۔ ایسا ماحول جہاں مذہب کی سیاسی اور نظریاتی تعبیر زیادہ اہم ہو اور صوفی روایت سماجی عمل میں بے معنی ہو چکی ہو ،وہاں روحانی تجربات کے ذریعے انتہاپسندی کا جوابی بیانیہ تشکیل نہیں کیا جا سکتا

بہت سارے لوگ عسکریت پسندوں کو قوت استدلال سے محروم ،جرائم پیشہ افراد یا ٹھگوں کے گروہ سے زیادہ اہمیت نہیں دیتے ہیں۔ علی حیدر گیلانی نے القاعدہ سے رہائی کے بعد جو کہانی سنائی ہے وہ اس مختلف نقطہ نظر کی تائید نہیں کرتی۔ القاعدہ کی جانب سے تین سالہ قید کے دوران گیلانی کو یہ احساس ہوا کہ عسکریت پسند نظریاتی محرکات رکھتے تھے،اور ان کی حقیقی طاقت ان کی سیاسی و نظریاتی بیانیوں میں پوشیدہ ہے۔ اس کے بر عکس ،شہباز تاثیر کی بتائی ہوئی کہانی میں عسکریت پسندوں کی وہی جھلک ملتی ہے،جس کے لیے وہ معروف ہیں۔ وہ آخرالذکر پر قید کے دوران بے دردی سےتشدد کرتے رہے۔ تاثیر کو تاوان کیلئے اغوا کیا گیا تھا ،جبکہ اس کے برعکس مبینہ طور پر گیلانی کے اغواءکا مقصد پاکستانی جیلوں میں قید عسکریت پسندوں کے ساتھیوں کی رہائی تھی ۔ دونوں نوجوانوں کی جانب سے دیے گئے خود وضاحتی بیان عسکریت پسندوں کے دو مختلف پہلو ﺅں کو ظاہر کرتے ہیں۔ دونوں کے قید میں رہنے کے متضاد ۔تجربات خطے میں سرگرم عسکریت پسندوں کے کردار کوبھی سمجھنے میں مدد دیتے ہیں، اور ان کے نظریات اور بیانیے کس طرح صراحیت کرتے ہیں۔

دونوں نکتہ نظر اہمیت کے حامل ہیں کیو نکہ یہ ہمیں یہ سمجھنے میں مدد دیتے ہیں کہ کس طرح مختلف بیانیے ایک عام آدمی کی سوچ کو بدلتے اور اس کے رویو ں کو تشکیل دیتے ہیں۔اہم بات یہ ہے ،ان کے تجربات کو یہ سمجھنے کیلئے استعمال کیا جا سکتا ہے کہ کس طرح شدت پسندی کے بیانیے اور رجحانا ت پاکستان کی پڑھے لکھے نوجو انوں کو متاثر کر رہے ہیں

دو مختلف گروپوں ،القاعدہ اورازبکستان کی اسلامی تحریک (آئی ایم یو)نے بالترتیب علی حیدر گیلانی اور،شہباز تاثیر کو اغوا کیا تھا۔اگرچہ دونوں گروپ غیر ملکی ماخذ رکھتے تھے،متذکرہ بالا کے مقامی عسکریت پسندوں کے ساتھ مضبوط روابط تھے۔ شہباز تاثیر کو اغوا کرنے والی آئی ایم یو ،وسطی ایشیا کا عسکریت پسند گروپ ہے،جس نے پاکستان کے قبائلی علاقوں کے بعض حصوں میں کام کرتے ہوئے اپنا خودمختا ر تشخص ہمیشہ برقرار رکھاہے۔ یہ تنظیم اپنے مظالم کے باعث بدنام ہے اور مقامی عسکری گروہ بھی اس کے خلاف رہے ہیں۔ مثال کے طورپر طالبان کے کمانڈر ملا نذیر نے2007ءمیں جنوبی وزیر ستان سے آئی ایم یو کے عسکریت پسندوں کو نکال دیا تھا۔ حال ہی میں افغان طالبان نے محسوس کر لیا کہ یہ ایک شر پھیلانے والا گروپ ہےاور افغانستان کے صوبے زابل میں ان کے خلاف ایک بڑی کارروائی شروع کر دی۔ مبینہ طور پر یہی لڑائی شہاز تاثیر کی آزادی کی صورت بنی۔ اس سے یہ تاثر پیدا ہو تا ہے کہ طویل مدت کی قید نے دونوں نوجوانوں کی شخصیت پر مختلف زاویوں اور انداز سے اثر ڈالا ہے۔ حال ہی میں نیویارک ٹائمز میں تاثیر کا مضمون ،اوربی بی سی کے ساتھ انٹرویوشائع ہوا، بنیادی طور پر ان پانچ سالوں کے دکھوں کا بیا ن ہےجوقید تنہائی کے دوران،تنہائی،اذیت اور بے چینی نے ان کے اندرونی انتشار کو متحرک کر دیا۔ مذہب نے اسے روحانیت کے پہلو سے روشناس کروایا اور اس کی ذہنی آسودگی کا سامان ہوا۔ اس کی قید اس کے لئے خودشناسی اور خود کو دریافت کرنے کا ایک سفر بن گیا۔ علی حید رکے ساتھ القاعدہ کے اغواکاروں کا سلوک بہتر رہا ،اوریہاں تک کہ اسے مختلف معاملات پر ان کے ساتھ بحث کرنے کی بھی اجازت دی گئی تھی۔ وہ کہانی جو اس نے میڈیا کو بتائی ،عسکریت پسندی میں القاعدہ کے ملوث ہونے کے نظریاتی سیاق و سباق کی وضاحت کر تی ہے۔ بیان دیتے ہوئے ،ایسا دکھائی دیتا تھاجیسے وہ عسکریت پسندوں کا کردار اور ان کی شریعت کے نفاذ کی خواہشات کو سمجھتا ہے۔تاہم وہ اس مقصد کے حصول کیلئے پرتشدد ذرائع کے نقطہ نظر سے اتفاق نہیں رکھتا،اس کی بجائے وہ اس پر یقین رکھتا ہے کہ لوگوں پر فرض ہے کہ وہ اپنی مرضی سے اپنی گنجائش کے مطابق شریعت کے لیے جدوجہد کریں۔ حراست نے سماجی تبدیلی کے تناظر میں اس کے مذہبی،سیاسی اور سماجی شعور میں اضافہ کر دیا۔ بنیادی طور پر اس کا سفر باہر کی دنیا کو دریافت کرنے کا سفر تھا۔ دونوں نکتہ نظر اہمیت کے حامل ہیں کیو نکہ یہ ہمیں یہ سمجھنے میں مدد دیتے ہیں کہ کس طرح مختلف بیانیے ایک عام آدمی کی سوچ کو بدلتے اور اس کے رویو ں کو تشکیل دیتے ہیں۔اہم بات یہ ہے ،ان کے تجربات کو یہ سمجھنے کیلئے استعمال کیا جا سکتا ہے کہ کس طرح شدت پسندی کے بیانیے اور رجحانا ت پاکستان کی پڑھے لکھے نوجو انوں کو متاثر کر رہے ہیں۔ ریاست،اقتدار، اشرافیہ اور مذہبی علما نے روایات کا ایک پیچید ہ جال تشکیل دیا ہے ،جس سےاختلاف کرنا حوصلے کی بات ہے۔ پاکستانی مذہبی رجحانات میں مضبوط نظریاتی ماڈلز کی ایک ورائٹی دستیاب ہے ۔یہ عدم تشدد سے پرتشدد اختیارات کو لے کر معاشرے میں سماجی و سیاسی تبدیلی کے ماڈلز پیش کرتے ہیں۔عام مردوں، خصوصاََ نوجوانوں کومعاشرے کے ساتھ اپنے سماجی و سیاسی روابط کیلئے ان ماڈلز میں سے انتخاب کرنا پڑتا ہے۔کچھ مختلف ماڈلز کو الجھائے رکھتے ہیں اور بہت سارے شدت پسند ماڈلز چننے میں زد پذیر ہو جاتے ہیں،لیکن ہو سکتا ہے کہ عدم تشدد اختیارات کا ابھی تک مکمل طور پر استحصال نہیں کیا گیا۔

عسکریت پسندوں کی مطبوعات اور دیگر کھلے ذرائع اس تبدیلی کی تصدیق نہیں کرتےکہ وہ نسلی بنیا دوں پر تقسیم ہو رہے ہیں۔ اس کے باوجود ،وہ پنجاب کے خلاف رنجش رکھتے ہیں،کیو نکہ وہ سمجھتے ہیں کہ بنیادی طور پر اسٹبلشمنٹ اسی صوبے سے ہے

گیلانی کی عسکریت پسند گروپوں کی تفہیم بھی اہم ہے،جیساکہ وہ مختلف گروپوں میں فرق کرسکتا ہے۔وہ اس سوچ کا حامی ہے کہ ٹی ٹی پی اور جماعت الاحرار برے طالبان کا حصہ ہیں ،اول الذکر پہلے ہی سے بھارت کے پے رول پرہے اور آخرالذکر ابھی بھی معاہدے کے عمل میں ہے۔اسے خود بھی سجنا گروپ نے اغوا کیا تھا ،جس کا القاعدہ کےساتھ الحاق رہا ہے اور اچھے طالبان میں بھی شمار ہو تا تھا ۔ گیلانی کی جانب سے ایک اور اہم انکشاف کیا گیا کہ طالبان کی جہاد تحریک قومی پشتون تحریک میں بدل رہی ہے اور یہ عسکریت پسند پختون قوم پرستی سے متاثر ہو کر پنجاب کے خلا ف بول رہے ہیں ۔تاہم عسکریت پسندوں کی مطبوعات اور دیگر کھلے ذرائع اس تبدیلی کی تصدیق نہیں کرتےکہ وہ نسلی بنیا دوں پر تقسیم ہو رہے ہیں۔ اس کے باوجود ،وہ پنجاب کے خلاف رنجش رکھتے ہیں،کیو نکہ وہ سمجھتے ہیں کہ بنیادی طور پر اسٹبلشمنٹ اسی صوبے سے ہے۔ گیلانی نے خبردار بھی کیا ہے کہ القاعدہ کے خفیہ اراکین اب بھی جنوبی پنجاب میں سرگرم ہیں،جبکہ اس کے ذیلی ہیڈ کوارٹر کراچی میں ہیں۔سب سے اہم بات یہ ہے کہ اس نے یہ بات پہنچا دی کہ عسکریت پسند بیانئے  اب بھی پاکستان میں پرکشش سمجھے جاتے ہیں۔

جبکہ شہباز تاثیربھی ایک سیاسی خاندان سے تعلق رکھتا ہے،اس کی قید کے تجربات مکمل طور پر مختلف ہیں۔ایسا دکھائی دیتا ہے جیسے اس نے سیاسی یا سماجی شائبوں سے کم اور روحانی نقطہ نظر سے چیزوں کا تجربہ کیا ہے۔ان کا تجربہ اس دلیل کے تناظر میں قابل توجہ ہو سکتا ہے کہ اس کی روحانی ترغیب گھٹنے کے ساتھ ساتھ اسلام کی سیاسی ترغیب بڑھتی جا رہی ہے۔ جنوبی ایشیا میں،خصوصاًپاکستان میں بڑے پیمانے پر مذہبی مباحث تبدیل ہو رہے ہیں۔گروپ اور جماعتیں ان مباحث پر سیاسی مقاصد کیلئے حملہ آور ہونے کے ساتھ خود کو روحانی پیشواﺅں کے طور پر بھی شامل کر تی ہیں۔نام نہاد صوفی روایات کے محافظ سماجی اور سیاسی اشرافیہ کا حصہ بن چکے ہیں۔کو تاہ سر شہری آبادی بھی مذہب زدگی کی وجہ سے ہے،موخرالذکر کی سماجی قدربھی کسی کی رو زمرہ زندگی اور اس کی دیگر معاشرتی گروپوں سے ربط سازی کو ایک معنی دے سکتی ہے۔یہ دلچسپ امر ہے کہ وہ مذہبی تحریکیں جو بڑے پیمانے پر ربط سازی فراہم کرتی ہیں وہ زیادہ مقبول ہیں ،جیسا کہ تبلیغی جماعت، دعوت اسلام ی ،الہدیٰ وغیرہ۔وہ معاشرتی رابط ے جو یہ گروپس فراہم کر تے ہیں ،وہ روحانیت کی بجائے نظریاتی اور سیاسی دکھاوا زیادہ کرتے ہیں۔ ایسا ماحول جہاں مذہب کی سیاسی اور نظریاتی تعبیر زیادہ اہم ہو اور صوفی روایت سماجی عمل میں بے معنی ہو چکی ہو ،وہاں روحانی تجربات کے ذریعے انتہاپسندی کا جوابی بیانیہ تشکیل نہیں کیا جا سکتا۔

(بہ شکریہ ڈان:ترجمہ :احمد اعجاز)

Share.

Comments are closed.

Exit mobile version