دراصل امریکی ڈرون حملے میں ملا اختر منصور کی ہلاکت میں یہی پوشیدہ پیغام ہے کہ طالبان کے تشدد کا جواب تشدد سے دیاجائے گا
بہت سے تجزیہ کار اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ افغان طالبان امیر ملا محمد اختر منصور کی ڈرون حملے میں ہلاکت نے افغان مصالحتی عمل یا مزاکرات کا راستہ روک دیا ہے ۔کم علم یا دال روٹی کے چکر میں مصروف عام لوگ اس سے مطلب یہ بھی لے سکتے ہیں کہ ملا اختر منصور مزاکرات میں شرکت کے لئے آرہے تھے کہ امریکی ڈرون نے انھیں راستے میں ہلاک کر دیا ۔یعنی امریکہ نہیں چاہتا تھا کہ ہمارے خطے میں امن قائم ہو۔
یہ امر بھی حیران کن ہے کہ جب طالبان کابل میں خود کش حملے کر رہے ہوں یاافغان شہروں کا گھیراؤ کر رہے ہوں تو بہت کم تجزیہ کار طالبان کے ان پُر تشدد اقدامات کے افغان مفاہمتی مزاکرات پر پڑنے والے اثرات کا جائزہ لیتے ہیں ۔اکثر زور اس بات پر ہوتا ہے کہ مفاہمتی طالبان افغانستان میں اپنی طاقت اور دائرہ بڑھا رہے ہیں ۔یا پھر طالبان کے حملوں کا مطلب یہ لیا جاتا ہے کہ وہ افغان حکومت کے ساتھ ہونے والے ممکنہ مزاکرات میں اپنی معیشت بہتر بنا رہے ہیں تاکہ اپنے زیادہ سے زیادہ مطالبات منوا سکیں ۔اگر ایسا ہی ہے تو کیا افغان حکومت اور اس کے اتحادی طالبان کے ساتھ مزاکرات میں اپنی معیشت بہتر بنانے کے لئے (یا طالبان کو مزاکرات کی میز پر لانے کے لئے ) کوشش یعنی طاقت کا ستعمال نہیں کر سکتے ؟
یہ امر بھی حیران کن ہے کہ جب طالبان کابل میں خود کش حملے کر رہے ہوں یاافغان شہروں کا گھیراؤ کر رہے ہوں تو بہت کم تجزیہ کار طالبان کے ان پُر تشدد اقدامات کے افغان مفاہمتی مزاکرات پر پڑنے والے اثرات کا جائزہ لیتے ہیں
دراصل امریکی ڈرون حملے میں ملا اختر منصور کی ہلاکت میں یہی پوشیدہ پیغام ہے کہ طالبان کے تشدد کا جواب تشدد سے دیاجائے گا اور اس میں مزید اضافہ بھی ہو سکتا ہے ۔ویسے بھی افغان ریاست اپنے باغیوں کے خلاف اور اپنے شہریوں کے تحفظ کے لئے تشدد یا طاقت کے استعمال کا آئینی و مذہبی جواز رکھتی ہے ۔
یہ درست ہے کہ افغان ریاست اور اس کے اتحادی پچھلے پندرہ سالوں میں طاقت کے استعمال سے طالبان کا قضیہ حل نہیں کر سکے لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ طالبان کے لئے بھی حا لات اب نوّے کی دہائی والے نہیں رہے ۔نہ تو وہ کابل پر قبضہ کرنے کی پوزیشن میں ہیں نہ ہی انہیں ماضی والی اندرونی و بیرونی سیاسی حمایت حاصل ہے ۔افغانستان کے ہمسائیوں میں سے (بشمول پاکستان) کوئی بھی نہیں چاہتا کہ وہاں طالبان حکومت بنے ۔
دراصل وست مدتی اور طویل مدتی تناظر میں افغان سیاسی عمل میں شمولیت ہی طالبان کے لئے بہترین بلکہ بقا کا آپشن ہے ۔اگر وہ سمجھتے ہیں کہ وہ اپنی جاری عسکری کارروائیوں سے افغانستان فتح کر لیں گے یا وہاں اسلام نافذ کر دیں گے تو اسے محض خام خیالی ہی سمجھا جائے گا۔
اس وقت تین اہم عوامل ہیں جو افغانستان میں با الواسطہ یا بلاواسطہ طالبان کے لئے حمایت یا تقویت کا باعث ہیں ۔اوّل ، افغان حکومت کی ناقص کارکردگی اور اس میں موجود سیاسی ، نسلی تقسیم کی کمزوریاں ۔دوم، افغان سیکورٹی فورسز کی کم استعداد اور سوم افغان اداروں (بشمول سیکورٹی کے اداروں ) میں پشتونوں کی مناسب نمائندگی کا مسئلہ ۔
اس وقت اگر دنیا (بالخصوص چار فریقی گروپ کے ارکان افغانستان ، پاکستان ، چین اور امریکہ )طالبان کو افغان سیاسی عمل میں ایک فریق کے طور پر دیکھ رہی ہے تو یہ طالبان کے لئے ایک بہت اہم مو قع ہے کہ اس سے فائدہ اٹھائیں اور اپنی سیاسی حیثیت مستحکم کریں ۔لیکن اپنی اندرونی کمزوریوں یا "فتح” کے خمار میں وہ جلد ایسا نہ کر پائے تو وہ یہ موقع کھو سکتے ہیں ۔اس صورت میں مستقبل میں ان کی سیاسی فریق والی حیثیت کمزور اور ایک دہشتگرد گروہ کا تاثر مضبوط ہو گا ۔اب یہ طالبان پر منحصر ہے کہ وہ اپنے مستقبل کی کیسے تعبیر کرتے ہیں ۔
اس وقت تین اہم عوامل ہیں جو افغانستان میں با الواسطہ یا بلاواسطہ طالبان کے لئے حمایت یا تقویت کا باعث ہیں ۔اوّل ، افغان حکومت کی ناقص کارکردگی اور اس میں موجود سیاسی ، نسلی تقسیم کی کمزوریاں ۔دوم، افغان سیکورٹی فورسز کی کم استعداد اور سوم افغان اداروں (بشمول سیکورٹی کے اداروں ) میں پشتونوں کی مناسب نمائندگی کا مسئلہ ۔
اگرچہ ایسے شواہد نظر نہیں آرہے کہ مختصر مدت میں یہ عوامل کالعدم ہو جائیں لیکن یہ بھی فرض نہیں کیا جا سکتا کہ صورت حال ہمیشہ ایسی ہی رہے گی ۔افغان سیاسی اور سیکورٹی ادارے ٹرانزیشن کی حالت میں ہیں اور ان میں بتدریج بہتری آئی گی ۔پشتونوں کی نمائندگی کا مسئلہ بھی بتدریج حل ہو گا ۔حکمت یار کی حزب اسلامی افغان حکومت کے ساتھ سیاسی معاہدے کے بہت قریب ہے ۔اگر ایسا ہو جاتا ہے تو پشتونوں کی کم نمائندگی کا تاثر کسی حد تک کم ہو گا ۔طالبان کا ملا رسول گروہ یا دیگر اسی طرح کے گروہ حکومت سے امن معاہدے کر سکتے ہیں ۔
مختصراً افغانستان اور خطے کے بدلتے ہوئے حالات کے پیش نظر یہ نہایت مشکل ہے کہ طالبان نوّے کی دہائی والی سوچ کے ساتھ اپنے آپ کو زیادہ دیر ایک مؤثر پشتون نمائندہ یامذہبی تحریک کے طور پر قائم رکھ سکیں ،عسکریت پسندی کے پروفائل سے زیادہ انہیں اپنی سیاسی معیشت اور اہمیت پر توجہ دینا ہو گی ۔
