر تبدیلیوں کا سلسلہ جاری ہے اور اِدھر کم وبیش مذکورہ انداز بھی جاری ہیں۔کبھی اقبال گلہ مند ہوئے:
؂ اُدھر دگرگوں ہے لحظہ لحظہ
اِدھر بدلتا نہیں زمانہ
مذہب کو درپیش چیلنجز اورمذہبی عقائد کے سامنے اٹھتے سوالات متقاضی تھے کہ اہلِ مذہب سینہ سپر ہوں، قبول کریں یا جواب دیں۔ جو صورت بھی اختیار کریں اس کا مطلب نئے علم کلام کی ضرورت کو قبول کرنے کے سوا اور کچھ نہیں نکلتا۔

ہندوستان، مصر، ایران وغیرہ سے ایسے مردانِ کار اٹھے جنھوں نے اس تقاضے کو سمجھا اوراپنے اپنے سلیقے اور فہم کے مطابق دادِ سخن دی۔ ان کے جواب سے اتفاق یا عدم اتفاق،جزوی اتفاق یا جزوی اختلاف کا حق تو آزاد اندیشوں کو پہنچتا ہے لیکن ان کے اقدام کی داد دیے بغیر چارہ نہیں۔
اس سلسلے کی ایک مشکل دور غلامی کا ساختہ ذہن ہے اوراس سے بھی پہلے اسباب غلامی کا عدم ادراک۔ شاید اسے ایک ہی مطلب کے لیے دو پیرایۂ اظہار کا نام دے دیا جائے، بہر حال دونوں باتیں یا دونوں اندازقابل غور ہیں۔ زوال وعروج کی وجوہ تو ہوتی ہیں۔ قومیں حیات وموت اورارتقاء و تنزل کی حامل بھی ہوتی ہیں۔ جب تک معاشرے میں وہ ذہن غالب نہ آجائے جو عالمِ تنزل میں وجوہِ تنزل اوراسبابِ پیش رفت کا ادراک رکھتا ہو، مثبت تبدیلیوں کا خواب نہیں دیکھا جاسکتا۔

نئے علم کلام کی بھی یہ مشکل ہے۔ مغرب نے نئے افکارکی بنیاد پر نئی دنیا تعمیر کی وہ افکار، رائج مذہبی فکر سے بغاوت سے عبارت تھے۔ ان افکار کا کلیسا کی قیادت کو ہی سامنا نہ تھا اہل قبلہ بھی مسؤل اورجواب دہ تھے۔اہل قبلہ کی مذہبی قیادت نے اپنے آپ کو واقعاً مسؤل سمجھا یا نہیں، اس سے قطع نظر سطح فہم کا مسئلہ جواب سے بھی زیادہ اہم تھا۔ مختلف طرح کے جوابات جن کی طرف سطورگذشتہ میں اشارہ کیا گیا، ان کے تنوع کی وجوہات اسی مخمصے میں تلاش کی جاسکتی ہیں۔
برصغیر میں مختلف نام، مختلف ردّعمل اوراس ردّعمل کی مختلف نوعیت پر، شہادت کے طور پر پیش کیے جاسکتے ہیں۔ سر سیداحمد خان، شبلی نعمانی، امیر علی، نیاز فتح پوری، علامہ اقبال، غلام احمد پرویز، بانیانِ دارالعلوم دیوبند، مولانا مودودی وغیرہ اس کی مختلف مثالیں ہیں۔ افراط یا تفریط کا الزام تو کسی پر بھی لگایا جاسکتاہے، جو ایک آسان کام ہے لیکن مجموعی طور پر یہ بات سب کے بارے میں کہی جاسکتی ہے کہ انھوں نے بدلتی دنیا کا احساس کیا اور نئے پیش آمدہ مسائل کے سامنے اپنے آپ کو مسؤل سمجھا۔

مسلمان خطوں کی سیاسی آزادی کے بعد روشوں میں کچھ تبدیلی ضرور محسوس ہوتی ہے۔ آزادی کا احساس بھی تحریروں میں بہتر طور پر جلوہ گر ہے لیکن ایک طرف یہ آزادی کامل نہیں، دوسری طرف اہل مذہب بحیثیت مجموعی وسائل فکر اورطرز فکر کے حوالے سے بنیادی مسائل کی طرف ابھی نہیں آئے۔
بعض سیاسی ومذہبی انقلابات اورعلاقائی سطح کے اتار چڑھاؤ نے بھی افکارمیں جواربھاٹا پیدا کیا ہے۔ بعض بنیادی بحثیں چھڑی ہیں اوربعض اساسی سوالات سامنے آئے ہیں، اُن پر ردعمل کی کیفیت زوال سے کمال کی طرف سفر کو سرعت بخشنے کی صلاحیت کی نشاندہی نہیں کرتی۔

بات مختصر کی جائے،ہماری رائے یہ ہے کہ علم کلام کے حوالے سے ہمیں جرأت کے ساتھ ایسے سوالوں کا سامنا کرنا ہوگا:

  1. دین کی ماہیت اور حقیقت کیا ہے؟
  2. دین کی ضرورت کیا ہے؟
  3. نبی کی ضرورت اورمقصد بعثت نبوی کیا ہے؟
  4. وحی کی ماہیت اورحیثیت کیا ہے؟
  5. عقل اور وحی کا تعلق کیا ہے؟
  6. دین شناسی میں عقل کی حیثیت کیا ہے؟
  7. احکام دینی انسان کے لیے ہیں یا انسان ان کے لیے ہے؟
  8. کیا فلسفۂ احکام کا یقینی تعین کیا جاسکتا ہے؟
  9. اجتہاد میں زمان ومکان کی حیثیت کیا ہے؟
  10. انسانی فطرت اوراحکام مذہبی کا باہمی تعلق کیا ہے؟وغیرہ

ایسے سوالوں کا جواب دیتے ہوئے افراط وتفریط کا امکان بھی ہے جیسے کہ پہلے اس کا وقوع ہوچکا ہے لیکن آزادئ رائے ،احترام آزادی اورباہمی اعتماد کے ساتھ مکالمے کی فضا پیدا کرکے ہم بالآخر پیش آمدہ کلامی مسائل کا بہتر جواب دینے کے قابل ہوجائیں گے۔ عدم برداشت، جمود اورتحجّر نے پہلے بھی نقصان پہنچایا ہے اوراب بھی اسی راستے سے مذہب اوراہل مذہب کے لیے نقصان کے سوا کچھ حاصل نہیں۔ دین کی آفاقیت کا تقاضا اور دفاع دین کی ضرورت بھی یہی ہے۔ پورا لک دیں

جرأتِ رندانہ نے افکار کی رنگا رنگی کو جنم دیا

Share.

Comments are closed.

Exit mobile version