Close Menu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    Home»کالم»مشرق وسطی کی صورتحال اور عرب لیگ
    کالم

    مشرق وسطی کی صورتحال اور عرب لیگ

    عاطف ہاشمیBy عاطف ہاشمیجولائی 28, 2016کوئی تبصرہ نہیں ہے۔9 Mins Read0 Views
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest WhatsApp Email

    عرب لیگ کے نو منتخب سیکرٹری جنرل احمد ابو الغیط نے ترکی میں حالیہ سیاسی کشیدگی پر جلد قابو پانے کی توقع ظاہر کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر ترکی میں داخلی سیاسی بحران کو جلد از جلد حل نہیں کیا جاتا تو اس کے ملک کی جنوبی سرحد پر منفی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں

    افریقا کے عرب ملک موریطانیہ کی میزبانی میں عرب لیگ کا پہلا سربراہ اجلاس25 اور 26 جولائی کو منعقد ہوا۔ عرب لیگ کے حالیہ اجلاس میں 9سربراہان مملکت نے شرکت کی جبکہ دیگر ممالک کے وزراء خارجہ  نے سربراہان کی نمائندگی کی۔ سنہ 1945ء میں عرب لیگ کے قیام کے بعد موریطانیہ کی میزبانی میں لیگ کا یہ پہلا اجلاس تھااور اسے "امید” کا نام دیا گیا تھا

     میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئےعرب لیگ کے نو منتخب سیکرٹری جنرل احمد ابو الغیط نے ترکی میں حالیہ سیاسی کشیدگی پر جلد قابو پانے کی توقع ظاہر کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر ترکی میں داخلی سیاسی بحران کو جلد از جلد حل نہیں کیا جاتا تو اس کے ملک کی جنوبی سرحد پر منفی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ترکی میں فوجی بغاوت کی ناکامی کے بعد یہ کہنا مشکل ہے کہ انقرہ شام اور عراق کو کیسے ڈیل کرے گا۔

    انہوں نے توقع ظاہر کی کہ ترکی اپنے داخلی بحران کے باوجود پوری دنیا کے لیے خطرے کا موجب دولت اسلامی ’داعش‘ کہلوانے والے خون خوار گروپ کے خلاف فوجی کارروائی جاری رکھے گا۔

    عرب لیگ کے سربراہ اجلاس کے ایجنڈے کے بارے میں بات کرتے ہوئے احمد ابو الغیط نے کہا کہ دہشت گردی، عرب ممالک کو درپیش داخلی اور خارجی خطرات اور علاقائی سطح پر دہشت گردی کی بیخ کنی کے لیے باہمی تعاون اس اجلاس کا اہم ایجنڈا تھا۔

    تمام عرب ممالک پر مشتمل مشترکہ فوج کی تشکیل کے امکان کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں ابو الغیط نے کہا کہ عرب لیگ کے سربراہ اجلاس میں اس بارے میں کوئی متفقہ رپورٹ جاری نہیں کی جاسکتی کیونکہ یہ ایک حساس موضوع ہے اور اس طرح کے فیصلے اعلانیہ نہیں کیے جاتے۔

    شام کا مسئلہ اقوام متحدہ کے سپرد کیے جانے کے بعد عرب لیگ کےشام  کےبارے  میں کردار سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ عرب لیگ اقوام متحدہ کے فیصلوں میں موثر رائے دینے کی پوزیشن میں ہے۔ عرب ممالک اقوام متحدہ کے رکن ہیں اور کسی بھی موضوع پر ہونے والی رائے شماری میں حصہ لیتے ہیں ۔ تاہم ابو الغیط کا کہنا تھا کہ عرب لیگ کی آواز کو اپنے طور پر بھی موثر ہونا چاہیے۔

    عرب لیگ کے 13 نکاتی اختتامی اعلامیے میں اس بات پر زور دیا گیا کہ عرب ممالک بالخصوص شام، عراق اور لیبیا کے مسائل پر ترکی اور ایران سمیت کوئی بھی غیر عربی ملک مداخلت نہ کرے۔ خصوصاً ایران کی جانب سے عرب ممالک کے اندرونی معاملات میں دخل اندازی پر تنقید کی گئی اور کہا گیا کہ ایرانی مداخلت منفی اثرات مرتب کررہی ہے۔

    مسئلہ فلسطین کے حل کے لیے عرب لیگ کے کردار پر بات کرتے ہوئے احمد ابو الغیط نے کہا کہ گذشتہ پانچ سال کے دوران عرب ممالک میں اٹھنے والی تحریکوں نے مسئلہ فلسطین کوغیر معمولی نقصان پہنچایا ہے تاہم میں ذاتی طور پر مصری وزیر خارجہ سامح شکری کے حالیہ دورہ اسرائیل کو مصری مفاد کا حصہ نہیں سمجھتا۔ ان کے اس دورے کو بھی مسئلہ فلسطین کے حل کے لیے ایک کوشش کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔

    عرب لیگ کے اس سربراہ اجلاس کے لیے تیار کردہ ”نواکشوط اعلامیے” میں عرب قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے دہشت گردی کی تمام شکلوں کے خلاف جنگ ،امن اور سلامتی کے فروغ،مذاکرات کی حوصلہ افزائی اور انتہاپسندی اور منافرت کے خاتمے پر زوردیا گیا ۔

    سربراہ اجلاس میں شریک عرب رہنماؤں نے انتہا پسندی اور تشدد سے پاک ماحول کے قیام کی اہمیت پر زوردیا  اور اس مقصد کے لیے عرب ریاستوں میں یک جہتی کی اقدار کے علاوہ عرب دنیا میں سائنسی تحقیق اور شہریوں کو ملازمتوں کے مناسب مواقع مہیا کرنے پر اتفاق کیا ہے۔

    نواکشوط اعلامیے میں عرب رہنماؤں کی جانب سے جنگ زدہ ممالک کے مکینوں کی مدد کے علاوہ مہاجرین ،بے گھر ہونے والے افراد اور تارکین وطن کی معاونت کے لیے عالمی اور عرب انسانی امدادی سرگرمیوں کی حمایت کا اظہار کیا گیا ۔

    لیگ نے اپنے اس مطالبے کا اعادہ کیا ہے کہ اسرائیل جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کے معاہدے (این پی ٹی) پر دستخط کرے اور اس کے جوہری پروگرام کو بین الاقوامی کنٹرول میں دیا جائے۔

    رہنماؤں نے اسرائیلی جارحیت کے خلاف فلسطینیوں کے نصب العین اور جدوجہد کی حمایت کا اظہار کیا ۔انھوں نے اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان پائیدار اور منصفانہ امن کے قیام کے لیے تمام کوششیں بروئے کار لانے کی ضرورت پر زوردیا اور کہا ہے کہ اسرائیل کے ساتھ عرب امن اقدام ،میڈرڈ امن کانفرنس اور متعلقہ بین الاقوامی قراردادوں کے تحت پائیدار امن قائم ہونا چاہیے۔

    انہوں نے فرانسیسی امن اقدام کا بھی خیرمقدم کیا ہے جس میں ایک بین الاقوامی امن کانفرنس کے انعقاد کی ضرورت پر زوردیا گیا ہے جو ایک طے شدہ نظام الاوقات میں خود مختار فلسطینی ریاست کے قیام پر منتج ہوگی اور مشرقی القدس اس ریاست کا دارالحکومت ہوگا۔

    اعلامیے میں عالمی برادری سے فلسطینی تنازعے سے متعلق بین الاقوامی قراردادوں پر عمل درآمد کرانے کا مطالبہ کیا  گیا تاکہ  اسرائیلی قبضے کا خاتمہ ہو اور اسرائیلی فورسز تمام عرب مقبوضہ علاقوں اور شام کے علاقے گولان کی چوٹیوں اور جنوبی لبنان کے مقبوضہ علاقوں کو خالی کردیں۔

    لیبیا کی صورت حال کے حوالے سے اعلامیے میں تمام متحارب فریقوں پر زوردیا گیا ہے کہ وہ ملک کی تعمیر نو اور دہشت گرد گروپوں کے مقابلے کے لیے تمام ممکنہ کوششیں بروئے کار لائیں اور لیبی پارلیمنٹ کو دعوت دی گئی کہ وہ فائز السراج  کی حکومت کو تسلیم کر لے۔

    لیگ نے منصور عبد ربہ کی حکومت کی حمایت جاری رکھنے کا اعلان کیا اور یمن کے متحارب فریقوں پر بھی زوردیا ہے کہ وہ کویت میں جاری امن مذاکرات کے دوران کسی مثبت حل کی جانب پیش رفت کریں اور تنازعے کے حل کے لیے اس موقع سے فائدہ اٹھائیں۔

    اعلامیے میں شام میں جاری تنازعے کے پُرامن حل کی امید کا اظہار کیا گیا تاکہ اس ملک کی خود مختاری ، اور شامی عوام کا وقار بحال ہوسکے۔اورعراق کے اتحاد کو برقرار رکھنے اور دہشت گرد گروپوں کے مقابلے اور داعش کے زیر قبضہ علاقوں کو واگزار کرانے کے لیے عراقی حکومت کی کوششوں کی حمایت کا بھی اظہار کیا گیا۔

    عرب وزرائے خارجہ نے عرب دنیا اور خاص طور پر شام ،لیبیا اور یمن میں جاری تنازعات کے حل میں معاون اقدامات کی حمایت سے اتفاق کیا۔انھوں نے اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان تعطل کا شکار امن مذاکرات کی بحالی کے لیے فرانسیسی اور مصری اقدام کا خیرمقدم کیا ہے۔

    اس اجلاس میں سوڈانی صدر عمر حسن البشیر نے بھی شرکت کی جو کہ ہیگ میں قائم عالمی فوجداری عدالت (آئی سی سی) کو دارفور میں جنگی جرائم،انسانیت مخالف جرائم اور نسل کشی میں ملوّث ہونے کے الزامات میں مطلوب ہیں۔تاہم موریطانیہ نے آئی سی سی کے قیام سے متعلق روم معاہدے پر دستخط نہیں کیے اس لیے وہ سوڈانی صدر کو گرفتار  کرنےاور انھیں آئی سی سی کے حوالے کرنے کا پابندنہیں ہے۔

    عمر حسن البشیر اپنے خلاف آئی سی سی کے وارنٹ گرفتاری کے اجراء کے باوجود  اس سے قبل بھی متعدد ممالک کے دورے کرچکے ہیں۔ان میں آئی سی سی کی توثیق کرنے والے ممالک بھی شامل ہیں۔ گذشتہ سال جوہانسبرگ میں افریقی یونین کے سربراہ اجلاس میں  بھی انہوں نےشرکت کی تھی۔

    عرب  لیگ  جسے "جامعہ دول عربیہ ” بھی کہا جاتا ہے عرب اکثریتی ریاستوں کی تنظیم ہے جس کا صدر دفتر مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں ہے ۔لیگ کا قیام 22 مارچ 1945ء کو اسکندریہ میں   اس مقصد کے لیے عمل میں آیا  تھا تاکہ  مسئلہ فلسطین پر عرب ریاستیں مل بیٹھ کر لائحہ عمل طے کریں  اور یہودی  ناجائز ریاست کے قیام کو روک سکیں ،لیگ کے میثاق کے مطابق رکن ریاستیں اقتصادی معاملات بشمول تجارتی تعلقات، مواصلات، ثقافتی معاملات، قومیت، پاسپورٹ ،ویزا، معاشرتی اور صحت کے معاملات میں ایک دوسرے سے تعاون کر یں گی اور ایک دوسرے کے خلاف جارحیت کا ارتکاب بھی نہیں کریں گی۔

    28 مئی 1945 کو مصر کے شاہ فاروق کی دعوت پر عرب لیگ کے سات بانی ممالک (مصر،اردن،سعودیہِ ،یمن ،عراق،شام ،اور لبنان)نے انشاص میں پہلا اجلاس منعقد کیا تھا  تاکہ یہودی ریاست کے قیام کو روکا جا سکے،اس کے بعد  لیگ کایہ تینتیسواں اجلاس  جس میں ایک مرتبہ پھر مسئلہ فلسطین کے  پرامن حل کی بات کی گئی اور حیران کن طور پر 2017 کو فلسطین کی آزادی کا سال قرار دیا گیا،اجلاس کے بعد خواب خرگوش میں مگن ہو جانے والے رہنماؤں کے نزدیک شاید فلسطین کا "پرامن” حل اسی میں ہے کہ وہ خود امن و سکوں سے بیٹھے رہیں اور جب موقع ملے فلسطین کے حق میں ایک اور بیان داغ دیں ۔ عالم عرب کےاتنے سنگین اور تباہ کن حالات کے باوجود عرب لیگ کا یہ اجلاس سابقہ رسمی اجلاسوں جیسا ہی ثابت ہوا۔

    پہلی دفعہ موریطانیہ کی میزبانی میں منعقد ہونے والے اس  اجلاس میں 22 میں سے صرف 9 رہنماؤں نے شرکت کی  جس کی وجہ سے اجلاس کومختصر کر کے دو دن کی بجائے ایک ہی دن  تک محدود کر دیا گیا، شام کی رکنیت معطل ہونے وجہ  سے سیٹ خالی رہی جبکہ  باقی شرکت نہ کرنے والے  رہنماؤں میں سے بعض  نے قریبی رشتہ  دار کی وفات اور بعض نے صحت ٹھیک نہ ہونے کا عذر پیش کیا، جس سے  عرب رہنماؤں کی مشرق وسطیٰ کے امور  کے حل میں دلچسپی کا  بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

    عمل اور جدو جہد سے عاری ہو کر اور ایک اجلاس تک میں شرکت نہ کر کے 2017 کو فلسطین کی آزادی کا سال قرار دینے والوں سے جاکر کوئی کہہ دے کہ خواب دیکھنے کے لیے رات ہی کافی ہوتی ہے۔

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleآزادی اظہار پر وار ہونے والا ہے !
    Next Article برہان وانی کے بعد کا کشمیر
    عاطف ہاشمی

    Related Posts

    جنگ مذاق نہیں

    اپریل 25, 2025

    امید کا ایک اور قطرہ

    اکتوبر 7, 2024

    پشتو اکیڈمی کوئٹہ ارتقا اور تنزل کے دو راہے پر

    ستمبر 17, 2024

    Comments are closed.

    تجزیات آن لائن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    © 2026 تجزیات آن لائن، جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.

    Powered by
    ►
    Necessary cookies enable essential site features like secure log-ins and consent preference adjustments. They do not store personal data.
    None
    ►
    Functional cookies support features like content sharing on social media, collecting feedback, and enabling third-party tools.
    None
    ►
    Analytical cookies track visitor interactions, providing insights on metrics like visitor count, bounce rate, and traffic sources.
    None
    ►
    Advertisement cookies deliver personalized ads based on your previous visits and analyze the effectiveness of ad campaigns.
    None
    ►
    Unclassified cookies are cookies that we are in the process of classifying, together with the providers of individual cookies.
    None
    Powered by