اس مکالمے میں عمران مختار نے پیٹر جیکب سے گفتگو کی ہے۔ پیٹر جیکب معروف مسیحی رہنما اور دانشور ہیں اور انسانی حقوق کے سرگرم کارکن ہیں اور اقلیتوں کے مسائل پر کام کرتے ہیں۔ اس مکالمے میں لاہور شہر کے سیاسی، مذہبی، نسلی اور معاشی تنازعات، امن برقرار رکھنے کے اقدامات، امن کمیٹیوں کا کردار، خواتین اور بچوں کی صورتحال، اور امن کو بہتر بنانے کی تجاویز شامل ہیں۔ یہ گفتگو لاہور کی موجودہ صورتحال اور مستقبل کے چیلنجز کی عکاسی کرتی ہے۔
سوال: لاہور میں سیاسی، مذہبی، نسلی اور معاشی تنازعات کون سے ہیں؟
جواب: لاہور ایک ترقی پذیر شہر ہے۔ اس کی آبادی بہت زیادہ ہے، اور یہ اپنی صنعت، مواقع، ثقافت اور تاریخ کی وجہ سے ہمیشہ توجہ کا مرکز رہا ہے۔ یہ بہت سی سیاسی اور مذہبی جماعتوں کا مرکز ہے۔ اسی طرح کئی انتہا پسند، شدت پسند اور فرقہ وارانہ جماعتوں کے دفاتر بھی لاہور میں موجود ہیں۔ تحریک لبیک پاکستان (TLP) کا دفتر بھی یہیں ہے۔ ان کے پیروکاروں کی بڑی تعداد ہے۔ ان کی اشتہاری مہم بھی بہت وسیع ہے۔ میلاد کی محافل منعقد کی جا رہی ہیں۔ وہ اپنا نظریہ اور پروپیگنڈا کامیابی سے پھیلا رہے ہیں، خاص طور پر اس لیے کہ شہر میں احمدیوں، مسیحیوں اور دیگر اقلیتوں کی بڑی تعداد رہتی ہے۔ اس لیے ہم کہہ سکتے ہیں کہ TLP کی بڑھتی ہوئی سرگرمیاں نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہیں اور مستقبل میں کسی تصادم کا باعث بن سکتی ہیں۔ ایک اور بڑا مسئلہ زمین کا ہے۔ جائیداد اور زمین کی ملکیت سے متعلق بہت سے تنازعات ہیں، خاص طور پر تعمیراتی کاموں اور ترقیاتی منصوبوں کے تسلسل کے باعث۔ اس کے علاوہ، سیاسی اختلافات کی وجہ سے بھی تنازعات پیدا ہو رہے ہیں۔
سوال: کیا شہر میں امن برقرار رکھنے کے لیے کوئی اقدامات کیے گئے ہیں؟
جواب: جی ہاں، کئی واقعات ہوئے جیسے جوزف کالونی میں۔ وہاں دو دھماکے ہوئے۔ پھر ہم نے دیکھا کہ شیعہ برادری کے افراد کو نشانہ بنایا گیا۔ محرم کے دوران پورے شہر کو خطرہ لاحق تھا۔ پھر ہم نے دیکھا کہ اس کے جواب میں سپاہ محمد کے نام سے ایک گروہ سرگرم ہوا۔ یہ سب چیزیں ماضی میں موجود رہیں، مگر اب حالات کافی حد تک قابو میں ہیں۔ حکومت اور کمیونٹی دونوں سطحوں پر امن کے لیے کوششیں کی گئی ہیں۔
سوال: اگر آپ چند مخصوص امن قائم کرنے کی کوششوں کا ذکر کریں تو بہتر ہوگا۔ پولیس، انتظامیہ یا اداروں کا اس میں کیا کردار ہے؟
جواب: جی، مذہبی مقامات کی سیکیورٹی کافی بہتر کی گئی ہے۔ محرم سے پہلے امن کمیٹی کی میٹنگز منعقد کی جاتی ہیں۔ کمیونٹی سطح پر بھی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ وہ ادارے جو امن برقرار رکھنے کے لیے کام کرتے ہیں، فعال ہیں۔ لیکن ایسا لگتا ہے کہ جو عناصر تنازعات کو ہوا دیتے ہیں، وہ بھی اپنے اپنے محاذ پر بہت سرگرم ہیں۔
سوال: سر، آپ نے امن کمیٹی کا ذکر کیا، براہِ کرم اس کی تفصیلات بتائیں۔ اس کا ڈھانچہ اور کردار کیا ہے؟
جواب: ان امن کمیٹیوں کا کوئی باقاعدہ ڈھانچہ یا قانون سازی موجود نہیں۔ لیکن ضلع کی سطح پر کچھ افراد کو نامزد کیا جاتا ہے۔ خاص طور پر تاجر یونین کو اعتماد میں لیا جاتا ہے۔
سوال: اس تناظر میں خواتین اور بچوں کی صورتحال کیا ہے؟
جواب: خواتین اور بچوں کا کوئی فعال کردار نہیں ہے۔ وہ یا تو تشدد کا شکار بنتے ہیں یا امن کے فائدہ اٹھانے والے ہوتے ہیں، لیکن وہ سرگرم کردار ادا نہیں کرتے ہیں کوئی اس طرح سے۔
سوال: آپ کوئی suggestion دینا چاہیں گے کہ بڑے پیمانے پر امن قائم کرنے کی کوششیں کیسے بہتر بنائی جا سکتی ہیں؟
جواب: اس حوالے سے بہت سا کام ہونا باقی ہے۔ لیکن سب سے اہم بات یہ ہے کہ ایسا بیانیہ تشکیل دیا جائے جو تشدد اور نفرت کو مسترد کرے۔ یہ کام مقامی سطح پر بھی ہونا چاہیے اور سیاسی سطح پر بھی ہونا چاہیے۔
سوال: حکومت اس میں کیا کردار ادا کر سکتی ہے؟
جواب: حکومت کو چاہیے کہ ایسے عوامل کو اجاگر کرے جو مختلف برادریوں کو قریب لاتے ہیں۔ عدلیہ، قانون سازی کے ادارے، اور قانون نافذ کرنے والے ادارے اپنا فعال کردار ادا کریں۔ سول سوسائٹی اب سکڑ چکی ہے۔ این جی اوز اور ان کا ڈھانچہ کمزور ہو گیا ہے۔ مگر پھر بھی ایسے کردار موجود ہونے چاہئیں جو امن قائم رکھنے میں مؤثر کردار ادا کر سکیں۔ تنوع (diversity) کو فروغ دینا چاہیے۔ پُرامن احتجاج کی اجازت ہونی چاہیے اور آزادی دی جانی چاہیے۔ اظہارِ رائے کی آزادی بھی نہایت ضروری ہے۔
عمران مختار: چلیں سر، بہت شکریہ۔

