﴿       یہ کام ہمارے خاندان میں گذشتہ کئی نسلوں سے ہو رہا ہے۔

﴿       یہ تو ہمارے علاقے کا رواج ہے‘ ہم تو اسے ترک نہیں کرسکتے۔

﴿       یہ تو آج کل چل رہا ہے۔

﴿       یہ تو ان دنوں کا فیشن ہے۔

﴿       یہ تو ہمارے ہاں کی رسم ہے‘ ہم نے ایسا نہ کیا تو ہماری ناک کٹ جائے گی۔

﴿       یہ طریقہ فلاں شخصیت کاتھا‘ ہمارے ہاں اسے بہت مقدس سمجھا جاتا ہے‘ ہم تو اسے نہیں چھوڑ سکتے۔

﴿       یہ تو ہمارے عقیدے کا معاملہ ہے‘ ہم اس سے پیچھے نہیں ہٹ سکتے۔

ایسی باتیں اور ایسے جملے آپ روزانہ کئی افراد سے سنتے ہوں گے بلکہ خود بھی کہتے ہوں۔ شاید آپ ان کی حقیقت‘ تاثیر اور برگشت کی طرف متوجہ نہ ہوتے ہوں۔ کبھی کبھی ایسے جملوں سے بھی سابقہ پڑتا ہوگا:

٭      عقل ۔۔۔ انسانیت کے صدف کا گوہر ہے۔

٭      عقل ۔۔۔ انسان کا مابہ الامتیاز ہے۔

٭      عقل ۔۔۔ ہی سے انسان کودیگر مخلوقات پر برتری حاصل ہے۔

٭      عقل و دانائی سے انسان نے فرشتوں پر فوقیت حاصل کی۔

٭      عقل ۔۔۔ حق کا رسول ہے۔

پہلی طرح کے جملے عموماً عمل کے وقت ادا کیے جاتے ہیں اور دوسری طرح کے جملے ”اقوال زریں“ کے طور پر لکھے اور پڑھے جاتے ہیں۔

پہلی طرح کے جملے قدم اٹھاتے ہوئے ہمارے اقدام کی توجیہ بن جاتے ہیں اور دوسری قسم کے جملے قطعوں میں سج کر زیب دیوار ہو جاتے ہیں۔

پہلی طرح کے جملے کام کرتے ہوئے ہمیں تقویت دیتے ہیں یا دوسروں کو مطمئن کرنے کے کام آتے ہیں اور دوسری طرح کے جملے ہمیں انسانی عظمت کا احساس دلا کر باعث تسکینِ جاں ہوتے ہیں۔ اور بس۔

کچھ جملے اور بھی سن لیجئے:

﴿       شخصیت پرستی بھی ایک طرح کی بت پرستی ہے۔

﴿       کہنے والے کو نہ دیکھو‘ یہ دیکھو کہ کیا کہ رہا ہے۔

﴿       رسم و رواج کی زنجیریں‘ انسانیت کا المیہ ہے۔

﴿       معاشرے کی تقلید جمود کی علامت ہوتی ہے۔

﴿       ترقی کرنے والے روایت پرست نہیں‘ جمود شکن ہوتے ہیں۔

﴿       کسی بھی بڑے انسان کی بڑائی تلاش کریں تو وہ اس کی حرّیت فکر میں ملے گی۔

ایسے جملے بھی بسا اوقات اقوال زرّیں کی حیثیت اختیار کرکے ہمارے ہاں اپنا کردار کھو دیتے ہیں۔

بہرحال کبھی یہ ”اقوال زرّیں“ قول کی حدود سے تجاوز کی جسارت بھی کرتے ہیں۔ یہی وہ موقع ہوتا ہے جب پہلے جملوں کے ساتھ عمل میں ٹکراﺅ پیدا ہوتا ہے۔ اب کہنے والے‘ سمجھنے والے یا موقع اور محل کی مناسبت و عدم مناسبت مل جل کر ان کا رول متعین کرتے ہیں۔

معاشرے میں جمود زیادہ ہو تو ان ”اقوال زرّیں“ کی عملی حیثیت کچھ بھی نہیں ہوتی۔ ہوسکتا ہے کسی کنویں کے ٹھہرے ہوئے پانی میں باہر سے گرنے والے کسی پتھر کی پیدا کی ہوئی ارتعاش اور لہروں کی طرح کچھ دیر تو ان کا اثر رہے اور جیسے پانی ان سطحی لہروں کے خاتمے کے بعد پہلے کی طرح پھر آہستہ آہستہ ”پرسکون“ ہوجاتا ہے یہ جملے بھی اپنی تاثیر کھو بیٹھیں۔

انسان کو پروان چڑھنے کے لیے آزاد فضا میسر آئے تو وہ کچھ اور بنتا ہے او راگر جامد و مقلد فضا ملے تو کچھ اور بنتا ہے۔ ہر دور میں انسانی مشکلات کا بنیادی سبب تلاش کریں تو یہی دکھائی دے گا کہ انسان اپنی آزاد عقل کو بروئے کار لانے سے قاصر رہا ہے اور اگر انسانی کارواں نے آگے کی طرف کبھی کچھ حرکت کی ہے تو فقط حرّیتِ فکر کے باعث۔

انسان سے اگر کسی کو ہمدردی ہے۔۔۔ واقعی ہمدردی ہے تو فقط یہ کام کرے کہ انسان کو اس کی حرّیتِ فکر لوٹا دے‘ انسان کو آزاد فضا مہیا کر دے جس میں وہ آزادی سے سانس لے سکے۔

انسان کی اپنی فطرت کا رنگ اس کا حقیقی رنگ ہے۔ اس کے اوپر جو مختلف رنگ چڑھا دیے گئے ہیں‘ صرف انھیں اتار دینے کی ضرورت ہے۔

٭ نسل پرستی ٭ شخصیت پرستی ٭ علاقہ پرستی ٭ زبان پرستی ٭ رواج و روایت پرستی ٭ اسلاف پرستی ٭ رنگ پرستی ٭ فرقہ پرستی اور مختلف ایسی ہی دیگر پرستیاں۔

سب انسان کی ”فطرت توحیدی“ ۔۔۔ ”ایک واحد انسانی فطرت“ کے اوپر چڑھ جانے والے یا چڑھا دیے جانے والے زنگ اور رنگ ہیں۔ ان رنگوں نے عصر حاضر کے تجریدی آرٹ کے ماہرین کے ہاتھوں کی کار فرمائی سے انسانی شکل و صورت کو اور بھی ”ڈب کھڑبہ“ اور بھوت نما کرکے رکھ دیا ہے۔

اب کسی ایسے ہاتھ کی ضرورت ہے جو اس زنگ اور رنگ کو کھرچ کر نیچے سے انسان کا اپنا حقیقی خو بصورت فطری رنگ نکال دے۔ نیچے سے جو رنگ نکلے گا وہ سب انسانوں کا ایک سا ہوگا۔ اسے رنگِ وحدت بھی کہا جاسکتا ہے‘ رنگ توحیدی بھی اور ”صبغة اللہ“ بھی۔

﴿       نسل پرستی۔۔۔ ایک نسل والوں کو دوسروں کے مقابل فوقیت کا درس دیتی ہے۔

﴿       شخصیت پرستی۔۔۔ مقاصد‘ افکار اور کردار کو اوجھل کرکے شخصیت کو شخصیت سے ٹکرا دیتی ہے۔

﴿       علاقہ پرستی۔۔۔ ایک علاقے والوں کو دوسرے علاقے والوں کے مقابل لاکھڑا کرتی ہے۔

﴿       رواج پرستی۔۔۔ زمان و کام کے تقاضوں کو نظر انداز کرکے اندھی تقلید کو جنم دیتی ہے اور یہی حال دیگر پرستیوں کا بھی ہے۔

ان سب پرستیوں سے نجات فقط ”توحید پرستی“ میں مضمر ہے۔ ورنہ:

كُلُّ حِزْبٍ بِمَا لَدَيْهِمْ فَرِحُونَ

ہر پارٹی اپنے اپنے امتیازات میں مگن اور دوسروں سے اپنے اختلافی امور میں خوش ہے۔

کا منظر رہے گا اور انسانیت ارتقاءکے بجائے تنزل کا شکار رہے گی۔ اس لیے کہ ”شرک“ کبھی انسان کو پنپنے نہیں دیتا۔ انسانیت کی کونپلیں توحید کی کھلی فضا اور آزاد ہوا میں کھلتی ہیں۔

آزاد فکر حکمائے انسانیت نے ہمارے درد کی دوا کے لئے بہت کچھ سوچا ہے اور آخر کار نسخے تجویز کیے ہیں۔ یہ درست ہے کہ ہر کسی کو اپنی اپنی ”حزبِ محبوب“ کی زیبائی دل ربا معلوم ہوتی ہے تاہم کبھی تو ایسا ہو کہ ادھر کو بھی نظرلوٹ جائے اور ہم دیکھیں کہ طبیبان بشر کیا کہتے ہیں۔ انہی میں سے ایک نے پیرایہ شعر میں جو کچھ کہا ہے اس میں ایک انتخابِ مختصر آپ کی نذر:

٭اے گرفتار ابوبکر و علی ہشیار باش

٭آئینِ نو سے ڈرنا طرز کہن پہ اڑنا

منزل یہی کھٹن ہے قوموں کی زندگی میں

٭بڑھ کے خیبر سے ہے معرکئہ دین و وطن

اس زمانے میں کوئی حیدر کرار بھی ہے؟

٭یہ ایک سجدہ جسے تو گراں سمجھتا ہے

ہزار سجدے سے دیتا ہے آدمی کو نجات

٭بتوں سے تجھ کو امیدیں خدا سے نومیدی

مجھے بتا تو سہی اور کافری کیا ہے؟

٭غبار آلودہ رنگ و نسب ہیں بال و پر تیرے

تو اے مرغِ حرم! اڑنے سے پہلے پرفشاں ہو جا

٭یہ امت روایات میں کھو گئی

حقیقت خرافات میں کھو گئی

٭فرقہ بندی ہے کہیں اور کہیں ذاتیں ہیں

کیا زمانے میں نپپنے کی یہی باتیں ہیں

ہاں ایسے اشعار بھی ہمارے لیے ”اشعار زریں“ کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اب آپ چاہے انھیں حسن سخن اور زیبِ داستاں ہی کے لیے سنبھالے رکھیں یا سفر حیات میں انھیں بندھا ہوا نہیں بلکہ کھلا ”امام ضامن“ قرار دے لیں۔ جو مزاج یار میں آئے۔

Share.

Comments are closed.

Exit mobile version