یہ تحریر پاکستان کے اس گہرے تضاد کو موضوع بناتی ہے جس میں ایک طرف زمین کے نیچے بے پناہ معدنی دولت موجود ہے اور دوسری طرف زمین کے اوپر سب سے قیمتی اثاثہ یعنی انسانی ذہانت اور مہارت خاموشی سے ملک چھوڑتی جا رہی ہے۔ ڈاکٹر محمد خالد مسعود ہجرت، برین ڈرین اور معدنی وسائل کو محض معاشی یا تکنیکی مسائل کے طور پر نہیں بلکہ ایک فکری، تہذیبی اور تاریخی سوال کے طور پر پیش کرتے ہیں، جہاں قدرتی خزانے، انسانی وسائل، ریاستی اعتماد اور قومی ترجیحات ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہیں۔ یہ مضمون اعداد و شمار، پالیسی تاریخ، اور ادبی و فکری استعاروں کے ذریعے یہ سوال اٹھاتا ہے کہ آیا ہم واقعی وسائل کی کمی کا شکار ہیں، یا اصل بحران خود اعتمادی، علم، اور اپنے لوگوں پر اعتماد کے فقدان کا ہے—اور کیا یہ ہجرتیں محض وقتی ہیں یا ایک طویل اور نہ ختم ہونے والے سلسلے کا پیش خیمہ۔ ڈاکٹر خالد مسعود صاحب ایک فقیہ اور اسلامی قانون کے ماہر ہیں۔ وہ پاکستان سمیت مختلف ممالک میں تدریس و تحقیق کے اہم عہدوں پر خدمات انجام دے چکے ہیں، دو مرتبہ اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین رہے جبکہ اس وقت وہ سپریم کورٹ کے شریعہ اپیلیٹ بینچ کے جج ہیں۔
مملکت خداداد میں تانبے، سونے، لیتھیم، کوبالٹ، نایاب زمینی عناصر اور قیمتی پتھروں کے وسیع ذخائر موجود ہیں۔ ان میں سے قیمتی پتھروں کے قدرتی ذخائر کی مالیت کا اندازہ چار سو پچاس ارب ڈالر ہے۔ صرف ریکوڈک میں پانچ ارب ٹن سے زیادہ معدنیات پائی جاتی ہیں۔ اتنی خداداد دولت کا سن کر کسی کا بھی دماغ گھوم سکتا ہے۔ پاکستانی دماغ بھی گھوما لیکن الٹا۔ وہ پاکستان میں سنہرے معدنی مستقبل کے انتظار کی بجائے اس ملک سے ہی ہجرت کر رہے ہیں۔ ہجرت کی اس قسم کے لئے آج کل برین ڈرین کی اصطلاح استعمال ہوتی ہے۔
مقتدرہ قومی زبان کی قومی انگریزی اردو لغت میں برین ڈرین کا مطلب یوں بیان کیا گیا ہے: زیادہ منفعت کی خاطر غیر ممالک کو نقل مکانی کے باعث ذہین اور باکمال لوگوں کی کمی واقع ہو جانا ۔ اندازہ ہوا کہ مقتدرہ کے نزدیک مطلب تو کیا یہ لفظ ہی قابل تعریف نہیں ہے۔ اسی لئے لغت نے معذرت خواہانہ وضاحت پیش کی۔ ہم نے نہ چاہتے ہوے بھی (غیر جانب دار) مصنوعی ذہانت سے پو چھا تو اس نے بلا تامل برین ڈرین کا ترجمہ دماغی ہجرت بتایا۔لگتا ہے انسانی ذہانت اور مصنوعی ذہانت میں شدید ان بن ہو گئی ہے۔ اسی لئے ایسا طنزیہ جواب ملا۔ بھارت میں ایسا نہیں ہے۔ وہاں ایسے لوگوں کو این آر آئی یا نان ریزیڈینش انڈینز کہا جاتا ہے جس کا مطلب ہے وے بھارتی جو بھارت میں نہیں رہتے۔ اس طرح تو پاکستانیوں کو بھی این آرپی کے نام سے یاد کرنا چاہئے لیکن بوجوہ ان کو یہ درجہ حاصل نہیں۔ پاکستانیوں کے دل بے شک پاکستان کے لئے دھڑکتے ہیں اور ان کی ترسیل زر بھلے پاکستان کے لئے گلو کوز کا درجہ رکھتی ہے، لیکن ان کا ذکر برین ڈرین کے ضمن میں ہی کیا جاتا ہے۔ بقول مصنوعی ذہانت اس دماغی ہجرت سے پاکستان کی ذہنی صحت بری طرح متاثر ہوئی ہے۔
دماغی ہجرت دراصل ہجرت در ہجرت کا سلسلہ ہے جو بہت سی ہجرتوں کے جلو میں آتا ہے۔ ان میں ہجر و فراق کی کہانیاں بھی ہیں، اور مذہب اور فکر کی آزادی پر پابندیوں اور جان ومال کو خطرے کی داستانیں بھی ۔ غربت سے نجات کے خواب بھی ہیں اور جان سے پیارے رشتوں کے لئے بہتر زندگی کی امید میں صحراوں کی ریت چھاننا بھی شامل ہے۔ اب قومی اور بین الاقوامی سرحدوں کی حد بندیاں، ہجرت کے قوانین کی نئی تعبیرات، اور بیرون ملک سفر کے لئے ویزا، قومیت، پاسپورٹ، اور نقل مکانی کے بارے میں لمحہ بہ لمحہ بدلتے قوانین کی دنیا میں برین ڈرین محض دماغی ہجرت نہیں رہا ۔ حالیہ بین الاقوامی مذاکرات میں معدنیات کے بارے میں جن بہت سے موضوعات نے اہمیت اختیار کی ان میں اب ہجرت کا مسٗلہ سر فہرست آگیا ہے۔
میکسیکو میں تو یہ بات اب ضرب المثل بن گئی ہے کہ سرحدیں بھی ہجرت کرتی ہیں۔ پہلے معدنیات اور زیر زمین ذخائر کے لئے سفر کئے جاتے تھے، کالونیاں بنائی جاتی تھیں۔ اب ان ذخائر کو ہجرت کرا ئی جارہی ہے۔ یوں بہت سی نئی ہجرتوں کا تقاضا کرتے یہ موضوعات صبا اکبر آبادی کے ایک شعر کی بازگشت بنتے جارہے ہیں:
ہنوز دیکھنی باقی ہیں ہجرتیں کیا کیا
ابھی تو ایک وطن چھوڑ کر ہی نکلے ہیں
یا برنگ فیض :
اب بھی دلکش ہے ترا حسن مگر کیا کیجے
لوٹ جاتی ہے ادھر کو بھی نظر کیا کیجے
پاکستان میں بیش قیمت ذخائر پر لکھا تو بہت جارہا ہے اورہمیں خوشی بھی ہے کہ 2026 میں اس پیش رفت میں تیزی آئی ہے لیکن اس موضوع پر مستند معلومات اور حقائق دستیاب نہ ہونے کی وجہ سے ان صفحات پرعلمی تجزیہ پیش کرنا ہمارے لئے ممکن نہیں۔ محض قیاس آرائی سے نہ مسئلہ سمجھ میں آسکتا ہے ، نہ اس صورت میں کوئی حل تجویز کیا جا نا چاہیے۔ تاہم اس پیش رفت کے تین پہلو بہت اہم ہیں اور کیا کیجے کہ ان سے جڑے تین سوال بھی ذہن میں آتے ہیں۔ سرسری ہی سہی، نظر بار بار ہجرتوں کی طرف لوٹ جاتی ہے۔
۱۔ ایک پہلو تو یہ ہے کہ ان معدنیا ت اور زیر زمین بیش قیمت قدرتی ذخائر کی اہمیت کا علم قیام پاکستان سے پہلے سے موجود تھا۔ اسی لئے ان سے استفادے کے قوانین کی ابتدا 1948 میں ہی کر دی گئی تھی ۔ پاکستان معدنی ذخائر ایکٹ 1948 نے ملک میں معدنیات کے وسائل کے انتظام اور ترقی کی بنیاد رکھی، جس سے کان کنی کے لائسنس، معدنی حقوق، اور حکومت اور نجی شعبے کی ذمہ داریوں کا خاکہ متعین ہوا۔ اس ایکٹ میں مندرجہ ذیل أمور شامل تھے: وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان معدنی وسائل کے کنٹرول کی تقسیم کا تعین اور معدنیات کی تلاش اور کان کنی کے لیے لائسنس جاری کرنے کے قواعد و ضوابط۔
وقت کے ساتھ ساتھ اس میں تبدیلیاں بھی لائیں گئیں لیکن بنیادی مقصد معدنی وسائل کا بہتر انتظام، غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنا، اور ماحولیاتی تحفظ کو یقینی بنانا ہی رہا ۔ 1962 سے 1993 تک سینڈک اور اس دوران 1978 میں ریکو ڈک کے منصوبے بھی شامل ہو گئے۔ ۔ ان معاہدات کے حوالے سے بے شمار قانونی پیچیدگیاں بھی آڑے آ ئیں اور بین الاقوامی سیاسی اتار چڑھاو بھی اثر انداز رہے۔تاہم عملی پیش رفت بھی جاری رہی۔
سینڈک معاہدے پر 1990 میں کام شروع ہوا۔لیکن آزمائشی مرحلے میں ہی مشکلات کی وجہ سے پہلے 1993 اور پھر 1995 میں منصوبہ بند کرنا پڑا۔ 2003 میں بحال ہوا تو مالی پیچیدگیوں کی وجہ سے پھر بند ہوگیا۔ 2021 میں دوست ملکوں کی مدد سے بحال ہوا۔ 2024میں بلوچستان کے ضلع چاغی میں ریکو ڈک میں تانبے کے ایک کروڑ پچاس لاکھ ٹن اور سونے کے دو کروڑ ساٹھ لاکھ اونس کے ذخائر کی کان کنی کا معاہدہ ہوا۔ بلوچستان مائنز اینڈ منرلز ایکٹ 2025 کا حالیہ معاہدہ جو دو مرحلوں میں 2034 میں مکمل ہوگا اور پاکستان منرلز انویسٹمنٹ فورم کی حالیہ تقریب انہی کوششوں کا تسلسل ہے۔
اس ضمن میں ایک ہی سوال ذہن میں آتا ہے کہ ان ذخائر کی اہمیت اور ان کی تلاش اور کان کنی کے لئے ضروری تعلیم اور مہارت کی تربیت کے منصوبے بھی بنے ہوں گے۔ یا اس کے لئے باہر تربیت کے لئے پاکستانیوں کو بھیجا بھی گیا ہوگا۔ تاہم اس بارے میں مستند معلومات دستیاب نہیں۔ اس لئے فی الحال کان کنی کے مسائل پر تفصیل سے کچھ نہیں کہا جا سکتا۔
۲۔ دوسرا پہلو یہ ہےکہ 2026سے پاکستان کے معدنی ذخائر پرجتنی کثرت سے اظہار خیال کیا جارہا ہے اسی حساب سے انسانی وسائل کی پاکستان سے ہجرت پر تشویش بھی زیر بحث ہے۔ معدنی ذخائر اور انسانی وسائل دونوں ملکی ترقی کے لئے بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ انسانی وسائل سے مراد ملک کی افرادی قوت کے ذخائر ہیں، یعنی وہ لوگ جنہیں ضروری تربیت اور ان کی تکنیکی صلاحیتوں میں معیاری بہتری سے تعلیم، صحت، زراعت، کان کنی یا معیشت میں ترقی کو یقینی اور موثر بنایا جاسکتا ہے۔ معدنیات کی طرح علم اور مہارتیں بھی قیمتی خزینے ہیں۔ یہ وہ دماغی اور فنی صلاحیتیں ہیں جو معاشرتی اور معاشی ترقی دونوں کے لیے لازمی ہیں۔پاکستان میں یہ بحث عام ہے کہ پاکستان میں یہ صلاحیتیں برین ڈرین کا شکار ہو رہی ہیں۔
پاکستان جرنل آف میڈیکل سائنسز 2023 کے مطابق 1971 ۔ 2022 تک برین ڈرین کےسرکاری اعداد و شمار مندرجہ ذیل ہیں:
کل تعداد: ساٹھ لاکھ ، انیس ہزار، آٹھ سو اٹھاسی
اعلی تعلیم یافتہ : دو لاکھ، اکیاون ہزار، چھ سو ستتر
اعلی مہارتوں کے حامل: چار لاکھ، اپچپن ہزار، ستانوے
ہنر مند: دو لاکھ، اکیاون ہزار، چھ سو ستتر
میڈیکل ڈاکٹر: اکتیس ہزار، چار سو اٹھارہ
ہیلتھ کیئر نرسیں: بارہ ہزار، آٹھ سو تریپن
ماہر ادویات : پانچ ہزار، آٹھ سو انتالیس
2022 میں ایک ہی سال میں برین ڈرین کی شماریات میں اچانک اضافہ ہو گیا۔ پاکستان سےہجرت کرنے والوں کی تعداد سات لاکھ ، پینسٹھ ہزار، اور ان میں اعلی تعلیم یافتہ کے بعد اعلی مہارت کے ماہرین بانوے ہزار اورہنرمند تربیت یافتہ مزدوروں کی تعداد ایک لاکھ ہو گئی۔مقالہ نگاروں کی نظر میں اس اضافے کے أسباب میں ملک کی معاشی پسماندگی، کم تنخواہیں، بے روزگاری، کمزور اقتصادی حالت اور غیر مستحکم سیاسی صورت حال شامل ہیں۔
سوال یہ ہےکہ معدنی ذخائر کے منصوبوں میں پیش رفت کے پس منظر میں انسانی وسائل کے مسئلے کو وہ اہمیت کیوں نہیں دی جا رہی جو اس منصوبے کا تقاضا ہے؟ اس سے کہیں زیادہ حیرانی اس بات پر ہے کہ انسانی وسائل کے مسئلے پر صرف ہجرت کے حوالے سے کیوں بات کی جا رہی ہے؟ اور اینٹ کا جواب پتھر، ان ہجرتوں کو برین ڈرین کا نام کیوں دیا جارہا ہے؟ بظاہر لگتا ہے کہ برین ڈرین کا شوشہ چھوڑ کر معدنیات کے منصوبوں سے توجہ ہٹانا مطلوب ہے۔
۳۔ تیسرا قابل غور پہلو یہ ہے کہ سب جانتےہیں معدنیات اور برین دونوں انتہائی قیمتی لیکن قدرتی خزانے ہیں ۔ دونوں سے استفادے کے لئے بے بہا سرمایہ، تعلیم، پیشہ ورانہ مہارت، اور تربیت کی ضرورت ہے۔ اس نقطہ نظر سے تعلیم میں غیر مشروط امانت اور دیانت اور کان کنی جیسی تکنیکی مہارت اور صبرو تحمل بنیادی تقاضے ہیں۔ پاکستان میں تعلیم و تربیت کی منصوبہ بندی ہو یا ذخائر کی کان کنی کامنصوبہ ، دونوں کا انحصار علم اور مہارت پر ہے۔ ہم دونوں صورتوں میں ذمہ داری کو بھاری پتھر سمجھ کر قدرتی ذخائر کو زیر زمیں رہنے دیتے ہیں اور مہارت یافتہ کی تلاش میں نکلے رہتے ہیں۔ پاکستان کے اعلی تعلیم یافتہ اور مہارت کے حامل بھی بہتر مواقع اور بہتر تنخوایوں کی تلاش میں ملک سے باہر جاتے رہتے ہیں ۔ کیوں؟
سوال یہ ہے کہ ہم کو خود پر اور اپنے لوگوں پراعتماد کیوں نہیں؟ ہم اپنے لوگوں کو یہ علوم اور مہارتیں کیوں نہیں سکھاتے؟ کیا ہمیں کسی نئے گلوبل استعمار کا انتظار ہے ؟ اگر ایہ سوچ ہے تو یہ برین ڈرین بھی نہیں رکے گا اور ہجرتوں کا سلسلہ بھی جاری رہے گا۔ برطانوی استعمار آیا تو یہی سوال سر سید نے اٹھایا ۔ سر سید نے اپنی تحریروں میں جدید علوم، نئے علم الکلام اور سیرت مصطفی کی طرف توجہ دلائی۔اور الطاف حسین حالی سے اسلام کی ایسی داستان لکھنے کی فرمائش کی جو امت مسلمہ کو بیداری اور خود اعتمادی کا سبق دے۔
الطاف حسین حالی نے مسدس میں اسلام کی تاریخ کو نظم کی شکل دی اور نقشہ پیش کیا کہ نبی رحمت صلی اللہ علیہ و سلم نے عرب کی مس خام قوم کو اسلام کے پیغام سےکیسے کندن بنایا۔
اتر کر حرا سے سوئے قوم آیا
اور اک نسخہ کیمیا ساتھ لایا
مس خام کو جس نے کندن بنایا
پڑی کان میں دھات تھی اک نکمی
نہ کچھ قدر تھی اور نہ قیمت تھی جس کی
طبیعت میں جو اس کے جوہر تھے اصلی
ہوے سب تھے مٹی میں مل کر وہ مٹی
اس نسخہ کیمیا سے جو بھی فیض یاب ہوا وہ مٹی سے سونا ہوگیا۔ اور ایک ہم ہیں جو بقول صبا اکبر آبادی سوچتے ہیں کہ
اِک روز چِھین لے گی ہَمِیں سے زمِیں ہَمَیں
چِھینیں گے کیا زمِیں کے خزانے زمِیں سے ہم

***
مصادر
⦁ ڈاکٹر جمیل جالبی، قومی انگریزی اردو لغت،مقتدرہ قومی زبان ، اسلام آباد، 1994
⦁ فرحت جاوید، سونے کے ذخائر، قیمتی پتھر اور دھاتیں، پاکستان میں کھربوں ڈالرز کی معدنیات کہاں پائی جاتی ہیں اور ان سے فاٗدہ کیسے حاصل کرنے میں کیا مشکلات ہیں، بی بی سی، اردو ڈاٹ کام، 16 اپریل ۔2025
⦁ Mariyam Suleman Anees, “Why The Balochistan Mines and Minerals Act Was Enacted Swiftly and Silently”, The Diplomat, April 28, 2025.
⦁ Md. Saiful Islam, Md. Monirul Islam, Anis Ur Rehman, Md. Fakhre Alam, Md. Tarique, “Mineral Production Amidst The Economy of Uncertainty: Response of Metallic and Non-Metallic Minerals To Geopolitical Turmoil In Saudi Arabia”, Resources Policy, Volume 90, 2024.
Meo SA, Sultan T., “Brain Drain of Healthcare Professionals From Pakistan From 1971 To 2022: Evidence-Based Analysis. Pak J Med Sci. 2023 Jul-Aug;39(4):921-925

Share.

Comments are closed.

Exit mobile version