انصار عباسی صاحب کی جنگ اخبار میں 2 فروری کو شائع کردہ تحریر بلوچستان میں حالیہ پرتشدد واقعات کو یک رُخی انداز میں “دشمن کی کھلی جارحیت” اور “اعلانِ جنگ” قرار دیتی ہے اور اس پوری صورتحال کو محض سیکیورٹی لینس سے دیکھتی ہے۔ یہ وہی بیانیہ ہے جو گزشتہ دو دہائیوں سے ریاستی سطح پر دہرایا جا رہا ہے، مگر اس کے باوجود نہ بلوچستان میں امن قائم ہو سکا، نہ عوام کا اعتماد بحال ہوا، اور نہ ہی تشدد کا سلسلہ رکا۔ اس کے برعکس، حالات مسلسل بگڑتے چلے گئے۔ سوال یہ ہے کہ اگر یہی بیانیہ درست اور مکمل تھا تو نتائج اس کے برعکس کیوں نکلے؟
سب سے پہلی اور بنیادی خامی یہ ہے کہ اس طرح کی تحریریں بلوچستان کے بحران کو اس کے تاریخی، سیاسی اور سماجی پس منظر سے کاٹ کر پیش کرتی ہیں۔ بلوچستان کی مزاحمت یا بدامنی کو محض “غیر ملکی سازش” کے خانے میں ڈال دینا ایک آسان مگر فکری طور پر دیوالیہ موقف ہے۔ یہ طرزِ فکر ان دہائیوں پر محیط ریاستی پالیسیوں کو نظرانداز کرتا ہے جن میں جبری گمشدگیاں، ماورائے عدالت قتل، وسائل پر مقامی آبادی کی عدم ملکیت، مسلسل فوجی آپریشنز، دھاندلی زدہ الیکشن اور سیاسی عمل کی منظم کمزوری شامل ہیں۔
یہ ایک ناقابلِ تردید حقیقت ہے کہ بلوچستان میں ہزاروں خاندان ایسے ہیں جن کے پیارے برسوں سے لاپتہ ہیں۔ ان کے پاس نہ عدالتوں سے انصاف ملا، نہ پارلیمان سے، اور نہ ہی میڈیا میں آواز۔ کوئٹہ سے اسلام آباد تک لانگ مارچ کرنے والی مائیں اور بہنیں آج بھی سڑکوں پر گھسیٹی جاتی ہیں، گرفتار کی جاتی ہیں، اور ان پر لاٹھی چارج ہوتا ہے۔ حالیہ برسوں میں بلوچ یکجہتی کمیٹی، طلبہ تنظیموں، وکلا، اساتذہ اور حتیٰ کہ بلوچستان گرینڈ الائنس جیسے سرکاری ملازمین کے پرامن احتجاج بھی طاقت کے زور پر کچلے گئے۔ جب ایک صوبے میں پرامن احتجاج بھی جرم بن جائے تو وہاں تشدد کے اسباب پر سنجیدہ سوال اٹھانا ناگزیر ہو جاتا ہے۔
زیرِ بحث تحریر میں یہ شکوہ کیا گیا ہے کہ بلوچ سردار، نواب اور سیاسی قیادت “خاموش” ہیں۔ مگر اس خاموشی کی وجوہات پر کوئی بات نہیں کی گئی۔ کیا یہ خاموشی رضاکارانہ ہے یا مسلط کردہ؟ کیا وہ سیاستدان جو لاپتہ افراد کی بات کرے، اگلے دن خود لاپتہ ہو جاتا ہے؟ کیا وہ رہنما جو اسٹیبلشمنٹ کے بیانیے سے ہٹ کر بات کرے، غدار، سہولت کار یا دشمن کا ایجنٹ قرار نہیں پاتا؟ بلوچستان میں سیاست دانوں کو بولنے کی قیمت باقی صوبوں سے کہیں زیادہ ادا کرنی پڑتی ہے، اور یہ حقیقت کسی بھی سنجیدہ تجزیے میں نظرانداز نہیں کی جا سکتی۔
مزید برآں، تحریر میں جن افراد انوارالحق کاکڑ اور سرفراز بگٹی کو “جرات مند قیادت” کی مثال کے طور پر پیش کیا گیا ہے، وہ خود بلوچستان میں شدید عوامی ناپسندیدگی کی علامت سمجھے جاتے ہیں۔ یہ وہ شخصیات ہیں جو کبھی بلدیاتی کونسلر کا انتخاب بھی جیتنے کی پوزیشن میں نہیں رہیں، مگر انہیں صوبے کا وزیرِاعلیٰ اور نگران وزیرِاعظم بنایا گیا۔ یہ تقرریاں عوامی مینڈیٹ کی نہیں بلکہ طاقت کے مراکز کی نمائندگی کرتی ہیں۔ ایسے میں انہیں “بلوچ آواز” کہنا یا صوبے کی حقیقی نمائندگی کی علامت بنانا زمینی حقائق سے صریح انکار ہے۔
سرفراز بگٹی کا طرزِ سیاست انتظامی عمل سے زیادہ دھمکی اور طاقت کے استعمال پر مبنی رہا ہے۔ بطور وزیرِاعلیٰ وہ ایک سیاسی نمائندے کے بجائے اکثر ایک سخت گیر سیکیورٹی افسر کے انداز میں گفتگو کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ یہ رویہ مسائل کو حل کرنے کے بجائے مزید شدت دیتا ہے اور نوجوانوں میں بیگانگی کے احساس کو گہرا کرتا ہے۔
یہ کہنا بھی علمی بددیانتی کے زمرے میں آتا ہے کہ بلوچستان کو درپیش تمام مسائل کی جڑ “غیر ملکی ہاتھ” ہے۔ غیر ملکی مداخلت اگر کہیں موجود بھی ہو، تو وہ خلا میں پیدا نہیں ہوتی۔ ریاستی جبر، سیاسی بندشوں اور مسلسل ناانصافیوں نے جو خلا پیدا کیا، بیرونی عناصر نے اسی سے فائدہ اٹھایا۔ اصل سوال یہ ہے کہ وہ خلا کیوں پیدا ہوا اور اسے پر کرنے کے لیے سنجیدہ سیاسی اصلاحات کیوں نہیں کی گئیں؟
سب سے افسوسناک پہلو یہ ہے کہ بلوچستان کو آج بھی ایک سیکیورٹی زون کے طور پر دیکھا جاتا ہے، نہ کہ ایک زندہ، متحرک اور انسانی معاشرہ سمجھا جاتا ہے۔ جیسے پنجاب یا سندھ میں لوگ عزت، روزگار، تعلیم، احتجاج اور رائے دہی کے حقوق رکھتے ہیں، ویسے ہی حقوق بلوچ عوام کے بھی ہیں۔ انہیں محض “سیکیورٹی رسک” یا “ممکنہ باغی” سمجھنا مسئلے کا حل نہیں بلکہ خود مسئلہ ہے۔
اگر واقعی امن مطلوب ہے تو اس کا راستہ مزید آپریشنز، مزید بیانیے اور مزید پسندیدہ چہروں کو مسلط کرنے سے نہیں گزرے گا۔ اس کے لیے جبری گمشدگیوں کا خاتمہ، شفاف احتساب، آزادانہ سیاسی عمل، غیر جانبدار انتخابات، وسائل پر مقامی اختیار، اور سب سے بڑھ کر بلوچ عوام کو انسان سمجھنے کی ضرورت ہے، نہ کہ صرف ایک فائل، ایک نقشہ یا ایک سیکیورٹی چیلنج۔
بلوچستان جل رہا ہے، اس میں کوئی شک نہیں۔ مگر یہ آگ صرف “دشمن” نے نہیں لگائی۔ اس میں دہائیوں کی ناانصافی، جبر اور انکارِ حقیقت کا ایندھن بھی شامل ہے۔ جب تک اس سچ کا سامنا نہیں کیا جاتا، یک طرفہ مذمتیں اور سیکیورٹی بیانیے امن نہیں لا سکتے۔
ملک کے سنجیدہ اور فکرمند طبقات کو اس امر پر سنجیدگی سے غور کرنا ہوگا کہ آج جب قومی اور بین الاقوامی سطح پر بلوچستان کے مسئلے پر بحث و مباحثہ جاری ہے، تو خود بلوچستان میں رہنے والے اہلِ قلم کسی بھی موضوع پر اظہارِ رائے سے قبل شدید خوف اور عدم تحفظ کا شکار نظر آتے ہیں۔ انہیں یہ اندیشہ لاحق رہتا ہے کہ کہیں ان کی تحریر کا خمیازہ انہیں یا ان کے اہلِ خانہ کو نہ بھگتنا پڑ جائے، جس کے باعث آزادیٔ اظہار عملی طور پر محدود ہو کر رہ گئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بلوچستان کے کئی لکھنے والے وہ آزادی حاصل نہیں کر پاتے جو بعض مرکزی دھارے کے صحافیوں، مثلاً انصار عباسی جیسے افراد کو میسر ہے، اور اس عدم توازن نے فکری مکالمے کو یک طرفہ بنا دیا ہے۔

