مصنف: فرانسس فوکویاما
اردو ترجمہ : ڈاکٹر محمد حسین
زیر نظر مضمون میں ہم شناخت سے متعلق اہم معاصر تصورات کا جائزہ لیں گے، جنہیں معروف امریکی دانشور فرانسس فوکویاما نے اپنی شہرہ آفاق کتاب "Identity: The Demand for Dignity and the Politics of Resentment” ترجمه : شناخت: وقار کا مطالبه 11 اور رنجش کی سیاست میں تفصیل سے بیان کیا ہے۔ اس مضمون میں پیش کیے گئے کچھ اقتباسات اسی کتاب کے منتخب حصوں کا اردو ترجمہ ہیں، جن کا مقصد قارئین کو موجوده عالمی رجحانات شناختی سیاست کے ارتقا، اور اس کے سماجی و سیاسی اثرات سے روشناس کرانا ہے۔ فوکویاما کا استدلال ہے کہ فرد اور معاشرہ دونوں سطحوں پر شناخت کی تلاش اور وقار کے اعتراف کا مطالبہ ہماری جدید دنیا کی سیاست کونه صرف متاثر کر رہا ہے بلکہ بسا اوقات اسے تقسیم بھی کر رہا ہے۔ اس مضمون کے ذریعے ہم ان عالمی مباحث کا مطالعہ پاکستان اور جنوبی ایشیائی معاشروں میں شناخت سے جڑے مسائل کو بہتر طور پر سمجھنے میں مددگار ثابت ہوگا۔

معاصر معاشرہ سنگین اور تکلیف دہ مسائل سے دوچار ہے۔ (سیاہ فارم شہریوں کے مساوی حقوق کے لیے سر گرام تحریک) ” بلیک لائیوز میٹر (Black Lives Matter) ” جیسی تحریکوں نے پولیس کے نسل پرستانہ رویوں اور بربریت کی طرف توجہ دلائی ہے، جبکہ ” می ٹو (MeToo#) ” جیسی تحریکیں جنسی ہراسانی کے خلاف آواز بلند کر رہی ہیں اور ہمارے کام کرنے کے ماحول (رویوں اور پالیسیوں) کو بہتر بنارہی ہیں۔ لیکن ہم میں سے وہ لوگ جو جدید لبرل جمہوریتوں میں رہتے ہیں، شاذ و نادر ہی اپنی خوش قسمتی کا احساس کرتے ہیں۔ نسل پرستی قانونی طور پر ممنوع ہے، ہم جنس پرستی کو اب پہلے سے کہیں زیادہ قبول کیا جارہا ہے، اور خواتین کو اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے اور کیربیئر بنانے کی آزادی حاصل ہے۔ صرف ایک یا دو نسل پہلے ، یہ سب معمول کا حصہ نہیں تھا۔

کتاب "شناخت (Identity) میں، فرانس فوکویاما (Francis Fukuyama)
آج کی شناختی سیاست (identity politics) کے گرد موجود مسائل کی وضاحت کرتے ہیں۔ وہ تسلیم کرتے ہیں کہ ہمارے معاشروں میں اب بھی شدید نا انصافیاں موجود ہیں، اور یہ بھی نوٹ کرتے ہیں کہ شناختیں معاشروں کو تقسیم کر سکتی ہیں اور باہمی بقا کی حامل کمیونٹیاں تشکیل دینے میں رکاوٹ بنتی ہیں۔

انسان اپنی عزت نفس اور وقار کے بارے میں مثبت رائے کے متلاشی ہوتے ہیں۔
کیا آپ نے کبھی کسی کھیل، نوکری، یا تعلیم میں کوئی انعام یا ایوارڈ جیتا ہے ؟ اگر ہاں، تو یقینا آپ نے فخر اور اطمینان محسوس کیا ہو گا۔ کسی کی پہجان کو نمایاں کیے جانے اور اس کی قدر دانی کرنے سے جو خوشی حاصل ہوتی ہے ، وہ زندگی کی سب سے بڑی خوشیوں میں سے ایک ہے ، اور یہ ہم سب کی ایک فطری کیفیت ہے۔

یہ سچائی قدیم یونان میں بھی جانی پہچانی جاتی تھی، جہاں کے دانشوروں کا ماننا تھا کہ ہم سب اپنی قدر و منزلت کے بارے میں مثبت رائے کی تلاش میں ہوتے ہیں۔ مشہور فلسفی سقراط (Socrates) نے یہاں تک کہا کہ یہ انسانی روح کا ایک الگ اور نمایاں جزو ہے، جسے وہ ” تھا ئیوس (thymos) ” کہتے تھے۔ سقراط کے مطابق انسانی روح کے تین حصے ہوتے ہیں: پہلا حصہ ہماری بنیادی خواہشات پر مشتمل ہے، جیسے پیاس یا بھوک۔ دوسرا حصہ زیادہ عقلی ہوتا ہے۔ جیسے وہ آواز جو ہمیں گلی سڑی چیز کھانے سے روکتی ہے۔ ان دونوں کے علاوہ ایک تیسرا حصہ بھی ہے : تھائیموس، جو دوسروں سے عزت اور پہچان چاہتا ہے۔

اگر ہمیں اپنی کمیونٹی سے مثبت رائے ملے تو ہم فخر اور خوشی محسوس کرتے ہیں، لیکن اگر ایسا نہ ہو تو ہم غصے یا شرمندگی کا شکار ہوتے ہیں۔ اور تھائیموس کو سمجھے بغیر آج کی شناختی سیاست کو نہیں سمجھا جا سکتا۔ یعنی وہ طرز سیاست جس میں افراد اپنی شناخت کی بنیاد پر سیاسی اتحاد بناتے ہیں۔ شناختی سیاست تھا ئیوس میں جڑ پکڑتی ہے، کیونکہ یہ کسی خاص گروہ کی عزت اور شناخت کے لیے جد وجہد پر مبنی ہوتی ہے۔
آئیے ہم جنس پرستوں کی شادی کی تحریک کو دیکھتے ہیں۔

گزشتہ بیس برسوں میں، عوامی دباؤ کے نتیجے میں کئی ممالک نے ہم جنس شادی کو قانونی حیثیت دے دی ہے۔ متعلقہ جوڑوں کے لیے اس کی کچھ معاشی وجوہات بھی ہیں : شادی شدہ جوڑوں کو ٹیکس میں کچھ رعایتیں دی جاتی ہیں، اور وراثت جیسے قانونی معاملات میں بھی شادی شدہ حیثیت کو ترجیح حاصل ہوتی ہے۔ تاہم یہ فوائد "سول یونین (civil union) ” کے ذریعے بھی حاصل کیے جاسکتے تھے ، جو قانونی اور مالیاتی لحاظ سے شادی کے برابر ہوتے ہیں، بس نام مختلف ہوتا ہے۔ پھر بھی، بہت سے افراد سول یو نین کو نا قابل قبول سمجھتے ہیں۔ اگر قانونی و مالی فوائد ایک جیسے ہیں، تو ہم جنس پرست شادی کی حامی تحریک کس چیز کے لیے جد وجہد کر رہی ہے ؟
اس کا جواب تھا ئیوس میں ہے۔

ہم جنس شادی کے حامی برابری کی پہچان کے لیے جد وجہد کر رہے ہیں۔ سول یونین قانونی طور پر جوڑوں کو ساتھ رہنے کی اجازت تو دیتی ہے ، لیکن اس سے یہ تاثر بھی ملتا ہے کہ یہ رشتہ نارمل (heterosexual) شادی سے مختلف ہے۔ حامی چاہتے ہیں کہ حکومتیں ہم جنس جوڑوں کے وقار اور مقام کو مکمل طور پر برابر تسلیم کریں۔ تھائیموس ہمیں یہ سمجھنے میں مدد دیتا ہے کہ "پہچان (recognition) "انسان کی ایک بنیادی خواہش ہے۔ لیکن "شناخت” کے بارے میں ہمارا موجودہ فہم کافی نیا ہے۔ آج کل شناخت کا تصور انفرادیت سے جڑا ہوا ہے۔ (individualism)

آج ہم بے شمار طریقوں سے اپنی شناخت کا اظہار کرتے ہیں۔ چاہے وہ ہمارے کمپیوٹر پر موجود موسیقی ہو ، یا ہمار الباس، یا وہ کتا بیں اور آڈیوز جو ہم سنتے ہیں۔ چھوٹے چھوٹے فیصلے وقت کے ساتھ مل کر ہماری شناخت بناتے ہیں۔ یہ سب کچھ اب زندگی کا معمولی اور غیر شعوری حصہ بن چکا ہے، لیکن ایسا ہمیشہ نہیں تھا۔ در حقیقت ، موجودہ شناخت کا تصور پچھلے پانچ سو سال میں انفرادیت کے ابھرنے کے ساتھ جڑا ہے۔
انفرادیت ایک فلسفیانہ نظریہ ہے جو ہر فرد کے اندرونی نفس یاذات (inner self) ” پر زور دیتا ہے۔

یہ تصور سولہویں صدی میں پروٹسٹنٹ اصلاحات (Protestant Reformation) سے شروع ہوا، جسے جر من پادری مارٹن لوتھر (Martin Luther نے آگے بڑھایا۔ کیتھولک چرچ اس بات پر زور دیتا تھا کہ خدا اور بندے کے درمیان صرف پادری ہی واسطہ ہو سکتا ہے، مگر لوتھر کا کہنا تھا کہ فرد کی ” اندرونی ایمان داری (inner faith) ” بیرونی اداروں اور رسمی عبادات سے زیادہ اہم ہے۔
یوں اس نے ” اندرونی ” اور ” بیرونی ” نفس میں ایک فرق قائم کیا، جو آج تک باقی ہے۔

فرویت کے ارتقا میں اگلا اہم مفکر جنیوا کا فلسفی ژاں ژاک روسو تھا۔ جہاں مارٹن لوتھر یہ یقین رکھتے تھے کہ انسان کے باطن کو خدا کے فضل کو قبول کرنا چاہیے ، روسو نے فردیت کا ایک غیر مذہبی یادنیوی تصور پیش کیا۔ اس کا مؤقف تھا کہ انسان کا باطنی وجود خارجی معاشرے سے آزاد طور پر قائم ہوتا ہے ، اور اس نے بیرونی دنیا کو قواعد وضوابط اور روایات کے ایسے جال کی مانند دیکھا جو باطنی خوشی اور انسان کی مکمل
صلاحیتوں کے اظہار میں رکاوٹ بنتے ہیں۔

روایتی معاشرتی اقدار کے مقابلے میں روسو نے انسان کے باطن کو جو اہمیت دی، وہ شناخت سے جڑے جدید تصورات کی جانب ایک فیصلہ کن قدم تھا۔ لیکن یہ دونوں مفکر محض نظریاتی فضا میں خیالات نہیں گھڑ رہے تھے ، بلکہ وہ اپنے عہد کے پیدا کردہ لوگ تھے ایسے عہد کے جب مادی دنیا میں زبردست تبدیلیاں رونما ہو رہی تھیں۔ فردیت کا فروغ یورپی جدیدیت کے اس عمل سے گہرا طور پر جڑا ہوا تھا، جو سماجی اور معاشی تبدیلیوں کا ایک ایسا تسلسل تھا جو آج تک جاری ہے۔

یورپی جدیدیت کی ایک مثال تجارتی انقلاب ہے، جو تیرہویں سے اٹھارہویں صدی کے درمیان وقوع پذیر ہوا۔ اس دور میں بین الاقوامی تجارت میں بے پناہ اضافہ ہوا اور پر نٹنگ پریس جیسی تکنیکی ایجادات نے روز مرہ زندگی کو بدل کر رکھ دیا۔ بینکاری جیسے نئے شعبے ابھرے، اور اشیاء کی ایک نئی دنیا منڈیوں میں داخل ہوئی۔ نئی سماجی طبقاتی تقسیم وجود میں آئی، اور ایک رنگارنگ جدید طرز زندگی کی بنیاد پڑی۔ لوتھر کی اصلاحات کے ساتھ مل کر، ان جدیدیت پسند تبدیلیوں نے عام لوگوں کو پہلے سے کہیں زیادہ آپشنز اور مواقع فراہم کیے۔ یہی وہ ماحول تھا جس میں فردیت نے
جنم لیا۔

فرانسیسی انقلاب نے شناخت کی سیاست کی دو بنیادی شکلوں کی بنیاد رکھی۔ آج جب ہم فرانسیسی انقلاب کو یاد کرتے ہیں، تو ہمارے ذہن میں گلوٹین اور خونخوار ہجوم کی خوفناک تصویریں آتی ہیں۔ لیکن اس تحریک کو شدت پسندوں نے جس وقت ہائی جیک کیا، اس سے قبل اس کی بنیاد ترقی پسند اور قابل تعریف اصولوں پر رکھی گئی تھی۔ یہی اصول ہمارے حکمرانی کے تصورات اور خود اپنے بارے میں سوچنے کے زاویوں پر گہرا اثر ڈالتے ہیں۔

اس انقلاب کو بنیادی سطح پر وقار کی جد و جہد کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔ یہ اس لیے کہ یہ بغاوت جو آزادی، مساوات اور اخوت کا مطالبہ کر رہی تھی۔ اس امر پر زور دیتی تھی کہ اشرافیہ عام انسانوں کے بنیادی و قار کو باضابطہ طور پر تسلیم کرے۔ یہ عوام کی ایک اجتماعی پکار تھی : کہ وہ بھی انسان ہیں، اور سیاسی طاقت میں شراکت کے حق دار ہیں۔

اس انقلاب کا اثر آج کی دنیا کی لبرل جمہوریتوں میں بھی محسوس کیا جا سکتا ہے۔ یہ ریاستیں آزادی اور مساوات کے اصولوں پر استوار ہیں، جنہیں ہم انسانی وقار کے لیے لازمی سمجھتے ہیں۔ ہر شخص کو حکومت میں شریک ہونے کا حق حاصل ہے ، اور قانون کی نظر میں سب برابر ہیں جنس، نسل یا طبقے کی بنیاد پر امتیاز روا نہیں رکھا جا سکتا۔ فرانسیسی انقلاب نے اسی طرزِ فکر کو جنم دیا اور اس کے نتیجے میں شناخت کی سیاست کی دو الگ شکلیں سامنے آئیں۔

پہلی شکل فردیت کے فروغ سے جڑی ہے۔ انقلاب نے اس تصور کو اپنایا کہ افراد کو آزادی اور مساوات کا حق حاصل ہے، اور اس کو سیاسی دائرے میں منتقل کیا۔ اب صرف خود کو ایک فرد کی حیثیت سے محسوس کرنا کافی نہیں تھا لوگ چاہتے تھے کہ ان کے بنیادی و قار کو حکومتیں باضابطہ طور پر تسلیم کریں۔

یہ اصول آج بھی قائم ہے۔ جرمنی کے بنیادی قانون (1949) میں درج ہے: ” انسان کا وقار نا قابل پامالی ہے ، جبکہ جنوبی افریقا کا آئین کہتا ہے : "ہر شخص میں فطری و قار پایا جاتا ہے ، اور اس کے وقار کے احترام اور تحفظ کا حق اسے حاصل ہے۔”
فرانسیسی انقلاب سے جنم لینے والی شناخت کی سیاست کی دوسری قسم وہ تھی جس میں اجتماعی گروہوں کے وقار کو با قاعدہ تسلیم کا مطالبہ کیا گیا۔
شدت پسند انفرادیت (radical individualism) کا مسئلہ یہ ہے کہ یہ معاشرے کی مشتر کہ اقدار کو مٹا دیتی ہے اور باہمی تعاون کی بنیادوں کو کمزور کر دیتی ہے۔ اگر کوئی معاشر ہ بنیادی ثقافتی اقدار پر متفق نہ ہو، تو وہ مؤثر انداز میں کام کرنے کے قابل نہیں رہتا۔ برادریاں بکھر جاتی ہیں، اور ہر فرد صرف اپنے مفادات کی حفاظت میں لگ جاتا ہے۔
اس خرابی کا ازالہ کرنے کے لیے کچھ لوگ ایسی مشتر کہ شناخت تلاش کرتے ہیں جو فرد کو سماج سے جوڑ دے اور کسی گروہ سے اخلاقی و جذباتی وابستگی کا احساس دے۔ فر ا و جذباتی وابستگی کا احساس دے۔ فرانسیسی انقلابیوں نے یہی محسوس کیا؟ انہوں نے فرد کے حقوق کا مطالبہ تو کیا ہی، لیکن ساتھ ہی فرانسیسی جمہوریہ کے تین رنگوں والے پرچم کو بلند کیا اور غیر ملکی حملہ آوروں کے خلاف اپنی نئی جمہوریت کا دفاع بھی کیا۔
مغربی معاشروں کی اجتماعی یادداشت میں 1960 کی دہائی کو عمومی طور پر ایک مثبت دور کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔ چاند پر اترنے سے لے کر امن کے مظاہروں اور بیٹلز (The Beatles) جیسے بینڈ تک یہ "ثقافتی

دہائی ” بلاشبہ بہت سی نمایاں باتوں کی حامل تھی۔ لیکن رنگ برنگی قمیضوں اور راک موسیقی کے پیچھے کچھ زیادہ گہرے اور سنجیدہ تغیرات چھپے ہوئے تھے: یہ وہ وقت تھا جب متعدد سماجی تحریکیں وجود میں آئیں، جن کا مقصد نظر انداز کیے گئے گروہوں کے مساوی اعتراف اور شناخت کو یقینی بنانا تھا۔

یہ تحریکیں شمالی امریکہ اور یورپ کی آزاد جمہوریتوں میں ابھریں، جو کہ ایک ایسا ماحول تھا جہاں پہلے ہی انفرادیت پسندی اور تھراپیوٹک رجحان ” (یعنی خود شناسی، جذباتی صحت اور ذاتی توازن پر زور ) کے باعث شناخت کے تصور پر سوچنے کی فضا موجود تھی۔ تاہم 1960 کی دہائی تک، لوگ عموماً اپنی شناخت کو محض انفرادی حیثیت سے دیکھتے تھے ؛ اس کی ایک بڑی وجہ یہ تھی کہ دوسری جنگ عظیم کی ہولناک یادیں اب بھی بہت سے لوگوں کے ذہنوں میں تازہ تھیں، اور اجتماعی سطح پر قوم پرستی (nationalism) کو ایک خطرناک اور ناپسندیدہ نظریہ سمجھا جاتا تھا۔

یہ صورتحال اس "ثقافتی دہائی (Cultural Decade یعنی 1960 کی دہائی میں تبدیل ہونے لگی، جب اجتماعی شناخت کی نئی صورتیں مرکزی دھارے میں آگئیں۔ لوگ اپنی قدر و منزلت اور عزت نفس کو ان گروہوں سے جدا نہیں سمجھنے لگے جن سے ان کا تعلق تھا۔ اسی وجہ سے کئی سماجی تحریکیں ابھریں، جیسے کہ شہری حقوق (civil rights) اور ہم جنس پرستوں کے حقوق (gay rights) کی تحریکیں۔ ان میں سے ہر تحریک ایسے گروہ کی نمائندگی کر رہی تھی جسے روایتی طور پر نظر انداز یاد با یا گیا تھا۔
ان تحریکوں میں دور جحانات نمایاں ہو گئے :
1
یا تو افراد یہ مطالبہ کرتے کہ اُن کے ساتھ معاشرے کے غالب گروہوں کے برابر سلوک کیا جائے،
2
یا وہ اپنی منفرد شناخت کو نمایاں کرتے ہوئے اس کا احترام اور قبولیت چاہتے۔

وقت کے ساتھ ساتھ دوسر ارجحان، یعنی منفر د شناخت کی بنیاد پر احترام کا مطالبہ ، زیادہ غالب آگیا۔

امریکہ میں نسلی تعلقات (race relations) اس تبدیلی کی ایک بہترین مثال ہیں۔ 1960 کی دہائی کے آغاز میں ، شہری حقوق کی تحریک (civil
rights movement) کی قیادت ڈاکٹر مارٹن لوتھر کنگ جو نیئر کر رہے تھے۔ اُن کا بنیادی مطالبہ یہ تھا کہ سیاہ فام افراد کو سفید فاموں کے
برابر سمجھا جائے اور ان کے ساتھ مساوی سلوک ہو۔

لیکن 1960 کی دہائی کے آخر تک، زیادہ انقلابی گروہ منظر عام پر آگئے، جیسے کہ بلیک پینتھرز (Black Panthers) اور نیشن آف اسلام  آف اسلام (Nation of Islam) ۔ ان گروہوں نے یہ موقف اختیار کیا کہ سیاہ فام افراد کی ایک منفر د شناخت ہے، جس کی اپنی ثقافت ، روایات اور تاریخ ہے۔ انہوں نے سیاہ فام افراد کو تلقین کی کہ وہ اپنے رنگ ، ثقافت اور شناخت پر فخر کریں اور غالب ( سفید فام) معاشرے میں ضم ہونے کے خیال کو مسترد کر دیں۔

جیسا کہ پہلے ذکر ہوا، اسی دہائی میں ایک اور تحریک ، یعنی ہم جنس پرستوں کے حقوق کی تحریک gay rights) (movement نے بھی زور
پکڑا۔ یہ تحریک ویت نام جنگ اور شہری حقوق کی تحریک سے متاثر ہو کر زیادہ سے زیادہ انقلابی رخ اختیار کرتی گئی۔

اس رجحان کی علامت 1969 کے اسٹون وال فسادات (Stonewall (Riots) تھے ، جو نیو یارک میں ایک مشہور ہم جنس پرستوں کے بار پر پولیس کے چھاپے کے بعد شروع ہوئے۔ جب مظاہرین نے اپنے ساتھ ہونے والے امتیازی سلوک کے خلاف احتجاج کیا، تو یہ مظاہرے جلد ہی پر تشدد شکل اختیار کر گئے۔

امریکہ میں نسلی تعلقات (race relations اس تبدیلی کی ایک بہترین مثال ہیں۔ 1960 کی دہائی کے آغاز میں، شہری حقوق کی تحریک (civil rights movement) کی قیادت ڈاکٹر مارٹن لوتھر کنگ جو نیئر کر رہے تھے۔ اُن کا بنیادی مطالبہ یہ تھا کہ سیاہ فام افراد کو سفید فاموں کے برابر سمجھا جائے اور ان کے ساتھ مساوی سلوک ہو۔

لیکن 1960 کی دہائی کے آخر تک، زیادہ انقلابی گروہ منظر عام پر آگئے، جیسے کہ بلیک پینتھرز Black)
(Panthers اور نیشن آف اسلام (Nation of Islam) ۔ ان گروہوں نے یہ موقف اختیار کیا کہ سیاہ فام افراد کی ایک منفر د شناخت ہے، جس کی اپنی ثقافت، روایات اور تاریخ ہے۔ انہوں نے سیاہ فام افراد کو تلقین کی کہ وہ اپنے رنگ ، ثقافت اور شناخت پر فخر کریں اور غالب ( سفید فام) معاشرے میں ضم ہونے کے خیال کو مسترد کر دیں۔

جیسا کہ پہلے ذکر ہوا، اسی دہائی میں ایک اور تحریک، یعنی ہم جنس پرستوں کے حقوق کی تحریک (movement gay rights) نے بھی زور پکڑا۔ یہ تحریک ویت نام جنگ اور شہری حقوق کی تحریک سے متاثر ہو کر زیادہ سے زیادہ انقلابی رخ اختیار کرتی گئی۔

اس رجحان کی علامت 1969 کے اسٹون وال فسادات (Stonewall (Riots) تھے، جو نیو یارک میں ایک مشہور ہم جنس پرستوں کے بار پر پولیس کے چھاپے کے بعد شروع ہوئے۔ جب مظاہرین نے اپنے ساتھ ہونے والے امتیازی سلوک کے خلاف احتجاج کیا، تو یہ مظاہرے جلد ہی پر تشدد شکل اختیار کر گئے۔

تشدد سے قطع نظر، ان کارکنوں کو سراہا جانا چاہیے جنہوں نے اپنی قوموں میں واضح نا انصافیوں کے خلاف جدوجہد کی۔ لیکن اگلے مرحلے میں ہم دیکھیں گے کہ شناختی سیاست (identity politics) کے کیا نقصانات سامنے آئے۔ شناختی سیاست نے سیاسی بائیں بازو (political left) کو تقسیم کر دیا ہے۔

برطانوی سلطنت نے اپنی حکومت کو برقرار رکھنے اور مزاحمت کو دبانے کے لیے ایک مایوس کن لیکن مؤثر حکمت عملی اپنائی تھی : تقسیم کرو اور حکومت کرو۔ اس کا مقصد نو آبادیات کے اندرونی ڈھانچے کو تقسیم کرنا تھاتا کہ عوام ایک متحد اور طاقتور سیاسی قوت نہ بن سکیں جو برطانوی اقتدار کو چیلنج کر سکے۔

اور حیرت کی بات یہ ہے کہ یہ قدیم نو آبادیاتی حربہ آج کی شناختی سیاست کے اثرات سے کافی مشابہت رکھتا ہے، جو سیاسی ترقی کی راہ میں رکاوٹ بن رہی ہے۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ شناختی سیاست نے بائیں بازو کی سیاست کو اس حد تک منقسم کر دیا ہے کہ اب وہ سماجی تبدیلی کی بجائے معاشرے کے چھوٹے چھوٹے گروہوں کی شناخت کو تسلیم کرانے میں مصروف ہو گئی ہے۔
بیسویں صدی میں، بائیں بازو کی سیاست طبقاتی مسائل کے گرد مرکوز تھی۔ کارکن اور سیاسی جماعتیں معاشی مساوات اور غریب ترین طبقے کی زندگی بہتر بنانے کے لیے سر گرم تھیں۔ اُس وقت مزدور یونینوں کو نمایاں طاقت حاصل تھی، اور ایک مضبوط فلاحی ریاست کے لیے وسیع پیمانے پر حمایت موجود تھی۔

لیکن 1990 کی دہائی میں بائیں بازو کی سیاسی جماعتیں بتدریج مرکز کی طرف مائل ہو گئیں اور زیادہ منڈی دوست (market-oriented) بن گئیں۔ اسی دوران ان جماعتوں کی عوامی حمایت میں بھی کمی آتی گئی جنوبی یورپ میں مرکز ۔ بائیں جماعتوں کو حاصل ووٹ 1993 میں 36 فیصد
تھے ، جو 2017 تک کم ہو کر 21 فیصد رہ گئے۔
اسی عرصے میں، کئی ممالک میں معاشی عدم مساوات میں نمایاں اضافہ ہوا۔ امریکہ کے کانگریشنل بجٹ آفس کی ایک رپورٹ کے مطابق،1989
میں ملک کی تمام دولت کا 67 فیصد سب سے مالدار 10 فیصد خاندانوں کے پاس تھا؛ جب کہ 2013 تک یہ شرح 76 فیصد ہو چکی تھی۔ یورپی ممالک میں بھی یہی رجحان دیکھا گیا : تمام یورپی یونین ریاستیں پچھلے 30 برسوں میں امیر ہو چکی ہیں، لیکن یہ نئی دولت چند انتہائی دولت مند طبقات کے ہاتھ میں چلی گئی ہے۔

تو اس معاشی منظر نامے کے ساتھ ساتھ وہ بائیں بازو بھی زوال پذیر ہوا جو ماضی میں معاشی عدم مساوات کے خلاف سر گرم تھا۔ مگر ایسا کیوں ہوا؟

اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ بائیں بازو کی توجہ اب باہمی مقابلہ کرنے والے مفاداتی گروہوں میں بٹ چکی ہے۔
مثال کے طور پر ، اب کارکنوں کی سر گرمیوں کا مرکز ہم جنس پرستوں کے حقوق یا نسلی مسائل پر مرکوز ہو چکا ہے۔ اگرچہ یہ مسائل اہم ہیں، لیکن شناختی سیاست مظلوم گروہوں کو چھوٹے ذیلی اکائیوں میں تقسیم کر دیتی ہے، جن کی اپنی مخصوص ترجیحات ہوتی ہیں۔ بائیں بازو اب ایک ہمہ گیر تحریک نہیں رہی جو معاشرے کے 90 فیصد افراد کے لیے آواز بلند کرے ؛ شناختی سیاست نے اس وسیع تر اتحاد کو توڑ کر رکھ دیا ہے جو بڑی سطح پر عدم مساوات کا مقابلہ کر سکتا تھا۔

اگر ہم اپنے معاشروں میں بڑے پیمانے پر ایسی تبدیلی دیکھنا چاہتے ہیں جو سب سے زیادہ محروم طبقات کے حق میں ہو، تو ہمیں ایسے جامع اتحاد
تعمیر کرنے ہوں گے جو سب کو اپنے اندر سمو سکیں۔ مثلاً مز دور طبقے میں مردو عورت، ہم جنس پرست و غیر ہم جنس پرست اور اقلیتی واکثریتی نسلی گروہ سب شامل ہیں۔

جیسا کہ برطانوی نو آبادیات میں ہوا، شناختی سیاست نے عوام کو تقسیم کر کے ایک محدود طبقے کو سماج پر قابض ہونے کا موقع دیا۔
ہمیں اپنی شناختوں کو ترک کرنے کی ضرورت نہیں بلکہ ہمیں زیادہ بڑی اور جامع شناختیں تخلیق کرنی ہوں گی۔

دنیا کا کوئی بھی انسان ایسا نہیں جس کی کوئی شناخت نہ ہو۔ یہ کہنا کہ ہمیں اپنی مختلف شناختوں یا ان کمیونٹیز پر فخر کر نا ترک کر دینا چاہیے جن سے ہمارا تعلق ہے۔ یہ سراسر غلط ہو گا۔

اس کے برعکس، تفرقے اور باہمی چپقلش سے بچنے کے لیے ہمیں ایسی مضبوط اور ہمہ گیر شناختیں تشکیل دینی ہوں گی جن میں ہم سب شامل ہو سکیں۔

ایسا کرنے کا ایک طریقہ قومی شناخت (national identity) کو مضبوط بنانا ہے۔
قومی شناخت اور حب الوطنی کا ماضی کچھ داغدار رہا ہے، کیونکہ بیسویں صدی میں قوم پرستی کی شدت ہمیں براہ راست عالمی جنگوں کی ہولناکیوں کی طرف لے گئی۔

لیکن ضروری نہیں کہ ہمیشہ ایسا ہی ہو : بنیادی طور پر ، قومی شناخت کا مطلب ایک ملک کے سیاسی نظام اور اخلاقی اقدار پر مشتر کہ یقین رکھنا ہے ایسی اقدار جو لبرل، جمہوری اصولوں اور عالمگیر انسانی حقوق سے جڑی ہوں۔
ایسی جامع ، مضبوط قومی شناخت قائم کرنے کے کئی اہم فوائد ہیں :
اولا، اس کے واضح سیکیورٹی فوائد ہیں۔

کمزور قومی شناخت رکھنے والے ممالک میں سنگین سکیورٹی مسائل پیدا ہوتے ہیں، کیونکہ ایسی تقسیم شدہ قو میں داخلی کشمکش اور کمزوری کا شکار ہو جاتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ولادیمیر پوتن کی روس جیسی طاقتیں، جو م ، جو مغربی ریاستوں کی طاقت اور سکیورٹی کو کمزور کرنا چاہتی ہیں، یورپ میں آزادی کی تحریکوں کی پشت پناہی کرتی ہیں
مثلاً اسپین کی کاتالونیائی تحریک۔

ثانیاً، مضبوط قومی شناختیں حکومتوں کی کار کردگی کو بہتر بناتی ہیں۔

کرپٹ ریاستوں میں سیاستدان عوامی وسائل کو عوامی فلاح کی بجائے اپنے خاندانوں، نسلی گروہوں یا سیاسی جماعتوں کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

لیکن اگر ایک قوم میں قومی شناخت مضبوط ہو ، تو سیاستدان خود کو وسیع تر قوم کا حصہ سمجھتے ہوئے اجتماعی مفاد کو مقدم رکھتے ہیں، اور خود غرضی کا امکان کم ہو جاتا ہے۔

ثالثاً، قومی شناخت کے واضح معاشی فوائد بھی ہیں۔

اگر عوامی ملازمین اپنے ملک پر فخر محسوس نہ کریں، تو ان میں ملک کی ترقی کے لیے محنت کا جذبہ کم ہو جاتا ہے۔ مزید یہ کہ اکثر مذہبی یا نسلی گروہ صرف اپنے لوگوں کے ساتھ لین دین یا مالی معاونت کرتے ہیں۔ قومی شناخت کو فروغ دینے سے ایسے رجحانات کم ہوں گے، اور لوگ پوری قوم کی بہبود کے لیے سوچنا شروع کریں گے۔

آخر میں، ایک مؤثر قومی شناخت اعتماد پیدا کرتی ہے۔

اعتماد کسی بھی مستحکم ریاست کا بنیادی عنصر ہے، کیونکہ یہ معاشی تبادلے کی بنیاد ہے اور سماجی سیکجہتی کو فروغ دیتا ہے۔ لیکن جب شناختیں چھوٹے گروہوں پر مرکوز ہو جائیں، تو مختلف گروہوں کے درمیان اعتماد میں کمی آتی ہے ، اور ٹکراؤ کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔

مختصر یہ کہ جیسے کسی عمارت کی بنیاد لازم ہوتی ہے ، ویسے ہی معاشروں کی بنیاد اعتماد پر ہوتی ہے۔

تو اگر ہم یہ تسلیم کر لیں کہ مضبوط قومی شناخت ہمارے ملکوں کے لیے مفید ہے ، تو سوال یہ ہے :
ہم یہ شناخت کیسے تعمیر کر سکتے ہیں ؟

پچھلے حصے میں ہم نے اس دلیل کا جائزہ لیا تھا کہ قومی سطح پر وسیع تر شناختیں تعمیر کرنا تفرقہ پر مبنی مذہبی یا نسلی شناختوں سے بہتر ہے۔
یہ حصہ اس بات پر روشنی ڈالتا ہے کہ یہ کیسے ممکن بنایا جا سکتا ہے۔

سب سے پہلے اور واضح قدم :
صنفی، نسلی اور مذہبی امتیاز کا خاتمہ ضروری ہے۔

اگر چه شناختی سیاست کے کچھ سیاسی نقصانات ہیں، لیکن ان گروہوں کے مسائل حقیقی اور جائز ہیں۔

اگر ہم اقلیتوں پر پولیس تشدد اور کام کی جگہوں پر جنسی ہراسانی جیسے مسائل کا خاتمہ کر سکیں، تو ان گروہوں کے حقوق کے لیے سر گرم کارکنوں کو ایک جامع قومی شناخت کی تحریک کا حصہ بنایا جا سکتا ہے۔
دوسرا قدم:
مہاجرین سے انضمام (integration) اور شہریت کے حصول (naturalization) کے لیے مضبوط عزم کا مطالبہ کیا جانا چاہیے۔ یہ بالکل معقول ہے کہ کسی نئے ملک میں آنے والے افراد سے یہ توقع رکھی جائے کہ وہ
اس ملک کی زبان پڑھیں، لکھیں، بولیں، اور اس کی تاریخ اور اقدار سے واقف ہوں۔

ایسا کرنے سے مہاجرین کو اپنے نئے وطن کو اپنا گھر سمجھنے میں مدد ملے گی، اور وہ وہاں کے لوگوں اور ثقافت کے ساتھ مزید جڑ سکیں گے۔

لیکن صرف یہ کافی نہیں انہیں آمد کے بعد بھی بہتر مواقع اور مددفراہم کرنا ہو گی۔
فرانس کی مثال لیجیے: وہاں کے نوجوان مہاجرین کی بے روزگاری کی شرح 35 فیصد ہے، جب کہ مجموعی فرانسیسی نوجوانوں میں یہ شرح25 فیصد ہے۔ اگر فرانس مہاجر نوجوانوں کے لیے کامیاب مستقبل کی امید پیدا کر سکے ، تو وہ اپنے نئے وطن پر فخر محسوس کریں گے۔

تیسر اقدم :

تعلیمی نظام کو مذہبی رنگ سے الگ کیا جائے۔ یورپ کے کئی ممالک مسلم، عیسائی اور یہودی اسکولوں کی سرکاری معاونت کرتے ہیں، لیکن مختلف مذاہب کو سمجھنے اور باہمی یکجہتی کو فروغ دینے کے لیے حکومتوں کو ان مذ ہبی اسکولوں کی جگہ ایک مشترکہ ، عالمگیر نصاب والے اسکول قائم کرنے چاہیں۔

چوتھی تجویز:

تمام شہریوں کے لیے لازمی قومی خدمت (National Service) متعارف کروائی جائے۔
جمہوری ریاستیں اپنے شہریوں کو رائے دہی، اظہار رائے کی آزادی جیسے کئی حقوق فراہم کرتی ہیں۔

اس کے بدلے میں نوجوانوں سے یہ توقع رکھی جاسکتی ہے کہ وہ ایک یادو سال ریاست کی خدمت میں صرف کریں۔ چاہے وہ فوجی ہو یا سول خدمات کی صورت میں۔

یہ مشتر کہ قربانی مختلف طبقات ، مذاہب اور نسلوں کے نوجوانوں کو ایک لڑی میں پرونے میں مدد گار ہو گی۔

نتیجه :

ہمیں اپنی "شناخت ” کے تصور پر دوبارہ غور کرنے کی فوری ضرورت ہے۔

اگر ہم شناختی سیاست کی نشاندہی کردہ خامیوں کا ازالہ کر سکیں، اور زیادہ وسیع اور مثبت گروہی شناختیں قائم کر سکیں، تو ہم بکھری ہوئی برادریوں کو ایک ساتھ جوڑ سکتے ہیں اور ایک زیادہ صحت مند ، خوشحال اور مستحکم معاشرہ تشکیل دے سکتے ہیں۔

آخری خلاصه :

شناخت انسان کی اس بنیادی خواہش سے جڑی ہے کہ اسے تسلیم کیا جائے اور اس کی قدر کی جائے۔
اگر چہ آج کی شناختی سیاست ہمارے معاشروں کے بعض حقیقی مسائل کو اجا گر کرتی ہے، لیکن یہ ہمیں چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں تقسیم بھی کر سکتی ہے، جو آپس میں متصادم ہوتے ہیں۔

اگر ہم مثبت تبدیلی چاہتے ہیں اور مؤثر ، صحت مند جمہوریتیں قائم کرنا چاہتے ہیں، تو ہمیں اپنی شناخت کے تصور پر نظر ثانی کرنی ہوگی اور ایسے وسیع تر اتحاد قائم کرنے ہوں گے جو مشترکہ مفادات کی بنیاد پر ایک دوسرے سے جڑے ہوں۔

Share.

Comments are closed.

Exit mobile version