Close Menu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    Home»کالم»ڈیموکریسی دو ریاستیں ہیں
    کالم

    ڈیموکریسی دو ریاستیں ہیں

    محمد عامر راناBy محمد عامر رانامئی 16, 2016کوئی تبصرہ نہیں ہے۔4 Mins Read2 Views
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest WhatsApp Email

    ڈیمو اور اریسی دو ریاستیں تھیں۔بعد میں اریسی بگڑ کر کریسی ہو گیا

    "ایک دفعہ کا ذکر ہے دو ریاستیں تھیں۔جیسا کہ تاریخ کا وطیرہ ہے کہ ایسی ریاستیں یونان میں ہواکرتی تھیں۔یونان کا حوالہ بات میں وزن   ڈال دیتا ہے۔سیاست کی بدعت بھی وہیں سے شروع ہوئی۔اس سے پہلے نہ تو سیاست ہوتی تھی اور نہ ہی سیاستدان ہوتے تھے۔صرف حکومتیں ہوتی تھیں۔بہترین حکمرانی تھی کرپشن تو ہرگز نہیں تھی لیکن پھر یونان درمیان میں آگیا۔"

    یہ کوئی بے ربط گفتگو یا لا یعنی خود کلامی کا حصہ نہیں ہے بلکہ اسلام آباد میں ہونے والے ایک سمینار کی حقیقی روداد کا حصہ ہے،جو جمہوریت اور اس کے نقصانات کے موضوع پر ایک پنج ستارہ ہوٹل میں منعقد ہوا۔اگرچہ بینر پر لکھا موضوع کچھ اور تھا لیکن سمینار اسی موضوع پر ہوا۔سامعین میں زیادہ تر مقررین تھے اور ان کا تعلق شعبہ دفاع سے رہا ہے۔ان میں سے بیشتر ٹیلی وژن سکرینوں پہ نظرآتے ہیں۔اس تقریب کا اہتمام بھی ایک سابق جنرل کی جماعت نے ایک ایسی تنظیم کی مدد سے کیا تھا۔جس کے بینرشاہراہ دستور پر دستورساز ادارے کے کام  کامنہ چڑاتے ہیں۔

    جرنیلوں سابق بیوروکریٹوں اور کونے کھدروں سے عرصے بعد نکلے صحافیوں نے ماحول کو گرما رکھا تھا۔علی احمد کرد کو نا جانے کس شبے میں بلایا گیا تھا اور کچھ ایسا ہی شبہ شاید ہمارے اوپر ہوا۔

    سمینار سے صرف ایک روز قبل ایک پرائیویٹ ٹیلی وژن چینل سے کال موصول ہوئی کہ چینل ایک سمینار کا اہتمام کررہا ہے۔خیال تھا کہ ٹیلی وژن چینل ایسے سمینار کا پروگراموں کا انعقاد کرتے رہتے ہیں، جن میں قومی امور پر گفتگو ہوتی ہے۔لیکن یہ ایک سیاسی جلسہ تھا جو سیاست اور سیاست دانوں کی دھجیاں اڑانے کے لیے منعقد کیا گیا تھا۔اور اس کے لیے ٹیلی وژن کا چینل استعمال کیا گیا تھا۔

    کارروائی البتہ بہت دلچسپ تھی اور بڑے دلچسپ مطالبے بھی سامنے آئے۔جیساکہ 58 ٹو، بی کی بحالی، تا کہ سسٹم کومکمل تباہی سے بچایا جا سکے۔وزیر اعظم سے رضا کارانہ استعفے کی اپیل ۔اقتصادی راہداری کے لیے آنے والے 46 ارب ڈالر کر رکھوالی کے لیے ایک الگ الگ ادارے کی ضرورت اور بیس فیصد ٹی وی اینکروں کی چھٹی جنہیں قومی مفاد کا بالکل لحاظ نہیں۔دلچسپ بات یہ ہے کہ اینکروں کی تبدیلی کا مطالبہ پمرا سے کیا گیا تھا ورنہ یہ مطالبہ کسی اور ادارے سے بھی کیا جاسکتا تھا۔

    سمینار جڑواں شہروں میں پکنے والے لاوے کی حدت سے گرم تھا۔سیاست دانوں،ججوں اور چند صحافیوں پرنشتروں پر نشتر چل رہے تھے۔اور ان سے بچارا غریب اور عام آدمی بھی محفوظ نہیں تھا جو مقررین کے بقول ایک پلیٹ بریانی اور آلو والے نان کے بدلے اپنا ووٹ اور ایمان فروخت کر دیتا ہے اور ذہین، محبِ وطن اور اہل افراد کو ملک کی خدمت کرنے سے روکتا ہے۔

    حالانکہ اس بچارے غریب آدمی نے کئی بار اس تہمت کو دھونے کی کوشش کی ہے۔وہ طاقت اور اشرفیہ کی حمایت یافتہ جماعتوں اور ان کے امیدوارں کی ٹرالیوں،ٹرکوں،ویگنوں اور کاروں میں بیٹھ کر پولنگ سٹیشن ضرور جاتا ہے۔ بریانی اور قیمے والے نان بھی کھاتا ہے،لیکن ووٹ کے معاملے میں کافی سیانا ہے ۔اس عام آدمی نے فیکٹریوں میں تیار کردہ بڑی بڑی سیاسی جماعتوں کو اپنے ووٹ سے چِت کیا ہے۔

    فضائلِ جمہوریت پر گفتگو بھی جاری تھی اور یہ کہ یہ تو محض پانچ سو سال پرانا نظام ہے، یہ ایک آئیڈیل نظام کیسے ہو سکتا ہے؟جس سے امریکہ اور یورپ والے بھی خوش نہیں۔غالباً اشارہ اس طرف تھا کہ یہ ذمہ داری بھی پاکستان کو اپنے ناتواں کاندھوں پر اٹھا نا پڑے گی کہ دنیا کو جمہوریت سے بہتر متبادل پیش کرے ۔

    بہر حال وہ سمجھانے کہ کوشش کر رہے تھے کہ ڈیمو اور اریسی دو ریاستیں تھیں۔بعد میں اریسی بگڑ کر کریسی ہو گیا۔ڈیمو ایک قبائلی اور دیہی ریاست تھی جو اپنے اجناس کریسی کی مارکیٹوں میں فروخت کرتی تھی۔کریسی کو پسند نہیں تھا کہ سارا منافع ڈیمو کو ملے اس نے ڈیمو سے آنے والے مال پر ٹیکس لگا دیا۔ ڈیمو کو غصہ آیا اور کہا "کریسی کی یہ مجال”۔پھر اس نے کریسی کی اینٹ سے اینٹ بجا دی اور اس پر قبضہ کر لیا۔اس طرح سے ڈیموکریسی وجود میں آئی۔

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleخیبر پختون خوا میں زبانوں کے فروغ کا ادارہ
    Next Article "مالکی یا موت”
    محمد عامر رانا

    Related Posts

    جنگ مذاق نہیں

    اپریل 25, 2025

    امید کا ایک اور قطرہ

    اکتوبر 7, 2024

    پشتو اکیڈمی کوئٹہ ارتقا اور تنزل کے دو راہے پر

    ستمبر 17, 2024

    Comments are closed.

    تجزیات آن لائن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    © 2026 تجزیات آن لائن، جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.

    Powered by
    ►
    Necessary cookies enable essential site features like secure log-ins and consent preference adjustments. They do not store personal data.
    None
    ►
    Functional cookies support features like content sharing on social media, collecting feedback, and enabling third-party tools.
    None
    ►
    Analytical cookies track visitor interactions, providing insights on metrics like visitor count, bounce rate, and traffic sources.
    None
    ►
    Advertisement cookies deliver personalized ads based on your previous visits and analyze the effectiveness of ad campaigns.
    None
    ►
    Unclassified cookies are cookies that we are in the process of classifying, together with the providers of individual cookies.
    None
    Powered by