اج کے دور میں خصوصاً ہمارے معاشرے میں خوشی کیوں مفقود ہورہی ہے ایک بہت بڑا سوال ہے۔

ویلیم بلیک نے کہا تھا، ’A mark on every face I meet, Marks of weakness, marks of woe ‘ یعنی جس چہرے سے بھی ملتا ہوں میں اسی پہ لاچاری اور اداسی کی نشانیاں دیکھتا ہوں”۔

کسی گلی میں، بازار میں، دیہات میں، سکول میں غرض ہر جگہ اپکو لٹکائے ہوئے چہرے ملیں گے۔ ہر کسی کو کوئی نہ کوئی پریشانی کھائے جارہی ہے۔ طالب علم سکول سے تنگ، استاد ڈیوٹی سے؛ شوہر بیوی سے نالاں بیوی شوہر سے گلہ مند؛ دکاندار گاہگ سے گتم کھتا، ڈرائیور سواریوں سے جھگڑتا ہوا؛ مولوی مقتدیوں کی ایمانی کمزوریوں پہ غصّہ تو مقتدی مولوی کی واعظوں سے بے نیاز۔ پولیس عوام سے بدگماں تو عوام پولیس سے تنگ۔ کوئی کسی کی ’بے مذہبیت ‘ پر لعن طعن بھیجتا ہے تو کوئی مذہب کی تجارت پر رونا روتا ہے۔ کوئی کسی کو پند و نصح میں مشغول ہے تو کوئی عدم دلچسپی میں سر دھنتا رہتا ہے۔ کسی کو نوجوانوں کی ’اخلاقی باختگی ‘ کی فکر ہے تو کسی کو محبوب نے پریشان کیا ہوا ہے۔ ساس کو بہو کی خامیاں نکالنے سے فرصت نہیں تو بہو ساس کی شکایتیں لگانے میں لگی ہے۔ عاشق کو رقیب کی نفرت کھائے جارہی ہے تو معشوق کو عاشق پہ اعتماد نہیں ہے۔

اس انسانی ڈرامے میں اج سارے کردار نظر اتے ہیں ماسوائے خوشی کے۔ اج کے دور میں خصوصاً ہمارے معاشرے میں خوشی کیوں مفقود ہورہی ہے ایک بہت بڑا سوال ہے۔

اس ہر سُو جاری اداسی کی وجوہات بڑی حد تک ہمارے معاشرے میں ہیں اور کچھ ہماری انفرادی ریوّں میں جن کو بڑی حد تک یہ معاشرتی نظام ہی پروان چڑھاتا ہے۔

ہماری اداسی کی وجوہات میں بیرونی و اندرونی عوامل شامل ہیں۔ ان میں کئی بیرونی عوامل ایسے ہیں جو ہماری قدرت میں ہی نہیں۔ مثلاً ہم دنیا میں جنگیں نہیں روک سکتے نہ ہی ہی ہمیں قدرتی افات کو روکنے پر قوّت حاصل ہے۔ ہم موت پر قابو پاسکتے ہیں نہ ہی دنیا میں وسائل کو انسانوں میں یکساں طور پر تقسیم کرسکتے ہیں۔ ہم عوام کو پاکستان میں بجلی کی کمی پورا کرنے کا کوئی اختیار ہے نہ ہی حکومتوں کو اپنی مرضی سے چلانے کی کوئی راہ۔ ہم اپنے معاشرے کی بد نظمی کو ٹھیک کرسکتے ہیں نہ ہی ہمیں دفاع اور تعلیم کے بیچ بجٹ کی تفاوت کو ختم کرنے کا کوئی اختیار۔

ہم البتہ اپنی رویّوں میں تبدیلی لانے کی استعداد لاسکتے ہیں۔ اور پاکستانی تناظر میں خوش رہنے کا یہ واحد حل ہوسکتا ہے۔

مجھے اس ہم سفر کی بات بہت بھا گئی جب اس نے مجھے ایک پاکستانی ائرپورٹ پر اترتے ہی افسردہ دیکھ کر کہا، ’مجھے معلوم ہے کہ دوسرے ملکوں کو دیکھنے کے بعد پاکستان جیسے ملک میں اکر بندہ افسردہ سا ہوتا ہے۔ ہمیں خود پر قابو کرلینا چاہئے۔ یہی واحد راستہ ہے ‘۔ انہوں نے بنیادی بات کہی تھی۔ جس چیز پر میرا اختیار نہیں اس کے لئے میں خود کو بے جا کیوں پریشان کروں۔

یہاں اداسی کے ان بیرونی عوامل سے قطع نظر چند اندرونی عوامل کا ذکر ضروری ہے کہ جن کو ختم یا کم کرنے سے ہم تھوڑا بہت خوش رہ سکتے ہیں۔

نرگسیت: نرگیست ہر انسان میں پائی جاتی ہے۔ اس کی متوازن موجودگی ضروری بھی ہوتی ہے۔ ہر شخص کو خود سے ایک چاہت ہوتی ہے اور وہ چاہتا ہے کہ دوسرے بھی اس سے اسی طرح چاہت رکھے۔ اس سے خود اعتمادی اجاتی ہے جو کہ ذندہ رہنے کا ارفع جواز ہے۔ یہاں تک تو یہ نارمل ہے۔  اس سے اگے اگر بڑھ جائے تو اس سے اداسی جنم لیتی ہے۔ اگر اپ ہمیشہ کامیابی کے پیچھے بھاگیں گے تاکہ لوگ اپ سے محبت کرے تو مایوسی ہوگی۔ یہاں اپکی کامیابی کا پیمانہ بیرونی ہے اور اس کا انحصار لوگوں کی رائے پر ہے۔ یعنی اپ اپنے کام سے نہیں بلکہ اس کے نتیجے سے محبت کرتے ہیں۔ نتیجے کا تعین کون کرتا ہے؟ ظاہر ہے دیگر لوگ کرتے ہیں اور لوگوں کا پیمانہ بدلتا رہتا ہے۔ اسی طرح اپ اپنی خوشی کا پیمانہ لوگوں کے ہاتھ دیتے ہیں۔ اس کے بجائے اگر اپ اپنے کام سے محبت کرنا سیکھ جائے تو اس سے بڑی خوشی نہیں ہوسکتی۔ بعض نفسیات دان اسی لئے تعلیمی اداروں میں طلباء و طالبات کی ’کامیابی ‘ کے پیمانے امتحانات کے خلاف ہیں کہ اس سے ان طلباء و طالبات میں مطالعہ کی بجائے نتیجے سے محبت ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیائے تعلیم میں نصاب کی کتابوں سے طلباء کو اکثر نفرت سی ہوجاتی ہے۔ اگر دنیا کے اعلیٰ فنکار، مصوّر، شاعر، دانشور، سائنسدان یا سیاستدان اپنے مخصوص کاموں کے لئے بیرونی پیمانوں پر انحصار کرتے تو اج ان کا نام و نشان نہیں ہوتا۔

نرگسیت سے ایک بہت بڑا خوف جنم لیتا ہے جو خوشی اور ازادی کا سب سے سفّاک قاتل ہے۔ اسے رائے عامّہ کا خوف (Fear of public opinion ) کہا جاتا ہے۔ اس خوف سے زندگی محدود اور خوشی مفقود ہوجاتی ہے۔ میرے ایک دوست بازار انے سے اکثر گریزاں رہتے ہیں۔ ان کا قول ہے کہ بازار میں ان کو ہر سیکنڈ میں مختلف اداکاری کرنی پڑتی ہے۔ کس طرح چلنا ہے، کس سے کس طرح ملنا ہے، کس طرح کے کپڑے پہننے ہیں؛ یہ ساری چیزیں ان کو پریشان کرتی ہیں لہٰذا وہ بازار انے سے کتراتے ہیں۔ اصل میں وہ رائے عامّہ کے خوف میں حد سے زیادہ مبتلا ہیں۔ اس خوف سے بچنے کے لئے ضروری ہے کہ بندہ خود سے بے نیاز ہو، اپنے کام کے نتیجے سے بے پرواہ ہو اور اسے اپنے کام سے محبت ہو۔ نرگسیت سے طاقت کی ارزو جنم لیتی ہے۔انفرادی سطح پر جب یہ نرگسیت معاشرتی یا قومی شکل اختیار کرے تو انسانی تباہی کا سبب بنتی ہے۔ ’ہم سے سے اعلیٰ و ارفع ہیں ‘ اس نعرے نے دنیا کو ہمیشہ جنگوں میں دھکیلا ہے۔ جنگیں نسلی بنیادوں پر لڑی گئیں ہوں یا نظریاتی بنیادوں پر سب کے پیچھے یہی قومی نرگسیت پنہاں ہوتی ہے۔

مستقبل میں جینا: کل ہی ہم چند ساتھی دریا کنارے چہل قدمی کرکے ایک جگہ بیٹھ گئے۔ دریا کی موجوں کی روانی اور ان سے اٹھتی یخ ہواؤں سے محظوظ ہوگئے۔ ساتھیوں میں سے ایک بے چین ساتھی نے بعد میں کہا کہ ان کی طبیعت ہشاش ہوگئی۔ وہ کچھ وقت کے لئے صرف حال میں رہے تھے۔ جدید دور کے تقاضے ہمیں مستقبل میں رہنے پر مجبور کرتے ہیں۔ ہم ہمیشہ انے والے کل کے بارے میں سوچتے ہیں۔ اس سے چھٹکارہ اتنا اسان بھی نہیں۔ موت کا خوف بھی مستقبل میں جینا ہے۔ موت ہمیشہ مستقبل میں ہی اتی ہے۔ اگر ہم حال میں میسّر لمحوں سے لطف اندوز ہونا سیکھ لیں تو حال میں خوش رہنا سیکھ جائیں گے۔ اس سے موت کو شعوری طور پر قبول کرنا سیکھ جائیں گے۔ میرے بزرگ دوست کاگا کہتے ہیں، ’Be happy because death is always looming in the backyard ‘ ’’خوش رہو کیوں کہ موت قریب ہی عقب میں مُنڈلا رہی ہے “۔ اس سے ان کی مراد موت کو ایک حقیقت مان کر حال میں میسّر لمحوں سے بھرپور لطف اندوز ہونا ہے۔

حرص؍لالچ: لوک کہانیوں میں سنا تھا لالچ بری بلا ہے لیکن عملی ذندگی میں ایسا کم دیکھنے کو ملتا ہے۔ جدیدیت نے ضروریات پیدا کرکے کچھ سہولیات بھی دی ہیں۔ جدیدیت کے محرّکات نے انسان میں مقابلے کا رجحان بڑھایا ہے۔ مادی مقابلہ ترقی کا اصل مفہوم بن گیا ہے۔ ترقی کی تعریف سے خوشی کے معانی نکل چکے ہیں۔ ایسے میں انسان مقابلے کے گھن چکر میں پھنس چکا ہے۔ لالچ کے سامنے کوئی بھی اصول نہیں ٹھہر سکتا۔ اس نے مذہبی، سیاسی، پیشہ ورانہ اور سماجی سارے اصولوں کو عملی طور پر روند ڈالا ہے۔ ہر سطح پر ہر قسم کی بدعنوانی کو پروان چڑھایا ہے۔

حرص نے معاشرتی سطح پر حسد کو جنم دیا ہے۔ ہم صرف دوسروں کے کاموں پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ ہمارے معاشروں میں دوسروں کو خوش دیکھنا پسند نہیں کیا جاتا۔حسد عموماً ایک ہی پیشے یا کام والے لوگوں میں ذیادہ ہوتا ہے۔ حسد کے جذبات اس وقت ذیادہ ہوتے ہیں جب دونوں فاعل اور مفعول ذندہ ہو۔ ایک کی موت کے بعد دوسرے میں حسد کے جذبات کم ہوجاتے ہیں کیونکہ وہ مردے کو اپنےمقابل نہیں سمجھتا۔ ہاں موت کے بعد بھی وہ دوسروں سے متوفی کے بارے میں اچھے خیالات برداشت نہیں کرسکتا۔ کسی کے نزدیک اگر کوئی شخص کامیاب ہے تو وہ اس شخص کو واپس کھنچنے کی کوشش کرے گا۔ اسی حسد نے ترحم کے اصول کو ختم کردیا ہے۔

لالچ اور حرص کی وجہ سے ہم اپنے لئے کم اور اوروں کے لئے ذیادہ جی رہے ہیں۔ اس نے انسانوں میں ’تقابل اور موازنے ‘ (Comparison ) کے رجحان کو بڑھایا ہے۔ جب ہم خود کو کسی سےموازنہ کرنے لگتے ہیں تو بے چینی اس کا نتیجہ ہوتی ہے۔

مذہبی سطحیت کا فروغ اور مذہبی روح کا مفقود ہونا: کسی دانا نے کہا تھا، ’پاکستانی معاشرے میں مذہبیت بڑھتی ہے مگر ستم ظریفی یہ کہ ساتھ جرائم بھی بڑھتے ہیں۔ ‘ ان کی بات میں وزن تھا۔  عام مشاہدہ میں اتا ہے جس تیزی سے مذہبی وعظ و نصیحت میں اضافہ ہوتا ہے اس سے ذیادہ تیزی سے جرائم میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اس سے یہ نتیجہ اخذ نہیں کیا جاسکتا ہے کہ خدا ناخواستہ مذہبی تعلیمات میں کوئی سقم ہے۔ انسانی تاریخ گواہ ہے کہ انسان نے قدرتی مظاہر کے خوف سے بچنے کے لئے ہمیشہ مذہب کا سہارا لیا ہے مگر جب سے مذہب کو سیاسی اقتدار (political power ) کے لئے استعمال کیا جانے لگا ہے مذہب کو نقصان ہی ہوا ہے۔ اس کے نتیجے میں مذہبی رسومات تو بھرپور طریقے سے جاری رہتے ہیں لیکن اصل مذہبی روح مفقود ہوجاتی ہے۔ یہاں مذہبی روح سے مراد مذہب کے بنیادی اصولوں جیسے ترحم، مساوات، ہمدردی، دیانت داری، عہد و پیماں کی پاسداری، مادہ پرستی سے بچاؤ، اکرام ادمیت، خواہشات پر کنٹرول، توکّل (حال میں رہنا)، ایثار و قربانی، انکساری و عاجزی اور سچائی کی تلاش سے ہمکنار ہونا ہے۔  ہماری حالت یہ کہ ہم نے مذہب کو نفرت پھیلانے، اپنی ذاتی مفاد کو حاصل کرنے، دوسروں پر دھونس جمانے اور سیاسی اقتدار کے حصول کے لئے استعمال کرنا شروع کیا ہے۔ معاشرے میں اگر کسی سے اپکی نہیں تو اس پر کوئی ٹھپّہ لگا کر اس کا جنیا حرام کردے۔ ہمارے مذہب کو عالمی قوّتوں نے اپنے مقامی گماشتوں کے ذریعے اپنے سیاسی اور حربی مفاد کے لئے استعمال کرکے ایک مستقل انتشار کا ذریعہ بنایا ہے۔ ہمارے مذہبی سیاسی علماء اسی جدیدت میں جی رہے ہیں جب ’غلبے ‘ اور ’نفاذ ‘ کا فلسفہ استعماری قوّتوں کا بنیادی نظریہ ہوا کرتا تھا۔ یہ لوگ مذہب کا ’نفوذ ‘ نہیں بلکہ ’نفاذ ‘ چاہتے ہیں۔ یہی مقامی سطح پر مذہب سے منسلک تشدّد کا ذریعہ بنتا ہے۔ اج کل کی دنیا میں یہی استعماری قوّتیں ’علم ‘ کی طاقت سے اپنا قومی مفاد دنیا میں اگے پڑھارہی ہیں جبکہ ہم ابھی تک مذہب کا استعال کررہے ہیں۔

چونکہ مذہب کے اس استعمال کو روکنا بھی ہمارے بس میں نہیں، ہم صرف یہ کرسکتے ہیں کہ انفرادی طور پر مذہب کےان اصولوں پر عمل مسجد سے باہر بھی اپنی رومرّہ ذندگی کا حصّہ بنالیں۔ اسی سے خوشی یقینی ہوجائے گی۔

بےمقصدیت: جب انسان پر انکشاف ہوا کہ اس کی دنیا کائنات کا مرکز نہیں بلکہ اس وسیع کائنات میں ایک ذرّرے سے ذیادہ نہیں تو انسان کی انا اور نرگسیت کو سخت ٹھیس پہنچھی۔ اس کے ساتھ اس کے ذہین میں ذندگی کی مقصدیت کے بارے میں سوالات اٹھنے لگے۔ غرض و غائیت کی تجزیے نے فلسفے میں ایک پورا مکتب کو جنم دیا۔ یہاں اس بحث سے قطع نظر ہم مقصدیت کو عوامی مراد لیں گے۔ یہاں عام انسانوں کے سامنے انکے چھوٹے یا بڑے مقاصد سے ہمارا غرض ہے۔

اج کے اس پیچیدہ دور میں انسان ذندگی میں اپنے لئے کوئی مقصد چننے کی پوزشین میں نہیں رہا۔ ذندگی بے ہم گم ہورہی ہے اور انسان بےمقصدیدیت کا شکار ہوجاتا ہے۔ اس بے مقصدیدت سے بوریت اور اداسی جنم لیتی ہیں۔

خوش رہنے کے لئے انسان کے سامنے ایک مقصد اور اس سے لگاؤ کا ہونا ضروری ہوتا ہے۔ یہ مقصد کوئی بھی ہوسکتا ہے۔ کوتم بدھ کا نروان بھی ہوسکتا ہے اور ایک عام ادمی کے اپنے بچّوں کو اچھے طریقے سے پالنا بھی۔ یہ مقصد سائینسی تحقیق بھی ہوتا ہے اور طالب علم کے سامنے امتحان میں پاس ہونا بھی۔ مقصد انسان کو اداسی سے بچاتا ہے اور اگر مقصد کے ساتھ جذبہ (zest) بھی جڑا ہو تو اس مقصد کے حصول کی کوشش میں بڑی مسرّت ملتی ہے۔

غیر نصابی سرگرمیاں اور فراغت (impersonal interests): ہمہ وقت کام میں منہمک رہنے سے تھکان (fatigue) پیدا ہوتی ہے جو اگے جاکر اداسی کو جنم دیتی ہے۔ تھکاوٹ خوشی کے لئے ضروری بھی ہے لیکن اس کی بہتات مستقل اداسی کو جنم دیتی ہے۔ اس جسمانی و ذہنی تھکاوٹ کو دور کرنے کے لئے چند ایسی سرگرمیاں لازمی ہوتی ہیں جو روٹین کی ذندگی سے ہٹ کر ہو۔ میرے ایک دوست بجا کہتے ہیں کہ ہمیں ذندگی میں خوشیوں کے بہانے تلاش کرنا چاہئے۔ یہ معمول سے ہٹ کر سرگرمیاں ہوتی ہیں۔ دوستوں کے ساتھ سیر سپاٹے کے لئے نکلنا، ہفتہ وار چھٹی کے دن فیملی سیمت پیکنک پہ جانا، چہل قدمی کرنا، دوستوں سمیت چھوٹی چھوٹی دعوتیں کرنا یا پھر دنیا بھر کی سیر، غیرنصابی مطالعہ کرنا اور اس طرح کے دوسرے مشاغل بروئے کار لانا ہماری تھکاوٹ اور اداسی دور کرسکتے ہیں۔ اپنے لئے وقت نکالنا اور کچھ وقت فراغت میں گزارنا بھی انفرادی سطح پر سکون افزا ہوسکتا ہے۔

یہ سارے رویّے اپنے اندر لانا بہت مشکل ہے خصوصاً ایک ایسے دور اور معاشرے میں جہاں ہر طرف انتشار پھیلا ہو۔ لیکن انفرادی سطح پر ہم اپنے روّیے تبدیل کرسکتے ہیں۔ ہم اگر انفرادی طور پر ایسا کرے تو اس سے معاشرہ بھی اہستہ اہستہ بدل جائے گا۔ کوشش کرکے دیکھ لیں مزا ائے گا۔

Share.

Comments are closed.

Exit mobile version