سندھ کا ضلع عمر کوٹ جو اپنے منفرد جغرافیائی، ثقافتی اور مذہبی تنوع کی وجہ سے پاکستان کے دیگر علاقوں سے ممتاز ہے، ایک ایسا خطہ ہے جہاں ہندو آبادی کی اکثریت اورراج اور راجستانی سندھی کلچر کا امتزاج صدیوں سے سماجی ہم آہنگی کی بنیاد رہا ہے۔ اس مکالمے میں عمر کوٹ سے مقامی سماجی کارکن علی اکبر سندھ کی تاریخی ہم آہنگی، موجودہ چیلنجز اور ممکنه حل پر روشنی ڈالتے ہیں۔ علی اکبر ماضی میں میڈیا کے ساتھ بھی منسلک رہے ہیں۔ ریڈیو پاکستان اور پرنٹ میڈیا کے ساتھ انھوں نے کام کیا ہے۔ سندھی پرنٹ میڈیا کے ساتھ بطور رپورٹر بہت کام کر چکے ہیں۔ اور اس کے بعد پچیس سال سے این جی او سیکٹر میں بحیثیت سماجی کارکن کام کر رہے ہیں۔ اور ایک مقامی تنظیم ہے، آبیت میں اس وقت نوکری کر رہے ہیں۔
علی اکبر : بھائی جان، میرا نام علی اکبر ہے اور میں ایک سماجی کارکن ہوں۔ اسی علاقے سے میرا تعلق ہے۔ ماضی میں، جیسا کہ آپ نے کہا کہ آپ میڈیا سے تھے ، تو میں بھی میڈیا کے ساتھ رہا ہوں۔ ریڈیو پاکستان اور پرنٹ میڈیا کے ساتھ میں نے کام کیا ہے۔ سندھی پرنٹ میڈیا کے ساتھ بطور رپورٹر بہت کام کر چکا ہوں۔ اور اس کے بعد پچیس سال سے میں این جی او سیکٹر میں ہوں۔ اور یہاں ایک مقامی تنظیم ہے، آبیت، اس وقت میں اس میں نوکری کر رہا ہوں۔
سوال: ہم یہ جاننا چاہ رہے ہیں کہ عمر کوٹ کے بڑے مسائل اور conflict کون سے ہیں؟
جواب : عمر کوٹ جو ہے ، وہ district سندھ کے یا شاید پورے پاکستان کے دیگر اضلاع سے منفر د ہے ، دو تین حوالوں سے۔ پہلا یہ کہ اس ضلع کا آدھا حصے سے زیادہ یعنی 54 فیصد تھر (ریگستان) ہے، اور دوسرا حصہ green belt ہے ، جو 46 فیصد علاقہ ہے۔ ہم اسے green belt اس لیے کہتے ہیں کہ دریائے سندھ کا پانی ادھر آتا ہے، جس سے یہ ایریا سیراب ہوتا ہے، لیکن وہ بھی tail کا علاقہ ہے۔ وہاں بھی آئے دن مسائل رہتے ہیں، کیونکہ ایک تو یہ ایسا علاقہ ہے جہاں صحرا اور بیراج ساتھ ساتھ موجود ہیں۔ یہ اس کی خوبی ہے۔
اور دوسرا یہ کہ یہ واحد district ہے پاکستان کا جہاں مذہبی اقلیتیں، جنہیں ہم religious minorities کہتے ہیں، جیسے ہندو، وہ اکثریت میں ہیں۔ یہاں مسلمان اقلیت میں ہیں اور ہندو زیادہ ہیں۔ یہاں آکر اکثر مسلمان دوست پوچھتے ہیں کہ یہاں اقلیتوں کا کیا حال ہے ؟ ہم کہتے ہیں کہ یہ یار ، الٹا ہے۔ اور تیسر ا جو اس کی خوبی ہے ، وہ یہ کہ راجستانی کلچر جو ہمارے تھر میں پایا جاتا ہے ، اور یہاں کی زبان بھی وہی بولی جاتی ہے، جسے ہم ڈھانکی کہتے ہیں، جو تھر میں بولی جاتی ہے۔ شہر کے اندر بھی ڈھائکی بولی جاتی ہے، اور جو شہر کے رانا ہیں ، وہ بھی ڈھائگی۔ ان کا مسکن بھی عمر کوٹ کے ساتھ ہی ہے۔ اور پھر کلچر بھی different ہے ، اور پھر عمر کوٹ جو شہر ہے ، وہ سنگم ہے راجستانی اور سندھی کلچر کا۔
سوال: یہاں کے بڑے مسائل کون سے ہیں؟
جواب: وہ اردو کا ایک مصرعہ ہے ناں کہ کہاں تک سنو گے ، کہاں تک سنائیں۔
سوال: مختصر بتادیں۔
جواب: مسائل ایک طرف تو یہاں مسائل ہی مسائل ہیں، اور دوسری طرف دیکھو تو کچھ بھی نہیں۔ جیسے گورننس کے مسائل ہیں، گورنمنٹ کے جو ادارے ہیں ، ان کی performance سے متعلق مسائل ہیں، وہ وہی ہیں جو پورے سندھ کے بھی ہیں۔ ان کے end پر بہت سارے issues ہیں۔ مثال کے طور پر ، سندھ کے اندر جو districts ہیں، ان میں DHO جو ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ ہے ، اس کے اندر سب سے زیادہ عمر کوٹ ضلع کا بجٹ ہے، مگر آپ سروس دیکھیں تو آپ کو پتا لگ جائے گا۔ اور عوامل بھی ہیں، لیکن میں کہہ رہا ہوں ہیلتھ facilities کا۔ اب ان کے پاس کیا ہے ؟ کچھ DHQs ہیں، کچھ dispensaries ہیں۔ اب اتنے پیسے ہیں، وہ کہتے ہیں پتا نہیں کیا ہو جائے، مگر گراؤنڈ پر آپ دیکھیں گے کہ کچھ بھی نہیں ہوتا۔ عمر کوٹ شہر میں پینے کا جو میٹھا پانی ہے ، وہ خرید کر ملتا ہے، مگر ابھی دو ڈھائی مہینے ہو گئے ، پانی مل ہی نہیں رہا۔ اوپر پانی کینال میں ہی نہیں ہے۔ تو اس طرح ہمارے گورنفس کے مسائل بے تحاشا ہیں۔ آپ کون سے پوچھنا چاہ رہے ہیں ؟
سوال: ایسے conflicts ہیں جو یہاں کے امن کو ، harmony کو، خاص طور پر متاثر کرتے ہیں؟ یہ جو گورننس کے مسائل آپ نے بتائے ہیں، کیا یہ مسائل ملتے جلتے ہیں ان سے یا کیا ہے ؟
جواب : یہ گورننس کے مسائل الگ ہیں ، ان کا ٹاکرا ہوتا ہے ، مگر کسی اور angle سے، کسی اور لیول پر۔ مثال کے طور پر، اگر آپ دیکھیں، سندھ کے اندر سب اضلاع میں جو کم HDI ہے، Human Development Index، تو تھر پارکر کا ہے، لیکن اگر ہم crime دیکھیں، تو وہاں سب سے کم ہے۔ تو مثال کے طور پر ہم یہ کہیں کہ صرف بیڈ گورننس کی وجہ سے مسائل ہوتے ہیں، تو تھر پارکر میں تو زیادہ ہونے چاہیے تھے، حیدر آباد میں اس لحاظ سے کرائم نہ ہوتے، کراچی میں نہ ہوتے ، کھونکی میں نہ ہوتے، بلکہ یہاں ہونے چاہیے تھے۔ یہ ایک روایتی ہمارے ہاں decision makers اور opinion makers کے جو ذہن ہیں، ان میں بھو سا بھرا ہوا ہے۔ وہ ٹائم نکال کر چیزوں کو نہیں دیکھتے، مسائل کی تہہ میں نہیں جاتے ، وہ analyze نہیں کرتے اور contributing factors تلاش نہیں کرتے۔ کیونکہ یہ ایک بڑا تکلیف دہ مرحلہ ہے ناں، ریسرچ کا، سوچ بچار کا، دیکھنے کا، سر کھپانے کا کام ہے۔ تو بس یوں ایک statement آجاتی ہے کہ لوگوں کے پاس روزگار نہیں ہے ، لوگ ان پڑھ ہیں، جاہل ہیں، ان میں سمجھ نہیں ہے ، اس لیے کرائم زیادہ ہے۔ ارے بھائی، اس کے پیچھے یہ جہالت ایک دن میں نہیں آئی، اس کے پیچھے یہ تو نہیں ہے کہ یہ خود ایسے ہوئے۔ اس کے پیچھے کون ہے ؟ ذمہ دار کون ہے ؟ یہ تم نے ہی خراب کیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ لوگ ان حالات میں دھکیلے گئے ہیں۔ خیر ، اس بات پر بعد میں آتے ہیں۔
اب آتے ہیں آپ کے سوال کی طرف۔ جیسا کہ میں نے کہا، اس علاقے کی خوبیاں اپنی ہیں، تو یہاں کا social fabric یا سماجی کلچر ، کیا کہتے ہیں، اسے ایک دوسرے کو support کرنے کا اور ایک دوسرے کا خیال رکھنے کا، وہ ماضی میں تو بہت رہا ہے۔ اب بد قسمتی سے وہ پاپولیشن بھی آگئی ہے۔ یہاں جو ان چیزوں کو نہیں سمجھتی۔ وہ صرف کمانے آئے ہیں۔
سوال : تو وہ کون لوگ ہیں جو باہر سے آئے ہیں ؟
جواب : یہاں مختلف قوموں کے لوگ آئے ہیں۔ جن میں مہاجر بھی ہیں، بلوچ، افغان بھی ہیں، اور پنجابی بھی شامل ہیں۔
سوال: تو کیا اس وجہ سے اس علاقے کی ہم آہنگی متاثر ہوئی؟
جواب: بنیادی طور پر ہاں۔ مثال کے طور پر، جب میں ہائی اسکول میں تھا، تو بسیں ہماری جایا کرتی تھیں میر پور خاص، اور وہ دو ٹائم جایا کرتی تھیں۔ و non-AC تھیں، خیر بسیں تو اس وقت ساری non-AC تھیں۔ میر پور خاص اس وقت ضلع کا headquarter ہوا کرتا تھا۔ میرے والد اس وقت گورنمنٹ اسکول میں استاد تھے، اور ان کی اکثر کمر میں درد رہا کرتا تھا۔ وہ ہمیں کوشش کر کے جلدی بھیجا کرتے تھے کہ پہلے آپ سیٹ reserve کرادیں، کیونکہ پھر اس میں رش ہو جائے گا، تو اس میں کھڑا ہونا مشکل ہے۔ تو مجھے یاد ہے، کئی دفعہ ، اب میں گنوں تو شاید بہت زیادہ دفعہ ایسا ہوا کہ ساری سیٹ بک ہو گئی تھیں، اور میں دیر سے پہنچا، تو جو ٹکٹ کاٹنے والا ہوتا تھا، وہ کہتا تھا کہ آپ صبر کریں ، ہم دیکھتے ہیں۔ تو پھر جو بھی چھوٹی عمر کا ہوتا تھا، اسے کہتے تھے کہ انکل کو جگہ دے دو۔ اب ہم یونیورسٹی پڑھتے تھے ، تو کوئی بھی ہو ، ہندو ہو، مسلم ہو، عیسائی ہو، خیر ہم نے یہ کبھی سوچا نہیں۔ ہم سب سوچتے تھے کہ ایک ہی شہر کے ہیں، ایک ہی ملک کے ہیں۔ تو پھر کوئی آئے، عورت آئے، کوئی بڑی عمر کا آئے، کوئی بھی جسے جگہ دینی ہے۔ یہ ایک دوسرے کا خیال رکھنے کی بات ہے۔ اور یہ سب کے لیے باہمی احترام کی بغیاد پر معاشرتی تانے بانے جڑے ہوئے تھے۔
ہمارے ہاں ایک ٹاؤن چیئر مین گزرے ہیں، ڈاکٹر ار چنڈ رائے نام تھا۔ تو میں اس وقت، مند رہے، میرے گھر کی دیوار کے ساتھ مندر ہے ، وہ اس وقت خالی پلاٹ تھا، تو وہاں کچھ لوگ شام کو اینٹیں رکھ گئے۔ پھر اگلے دن ہم نے دیکھا کہ لوگ وہاں سے اسے اٹھارہے ہیں۔ اس وقت ہم بچے تھے۔ پھر ہم نے پتا کیا، تو وہ کچھ لوگ گئے تھے ڈاکٹر صاحب کے پاس کہ ہمارے مندر کی زمین پر قبضہ ہو رہا ہے۔ تو ڈاکٹر صاحب نے کہا کہ زمین کس کی ہے؟ کہا، بھگوان کچھ کہہ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پھر چلے جاؤ، آرام سے رہو۔ اس کے بعد ان لوگوں پر اتنا اثر ہوا کہ وہ، پتا نہیں ڈاکو تھے، کون تھے ، وہ خود چلے گئے۔ اس طرح ہم نے اپنے ٹائم میں ایک دیکھا، یہاں بابا جمن در بدر ہوتا تھا۔ اس کا نام ہی در بدر تھا۔ ساری عمر اس نے ایسی ہی گزاری۔ سماجی کارکن تھا، شاعر تھا، ڈانس بھی کرتا تھا، اور ڈرامہ نویس بھی تھا۔ سارے فن لطیف کی چیزیں اس نے کیں۔ تو وہ جس کے پاس بھی چلا جائے ، تو لوگ اسے کافی عزت دیتے تھے۔ اس کے کہنے پر سارا شہر بند ہو جاتا تھا۔
لے کرinfluences ہوا باہر کے لوگوں سے۔ کس طرح کے social fabric disturb سوال: تو یہ آئے ہیں ؟ بزنس کا تو آئیڈیا ہے ، تو مذہبی حوالے سے بھی؟
جواب: دیکھیں، اصل خرابی۔ اصل میں جو لوگ یہاں آئے، وہ کمانے کے لیے آئے۔ جیسے اب پنجابی آئے، تو انہوں نے یہاں آکر رنگ وروغن کا کاروبار کیا ہے ، لوہے کا ، رنگ کا کام شروع کیا ہے، کیونکہ تھر ایک hub ہے اس چیز کا۔ تو ایک مندر ہے، اتھر ہے، اس کی زمین پر قبضہ کیا، فائر نگ کی۔ اب یہ بڑا کوئی کام تھا کہ ایسا پہلے یہاں ہوا نہیں تھا۔ جیسے میں نے پہلے کہا کہ ڈاکٹر ار چنڈ کا واقعہ کہ پیغام پہنچا کہ ایسی بات ہوئی ہے، تو زمین واپس کر دی۔ افغان یہاں آئے، انہوں نے عجیب چیزیں یہاں لائیں۔ دو نمبری چیزیں، دو نمبری گاڑیاں، ضلع میں اسلحے کی پہلی دکان کھولی، یہ پٹھانوں نے کھولی ہیں، اسلحے کی دکانیں۔ اب کوئی اسلحے کی دکان کھولے گا، تو اس میں ریڑھی تو نہیں لگائے گا ناں، اسلحہ ہی بیچے گا۔ اب کیا ضرورت تھی اس کی ؟
سوال تو یه extremism کا تعلق بھی ہے اس کے ساتھ ؟
جواب : نہیں، وہ علیحدہ بات ہے۔ میں آپ کو گوش گزار کر رہا ہوں کہ اب جو باہر سے کمیونٹی آئی ہے، وہ کمانے آئی ہے۔ پھر وہ یہ نہیں دیکھتی کہ بزنس کون سا ہے۔ انہیں اس سے کوئی مسئلہ نہیں۔ انہیں یہاں کے لوگوں سے، یہاں کے peace and cohesion سے، یہاں کی روایات سے ، ثقافت سے ، یہاں کے رسم و رواج اور طریقوں سے ان کا کوئی تعلق نہیں ہے۔
سوال: آباد ہونے نہیں آئے ہیں، بس کما کر یہاں سے …
جواب : نہیں، آباد ہوئے ہیں۔ وہ آکر بیٹھ گئے ہیں، گھر وغیرہ بنا کر ، بنگلے بنا کر بیٹھ گئے ہیں۔
سوال: تو absorb ہونا چاہیے ناں۔
جواب : یہ ایک الگ کہانی ہے کہ absorb ہونا چاہیے، نہیں ہونا چاہیے۔ ہوتے ہیں، نہیں ہوتے۔ کیسے ہوتے ہیں، نہیں ہوتے۔ یہ ان کا ایک الگ سے معاملہ ہے۔
سوال: تو یہاں مذہبی conflict کیا ہیں ؟
جواب: یہاں، جیسا کہ میں نے عرض کیا ہے کہ نوے کی دہائی تک یہاں کوئی مسئلہ نہیں تھا۔ لیکن 92 کے سیلاب کے بعد مختلف علاقوں سے لوگ یہاں آکر آباد ہونے لگے۔ پھر دو ہزار دس میں جو سیلاب آیا، اس میں لوگ آئے، 2010 میں جو آیا، اس میں upper سندھ سے لوگ گھس آئے، اور دو ہزار بائیں، میں کے سیلاب کے بعد بھی مختلف علاقوں سے لوگ یہاں گھس آئے۔ اس کے علاوہ جب تھر میں drought کی frequency بڑھی، تو لوگ یہاں ضلع میں آگئے۔ تو ان سب کے بعد چیزیں یہاں بگڑتی جارہی ہیں۔
سوال: تو یہاں نوعیت کیا ہے اس conflict کی؟
جواب : اس میں پہلا تو یہ کہ ہمارے ہاں شیو مندر کے جو چار بھجن کرنے والے تھے، انہیں مارا گیا، انہیں ذبحکیا گیا، جیسے ڈراموں میں کرتے ہیں۔
سوال: یہ کب کا واقعہ ہے ؟
جواب : یہ 1993 کا واقعہ ہے۔
سوال: پھر اس ساری صور تحال کی شروعات ہوئی ؟
جواب : ہاں جی ، وہ بڑا issue تھا۔ ہم نے جو سنا تھا اپنے بڑوں سے یا جو میری یادداشت میں پڑتا ہے۔ اس کی کوئی جوابدہ نہیں پکڑے گئے، کچھ نہیں ہوا۔ اس کے بعد ایک آدھ واقعات ہوئے۔ ایک دفعہ 12 ربیع الاول کے موقع پر مسئلہ ہوا، ہولی ، دیوالی پر بھی مسائل ہوئے۔ اس سے پہلے پتا نہیں آپ نے ڈسکس کیا ہے یا نہیں۔ ہولی کے ٹائم پر میں آپ کو بتاؤں کہ یہاں religious tolerance کا لیول یہ ہے کہ یہاں سید نعمان شاہ کے نام سے ایک درگاہ ہے، جس کی دیکھ بھال، اس کی بلڈنگ، اس کی renovation، اس کی تزئین و آرائش عمر کوٹ کی ایک فیملی ہے، بھائیا، وہ کرتے ہیں، جو کہ ہندو ہیں۔ لیکن وہ صوفی مزاج ہیں اور باقی ہندوؤں سے کچھ مختلف ہیں، مطلب وہ جلاتے بھی نہیں ہیں، کہنے کا مطلب ہے صوفی ہیں۔ کسی نے کبھی اعتراض نہیں کیا کہ وہ ہندو ہیں، کیوں اسے ولی اللہ کے مزار کی دیکھ بھال دی۔ Caretaker بنے ہوئے ہیں، جو بھی ہے۔
یہاں ایک ہمارا شیو میلہ ہوتا ہے، جس میں بڑی تعداد میں لوگ شریک ہوتے ہیں، اور بھجن ایک مسلمان گاتے تھے ، وہ ہمارے بڑے ایک فنکار ، طبعیت کے تھے۔ کسی کو کبھی اس پر اعتراض نہیں ہوا کہ یہ ہمارے مسلمان ہیں، اور بلوچ ہیں، اور بھجن گارہے ہیں۔ ہمارے ایک فنکار تھے ، صادق فخری صاحب ، ان کی death ہوئی مکہ مکرمہ میں، اور وہ بھجن گاتے تھے، جو مسلمان تھے ، اور مندر بھی جاتے تھے۔ ان کی کیسٹیں تھیں، اور ایک بار جیو چینل آیا تھا ان کی recording کرنے، تو recording ختم ہوئی، تو ان سے کیمرہ مین نے کہا کہ پتا نہیں چل رہا کہ آپ ہند و جو یا مسلمان ہو۔ تو انہوں نے جواب دیا کہ نہیں بھائی، ہم ایک دوسرے کے ساتھ رہتے ہیں، ایک دوسرے کے مذاہب کو سمجھتے ہیں، میں مسلمان ہوں، لیکن ہم ایک دوسرے کے عقائد کو مانتے ہیں۔
میں اپنی بات بتاؤں، تو ہم یہاں پر پڑھتے تھے ، تو میرے ایک کلاس فیلو تھے ، گلبارام والی ، وہ میرے ساتھ ، ، مسجد میں آتے تھے ، اور ہم اکٹھے روزہ افطار کرتے تھے۔ نماز نہیں پڑھتا تھا۔ پھر وہ ہولی کے موقع پر رنگولی بناتے ہیں، رنگوں سے فرش کے اوپر مختلف ڈیزائن بناتے ہیں۔ تو کسی نے یہ افواہ پھیلائی کہ اس میں نعوذ باللہ حضور اکرم بی بی ایم کا نام لکھا ہے۔ اس پر بڑا تنازع کھڑا ہو گیا۔ شہر بند ہو گیا۔ پھر ہمارے یہاں تھے ، خطیب جامع مسجد کے ، مفتی مولانا عبدالرحمن جمالی مرحوم، رحمت اللہ علیہ ۔ انہیں پتا لگا ، وہ آئے۔ لوگوں نے کہا، نہیں، وہ بس منا دیا گیا ہے، مگر پکچر ز ہیں۔ انہوں نے کہا، ٹھیک ہے ، رول صاف کرواؤ، ہم دیکھ لیں گے۔ پھر وہ رول صاف ہو کر آیا، تو اس میں کچھ نہیں تھا، وہ بالکل blank تھا۔ اس پر وہ مفتی صاحب نے فتوی دیا کہ بغیر ثبوت کے کسی پر الزام نہ لگائیں اور لڑائی جھگڑا نہ کریں۔ انتہا پسندوں نے پروپیگنڈا کیا کہ یہ عبدالرحمن جمالی نہیں ہے ، مالی ہے ، اور مالی ہندوؤں کی کاسٹ ہے۔ لیکن انہوں نے اس کی پروا نہیں کی۔ اللہ انہیں جنت میں جگہ دے۔ انہوں نے کہا، نہیں، جو غلط ہے، وہ غلط ہے۔ پھر یہاں ایک مذہبی رواداری پر ایونٹ ہوا، جس کی صدارت جمالی صاحب کر رہے تھے۔ جب ان کے خطبے کا ٹائم آیا، تو جمالی صاحب نے پہلے ہی ڈائس کے اوپر پانی کا گلاس رکھوا دیا تھا۔ تو جمالی صاحب آئے اور انہوں نے پانی کا گلاس اٹھایا اور کہا کہ اس حال میں کوئی خاکروب ہے ، صفائی کرنے والا خاکروب ہوتا ہے ؟ کہا کہ کوئی نہیں ہے۔ تو کہا کہ کوئی بھیل ہے، جسے یہ scheduled caste کہتے ہیں، ہندو میں ہوتا ہے۔ تو ایک بھیل بیٹھا تھا، اسے لگا کوئی کام پتا رہا ہے ، اس نے فوراً کہا کہ میں بیٹھا ہوں۔ انہوں نے کہا، آؤ بیٹا، آؤ۔ پانی پیو۔ اس نے پیا۔ آدھا گلاس ہوا، تو انہوں نے خود لے لیا اور اسے پیا۔ تو کافی لوگوں کی آنکھوں میں آنسو تھے۔ تو کہنے کا مقصد یہ کہ اس طرح کے issues ہوتے ہیں، مگر یہاں کے لوگ انہیں حل کرتے ہیں۔
ایک اور اس طرح کا مسئلہ ہے کہ ہمارے یہاں کے رانا ہندو ہیں، ان کا نام ہے رانا امیر سنگھ ۔ وہ چلے گئے مدر سے۔ مدرسے میں بیٹھ کر جمالی صاحب سے بات چیت کرنے۔ اور اس کا میں آپ کو بتاؤں کہ جمالی صاحب کی جب وفات ہوئی، تو پہلی صف میں نماز جنازہ میں رانا امیر سنگھ کے بیٹے ہند و پگڑی کے ساتھ، اپنی فل ڈریس میں اس میں کھڑے تھے ، پہلی صف میں۔ تو جماعت اسلامی والے آئے تھے ، تو وہ حیران رہ گئے کہ ہند و آیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہاں، کھڑار ہوں گا، مگر نماز نہیں پڑھ سکتا۔ اس نے کہا کہ ان کا ہمارے اوپر احسان ہے، یہ ہمارے علاقے کے ایک asset ہیں۔ اور وہ ہندوؤں کا بھی ایک ایسا دن تھا کہ جس میں وہ باہر نکلتے نہیں ہیں۔ لیکن اس کے باوجود وہ آیا۔ تو یہ indicator ہیں اس علاقے کے social cohesion کے لیول کا۔ بد قسمتی سے یہ چند واقعات ہوئے ہیں۔
سوال: تو اس طرح کے لوگ ہیں، امن والے، صلح والے لوگ ہیں۔ وہ ابھی کم ہو رہے ہیں یا زیادہ ہو رہے ہیں ؟ کیا ہو رہا ہے ؟
جواب : اس میں بات آتی ہے پیسے کی۔ جب لوگوں کے ہاتھ میں پیسہ ہوتا ہے، تو کسی کو فکر نہیں ہوتی۔ بد قسمتی یہ ہے۔ اب ایک بندہ ہاتھ جوڑ رہا ہے، اور اگلے کے ہاتھ میں بندوق ہے۔ تو آپ کیا کریں گے ؟
سوال: تو اس کی وجہ سے مسائل بڑھتے ہیں؟ سے
جواب : Yes ، میں مثال دیتا ہوں کہ ایک بندہ بکری لایا، بڑی اچھی نسل کی، دودھ پینے کے لیے۔ تو اگلا، جسے گوشت چاہیے ، وہ تو نہیں دیکھے گاناں کہ یہ کس نسل کی ہے ، دودھ دیتی ہے۔
سوال: ہندو یہاں زیادہ تعداد میں ہیں، مگر اصل میں تو وہ پاکستان میں minority ہیں، تو جب کوئی مسائل بنتے ہیں، تو وہ کیسے اس پر react کرتے ہیں ؟ ان کے مسائل کیا ہیں، اور وہ اسے express کیسے کرتے ہیں؟
جواب: دیکھیں، آپ یہاں ہندوؤں کی بات کر رہے ہیں۔ یہاں تو سب ہی پریشان ہیں۔ ڈاکٹر شاہ نواز والا کیس اس کی مثال ہے ، جس پر سب برابر پریشان تھے۔ اصل مسئلہ انہیں نہیں ہے جو مالی اور سماجی طور پر مضبوط ہوتے ہیں، وہ کم متاثر ہوتے ہیں۔ جن کے پاس ڈنڈا ہوتا ہے یا طاقت ہوتی ہے۔ اب اگر میرے بھائی طاقت والے ہوں گے ، اور میرے گھر بندوق پڑی ہے ، تو مجھے پر واہی نہیں ہے۔ لیکن میں شا میں شریف ہوں، اور میرے پاس صرف ہاتھ ہیں، اور اگلے کے پاس بندوق ہے، تو پھر میں بس بے بس ہوں۔ طاقت کا اصل مسئلہ ہے۔ اب چاہے وہ ہندو ہو ، مسلمان ہو ، ایجنسی والا ہو ، مولوی ہو، یا جو بھی۔ جناب، ڈنڈا سر کار ہے۔
سوال: حکومت، اداروں یا administration کا اس معاملے میں کیا کردار ہے؟
جواب: میرے خیال سے آپ یہ مکس کر رہے ہیں۔ اب دیکھیں، یہ سرکار کہ کسی قانون میں لکھا ہے کہ میں نے فرق پیدا کرنے ہیں؟ یہ تو سماج بناتا ہے ناں۔ جس طرح ایک باغ میں مختلف پھول ہوتے ہیں، اسی طرحسماج میں بھی مختلف قسم کے لوگ ہوتے ہیں۔
سوال: تو سماج میں آپ کتنا potential دیکھتے ہیں ؟
جواب: بالکل، یہ اب بڑا اہم سوال ہے۔ سماج میں اس کی بہت صلاحیت موجود ہے۔ سندھ صوفیوں اور اولیاء کی سر زمین ہے، لیکن اسے sustain کرنا، اسے maintain کرنا، اس پر کام نہیں ہو رہا ہے۔ افسوس کہ اس کا گراف نیچے جا رہا ہے ، declining ہے۔
سوال: تو اس کے لیے کیا اقدامات ہونے چاہئیں ؟ کیا کریں اس کے لیے ؟
جواب : یہ بڑا اچھا سوال ہے۔ دیکھیں، میں آپ کو بتاؤں کہ جب آپ جس سے سوال کر رہے ہیں، یہ ان سب کا ایک الگ جواب ہو گا۔ ان کا الگ کردار ہوتا ہے معاشرے میں ۔ اب یہ سوال آپ پولیس سے کریں، تو الگ ہے ، عام بندے سے کریں، تو الگ جواب بنتا ہے ، صحافی سے کریں، تو الگ ہے۔ جواب الگ الگ ہے۔ ہمارے یہاں ایک سندھ میں منسٹر ہیں، سندھ MPA ہیں، سردار علی شاہ، وہ شاعر ہیں۔ ان کی اپنی ایک شاعری ہے۔ اس میں ہولی کے حوالے سے ایک نظم لکھی ہے، اور اس میں اس نے لکھا ہے کہ میں ہولی کے رنگ میں رنگ جاؤں اور کو ہلی ہو جاؤں۔
اب اس میں اس نے اپنی ایک الگ خواہش ظاہر کی ہے کہ جیسے ایک بچہ نہیں کرتا۔ اس پر بڑی تنقید ہوئی کہ تم ایک سید ہید ہو ہو، ، ا اور کوہلی ایک scheduled caste ہے، تم ایسا کیسے کہہ سکتے ہو ؟ اس نے نہ صرف یہ کہا، بلکہ اس پر ڈٹا رہا۔ اور اس نے ایک دو دفعہ ادھر ہولی بنائی بھی شہر میں ہندوؤں کے ساتھ ، اور خود کلر لگایا۔ اور اس نے عزت بھی بڑی دی کو ہلیوں کو ۔ اب اس کا ایک impact ہے، بہت بڑا۔ اب مولوی اس کا راستہ نہیں روک سکتا۔ تو ایک opinion maker politician کے طور پر اس نے بہت بڑا کام کیا۔ اب میں ایک سماجی کارکن ہوں۔ اب مثال کے طور پر، میں چاہتا ہوں کہ ہندوؤں کو ایسی عزت ملے ۔ Equality نہیں، اب equity کی بنیاد پر ۔ سب کا اپنا اپنا ایک role ہے۔ اب
سب یہ اپنا اپنا role ادا کریں گے ، تو یہ ایک چیز آگے بڑھ سکے گی ، پھلے پھولے گی۔
سوال: کیا پیپلز پارٹی کی حکومت نے بھی اس سلسلے میں کوئی کام کیا ہے ؟ وہ اس مسئلے کو کچھ سمجھتے بھی ہیں یا نہیں؟
جواب: میں یہ نہیں کہہ سکتا کہ ان کی سوچ اس حوالے سے کیا ہے ، لیکن انہوں نے کچھ اچھے کام ضرور کیے ہیں۔ مثال کے طور پر ، انہوں نے پہلا کام یہ کیا ہے کہ ہندو کمیونٹی اور یہ scheduled caste کو انہوں نے بڑا promote کیا ہے۔ مثال کے طور پر، یہ ابھی ایک ہیں ، و scheduled caster سے ہیں، پونجو مل بھیل، اسے سینٹر بنایا۔ اس سے پہلے ایک کرشنا کمار کو ہلی، اسے سینٹر بنایا۔ اس سے پہلے ایک گیان چند تھے ، انہیں سینٹر بنایا۔ ویر جی کو ہلی پہلے بھی CM advisor تھے ، اب بھی ہیں۔ ڈاکٹر مہیش کمار واحد ہیں، جنہوں نے جنرل سیٹ جیتی تھی۔ وہ واحد تھے ہندو کمیونٹی ہے۔ اور کافی لوگ تو یہ بھی کہتے ہیں کہ پارٹی نے ان کا دماغ خراب کر دیا ہے۔ اب آتے ہیں legislation پر ۔ انہوں نے ہندو میرج ایکٹ جیسی بہت اچھی قانون سازی کی ہے۔ بڑا اچھا کام کیا ہے۔
سوال: کیا regional developments جو ہوتی ہیں، جیسے انڈیا میں، ان کا کوئی اثر ہوتا ہے یہاں پر ؟
جواب : اس کا مجھے کوئی خاص طور پر اندازہ نہیں ہے۔ اکثر ہم لوگ بلا وجہ ہندوؤں کو الزام لگاتے ہیں کہ ایسے ہیں، ویسے ہیں۔ یہ تو یہاں کے ہندو کہتے ہیں کہ آپ نے گالی دینی ہے بھائی، انڈیا کو دو۔ ہندو کو کیوں دیتے ہو ؟ ہندو تو ہم بھی ہیں، اور یہاں رہتے ہیں۔ ان کے پاس option بھی ہے کہ وہ انڈیا جا سکتے ہیں، مگر وہ نہیں ہیں۔ son of soil کر رہے ہیں۔ وہ contribute جاتے۔ یہاں وہ
جب بابری مسجد کا واقعہ پیش آیا تھا، تو عمر کوٹ میں کچھ مسلمانوں نے اپنے ساتھیوں کے ممکنہ رد عمل سے ڈر کر مندر کی حفاظت کے لیے کھڑے ہو کر یہ اعلان کیا کہ یہ ہمارا ملک ہے ، ہمار اعلاقہ ہے ، اور یہ ان کی عبادت گاہ نہیں ہے، یہ ہماری عبادت گاہ ہے۔ اور کوئی mishap نہیں ہوا۔
سوال: جیسا کہ آپ نے بات کی کہ یہاں افغان موجود ہیں، تو کیا آپ کو لگتا ہے کہ طالبان نے اس علاقے پر ڈالا ہے؟influence کوئی
جواب : ایسا کوئی خاص اثر نظر نہیں آیا۔ ہاں، یہاں سے کچھ لوگ جہاد کے لیے افغانستان ضرور گئے تھے ، مگر وہ واپس آئے، تو یہاں آکر انہوں نے ایسا کچھ نہیں کیا۔ لیکن طالبان کی وجہ سے یا کسی اور وجہ سے، یہاں دو جگہیں ہیں جہاں ہندوؤں کو مسلمان بنایا جاتا ہے۔ ایک سامار و اور دوسری شور ۔ یہ دونوں عمر کوٹ کی تحصیلیں ہیں۔ اور یہ زیادہ تر controlled طریقے سے ہوتا ہے، یعنی زیادہ تر forced marriages ہیں یا love marriages۔ اور ہمارے یہاں مسئلہ صرف مذہب کا نہیں ہے، کاسٹ سسٹم بھی یہاں ہے ، اور برادری سسٹم بھی ہے۔ تو یہ ہوا کہ یہاں سے لوگ شادی کر کے انڈیا جاتے بھی ہیں، اور وہاں سے آتے بھی ہیں۔ اب یہ جو مسئلہ چل رہا تھا، اس میں کافی عورتیں واپس آئیں ہیں۔ ان کے پاس پاکستانی کارڈ ہے، شوہر انڈین ہے، اب بچے بیچ میں پھنس جاتے ہیں۔ تو اس طرح کے مسائل رہے ہیں۔ اب ہندوؤں میں کزن میرج نہیں ہوتی، تو ساتھ رہتے ہیں، انہیں پیار ہو جاتا ہے، پھر وہ مسلمان ہو جاتے ہیں۔ اب یہاں یہ نہیں ہے کہ کوئی gunpoint پر کرتا ہے۔ بس اکثر کیس ایسے آتے ہیں۔ اب ایسا نہیں ہے ، میں یہ نہیں کہتا کہ مسئلہ نہیں ہے، مگر اور بہت سے چکر ہیں۔
سوال: یہاں خواتین اور یوتھ کا امن قائم رکھنے میں کوئی کردار رہا ہے ؟
جواب: دیکھیں، اگر سوسائٹی vibrant ہو ، پڑھی لکھی ہو، تو عورت مضبوط ہوتی ہے۔ ہمارے پاس یہاں مثال ہیں، یہاں بی بی میٹھاں کا درگاہ موجود ہے، اور اسی گلی میں ایک دیول ماتا (ہندوؤں کا مذہبی مقام ) بھی ہے۔ ایک مسلمان ولیہ کی درگاہ ہے، اور دوسری ہندوؤں کی عبادت گاہ ہے۔ تو ایک طرف ہندو جاتے ہیں، ایک طرف مسلمان۔ تو یہ ہمارے ہاں عورت کا مقام ہے ، اولیاء ہے۔
عامر رانا: بہت شکریہ آپ کا۔

