مصنف: ڈاکٹر جمیل جالبی (مرحوم)
نوٹ: یہ مضمون پاکستان کے ممتاز اردو نقاد، ماہر لسانیات ادبی مؤرخ اور مصنف ڈاکٹر جميل جالبی مرحوم کی ۱۹۶۴ میں شائع ہونے والی کتاب پاکستانی کلچر کے ایک منتخب باب پر مبنی ہے، جسے پاکستان میں قومی شناخت کے تناظر کو سمجھنے کے لیے تجزیات کا حصہ بنایا گیا ہے۔ اس کا مقصد پاکستان کی ابتدائی تاریخ کے سیاق میں پاکستان میں ایک قومی شناخت کی تشکیل کے مختلف پہلوؤں کو بہتر طور پر سمجھنے کی کوشش کرنا ہے۔ مضمون کے عنوان کا پہلا حصہ پاکستان ایک قومی شناخت کی تشکیل موضوع کی مناسبت سے مدیر کی طرف سے اضافہ کیا گیا ہے۔

دہلی کے چاندنی چوک میں ایستادہ گھنٹہ گھر نے 14 اگست 1947 کو جب بارہ بجنے کا با آواز بلند اعلان کیا تو دنیا کے نقشے پر ایک نئی آزاد
مملکت ابھر آئی۔ اس مملکت کا نام پاکستان تھا۔ پاکستان ہماری آزادی کا آدرش ، ہماری آرزوں کا کعبہ ، جہاں ہندوستان کے ہر خطے کے مسلمان مل جل کر ایک قوم کی حیثیت سے نئی زندگی کا آغاز کرنے والے تھے۔ جہاں وہ اپنی عظیم روایات کے سہارے نئی تہذیبی قوتوں کا ثبوت دینے کا ارادہ رکھتے تھے لیکن جب آزادی آئی تو اپنے جلو میں دو چیزیں لے کر آئی۔ ایک نفرت اور دوسرا تضاد۔ نفرت نے سارے بر
صغیر کو ہندو مسلم فسادات کی آگ میں جھونک دیا اور تضاد کے عفریت نے جس پر آزادی سے پہلے ہم نے کبھی توجہ نہ دی تھی ، طرح طرح کے تھکا دینے والے مسائل میں الجھا دیا۔ آزادی کے بعد ہم سب نے محسوس کیا

کہ ہمارے پاس کوئی تہذیبی سرمایہ ایسا نہیں ہے جس سے ہم اس چیلنج کو قبول کر سکیں جو آزادی اپنے ساتھ لائی ہے۔ مروجہ مذہب کا اخلاقی و تہذیبی سرمایہ بظاہر ہماراساتھ دینے کے باوجود اپنی چمک دمک گنوار ہا ہے۔

آزادی سے پہلے ہمارے سارے جذبات اجتماعی تھے۔ آزادی کے بعد اجتماعی، جذبات کارنگ روپ اڑنے لگا اور معاشرے کی ہر سطح پر یہ احساس شدت کے ساتھ ابھر نے لگا کہ آخر وہ کون سے عناصر ہیں جن کے ذریعہ ہم ایک جہتی اور حقیقی اتحاد حاصل کر کے ایک قوم بن سکتے ہیں، ہمارا تہذیبی سرمایہ کیا ہے۔ ہماری فکر اور ہمارے خیال کے گون سے راستے ہیں۔ معاشرے کے سامنے واضح اور غیر واضح طور پر یہ سوال بھی بار بار آنے لگا کہ اب وہ کدھر جائے اور کن اقدار پر اپنی زندگی کی تعمیر کرے۔

تہذیبی اعتبار سے پاکستان ایک خلا کے ساتھ وجود میں آیا تھا۔ سنہ 47 تہذیبی اعتبار سے ایک ایسے واضح خط کی حیثیت رکھتا ہے جہاں سے ہمیں اپنے مسائل افکار پر پھر سے سوچنے کی ضرورت محسوس ہو رہی ہے۔ ہم کہاں ہیں۔ ہم کدھر جارہے ہیں۔ کیا کچھ اقدار ایسی ہیں جن پر چل کر ہم دوبارہ باعزت اور پر وقار طریقے سے تجدید حیات کا صور پھونک سکتے ہیں۔ کیا پیروی مغربی، جس کا مولانا حالی نے مشورہ دیا تھا، ہمارے لئے زندگی کی نئی قوتوں کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہے۔ کیا ہم اپنے مذہب کی موجودہ تقلید پرستانہ ذہنیت سے زندگی کا کل سنوار سکتے ہیں۔ کیا ہمارے زوال کا باعث صرف یہ ہے کہ ہم نے روزہ نماز کی عادت ترک کر دی ہے ۔ کیا مادی ترقی روحانی ترقی کے مانع ہے اور کیا روحانی ترقی کے لئے ضروری ہے کہ مادی ترقی کو زندگی میں کوئی اہمیت نہ دی جائے، کیا ابدی قوانین کی موجودہ تشریح اور مروجہ تاویل نا قابل تبدیل ہے۔ ہمارے ہاں خیالات کے تخلیقی سوتے کیوں بند ہو گئے ہیں۔ سارا معاشرہ اسلام کے عظیم اصولوں اور پاکستان کے عظیم آدرش کے با وجود تنگ نظری، تعصب اور تقلیدانہ ذہنیت کا کیوں شکار ہے کہیں ہماری موجودہ روش اور ہمارا موجودہ نظام حیات فراریت کی ایک شکل تو نہیں ہے۔

ہمارا ماضی کیا ہے اور اس سے ہمارا کیا رشتہ ہے۔ کیا ہم ماضی کے تاریخی بہاؤ کا منطقی نتیجہ ہیں۔ اگر ہیں تو اس کی کیا نوعیت ہے مذہب زبان، مادیت اور معاشرتی اتحاد کی سطح پر ہم کیا کر رہے ہیں۔ کیا ہمارا اپنا کوئی کلچر ہے۔ اگر ہے تو اس کی کیا نوعیت ہے اور اگر نہیں ہے تو اسے بنانے اور متشکل کرنے میں ہم نے اب تک کیا کیا ہے۔ ایک طرف تو یہ سوالات ہیں جو واضح اور غیر واضح طور پر مختلف شکلوں میں معاشرے کے ذہن میں بار بار ابھر رہے ہیں اور دوسری طرف معاشرے کے وسائل اور خواہشات کے درمیان زبردست بحرانی تضاد اندر ہی اندر گھن کی طرح لگ رہا ہے۔

ہمارے وسائل زرعی معاشرے کے وسائل ہیں اور ہماری خواہشات صنعتی معاشرے کی خواہشات ہیں۔ اس اعتبار سے پاکستان ایک غیر آسودہ خواہشات معاشرہ ہے۔ وسائل اور خواہشات کا یہ تصادم اور تضاد زندگی کی ہر سطح پر سے تخلیقی سوتوں کو خشک کر رہا ہے۔ ہماری زندگی کا نہ کوئی مقصد ہے۔ اور نہ کوئی جہت ہمارے سامنے تہذیبی سطح پر اقدار و اخلاق کا کوئی ایسا نظام نہیں ہے جس پر ہم مثبت طریقہ سے زندگی کا کوئی نیا قلعہ تعمیر کر سکیں۔ اسی وجہ ہے سے سارا معاشرہ منتشر ہے۔ ہر چیز کی اہمیت زیر وز بر ہے۔ ساری جمی جمائی اقدار ٹوٹ پھوٹ کر ایک ڈھیر بنتی جارہی ہیں ۔ ہم خود اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں کہ معنی واقدار کے پرانے ذرائع بے معنی ہو کر دم توڑ رہے ہیں۔ خیالات اور عقائد کا وہ نظام جس پر ہم صدیوں سے یقین رکھتے چلے آرہے تھے اب ہمیں بے معنی اور ازکار رفتہ نظر آنے لگا ہے ۔ اسی تہذی خلا کی وجہ سے ہم ایک طرف تو یوروپ سے لباس، آداب معاشرت، تعمیرات، فنون لطیفہ مادی ترقی اور اخلاقی ضابطوں کی سطح پر شکست کھا رہے ہیں اور دوسری طرف ہمارے ذہنوں پر بد حالی اور پسپائیت کی دھند کے دبیز پردے پڑ رہے ہیں اور ہم رفتہ رفتہ اس خزاں رسیدہ درخت کی مانند ہوتے جارہے ہیں جس کے سب پتے جھڑ گئے ہوں اور وہ ٹنڈ منڈ تنہا کھڑا ہو۔ سارے معاشرے میں اب کوئی چیز اپنی اس شکل میں نظر نہیں آتی۔ جو کچھ نظر آتا ہے وہ اصل نہیں ہے اور جو چیز مل ہے وہ نظر نہیں آتی۔ یہ قضاء کا دوسرا رخ ہے ۔ جب زندگی یہ شکل اختیار کرلے تو معاشرہ کا عام فرد ” دیکھنے کا کام ہی بند کر دیتا ہے اور اگر ایسے میں کوئی اسے آئینہ دکھا بھی دے تو وہ جھٹلا کر آنکھیں بند کر لیتا ہے اور پیچ پیچ کر کہنے لگتا ہے۔ خدا کی قسم ہے میری شکل نہیں ہے۔ یہ سب جھوٹ ہے۔ یہ میں نہیں ہوں ” یا پھر وہ کوشش کرتا ہے کہ اس آئینہ ہی کو توڑ دے جس میں اس کی شکل نظر آرہی ہے۔ مجھے یاد ہے کہ جب ہمارے محلہ پر ہندوں کا ایک بڑا جتھا چڑھ آیا تھا اور اہل محلہ اپنی اپنی چھتوں پر چڑھ کر اس حملے سے بچنے کے منصوبے بنارہے تھے ایک صاحب اپنے بستر پر دراز ہو گئے زور سے لحاف تان لیا اور سمجھنے لگے کہ اب وہ حملے سے بالکل محفوظ ہیں۔ حقیقت سے فرار کی جو شکل ہمیں لحاف کو زور سے تان کر اوڑھنے کے عمل میں نظر آتی ہے وہی شکل ہمیں اپنے معاشرے میں مختلف صورتوں میں نظر آرہی ہے۔ یہ رد عمل اس تہذیی خلا اور اس تضاد کا فطری رد عمل بے جن سے آزادی کے بعد ہم دو چار ہیں۔ اسی وجہ سے سارا معاشرہ اور اس کے افراد خود میں الجھے ہوتے ہیں۔ آپ کو تہذیبی خلا اور تضاد کا نقشہ دیکھتا ہو تو کسی سرکاری دفتر میں چلے جائے کیسی تاجر اور صنعت کار سے مل لیجئے۔ کسی مزدور یا کلرک سے بات کر دیکھئے کسی وکیل ، ڈاکٹر، پروفیسر ، صحافی، یا نی، ادیب، طالب علم مولوی یا سیاست دان سے گفتگو کر لیجئے آپ کو اندازہ ہو جائے گا کہ اس کے ذہن میں

نہ کوئی جہت ہے اور نہ کوئی مقصد۔ وہ جو کچھ کہہ رہا ہے خود اس کی تردید کر رہا ہے۔ وہ تضاد کی جھلسا دینے والی آگ میں جل رہا ہے جہاں اسے نہ کوئی راستہ نظر آرہا ہے اور نہ راہ فرار ۔ اس کا صرف ایک ہی مقصد حیات ہے کہ خود کو کس طرح محفوظ رکھے۔ اس خود حفاظتی کے جذبہ میں دوسروں کی حفاظت کا جذبہ شامل نہیں ہے۔ تضاد سے پیدا ہونے والے عدم تحفظ کے اس احساس نے سارے اصولوں اور اقدار کو اس کے لئے بے معنی کر دیا ہے۔ اس میں نہ تو کام کرنے کی گرمجوشی ہے اور نہ اپنے کام سے کسی قسم کا کوئی گہرا تعلق ہے۔ وہ یہ کام اس لئے نہیں کر رہا ہے کہ یہ اسے عزیز ہے یا اس میں وہ کوئی اضافہ کرنے کا ارادہ رکھتا ہے بلکہ وہ یہ کام صرف اس لئے کر رہا ہے کہ ، کہ اس کے علاوہ کوئی اور کام اسے ملا ہی نہیں ہے۔ ہر فرد اپنی جگہ غیر محفوظ نا مطمئن ، در غیر آسودہ ہے۔ اس کا اندازہ اس بات سے بھی ہو سکتا ہے کہ وہ چاہتا ہے جس طرح اس کی زندگی گزر رہی ہے اگر اسی طرح گزر جائے تو بس ہے۔ اس طرز عمل نے صلاحیت کے لفظ کو بے معنی بنادیا ہے اور تخلیقی سرچشموں کو خشک کر دیا ہے۔

اس تضاد کو آپ زندگی کی کسی سطح پر دیکھ لیجئے آپ کو یہی عمل نظر آئے گا۔ آئیے اس تضاد کو تفریحات کی سطح پر تلاش کریں۔ اس جاہل آدمی جسے الف کے نام بے نہیں آتا بہت ذوق و شوق کے ساتھ انگریزی فلم دیکھتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اپنی زندگی کے ان پہلوؤں کو فلم میں دیکھ کر آسودہ کرنا چاہتا ہے جن سے وہ حقیقی زندگی میں محروم ہے۔ اس کے پاس نہ رہنے کو گھر ہے اور نہ فراغت کے ساتھ کھانے پہنے کے لئے ہے۔ اس کے بچے اچھے لباس، اچھی تعلیم سے محروم ہیں۔ وہ گندگیوں اور غلاظتوں میں رہتے ہیں جھگی یا ٹاٹ کے گھر میں اتنی گنجائش کہاں کہ وہ اپنی جنسی تشنگی کو اطمینان کے ساتھ آسودہ کر سکے۔ وہ اپنی ان تمام خواہشات کو انگریزی فلموں میں دیکھ کر آسودہ کرنا چاہتا ہے۔ اب آگے چلئے۔ جسے دیکھئے وہ معمے حل کر رہا ہے۔ یہ معاشرتی تضاد کی ایک اور مثال ہے۔ بغیر محنت کئے حصول زر کی خواہش کا شارٹ کٹ، پوری قوم لاڑی اور انعام کے طلسم میں گرفتار ہے۔ جہاں نمائش لگتی ہے وہاں نمائش تو کم ہوتی ہے انعام اور لاٹری کی نمائش زیادہ زور باندھتی ہے۔

کارخانہ دار اس طرف جھوٹی ضرورت پیدا کر کے اپنی بکری بڑھا رہے ہیں ۔ اب آپ اصل بکری اور چھوٹی بکری کا تضاد ملاحظہ فرمائیے۔ غرض کہ ایک دوڑ ہے جس میں ایک تضاد دوسرے تضاد کو جنم دے کر زندگی کو زیادہ نا آسودہ اور زیادہ بد حال بنا رہا ہے ۔ عدم تحفظ کا احساس شدت سے زور پکڑ رہا ہے۔ ان حالات میں خود حفاظتی انسان کا فطری عمل ہے۔ اب ساری زندگی کا محور صرف یہ ہے کہ اپنی ذات کی حفاظت کسی طرح کی جائے۔

نفرت کا وہ عمل جو ہندو مسلم فسادات کی شکل میں ابھر تھا، اب خود ایک دوسرے کو کاٹ رہا ہے۔ ان میں ایک دوسرے سے نفرت ہے اپنی اقدار در اپنے ماضی سے نفرت ہے۔ اپنی روایت در اپنی تاریخ سے نفرت ہے اور ہم ان سب سے نفرت کرتے ہوئے اندھادھند مغرب کی روایات، اقدار اور کلچر کی طرف اسی تیزی سے بڑھ رہے ہیں جس تیزی سے چنگیز خاں کی فوجوں نے پیشقدمی کی تھی۔ اس تضاد اور نفی کا نتیجہ ہے خود حفاظتی اور خود غرضی جس نے سیاست، معیشیت تجارت صنعت، معاشرہ، زبان اور اخلاق و مذہب کے بڑے سے بڑے مسئلے کو قومی ملی کو قومی ملی یا انسانی سطح سے نیچے اتار کر صرف ذاتی سطح پر لاکھڑا کیا ہے۔ اب آپ تہذیبی سطح پر اس نفرت اور تضاد کا ایک اور کرشمہ دیکھتے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ پاکستان یوروپ یا امریکہ کا کسی بھی اعتبار سے ایک حصہ نہیں ہے۔ ہماری تہذیب نے تو مغرب کی تہذیب ہے ، اور نہ کبھی اصل شکل میں صحیح اور کچی، مغربی تہذیب بن سکتی ہے۔ یہ بات بھی واضح ہے کہ ہر معاشرے میں تہذیب اور کلچر کا سچا نما ئندہ ہمیشہ تعلیم یافتہ طبقہ ہوتا ہے لیکن حیرت کی بات ہے کہ ہمارے ہاں معاملہ اس کے بالکل بر عکس ہے اور ان پڑھ طبقہ ہماری تہذیب کا نمائندہ ہے۔ اس طبقے کا اپنی روایات ، عقائد اور اقدار سے اب بھی پورا تعلق باقی ہے۔ وہ ان سے نفرت نہیں کرتا۔ اسے ان سب چیزوں سے اپنی اولاد کی طرح پیار ہے۔ یہ بات دوسری ہے کہ وہ ان میں نہ تو تبدیلی لاسکتا ہے اور نہ انہیں اٹھا کر پھیلا سکتا ہے تاکہ ان کی نشوو نما بھی ہوتی رہے اور وہ زمانے کے تقاضوں کو بھی پورا کرتے رہیں اور جذبات کی آسودگی کے علاوہ حقائق سے بھی آنکھیں ملا سکیں۔ اس میں اس طبقہ کا قصور نہیں ہے۔ یہ کام تو ہمیشہ تعلیم یافتہ طبقے نے انجام دیا ہے اور وہی اس کا اہل بھی ہے۔ ہمارا تعلیم یافتہ طبقہ اپنی اندار ، اپنی تاریخ اور اپنی روایات سے نفرت کر رہا ہے اور اپنی تہذیب کی نشو و نما کرنے ، اسے وسعت دینے کے بجائے غیر تہذیب کی نمائندگی کر رہا ہے۔ وہ اپنی تاریخ اور اپنے ماضی سے رشتہ منقطع کر کے اس تہذیبی خلا، نفرت اور تضاد کے سہارے قومی زندگی کو اپنی صلاحیتوں سے محروم کر رہا ہے۔

اب آپ دوسرے معاشروں کو ذہن میں رکھئے۔ دوسرے معاشروں میں جب بھی معاشرتی، معاشی، اخلاقی یا ذہنی تبدیلیاں آئی ہیں، ان کا تعلق ہمیشہ ان کی اپنی تاریخ سے پوری شدت کے ساتھ باقی رہا ہے۔ خود کو اس رشتے سے پورے طور پر وابستہ رکھتے ہوئے انہوں نے اپنی روایت کو گہرا ، بلند اور وسیع کیا ہے۔ وہاں جو بھی نئی قلم باہر سے لاکر لگائی ہے اپنی تاریخ اور روایت کی سر زمین میں۔ ہم ہیں کہ تیزی کے ساتھ یہ بھول رہے ہیں کہ ہمارا ماضی کیا ہے۔ ہماری روایت اور کلچر کا ماضی کیا ہے۔ ہمارے ہاں تبدیلی لانے کا۔ بالکل الگ ہو کر کیا جا رہا ہے۔ اور ایسا معلوم ہوتا ہے گویا پاکستان کی تاریخ نفرت اور تضاد کے سہارے 14 راگست سن 1947 سے یہ پیدا ہوتا ہے شروع ہوئی ہے جس کا تعلق اپنے تہذیبی ورثے کے بجائے یا تو یورپ کی جدید تہذیب کے طلسم سے ہے یا پھر آثار قدیمہ کی کھدائیوں سے جو مسٹر وھیلر نے موہنجو دوڑو، ٹیکسلا اور ہڑا یا نامی مقامات پر کی تھیں۔ اب سوال ہے کہ آخر ایسا کیوں ہے؟ اس ذہنی رویہ کا نفسیاتی عمل کچھ اس طرح ہو رہا ہے کہ جب ہم تضاد اور نفرت کے سہارے اپنے ماضی کے رشتوں کو دیکھنا چاہتے ہیں تو ہمارے ذہن میں ماضی کے تہذیبی رشتے جغرافیائی حدود کے ساتھ اُبھرتے ہیں مثلاً تاج محل کا تصور ہندوستان کے جغرافیائی حدود سے وابستہ رہ کر ہمارے ذہن کے دریچوں سے جھانکتا ہے۔ امیر خسروتان سین اکبر اور شاہ جہاں ، غالب اور سر سید ہندوستان کے جغرافیائی حدود کے ساتھ ذہن کے پردے پر ابھرتے ہیں۔ نفرت اور تضاد کی وجہ سے نہیں ان سے وہ اپنائیت محسوس نہیں ہوتی جو شاہی مسجد لاہور جہانگیر کے مقبرے یا اقبال سے محسوس ہوتی ہے۔

جب ذہنوں پر نفرت اور تضاد کے زیر اثر جغرافیائی حدود حامل ہونے لگیں تو اپنے ماضی سے رشتہ منقطع کرتے کی وجہ سمجھ میں آنے لگتی ہے۔
اس ذہنی عمل کا نتیجہ یہ ہوا کہ ہندو مسلم ثقافت ، تاج محل کی حسین تراش خراش اور قطب الدین ایبک کی سلطنت دہی سے لے کر بہادر شاہ ظفر تک تہذیبی تاریخ ہمارے لئے بے معنی ہو گئی اور سیاسی جغرافیہ کے بدلتے ہی ہمارے ذہنوں کا جغرافیہ بھی اس طور پر بدلا کہ ہمار ا سمارا تہذیبی سرمایہ اور درشہ واھاگا کی سرحد پر آکر رک گیا اور اسے بھی ویزا اور پاسپورٹ کی ضرورت پڑنے لگی۔ یہیں سے ہمارا قومی المیہ شروع ہوتا ہے۔ اب لیسا محسوس ہوتا ہے کہ ہمار ا تاریخی ورثہ ، ہمار ا سار اماضی ہم سے کوئی تعلق نہیں رکھتا۔ یہاں جغرافیہ تاریخ کے راستے میں حائل ہو رہا ہے لیکن کیا ہم اس تہذیبی ورثہ کو جو ہندو مسلم ثقافت کے ایک ہزار سالہ جذب و قبول کے ذریعہ ہم تک پہنچا ہے اپنی تہذیبی تاریخ سے خارج کرنے کی غلطی کر سکتے ہیں ؟ کیا جغرافیائی حدود اور احساس ملکیت کے سبب ہم انہیں ترک کر کے اپنی نئی تاریخ سنہ 1947 سے شروع کرنے کی جرات کر سکتے ہیں۔ اس وقت جغرافیہ نفسیاتی طور پر ہمارے ذہنوں کی وسعتوں کو تضاد اور نفرت کی تنگنائیوں میں محصور کر رہا ہے اور ہمیں ذہنی طور پر مفلس بنا کر تہذیبی خلا پر فخر کرنے کی ترغیب دے رہا ہے۔ اس نفسیاتی عمل نے ذہنی طور پر ہمیں ایک ایسی بوکھلاہٹ اور الجھن میں مبتلا کر دیا ہے کہ سارا معاشرہ کسی جہت کے بغیر صرف و محض عدم بہ تحفظ ، ذہنی بے مانگی اور تضاد کے احساس میں گرفتار ہے۔

نتیجہ یہ تضاد ، جس کا ذکر میں نے ابھی کیا ہے ، در عمل ہمارے آدرش سے گریز کا ہے۔ ہندو مسلم ثقافت مختلف اثرات دعوامل کے جذب و قبول کا نتیجہ تھی۔ جس میں عربی، ایرانی ، ترکی اور ہندوستان کے مختلف علاقائی اثرات خندہ پیشانی سے گلے مل کر صدیوں کے عمل کے ذریعہ ایک نئی تہذیبی وحدت کی شکل میں رونما ہوئے تھے۔ یہ کلچر جو ہندوستان کی سرزمین پر ایک ہزار سال میں بن سنور کر ابھر سیاسی معنی میں قومی کلچر نہیں تھا بلکہ یہ نتیجہ تھاملی نصب العین کا جس نے ہزار سال تک جذب و قبول کے سلسلے کو جاری رکھ کر اپنی انفرادیت کے تیور اور خد و خال باقی رکھے تھے اور اپنے وجود کو مختلف النوع اثرات سے وسیع اور گہرا کر کے سنوارا اور بنایا تھا۔ 1947 کے بعد سے ہم نہ صرف جغرافیائی اعتبار سے بلکہ نصب العین کے نقطہ نظر سے بھی قومیت کے ایک محدود تصور کی پرستش کر رہے ہیں۔ قومیت کے اس محدود تصور اور ملی تصور کے زوال نے یک جہتی اور وحدت کے اس آدرش کی بنیادیں ہلا دی ہیں جس پر ہم نے اس نئے آزاد ملک کی عظیم الشان عمارت قائم کرنے کا تہیہ کیا تھا اور جس کا نام بڑے لاڈ ، تقدس اور ولولے کے ساتھ پاکستان رکھا تھا۔ یہی وہ آورش تھا جو شاہ ولی اللہ سے لے کر اقبال تک ہمیں اس بر صغیر کے مسلمانوں کی روح میں امنڈتا اور تیر تا نظر آتا ہے۔

قومیت کے اس محدود اور غیر ملی تصور کی وجہ سے ہماری تاریخ سنہ 1947 سے شروع ہوتی ہے اور موہنجو دوڑو، ہڑا پا، گندھارا تہذیبوں کی پانچ ہزار سالہ قدامت کے باوجود ہمارے ملک کی تاریخ کی عمر سولہ سترہ سال ہوتی ہے۔ اس اعتبار سے ہم نے اپنے فکر اور اپنے عمل سے ماضی کے رشتوں کو نئے جغرافیائی حدود کے ساتھ ساتھ نہ صرف کاٹ ڈالا ہے بلکہ آج اس پر فخر بھی کر رہے ہیں۔ اب ایسے میں اپنے عظیم ماضی سے الگ ہو کر ہم ذہنی و تہذیبی اعتبار سے کیا کر سکتے ہیں۔ یہ کوئی ایسا سوال نہیں ہے جس کا جواب آسانی سے نہ دیا جا سکے۔ ہم یہ بھول گئے ہیں کہ احساس ملی کے تاریخی حدود تو ہوتے ہیں لیکن جغرافیائی حدود نہیں ہوتے۔ احساس ملی کے ادوار تو ہو سکتے ہیں لیکن سرحدیں نہیں ہوتیں۔ اور ہمارے ہاں سنہ 1947 کے بعد کے اس ذہنی عمل کی وجہ سے جغر جغرافیائی حدود رود تو تو بہت بہت واضح وار ہیں لیکن تاریخی حدود شکل تاریکی میں ہیں اور ہم کبھی موہنجو دڑو میں اپنا ماضی تلاش کر رہے ہیں۔ کبھی ٹیکسلا اور گندھارا کے کھنڈروں میں اسے کرید رہے ہیں اور کبھی صرف اپنی علاقائی تہذیب پر ملی، در قومی تصور سے بے نیاز ہو کر فخر کر رہے ہیں۔ ہم یہ بھول گئے ہیں کہ بغیر ماضی کے نہ کوئی قوم قوم بنتی ہے اور نہ کوئی ملک ملک بنتا ہے۔

پاکستان کی تحریک بھی ملی احساس کا نتیجہ تھی یعنی جغرافیہ کے اندر رہتے ہوئے بھی غیر جغرافیائی جس میں احساس ملی کے ذریعہ پھیلنے اور بڑھنے کازبردست حوصلہ موجود تھا۔ پاکستان کا آدرش اور اس کا موجوہ، جغرافیہ در اصل ذریعہ تھا ملی آدرش کو حاصل کرنے کا۔ ہماری تنگ نظری دیکھئے کہ جب یہ حاصل ہو گیا تو ہم نے ذریعہ کو منزل بنا کر اس پر قناعت کر لی اور یہی وہ تضاد ہے جس نے معاشرتی ، اخلاقی اور تہذیبی بساط الٹ دی ہے اور جس کا نتیجہ وہ خلا ہے جو ہمیں ہر روز ایک دوسرے سے دور کر رہا ہے اور ایک جہتی اور وقت کے نقوش روز بروز دھندلے پڑتے جارہے ہیں۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ جیسے اپنے ماضی اور تاریخ پر سے ہمارا اعتماد اٹھ گیا ہے۔ ہم ان سے نفرت کا اظہار کر کے بھاگنا چاہتے ہیں، شاید ہم نے پاکستان صرف اس نے بنایا تھے کہ ان سے پیچھا چھڑا سکیں لیکن کیا اپنے ماضی اور تاریخ سے فرار ہو کر پاکستان کے کوئی معنی باقی رہ سکتے ہیں۔ کیا ہم اس فرار کے ذریعہ زندگی کی مثبت قدریں تلاش کر سکتے ہیں۔ کیا بغیر ماضی کے ہمارے لئے کلچر کا کوئی مفہوم باقی رہ جاتا ہے اور کیا کلچر کے بغیر ہم معاشی، مادی، معاشرتی اور تہذیبی سطح پر کچھ کر سکتے ہیں ؟۔

پاکستان کی تخلیق کے وجوہ یہ تھے کہ اپنی ملی شخصیت و قومی انفرادیت کو آزادی کے ساتھ برقرار رکھ کر وحدت کے ساتھ اپنے وجود کو قائم رکھنا تا کہ ایک ایسے معاشرے کو جنم دیا جا سکے جب میں ہماری روایت اور ماضی بھی موجود ہو اور جدید دور کے تقاضے بھی۔ پاکستانی قوم اور اس کا زندہ کلچر اسی تصور کی کوکھ سے پیدا ہونے والا تھا۔ اگر ایسا معاشرہ صرف اس احساس سے پیدا سے ہو جاتا جس کے ذریہ ہم نے پاکستان کو وجود بخشا تھا تو کوئی مضائقہ نہیں تھا لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ تین چار سال کے اندر اندر ہمارے جوش وجذ بہ کی آگ ٹھنڈی پڑنے لگی اور ہم اپنے آدرش سے تیزی کے ساتھ دور ہونے لگے ۔ آج اتنا عرصہ گزر جانے کے باوجود ہم وحدت، ایک جہتی اور مشترک طرز فکر و عمل جیسے بنیادی عناصر سے پہلے سے کہیں زیادہ محروم ہیں۔ اس کی وجہ تہذیبی خلا سے پیدا ہونے والا دہ احساس ہے جس نے زندگی کی ہر سطح پر تضاد کو جنم دیا ہے اور مذہب کے اثر کو زائل کر کے اسے بے معنی بنانے کا عمل شروع کر دیا ہے۔

مروجہ مذہب کا زندگی کے بنیادی رشتوں سے کوئی تعلق باقی نہیں رہا ہے اور اس کے ذریعہ زندہ کلچر کی پیدائش کا تصور ایک بے سود کوشش کا درجہ رکھتا ہے۔ یہاں اس بات کو ایک مثال سے سمجھے فتح مکہ کے بعد پیغمبر اسلام نے یہ نہیں کیا کہ وہ ذریعہ کو منزل سمجھ کر اطمینان سے بیٹھے گئے جبکہ انہوں نے مسلمانوں کے طرز زندگی اور طرز فکر کو بھی بدلنے کی کوشش کی تاکہ ایک ایسا معاشرہ وجود میں آجائے جن میں نہ صرف طرح طرز و فکر و عمل کی وحدت ہو بلکہ مذہب اور معاشرت ایک دوسرے میں گھل مل کر خود ایک وحدت اختیار کر لیں یہی اس معاشرہ کا کلچر تھا جس میں دین اور دنیا الگ الگ خانوں میں بٹے ہوئے نہیں تھے بلکہ مذہب اور زندگی کے جملہ امور ایک ہو گئے تھے ۔ ” زندہ کلچر کے معنی بھی یہی ہیں اور پاکستان کی تخلیق کا مقصد بھی یہی تھا۔ اس بات کو ایک اور مثال سے سمجھے۔ روس میں کمیونزم پھیلا تو وہاں یہ نہیں ہوا کہ لوگوں کو کمیونسٹ بنا کر زندگی کے باقی اعمال میں آزاد چھوڑ دیا گیا ہو بلکہ اس فلسفہ کی بنیادوں پر ایک ایسے معاشرے کو تشکیل دینے کی ہر طرح سے کوشش کی گئی جس میں اس فلسفہ کو پھلنے پھولنے کا پورا موقع ملے اور معاشرتی سطحپر کمیونزم اور زندگی کے جملہ امور ایک وحدت کی شکل اختیار کر لیں۔ یہی وحدت اس معاشرہ کا کلچر ہے۔

اس بحث کے بعد آ۔ کے بعد آپ بھی میرے۔ میرے ساتھ اس نتیجہ پر پہنچیں گے کہ یہ سمجھنا کہ مغربی پاکستان کے مختلف علاقوں کے اندر اور پھر مشرقی و مغربی پاکستان کے درمیان اتحاد صرف مسلمان ہونے کے سبب خود بخود قائم رہے گا کتنی بڑی غلطی ہے۔ یہ وحدت صرف ومح ا ہے۔ یہ وحدت صرف و محض کلچر کی سطح پر حاصل ہو سکتی ہے۔ اور کلچر میں، جس کی وضاحت میں آئندہ صفحات کروں گا، مذہب عقائد ، رسم ورواج ، معاشرت، مادی وسائل و ضروریات اور زندگی کے سارے عوامل شامل ہیں۔ کلچر اور اس کے مسائل سے غفلت برتنے کا نتیجہ یہ ہے کہ پاکستان کے جغرافیائی حدود مقرر ہو جانے کے اتنے سال بعد بھی ہمیں معلوم نہیں ہے کہ کدھر جاتا ہے۔ سارا معاشرہ انتشار الجھنوں، اور تضاد کا شکار ہے۔
تہذیبی سطح پر ہر طرف سے پسپا کر دینے والے حملے ہو رہے ہیں اور ہم ان سے بے خبر ہیں۔ تہذیبی سطح پر ہماری غفلت اور بے پرواہی کی وضاحت اس طرح کی جاسکتی ہے کہ اگر ہمارے ملک کے جغرافیائی حدود پر کوئی دشمن حملہ کر دے اور ایک گز زمین پر بھی قابض ہو جائے تو ہمیں فوراً معلوم ہو جاتا ہے کہ ہمارے ملک کی سرحدوں پر حملہ ہو گیا ہے اور ہم دشمن سے اس زمین کو حاصل کرنے کے لئے اپنی ساری قوت صرف کر دیتے میں لیکن جب یہی حملہ ہماری تہذیبی سرحدوں پر ہوتا ہے تو ہمیں پتہ بھی نہیں چلتا اور نہ ہمیں کسی چیز کے چھنے کا احساس ہوتا ہے۔ اگر ہمیں اپنے کلچر کے جغرافیہ کا ہلکا سا احساس بھی ہوتا تو ہمیں ہر حملہ کا اسی طرت احساس ہوتا جس طرح ملک کی جغرافیائی حدود پر حملہ کا شدید احساس ہوتا ہے۔ اور یہ ایک ایسی چیز ہے جس پر جتنی تشویش کا اظہار کیا جائے کم ہے۔ مثال کے طور پر فرانس کے معاشرے کو لیجیے۔ فرانس تہذیبی سطح پر ایک متحد معاشرہ ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ اس ملک کے ہر ادنی واعلی شہری کو شعوری و غیر شعوری طور پر اس بات کا اندازہ ہے کہ اس کا کلچر کیا ہے۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد جب فرانس میں ایک ایسا طبقہ ظہور میں آنے لگا جو فرانسیسی شراب کے بجائے وسکی پینا پسند کرتا تھا تو ہوٹل کے بیرے کو بھی یہ بات سخت ناگوار گزرتی تھی۔ اس سے اس بات کا اندازہ آسانی سے لگایا جا سکتا ہے کہ ایک غیر اہم چیز بھی تہذیبی سطح پر متحد معاشرہ کے ایک اونی فرد کو محسوس کرنے پر مجبور کر دیتی ہے کہ اس کے کلچر کی جغرافیائی حدود پر حملہ ہو گیا ہے ۔ ہمارے ہاں معاملہ اس کے برعکس ہے ہمیں یہ بھی معلوم نہیں ہے کہ ہمارے تہذیبی حدود کیا ہیں۔ ہمارا ماضی اور اس کا ورثہ کیا ہے اور ہم کن عناصر کی مدد سے اپنے کلچر کو تشکیل دے سکتے ہیں تاکہ ایک طرف موجودہ انتشار، بحران، تضاد اور نفرت پر قابو پایا جاسکے اور دوسری طرف زندگی میں نئے معنی پیدا کئے جاسکیں۔ کلچر ایک ایسا ہی آلہ کار ہے جب کے ذریعہ حیوانی زندگی میں نئی دلچسپی اور نئے معنی پیدا ہو سکتے ہیں۔

حیوان اور انسان میں کیا فرق ہے۔ انسان میں شعور ہے اور حیوان میں شعور نہیں ہے ۔ اسی شعور کے ذریعہ انسان اپنے حواس کو پھیلاتا رہتا ہے۔
انسان کے پاس اس بات کا جواب موجود ہے کہ اس کا مقصد کیا ہے۔ حیوان زندگی گزارتا ہے لیکن زندگی کے بارے میں کبھی سوچنے کی ضرورت محسوس نہیں کرتا۔ خیال انسان کی عظیم تخلیق ہے اور مہذب انسان خود خیال کی تخلیق ہے۔ جانور کے لئے صرف چند حقائق کی اہمیت ہے۔ بارش ہوتی ہے تو وہ پناہ لے سکتا ہے بھوک لگتی ہے تو وہ دانے پانی کی تلاش میں نکل جاتا ہے ، لیکن انسان حقائق کے ساتھ ساتھ صداقت کی اہمیت کو بھی تسلیم کرتا ہے کسی ایسے قبیلے کے ساتھ کا تصور کیجئے جو حیوانی سطح پر زندہ ہے۔ وہ کھاتا پیتا ہے۔ سردی گرمی سے خود کو محفوظ رکھتا ہے اور اپنے جنسی جذبات کو آسودہ کر لیتا ہے۔ اس کے علاوہ زندگی میں اس کے لئے کوئی معنی نہیں ہیں اور اگر ہیں بھی تو وہ بہت ادنی درجہ کے ہیں۔ اب ایسے میں اگر رقص اور موسیقی ان کی زندگی میں داخل ہو کر کلچر کی جگہ لے لیں تو اس کا نمایاں اثر یہ ہو گا کہ یہ کلچر ان کی زندگی کی صفات اور نوعیت کو بدل دے گا۔ ان کی زندگی میں بھی خوشیوں کا اضافہ کر کے ان میں نیا عزم نئے معنی اونئی تخلیقی دلچسپیاں پیدا کر دے گا۔ یک جہتی ، اتحاد اور حب الوطنی جیسی صفات اس کی کوکھ سے از خود جنم لیں گے۔ اسی لئے جب ہم کلچر کی تلاش کرتے ہیں تو اس کے معنی یہ ہیں کہ ہم زندگی میں نئے معنی اور نئی اقدار کی تلاش کر رہے ہیں۔ انسانی معاشرے کی ساری ذہنی دمادی ترقیوں کا دار و مدار زندگی میں نئے معنی کی تلاش پر ہے۔

کلچر کسی قوم یا معاشرے کی وہ مشترک خصوصیت ہے جس سے نہ صرف ہم اسے پہچانتے ہیں بلکہ دوسرے معاشروں اور قوموں سے ممیز بھی کرتے ہیں۔ کلچر کی اقدار بحیثیت مجموعی اپنے عاملوں کو ذاتی مفاد سے بلند تر کر دیتی ہیں اور وہ ان اقدار، دلچسپیوں اور مقاصد میں اس درجہ محو ہو جاتے ہیں کہ ذاتی مفاد ، حصول زر وجاہ جیسی چیزوں کو بے مایہ سمجھ کر حقارت کی نظر سے دیکھنے لگتے ہیں۔ صدیوں سے افریقہ کے گھنے جنگلوں میں بسنے والے قبیلوں کی زندگی کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ وہ قدرت اور دشمن کے مقابلے میں اپنی حفاظت کس طرح کریں، اور کس طرح اپنا پیٹ پالیں۔ ان مقاصد کے لئے انہوں نے تیر و کمان اور نیزے ایجاد کئے اور جب ان نیزوں اور کمانوں کو کھیل تماشے کے طور پر استعمال کیا تو ان کی زندگی میں نئی خوشیوں کا اضافہ ہو گیا۔ یہ ابتدائی معنی میں ان کی تہذیبی سطح تھی۔ اس سطح پر انہوں نے مشترک طرز فکر و عمل اور خوشیوں کو جنم دیا اور اس سطح پر نئے حوصلوں کے ساتھ ایک دوسرے میں گھل مل گئے۔ یہی وہ سطح ہے جہاں معاشرہ کا شعور قدم قدم چل کر دوڑنے اور آگے بڑھنے کا عمل سیکھتا ہے اور زندہ رہنے میں لذت آنے لگتی ہے۔ اس سطح سے نیچے اترنے کے معنی یہ ہیں کہ معاشرہ حیوانی سطح پر زندہ ہے۔

ہمارے معاشرہ کا اگر کوئی بنیادی مسئلہ ہے تو یہی تہذیبی مسئلہ ہے۔ ہماری زندگی میں جو بیزاری، پسپائیت اور کھو کھلا پن نظر آتا ہے اور ہر قدر ، ہر قانون اور انصاف اندھے کی لاٹھی بن گئے ہیں اس کی وجہ بھی یہی ہے۔

یہ تضاد عدم تحفظ کا احساس، پسپائیت اس بات کی علامت ہے کہ ہماری مروجہ اقدار طمانیت بہم پہنچانے کی سکت سے محروم ہو گئی ہیں۔ وہ اب ہمارے اندر آتش شوق بھڑ کانے کی قوت نہیں رکھتیں۔ اسی لئے تعلیم صرف پیٹ پالنے کا ذریعہ ہے۔ سیاسی اقتدار صرف زرو جاہ کی دوڑ ہے اور زندگی کا سب سے عظیم اور واحد مقصد یہ ہے کہ روپیوں کا ہمالہ کس طرح کھڑا کیا جائے۔ یک جہتی اور وحدت اسی لئے پارہ پارہ ہے۔ قومی ترقی کا مقدس تصور اس لیے بے معنی ہے اور ہر شخص زندگی کی ہر سطح پر صرف ذات پرستی، لوٹ کھسوٹ، تنگ نظری اور کمینے پن پر خوش ہے۔ اسے صرف اپنا خیال ہے اور اگر کبھی وہ اپنے آپ سے بلند ہوتا ہے تو اپنے گاؤں ، شہر اور علاقے تک پہنچ کر پھر اپنی ذات میں سمٹ آتا ہے۔ قوم اور قومی تصور متروک لفظوں سے زیادہ کوئی معنی نہیں رکھتے۔

کلچر زندگی کے اندر جو ہر اور لطافت کے عناصر کا اضافہ کر کے انسان میں ایسی اقدار سے طمانیت حاصل کرنے کی صلاحیت پیدا کر دیتا ہے جو خالصتاً غیر افادی ہیں اور جہاں مقصد اور جہت، اصول اور اقدار کی شکل اختیار کر کے نئے معنی پیدا کر دیتے ہیں۔ ایسے میں جو کچھ سوچا اور تخلیق کیا جاتا ہے اس میں سارا معاشرہ شریک ہو جاتا ہے۔ اسی سطح پر معمار تاج محل تخلیق کرتا ہے۔ ابو الفضل آئین اکبری لکھتا ہے۔ تان سین موسیقی کو درجہ کمال تک پہنچادیتا ہے۔ اخلاقی معیار معاملات زندگی اور خیر و شر ایک بلند تر سطح پر پہنچ جاتے ہیں۔ معاشرے کے تار و پود مضبوطی کے ساتھ ایک نئی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔ مختلف غیر سماجی گردہ ایک دوسرے میں پیوست ہو کر وسیع تر معاشرے کو جنم دیتے ہیں اور مقامی کلچر وسیع تر رشتہ میں پیوست ہو کر قومی سطح پر اٹھ آتے ہیں۔ ان کے انداز نظر سوچنے اور عمل کرنے کے طرز میں ایک ہی روح کار فرما ہوتی ہے۔ معاشرہ فرد کی شخصیت کا جز د اور فرد معاشرہ کی شخصیت کا جزو بن جاتے ہیں۔ تہذیبی سطح کی یہ وحدت قومی اور تخلیقی ہوتی ہے بر خلاف اس کے صرف سیاسی سطح کا اتحاد قتی اور غیر تخلیقی ہوتا ہے۔ دوسری جنگ عظیم کے زمانے میں روس اور امریکہ سیاسی سطح پر متحدہ ہو گئے تھے۔ ان کا یہ اتحاد دشمن کے خلاف تھا۔ لیکن شمن کے ختم ہوتے ہی یہ اتحاد ایک نئی دشمنی کا پیش خیمہ بن گیا۔ صرف سیاسی اتحاد معاشرات کو ایک دوسرے سے قریب لانے کے بجائے نفرت کے بیج بو گرا در دور کر دیتا ہے۔ اس وقت ہمارے ملک کا سب سے اہم اور بنیادی مسئلہ یہی تہذیبیں مسئلہ ہے۔ ہم اب تک قومی سطح پر اس یک جہتی اور احساس وحدت سے محروم ہیں جو معاشرے میں طرز و فکر و عمل کا اشتراک پیدا کر کے زندگی میں نئے معنی پیدا کر سکے۔ ہمارے ملک کے دونوں حصے صرف اسی سطح پر قوم بن کر متحد رہ سکتے ہیں۔

زندہ اور متحرک کلچر کی سب سے واضح پہچان یہ ہے کہ وہ ایک طرف تو فرد میں اور دوسری طرف بحیثیت مجموعی سارے معاشرے کے ہر شعبہ میں تخلیق کی آگ روشن رکھتا ہے۔ تخلیق کی یہ آگ سیاست کے میدان، تجارتی مراکز دفتری کاروبار، بڑھتی اور لوہار کی ہنر مندی، ملکی اخباروں، تعلیمی اداروں، ادبی تخلیقات، موسیقی کی خوش آئند دھنوں غرض کہ ہر جگہ اور ہر سطح پر روشن نظر آتی ہے۔ ایسے میں سارا معاشرہ ہر وقت اپنے خیالات اور رویوں کا جائزہ لینے کے لئے آمادہ رہتا ہے۔ معاشرہ کی ہر چیز مربوط ہوتی ہے اور اس آگ کی روشنی میں سب چیزیں نظر آتی ہیں لیکن جب آگ ملکی پڑنے لگتی ہے تو اس کے معنی یہ ہیں کہ اب اس کو روشن رکھنے کیلئے ایندھن کی مزید ضرورت ہے۔ کسی کلچر کی زندگی میں یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جہاں مسلسل غفلت جسے جمائے نظام کو ٹھنڈا کر نا شروع کر دیتی ہے اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے ایک منزل ایسی آجاتی ہے جب کتنا بھی ایندھن جھونکا جائے آگ روشن ہونے کے بجائے بجھتی چلی جاتی ہے۔

حالانکہ ایندھن میں آگ پکڑنے کی قوت تو موجود ہوتی ہے لیکن خود آگ میں ایندھن کو جلانے کی قوت باقی نہیں رہتی۔ یہی ایک معیار ایسا ہے جس پر ہمیں اپنے اذکار و اعمال کو پر کھتے رہنا چاہیے۔ اس معیار پیا گر اپنے معاشرے کا جائزہ لیا جائے اور دیکھا جائے کہ ہمارا اپنا معاشرہ اس وقت کسی منزل سے گزر رہا ہے تو ہمیں محسوس ہوتا ہے کہ ہماری زندگی کے مختلف النوع شعبوں میں تخلیق کی آگ سرد پڑتی جارہی ہے اور ہمیں ایسے ایندھن کی فوری ضرورت ہے جو جلد آگ پکڑنے کی قوت رکھتا ہو۔ تخلیق کی یہ آگ اس وقت ٹھنڈی پڑنا شروع ہوتی ہے جب معاشرہ عقائد اور خیال کو مردہ اور جامد روایت کے طور پر غیر مبدل سمجھ کر قبول کر لیتا ہے۔ عقائد اور خیال کی روایت صرف فرضی قصوں کی شکل اختیار کر لیتی ہے اور اوہام اتنے قومی ہو جاتے ہیں کہ حقیقت و صداقت کی شکلیں پوشیدہ ہو جاتی ہیں اور نئے خیال کاراستہ بند ہو جاتا ہے۔ سارے معاشرے کا آدرش اس نقطہ پر آکر رک جاتا ہے کہ وہ نئے خیال کو قبول کئے بغیر صرف پرانے خیالات کی تقلید میں کار حیات چلانے کی نیت باندھ لے۔ اس منزل پر معاشرہ اور فرد دونوں میں خیال کا ارتقارک جاتا ہے اور سارے دوسرے رشتے کمزور یا قومی ہو کر ٹوٹنے لگتے ہیں۔ خیال ، ہر زندہ کلچر میں ایندھن کی حیثیت رکھتا ہے جس سے ہمہ جہتی تخلیق کی آگ ہر دم روشن رہتی ہے جس طرح تھوڑے تھوڑے وقفے کے بعد آگ روشن رکھنے کے لئے ایندھن کی ضرورت پڑتی ہے۔ اسی طرح معاشرہ کو ہر سطح پر وقت کے ساتھ ساتھ نئے خیال کی ضرورت پڑتی ہے۔ خیال کی اہمیت یہ ہے کہ وہ انسان کے ذہن میں ایک ایسا ماحول پیدا کر دیتا ہے کہ اس کی تمہاری زندگی اس کے تابع ہو جاتی ہے۔ زبان، عادات و اطوار ، فکر ، عقائد، طرز معاشرت، رسم و رواج، معاشرتی ادارے مادی و روحانی اقدار سب اسی کی کوکھ سے پیدا ہوتی ہیں اور انہی چیزوں کے مجموعے کا نام کلچر ہے۔ جب تک کلچر کی آگ میں خیال کا ایند من مسلسل مہیا کیا جاتا رہتا ہے کچھ زندہ اور متحرک قوت کی حیثیت سے معاشرے میں تخلیق کی آگ روشن رکھتا ہے اور جب خیال کا ایند من مہیا ہو جانا بند ہو جاتا ہے یہ آگ سرد پڑنے لگتی ہے۔ اس نقطہ نظر سے اپنے معاشرہ کا جائزہ تو میں آئندہ صفحات میں لوں گا فی الحال تو آپ صرف اتنا سمجھ لیجئے کہ ہمارے ہاں خیال کی آمد کا سوتا خشک ہو رہا ہے۔ اوہام اور مردہ روایت کی تقلید کے جذبے اتنے قومی ہو گئے ہیں کہ انہوں نے ہر نئے خیال کو ایک عفریت کی شکل دے دی ہے اور جس طرح بچہ کسی نامعلوم عفریت کے خوف سے اندھیرے میں جاتا ہو اڈرتا ہے اسی طرح ہمار ا سارا معاشرہ نئے خیال سے خوف زدہ ہو گیا ہے۔

خیال کو میں یہاں فلسفہ کے وسیع معنی میں استعمال کر رہا ہوں اور خلیفے سے میری مراد خیال کی وہ روایت ہے جو کسی معاشرے کے ذہنی ماحول اور اس معاشرہ کے لوگوں کے عقائد ، روایات اور تاریخ سے مرتب ہو کر اس کا مزاج اور نظام اقدار متعین کرتی ہے۔ نہ صرف متعین کرتی ہے بلکہ معاشرے کے فیصلوں کو بھی متاثر کرتی ہے۔ کسی معاشرہ کا کلچر ہمیشہ اس ذہنی ماحول سے متاثر ہوتا ہے۔ اور یہ ذہنی ماحول اس معاشر – کی فکر و عمل دونوں کو متاثر کرتا ہے۔ اس کے معنی یہ ہوئے کہ کسی معاشرے کا جیسا ذ ہنی ماحول ہو گا اس معاشرہ کا فلسفہ بھی اس کے مطابق ہو گا۔ یہ بات ذرا سی وضاحت چاہتی ہے ۔ مثلاً ہم دیکھتے ہیں کہ مختلف معاشروں کے فلسفیوں نے مختلف نتائج نکالے اور صداقت کی حقیقت کے مختلف رخ پیش کئے۔ کیا اس کی وجہ یہ تھی کہ ان کے اصول منطق مختلف تھے یا اس کی وجہ یہ تھی کہ ایک معاشرے کے فلسفی دوسرے معاشرے کے فلسفی سے زیادہ دانشمند تھے۔ اگر ان دونوں باتوں کا جواب منفی میں ہے تو اس کے معنی یہ ہوئے کہ کسی معاشرہ کا فلسفہ بذات خود اس معاشرے کے ذہنی ماحول سے متاثر ہو کر متشکل ہوتا ہے۔ جیسا ذ ہنی ماحول ہو گا دیسلے ہی اس معاشرہ کا فلسفہ ہوگا اور نتائج تک پہنچنے میں ہی ذہنی ماحول اس معاشر کے فلسفیوں کے فیصلوں اور نتائج کو متاثر کرے گا۔ آئیے اس بات کو مختلف قوموں کے فلسفوں پر آزما کر دیکھیں تا کہ بات پوری طرح واضح ہو جائے۔

انگریزی معاشرہ میں اعتدال پسندی کی روایت اور تاریخ موجود ہے۔ یہ اعتدال پسندی اس معاشرہ کے ذہنی ماحول کا درجہ رکھتی ہے۔ اسی ذہنی ماحول نے وہاں کے فلسفیوں کے فکر و فیصلہ کو متاثر کیا اور تشکیک کے فلسفہ کو جنم دیا۔ وہ الف اور ب دونوں کو شک کی نظر سے دیکھتے ہیں اور ان دونوں کے درمیان کاراستہ اختیار کر لیتے ہیں۔ اسی وجہ سے ان کے ہاں مکمل ذہنی آزادی پانی جاتی ہے لیکن اس میں انار کی کا کہیں پتہ نہیں ہے۔ وہ ایک طرف ذہنی آزادی کو بلند تر درجہ دیتے ہیں اور ساتھ ہی ساتھ قانون کے احکام کا بھی پورا پورا احترام کرتے ہیں۔ تشکیک کے اسی فلسفہ کے ذریعہ انہوں نے ذہنی آزادی اور قانون کے اقتدار اعلیٰ کے درمیان اعتدال پسندی کا راستہ اختیار کر لیا۔ یہی اعتدال پسندی ان کا ذہنی ، حول ہے اور ان کے مختلف فلسفے مختلف راستوں سے ہوتے ہوئے اس ذہنی ماحول سے متاثر ہو کر کی نتیجہ پر پہنچتے ہیں۔

فرانسیسیوں کے ہاں انفرادی آزادی ہر چیز پر فوقیت رکھتی ہے۔ انہیں قسم کے اقتدار سے نفرت ہے۔ خالص منطق کے بجائے وہ جذبات پر اپنے فکر و فلسفہ کی بنیاد رکھتے ہیں۔ یہی جذبات ان کا ذہنی ، ماحول ہے ۔ اسی لئے ان کے ہاں جتنے فلسفی گزرے دو خواہ روسو ہو یا برگساں شاعرانہ مزاج رکھتے ہیں۔ یہی مزاج ان کی زبان کا مزاج ہے۔ برگساں کی وائٹل فورس، فلسفہ کی کتاب ہوتے ہوئے بھی شاعری مانی جاتی ہے۔ فرانسیسی قوم کا سارا فلسفہ و فکر اسی ذہنی ماحول سے متاثر و متشکل ہوا ہے۔

امریکی معاشرہ بنیادی طور پر تجارتی معاشرہ ہے۔ ان کے ہاں پیسہ مرکزی و بنیادی قدر کا درجہ رکھتا ہے۔ جو کچھ وہ سوچتے یا عمل کرتے ہیں اس کے نتائج بھی ساتھ ہی ساتھ اپنی آنکھوں سے دیکھ لینا چاہتے ہیں۔ یہ ان کا ذہنی ماحول ہے۔ اس ذہنی ماحول نے ان کے فلسفے کو متاثر کیا اور ہم دیکھتے ہیں کہ ولیم جیمیر اور جون ڈیوی کا فلسفہ
Pragmatism اسی ذہنی ماحول کا نتیجہ ہے۔

ان مثالوں سے میرا مقصد ہے میرا مقصد یہ ہے کہ : مدیہ ہے کہ میں یہ بات واضح کروں کہ کوئی فلسفہ ا کہ کوئی فلسفہ اس وقت تک کسی قوم کا حقیقی فلسفہ نہیں بن سکتا جب تک وہ اس ذہنی ماحول سے متاثر ہو کر مشکل نہ ہوا ہو ۔ ایسا فلسفہ جو خود کسی معاشرے کے ذہنی ماحول تاریخ اور روایت سے پیدا نہ ہوا ہو کبھی اس معاشرے کے تقاضوں کو پورا نہیں کر سکتا۔ ہمارے ہاں خیال کی سطح پر یہی تضاد موجود ہے۔ ہمارا ذہنی ماحول اور معاشرتی ماحول ایک دوسرے سے مختلف ہے۔ مثلاً جدید تعلیم کے پروردہ گردہ کو لے لیجئے۔ اس گروہ کا ذہنی ماحول وہ ہے جو ان کتابوں میں پایا جاتا ہے جو انہوں نے پڑھی ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ ذہنی ماحول جو ان کی تعلیم کا نتیجہ ہے اور معاشرتی ماحول، جس میں وہ رہتے ہیں دونوں میں کسی قسم کی مطابقت نہیں پائی جاتی۔ ہمارے ہاں خیال کو یا تو صرف اصول فقہ کے نقطہ نظر سے اس طور پر پیش کیا گیا ہے جس میں دانشورانہ سطح موجود نہیں ہے یا پھر سرخی پاؤڈر کے ساتھ یورپ سے درآمد کیا گیا ہے۔ ان دونوں کو ملا کر دیکھئے ایک عقیدہ کو برقرار رکھنے کی خواہش کا اظہار ہے اور دوسرا مغرب کے جدید معاشرے کے مطابق خود کو ڈھالنے کی خواہش کا اظہار ہے۔ ان دونوں خواہشوں کو آسودہ کرنے کا آسان نسخہ یہ تلاش کر لیا گیا ہے کہ مغرب کی ہر ترقی اور فلسفیانہ تاویل کا جواز قرآن کی آیات سے تلاش کر کے سے دنیا کو دکھایا جائے کہ اسلام میں یہ سب چیزیں پہلے سے موجود ہیں۔ یہ تضاد ہمارے ذہنی ماحول میں موجود ہے اور اس کا اثر ہمارے ذہنوں پر یہ پڑا ہے کہ ہر چیز کی شکل مسخ ہو گئی ہے اور ساری قوم آنکھوں کی اس بیماری میں مبتلا ہے جس کی وجہ سے ایک چیز دو نظر آتی ہیں۔ ذہنی ماحول کے اس تضاد نے ہمیں ذہنی طور پر غیر دیانتدار بنادیا ہے ہم محسوس تو کچھ اور کرتے ہیں اور یقین کسی اور چیز پر رکھتے ہیں۔ اپنی تاریخ اور روایت سے بھاگنے کا ایک سبب یہ بھی ہے۔ تضاد کے اس پہلو نے معاشرے میں کلچر کی نشو و نما کو روک دیا ہے۔ ہمارے ہاں معیار (Norms) بھی اسی لئے معاشرے سے غائب ہو گئے ہیں اور جو ہیں وہ اتنے ضعیف اتنے بیمار ہیں کہ ان میں اپنے پیروں پر کھڑے ہونے اور معاشرے کے ذہن کو متاثر کرنے کی سکت باقی نہیں رہی ہے۔

ہر معاشرے میں معیار دو قسم کے ہوتے ہیں۔ ایک وہ معیار جو ہماری اور آپ کی باطنی شخصیت (Inner self) سے تعلق رکھتا ہے اور جس کی مدد سے ہم سب اپنی زندگی میں پیدا ہونے والے چھوٹے بڑے مسائل کا حل آسانی سے تلاش کرتے ہیں اور زندگی کے ہر موڑ پر فیصلہ کر کے اس کے مطابق ہیں مثلاً کسی کو دھوکا دینا بری بات ہے۔ جب ایک مہذب شخص کسی کو دھوکا دیتا ہے تو اس کے اندر ایک ایسی خلش پیدا ہو جاتی ہے جو اسے بے چین کر دیتی ہے۔ یہ معاشرہ کا وہ معیار ہے جو اس شخص کی باطنی شخصیت کا جزو ہے۔ اس کا نام ضمیر ہے۔ اس معیار کے بنانے میں معاشرے کے عقائد ، روایت اور رسم درواج، خیر و شر کے تصورات بنیاد کا کام کرتے ہیں اسی لئے ایک معاشرے میں جو عمل ضمیر میں کانٹا بن کر چھتا ہے وہی وہی عمل دوسرے معاشرے میں کوئی خلش پیدا نہیں کرتا۔ معیار کے لئے ضروری ہے کہ معاشرہ ان پر دل سے ایمان رکھتا ہو۔ اگر وہ انہیں دل سے نہیں مانتا تو ان کے خلاف عمل کرنے سے اس کے اندر بے چین کر دینے والی خلش پیدا نہیں نہیں ہو گی۔ مردہ روایت اور بے جان عقیدے اسی سطح پر آگر سکتے رہتے ہیں۔ ہمارے اپنے معاشرے میں ایسے سارے معیار بے جان ہو کر دم توڑ رہے ہیں اور اسی لئے ہماری باطنی شخصیت میں کہنے اور ماننے ۔ اور ماننے کے اختلاف کے باعث ) ایک ایسا تضاد پیدا ہو گیا ہے جو زندگی میں ہر قدم پر ہمارے اعمال کو توڑتا مروڑ تا رہتا ہے۔ جب معاشرے میں معیار باقی نہیں رہتے یا بے جان ہو جاتے ہیں تو سارا معاشرہ خود حفاظتی میں لگ جاتا ہے۔
حکومت جیسی مقدس چیز سے لے کر ایک ادنی شہری تک اسی جذبے کا شکار ہو جاتے ہیں۔

پاکستان میں اس وقت معاشرتی سطح پر جو کچھ ہو رہا ہے وہ مال کے طور پیش کیا جا سکتا ہے ۔ دانشوروں کی ذہنی غیر دیانتداری، عمال حکومت کا ظلم اور جبر ، اہم سیاسی شخصیتوں کی بے اصولی، پیسے کے ذریعے ہر کام کا ہو جاتا، نا انصافی اور نامساوات کی پرستش سب اس امر کے جلوے ہیں اور یہ جلوے میری طرح آپ بھی قدم قدم پر روز دیکھتے ہیں۔ سارے معاشرے کی زندگی اس نے عذاب بن گئی ہے۔

دوسرا معیار وہ قانون ہوتا ہے جو مملکت بناتی ہے۔ عام طور پر صحتمند معاشروں میں قانون معاشرے کی اپنی شخصیت کی تدوین کا درجہ رکھتا ہے۔ معاشرے کی باطنی خیریت او ملکی قانون میں کسی قسم کا تصادم یا تضاد نہیں ہوتا۔ اسی لئے ایسے معاشروں میں قانون نظام اخلاق بن کر معاشرے کے اندر اخلاقی ولولہ پیدا کرنے کا موجب بن جاتا ہے۔ اب اس معیار پر اپنے موجودہ و مروجہ قانون کو دیکھئے۔ ہمارا موجودہ قانون ایک ایسی قوم نے بنایا تھاج ہم پر حکمراں تھی اور جس کا ہماری تاریخ ، ہماری روایت اور ذہنی ماحول سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ اس نے اپنی مصلحت اور ضرورت کے مطابق قانون کی تدوین کی۔ ہمیں شدت سے اس بات کا احساس تھا کہ یہ قانون ہمارا قانون نہیں ہے اسی لئے ہم انفرادی طور پر بھی اور بحیثیت مجموعی بھی اس کی طرف سے بے توجہ ہو گئے۔ اس بے توجہی کا اثر یہ ہوا کہ ہم نے قانون کو خوف کی وجہ سے تو تسلیم کیا لیکن اخلاقی سطح پر اس نے ہم میں کوئی اخلاقی جوش پیدا نہیں کیا۔ خدا کو حاضر ناظر جان کر ہم عدالتوں کے کٹہروں میں کھڑے ہو کر جھوٹی شہادتیں دیتے رہے اور ایسے میں نہ ہمارے ضمیر میں کسی قسم کی خلش پیدا ہوئی اور نہ ہم کسی اخلاقی جرم کے مرتکب ہوئے۔

ہم دیکھتے ہیں کہ انگریز کا بنایا ہوا یہ قانونی معاشرے کے عام فرد میں نہ وہ احترام پیدا کر سکا جو کسی ملک کے حقیقی قانون کو فرد کے اندر پیدا کرنا چاہیے اور نہ اس نے اخلاقی نظام کے معیار کا درجہ حاصل کیا۔ ممکن ہے یہاں کہا جائے کہ اس کی وجہ یہ تھی کہ ہمارے ہاں عام طبقہ تعلیم یافتہ نہیں ہے۔ اگر وہ تعلیم یافتہ ہوتا تو اس میں یہ عمل ضرور پیدا ہوتا۔ لیکن آپ اس چیز کو تعلیم یافتہ طبقہ میں دیکھ لیجئے کیا موجودہ قانون تعلیم یافتہ طبقے میں اخلاقی جوش پیدا کرتا ہے ؟ اور میرا خیال ہے کہ اس کا جواب آپ بھی نفی میں دیں گے۔ میں اس وقت قانون کی مقبولیت سے بحث نہیں کر رہا ہوں بحیثیت مجموعی سارے معاشرے کا اور اس میں تعلیم یافتہ اور غیر تعلیم یافتہ طبقے کی قید نہیں ہے، ذہنی رویہ یہ ہے کہ قانون کسی قسم کا اخلاقی ولولہ پیدا کرنے سے معذور ہے۔ ہم قانون کو صرف خوف کے تحت تسلیم کرتے ہیں اور اسے تسلیم کرنے میں اس کی معقولیت یا نا معقولیت کے سوال ہمارے ذہن میں نہیں آتے ۔ ہمارے تحت الشعور میں یہ بات ہمیشہ موجود رہتی ہے کہ یہ وہی قانون ہے جو ایک غیر حکمراں قوم نے بنایا تھا اور اسے ماننا ہمارا قومی یا مذہبی فرئضہ نہیں ہے۔ اسی لئے مملکت کے موجودہ قانون اور ہماری باطنی شخصیت میں ایک تصادم، ایک تضاد باقی رہتا ہے۔ یہاں تک کہ انسداد چور بازاری اور رشوت ستانی کے قانون بھی ہمارے اندر کسی قسم کا اخلاقی جوش پیدا کرنے سے قاصر رہتے ہیں۔ اس تضاد کا نتیجہ یہ ہے کہ ہم بحیثیت مجموعی سارے قانون کی طرف ہی سے بے توجہ ہو گئے ہیں۔

اس تضاد کا دلچسپ پہلو یہ ہے کہ ہم ایسی بہت سی چیزوں کی طرف سے بھی صرف اس لئے بے توجہ ہو گئے ہیں (حالانکہ وہ ہماری باطنی شخصیت سے مطابقت رکھتی ہیں اور ان کی معقولیت پر بھی شبہ نہیں کیا جا سکتا کہ مملکت نے انہیں قانون کی شکل میں تدوین کر دیا ہے۔ اس سے اس بات کا اندازہ ہوتا کہ ہم قانون کو اس شکل میں قبول کر لینے کے لئے تیار نہیں ہیں اور ہماری ساری بے توجہی اور اخلاقی سرد مہری اسی وجہ سے ہے۔ اس بات کا اثر ہمارے نظام اخلاق پر پڑا ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ چور بازاری اور رشوت ستانی جیسے اخلاقی جرم کے موقع پر نہ ہم اظہار ناراضی کرتے ہیں اور کسی قسم کی ملامت و مذمت۔ ہمارے تحت الشعور میں حکومت اب بھی اسی حکومت کی نمائندہ ہے جس سے ہم نے سنہ 1947 میں آزادی حاصل کی ہے اور اس حکومت کا قانون بھی اسی حکومت کا قانون ہے جس سے ہمیں نفرت تھی۔ اس تضاد نے حکمراں طبقے کو ملک کے عوام سے الگ کر دیا ہے اور حکومت و قانون جیسی مقدس چیزیں معاشرے کے اندر عزت و تقدس کے جذبات پیدا کرنے سے معذور ہو گئی ہیں۔ نہ حکومت ہمارے ذہنی ماحول کا حصہ رہی ہے اور نہ قانون۔ ہر فرد نے اس سطح پر اپنے ذہن کو دو خانوں میں قسیم کر لیا ہے۔ ایک شخص رشوت لیتا ہے دوسرا شخص چور بازاری ناجائز طریقوں ، کم تولنے اور ناپنے کے ذریعہ دولت سمیٹتا ہے۔ فعل کرتے وقت خیر اس کے ذہن میں الگ بیٹھا خاموشی سے دیکھتا رہتا ہے۔ حکومت اور قانون اس کے اخلاقی نظام کا حصہ نہیں ہیں اور جب وہ یہ کر چکتا ہے تو پھر اسے مشورہ دیتا ہے کہ وہ حج کو چلا جائے یا کسی مسجد کی تعمیر میں چندہ دے دے۔ اس عمل سے شر دفع ہو جاتا ہے اور عقبی سنور جاتی ہے۔ اخلاقی نظام کی اس ثنویت نے خیر کو معمولات زندگی سے الگ کر دیا ہے شر ایک ایسی قوت ہے جس سے دولت ، عزت اور مقام حاصل ہوتا ہے اور خیر ، صرف عقبی سنوارنے کا ایک ذریعہ ہے جو مسجد میں چندہ دے کر اور حج کر کے حاصل ہو جاتا ہے۔ ایسا معاشرہ جو حکومت اور ملکی قانون کی طرف سے اس درجہ ہے تو جہی اختیار کئے ہوئے ہوا اور جہاں حکومت اور قانون ذہنی ماحول سے اتنے غیر متعلق ہو گئے ہوں اور جہاں حکومت اور معاشرے میں تضاد کی اتنی وسیع خلیج حائل ہو وہاں اخلاقی استحکام کی توقع کیسے کی جاسکتی ہے ؟

معاشرے کے ذہنی ماحول سے حکمراں طبقے کی بے تعلقی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اگر ملک کی کوئی بڑی سے بڑی ہستی کسی بھرے مجمع میں صرف ملکی قانون کے حوالے سے لوگوں میں احساس اخلاق پیدا کرنا چاہے تو اسے یقینا مایوسی ہو گی لیکن بر خلاف اس کے اگر وہ معاشرے کے ذہنی ماحول سے قریب ہو کر معاشرے کی اپنی تاریخ اور روایت کا سہارلے تو سامعین میں اخلاقی جوش پیدا کرنے میں کامیاب ہو سکتی ہے۔ اس کے معنی یہ ہوئے کہ ذہنی فاصلوں کی یہ خلیج صرف اس وجہ سے ہے کہ ہمارا حکمراں طبقہ اور ہمارا قانون دونوں معاشرے کے ذہنی ماحول روایت اور تاریخ سے منقطع ہیں۔ یہی وہ تضاد ہے جس کے باعث معاشرے سے معیار ، تیزی کے ساتھ غائب ہوتے جارہے ہیں۔ بغیر معیار نہ نصب العین اور آدرش کے کوئی معنی باقی رہتے ہیں اور نہ تخلیق کی آگ کو خیال کا ایندھن مہیا ہو سکتا ہے۔ ایسے میں ان لوگوں کی ذہنی فکر کا افلاس ملاحظہ فرمائیے جو اپنی تاریخ اپنی روایت اور اپنے ذہنی ماحول کو چھوڑ کر گندھارا، موہنجو دوڑو اور ہڑا پا میں اپنے تہذی رشتے تلاش کر رہے ہیں۔

Share.

Comments are closed.

Exit mobile version