تعارف
کشمیر نہ تو بہت بڑا تھا اور نہ ہی حیدر آباد کی طرح قدیم آزاد ریاست تھی۔ یہ 1846ء میں برطانوی حکومت نے پہلی سکھ جنگ میں ان کی شکست کے بعد ایک سابقہ عہد یدار کو 75 لاکھ نانک شاہی سکوں کے عوض بیچا تھا پر عطا کیا تھا، جو برطانوی حمایت یافتہ تھا۔ یہ ہمالیائی ریاست پنجاب کے ایک ضلع کے ذریعے ہندوستان سے جڑی ہوئی تھی لیکن اس کی آبادی 77 فیصد مسلمان تھی اور اس کی سرحد پاکستان سے ملتی تھی ۔ ( برٹن سٹین کی کتاب ہسٹری آف انڈیا )
تاریخ میں، کشمیر دنیا کے قدیم ترین اور طویل ترین حل طلب تنازعات میں سے ایک ہے۔ اسے پاکستان اور بھارت کے درمیان بنیادی سیاسی تنازعہ بھی کہا جاتا ہے۔ 1947 میں برصغیر کی تقسیم کے بعد کشمیر کی ریاست کا مستقبل غیر یقینی ہو گیا، اور یہ معاملہ بغیر کسی واضح حل کے آج تک برقرار ہے۔ جنوبی ایشیا میں یہ سب سے پیچیدہ تنازعہ ہے، اور بھارت و پاکستان کے درمیان کئی جنگوں کی وجہ بھی بن چکا ہے۔ پاکستان کشمیر کو اپنا حصہ تصور کرتا ہے، اور بین الاقوامی برادری بھی اس مسئلے کو تسلیم کرتی ہے، سوائے بھارت کے۔
تقسیم کے وقت کشمیر ایک خود مختار ریاست تھی لیکن ہندو مہا راجہ کی سازش کے بعد کشمیری عوام نے پاکستان سے الحاق کی خواہش ظاہر کی۔ تاہم، بھارت اور پاکستان کے درمیان یہ مسئلہ ایک مستقل رکاوٹ بن گیا۔ عالمی برادری اس تنازعے کی سنگینی سے واقف ہے کیونکہ دونوں ممالک ایٹمی طاقتیں ہیں، مگر وہ اسے کم کرنے کے لیے نرم رویہ اپناتی ہے بجائے اس کے کہ کوئی ٹھوس اقدامات کرے۔ کشمیری عوام گزشتہ کئی دہائیوں ۔ ں سے بھارتی فوج کے ہاتھوں بدترین مظالم کا شکار ہیں۔ ظلم وستم میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، مگر عالمی برادری اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے کوئی مؤثر قدم اٹھانے سے قاصر دکھائی دیتی ہے۔ اس ظلم نے جنت نظیر وادی کشمیر کو جہنم بنادیا ہے۔
تاریخی پس منظر
مہاراجہ گلاب سنگھ نے 1846 میں ایسٹ انڈیا کمپنی سے 75 لاکھ روپے میں جموں و کشمیر کو معاہدہ لاہور کے تحت خریدا۔ 1925 میں ہری سنگھ کشمیر کے راجہ بنے۔ ہندو حکمرانوں کے غیر منصفانہ رویے کی وجہ سے مسلمان اپنے حقوق کے تحفظ کے لیے جد و جہد کر رہے تھے۔ 1932 میں شیخ محمد عبد اللہ نے ایک سیاسی جماعت مسلم کانفرنس قائم کی۔ تقسیم کے وقت مہاراجہ ہری سنگھ نے جموں و کشمیر کو بھارت کے حوالے کر دیا ، جو کہ 20 ویں صدی کے سب سے متنازع فیصلوں میں سے ایک تھا۔
پاکستان نے متعدد بار احتجاج کیا اور ایک ریفرنڈم کا مطالبہ کیا تا کہ کشمیری عوام اپنی مرضی سے اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں۔ بھارت کے ساتھ الحاق تقسیم کے اصولوں کے خلاف تھا کیونکہ کشمیر ایک مسلم اکثریتی علاقہ تھا اور یہ اقدام جمہوری اصولوں کے بھی منافی تھا۔
اسٹینڈ اسٹل معاہدہ
جون 1947 میں پونچھ کے مسلمانوں نے بغاوت کر دی، جس پر مہاراجہ نے طاقت کے ذریعے ظلم و ستم شروع کیا۔ حالات کو سنبھالنے کے لیے مہاراجہ نے پاکستان کے ساتھ اسٹینڈ اسٹل معاہدہ کیا، لیکن اگست اور ستمبر 1947 میں حالات مزید خراب ہو گئے۔
پاکستان کے اعتراضات
پاکستان نے اعتراض کیا کہ کشمیر کی انتظامیہ یکطرفہ طور پر کوئی فیصلہ نہیں کر سکتی کیونکہ اسٹینڈ اسٹل معاہدہ موجود تھا۔ کشمیر کے بھارت سے الحاق کے وقت مہا راجہ فرار ہو چکا تھا اور وہ ایک بڑی بغاوت کے نتیجے میں اقتدار سے بے دخل ہو چکا تھا۔ بھارت نے مشروط طور پر الحاق کو قبول کیا۔ اس وقت لارڈ ماؤنٹ بیٹن اور جواہر لال نہرو نے اعلان کیا تھا کہ کشمیری عوام کی مرضی کے مطابق حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔
پہلی پاک۔ بھارت جنگ
پہلی پاک بھارت جنگ بھارت کی کشمیر میں فوجی مداخلت کی وجہ سے شروع ہوئی ۔ یہ جنگ جموں و کشمیر کی سرحد پر لڑی گئی ۔ میجر جنرل اکبر خان اس آپریشن کے کمانڈر جنرل تھے، اور اسے آپریشن گلمرگ کہا جاتا تھا۔
کشمیر کا مقدمہ اقوام متحدہ میں
یکم جنوری 1948 کو کشمیر کا معاملہ اقوام متحدہ میں لے جایا گیا۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے متفقہ طور پر فیصلہ دیا کہ اس مسئلے کا حل صرف عوام کی مرضی کے تحت منصفانہ استصواب رائے ( ریفرنڈم ) کے ذریعے ممکن ہے۔ بھارت اور پاکستان دونوں کے نمائندوں نے اقوام متحدہ میں اپنا مقدمہ پیش کیا۔
سلامتی کونسل کی قراردادیں
سلامتی کونسل نے کشمیر کے مسئلے پر کئی قراردادیں منظور کیں، جن میں سے چند درج ذیل ہیں :
21 اپریل 1948: بھارت اور پاکستان کو جنگ بندی کا حکم دیا گیا۔ اقوام متحدہ کی نگرانی میں ریفرنڈم کا مطالبہ کیا گیا۔
13 اگست 1948: پاکستان اور بھارت کو اپنی فوجیں واپس بلانے کا کہا گیا اور اقوام متحدہ کی نگرانی میں استصواب رائے کی تجویز دی گئی۔
5 جنوری 1949: ایک آزاد اور شفاف استصواب رائے کے لیے بھارت اور پاکستان کو سازگار ماحول پیدا کرنے کی ہدایت دی گئی ۔
24 جنوری 1957 : اقوام متحدہ نے کشمیر کے مسئلے کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کرنے کی تجدید کی اور بھارت کی جانب سے کشمیر کے یکطرفہ الحاق کو مستر د کر دیا۔
اقوام متحدہ کے ثالث کا تقرر
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے آسٹریلوی حج سر اوون ڈکسن کو ثالث مقرر کیا تا کہ فریقین کو مذاکرات کی میز پر لایا جا سکے ۔ 20 جولائی 1950 کو ایک سہ فریقی کانفرنس منعقد ہوئی لیکن بھارت کے سخت رویے کی وجہ سے یہ مذاکرات ناکام ہو گئے۔
لیاقت – نهر و معاہدہ (لندن)
16 جنوری 1951 کو وزیر اعظم جواہر لال نہرو اور لیاقت علی خان کی ملاقات لندن میں ہوئی، جہاں کامن ویلتھ ممالک کے وزرائے اعظم موجود تھے۔ آسٹریلیا نے محد و دریفرنڈم کا خیال پیش کیا لیکن پاکستان نے پورے کشمیر میں ریفرنڈم کا مطالبہ کیا۔ برطانوی وزیر اعظم لارڈ ایٹلی نے نہرو کے اس موقف کو مستر د کر دیا کہ دو قومی نظریہ تقسیم کی بنیاد نہیں تھا۔
باندونگ کا نفرنس اور کشمیر
14 اپریل 1955 کو انڈونیشیا کے شہر باندونگ میں پہلا ایشیائی – افریقی اجلاس منعقد ہوا، جہاں کشمیر کے مسئلے پر کئی فیصلے لیے گئے لیکن ہمیشہ کی طرح ان پر عملدرآمد نہیں ہو سکا۔
چین کی حمایت:
اگر چہ چین نے پہلے بھارت کے ساتھ خوشگوار تعلقات برقرار رکھے، لیکن اس نے مسئلہ کشمیر پر بھارت کی حمایت نہیں کی ۔ 1956 میں جب مسٹر چواین لائی نے بھارت کا دورہ کیا تو انہوں نے سوویت رہنما کے اس بیان کو مستر د کر دیا کہ سوویت یونین کشمیر کو بھارت کا حصہ سمجھتا ہے۔ اس کے برعکس، انہوں نے مسئلہ کشمیر کے پر امن حل پر زور دیا۔
صدر ایوب کی اس وقت کے بھارتی وزیر اعظم ۔ وزیر اسم سے ملاقات
پاکستان کے صدر ایوب خان اور بھارت کے وزیر اعظم نہرو کے درمیان 15 ستمبر 1959 کو دہلی ایئر پورٹ پر ملاقات ہوئی تا کہ مسئلہ کشمیر پر بات چیت کی جاسکے۔ دونوں رہنماؤں نے مئی 1960 میں لندن میں دولت مشتر کہ کانفرنس کے دوران دوبارہ ملاقات پر اتفاق کیا، لیکن یہ ملاقات مسئلہ کشمیر پر کسی متفقہ حل تک نہ پہنچ سکی۔
23 ستمبر 1960 کو دریائے سندھ کے پانی کی تقسیم کے معاہدے پر دستخط کی تقریب کے موقع پر نہرو پاکستان آئے ۔ مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ مسئلہ کشمیر حل ہو گیا ہے، لیکن بعد میں نہرو کے دھوکہ دہی پر مبنی رویے نے اس مسئلے کو مزید الجھا دیا۔
کشمیر پر بات چیت کے چھ دور
سردار سروان سنگھ اور ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں وزرائے خارجہ کی سطح پر کی بات چیت کے چھ دور
ہوئے۔
پہلا دور 26 سے 29 دسمبر 1962 کو راولپنڈی میں ہوا۔
دوسرا دور 26 سے 20 جنوری 1963 کو دہلی میں ہوا۔
تیسرا دور 21 سے 125 اپریل 1963 کو کراچی میں ہوا۔
چوتھا دور 12 سے 14 مارچ 1963 کو کلکتہ میں ہوا، جس میں لائن آف کنٹرول پر جنگ بندی کی دوبارہ حد بندی کی تجویز دی گئی۔
پانچواں دور 21 سے 25 اپریل 1963 کو کراچی میں ہوا، جس میں چین۔ بھارت سرحدی تنازع اور پاکستان۔ چین کے مابین کچھ زمینی تبادلے کا معاملہ زیر بحث آیا۔
چھٹا اور آخری دور 14 سے 16 مئی 1963 کو دہلی میں ہوا، جہاں پاکستان نے رائے شماری کی شرائط تجویز کیں لیکن بھارت نے انہیں مستر د کر دیا۔
12 اکتوبر 1964 کو کراچی میں بھارتی وزیر اعظم لال بہادر شاستری اور صدر ایوب خان کے درمیان ملاقات ہوئی ، جو کسی بڑی پیش رفت کے بغیر ختم ہوگئی۔
تاشقند معاہدہ
کی جنگ کے بعد بھارت کے وزیر اعظم لال بہادر شاستری پاکستان کے ساتھ نرم رویہ 1965 کی اختیار کرنے لگے۔ اسی دوران کشمیری رہنما شیخ عبداللہ کو بھارت میں رہا کیا گیا اور انہوں نے پاکستان کا دورہ کرنے کا فیصلہ کیا لیکنلال بہادر شاستری کی وفات کے بعد فاروق عبد اللہ کو دوبارہ گرفتار کر لیا گیا۔
10 جنوری 1966 کو تاشقند معاہدہ طے پایا۔ اگر چہ اس معاہدے میں کشمیر کے مسئلے پر براہ راست کچھ شامل نہیں تھا لیکن دونوں ممالک نے اپنی اپنی پوزیشن واضح کی۔
شملہ معاہدہ
3-2 جولائی 1973 کی رات پاکستان اور بھارت کے درمیان شملہ معاہدہ طے پایا، جس میں جنگ بندی لائن کو لائن آف کنٹرول کا نام دیا گیا۔ کچھ دیگر باہمی معاہدے بھی ہوئے لیکن اقوام متحدہ نے دونوں ممالک سے کہا کہ وہ مسئلے کو باہمی افہام وتفہیم سے حل کریں۔
بینظیر بھٹو شہید اور راجیو گاندھی کی ملاقات
1988 میں بینظیر بھٹو اور راجیو گاندھی کی اسلام آباد میں ملاقات ہوئی ، جس کا محور مسئلہ کشمیر تھا۔ ملاقات کے بعد راجیو گاندھی نے کہا کہ انتخابات کے بعد مسئلہ کشمیر حل ہو چکا ہے، جبکہ بینظیر بھٹو صرف مسکرا دیں۔
اقوام متحدہ کی نئی قرارداد
1988 میں پاکستان اور بھارت کے جوہری تجربات کے بعد اقوام متحدہ نے 6 جون کو ایک قرارداد منظور کی ، جس میں دونوں ممالک سے کہا گیا کہ وہ بات چیت کے ذریعے تنازعات کو حل کریں۔
سارک کا نفرنس
جولائی 1998 میں کولمبو میں منعقدہ سارک سربراہی اجلاس میں پاکستانی اور بھارتی وزرائے اعظم نے ملاقات کی ، جس میں کشمیر پر مذاکرات کی بحالی پر غور کیا گیا۔ دونوں وزرائے اعظم کے اتفاق کے بعد دونوں ممالک کے خارجہ سیکرٹریوں نے 29 جولائی 1998 کو دور سمی ملاقاتیں کیں لیکن کوئی حتمی نتیجہ نہ نکل سکا۔
لاہور اعلامیہ
بھارتی وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی نے 9 اگست 1998 کو پاکستان کو مذاکرات کی دعوت دی، جس میں کشمیر کے ساتھ ساتھ دیگر امور پر بھی بات چیت شامل تھی۔ 20 فروری 1999 کو واجپائی لاہور پہنچے اور نواز شریف کے ساتھ ایک مشترکہ اعلامیہ جاری کیا گیا ، جس میں دونوں ممالک نے تعلقات کو بہتر بنانے کی کوششوں کا عزم ظاہر کیا۔
کارگل جنگ
مئی 1999 میں کارگل جنگ کے باعث دونوں ممالک کے درمیان سرکاری رابطے منقطع ہو گئے۔ بحران کی شدت کو دیکھتے ہوئے امریکہ اور مغربی ممالک نے کشیدگی کم کرنے کے لیے دونوں ممالک پر زور دیا۔
جموں و کشمیر اسمبلی کی خود مختاری کی قرارداد
26 جون 2000 کو جموں و کشمیر اسمبلی نے ریاست کو زیادہ خود مختاری دینے کی ایک قرارداد منظور کی۔ پاکستان نے اس پر احتجاج کیا، کیونکہ یہ قرارداد کسی با ضابطہ ریفرنڈم کے بغیر منظور کی گئی تھی۔
صدر مشرف اور واجپائی کی ملاقات
جولائی 2001 میں آگرہ میں صدر پرویز مشرف اور بھارتی وزیر اعظم واجپائی کے درمیان ملاقات ہوئی لیکن کوئی خاص نتیجہ نہ نکل سکا۔
اکتوبر 2001 میں بھارت میں ایک دہشت گرد حملے میں 30 افراد ہلاک ہوئے ، جس کا الزام بھارت نے پاکستان پر لگا دیا۔ صورتحال مزید خراب ہو گئی جب بھارت نے اپنے سفیر کو پاکستان سے واپس بلا لیا اور فوج کو لائن آف کنٹرول پر تعینات کر دیا۔
امریکہ کا کردار
امریکی صدر باراک اوباما نے اپنے انتخابی مہم میں کہا کہ وہ بھارت اور پاکستان کے درمیان ثالث کا کردار ادا کریں گے لیکن بھارت کے دباؤ پر وہ اپنے وعدے سے پیچھے ہٹ گئے۔
اقوام متحدہ نے کئی قراردادیں منظور کیں، جن میں بھارت اور پاکستان کو جنگ بندی پر آمادہ کیا گیا لیکن بھارت نے ان قراردادوں کو نظر انداز کیا۔
2004 سے 2007 کے دوران جنرل پرویز مشرف کے دور میں چار نکاتی حل پیش کیا گیا، جس میں مسئلہ کشمیر کے متفقہ حل کی کوشش کی گئی لیکن یہ بھی کامیاب نہ ہو سکا۔
کشمیریوں کا حق خودارادیت
12 اگست 2007 کو سی این این آئی بی این اور ہندوستان ٹائمز کے ایک سروے کے مطابق، 87 فیصد کشمیریوں نے خود مختاری کے حق میں ووٹ دیا۔ سابق وزیر اعظم آزاد کشمیر بیرسٹر سلطان محمود چوہدری نے کہا کہ اگر کشمیریوں کو حق خودارادیت ملا تو وہ پاکستان کے ساتھ الحاق کریں گے۔
مسئلہ کشمیر کے اثرات
پاک بھارت تنازع نے دونوں ممالک کو معاشی ، سماجی اور سیاسی عدم استحکام کا شکار کر دیا ہے۔ تجارتی سرگرمیاں متاثر ہوئیں اور دونوں ممالک کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا۔ خاص طور پر 5 اگست 2019 کے بعد بھارت کے رویے نے پاکستان کو مزید مشتعل کر دیا۔
حالیہ واقعات پر نظر
5 اگست 2019 کو بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے آرٹیکل 370 کو منسوخ کر کے جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کر دی ، جس سے خطے میں مزید بے چینی پیدا ہو گئی۔
واقعے کے بعد، بھارت، پاکستان، اور کشمیر ایک باہمی تکلیف دہ صورتحال (MHS) تک پہنچ چکے ہیں، خاص طور پر اگر ہم پچھلی دہائی کے واقعات پر نظر ڈالیں۔ 2004 میں، بھارت اور پاکستان کے سربراہان مملکت تقریباً 35 بار ملے ۔ اس کے علاوہ ، 1989 سے 1998 کے درمیان، اس دیرینہ حل طلب مسئلے کا حل تلاش کرنے کے لیے تقریباً بارہ مذاکراتی دور منعقد کیے گئے ۔ 2004 سے 2007 کے دوران، جنرل پرویز مشرف کے دور میں، ایک چار نکاتی حل پیش کیا گیا ، جس میں کشمیر، بھارت اور پاکستان تینوں کے لیے ایک متفقہ حل شامل تھا۔ اس کے بعد، جامع مذاکرات کا دور شروع ہوا، جس میں جنرل مشرف کے چار نکاتی فارمولا کو شامل کیا گیا۔ ان کی جانب سے کشمیر کی آزادانہ رائے شماری کو ترک کرنے کی کھلی دعوت ایک قابل ستائش اقدام تھا ۔ منموہن سنگھ اور مشرف نے مسئلہ کشمیر کو کسی بھی دوسری حکومت کے مقابلے میں زیادہ قریب سے حل کرنے کی کوشش کی۔
کشمیر وادی سے متعلق جغرافیائی سیاست
مسئلہ کشمیر ایک جغرافیائی تنازعہ ہے، کیونکہ کشمیر کی جغرافیائی اہمیت کی وجہ سے بھارت اور پاکستان کے درمیان تین جنگیں ہو چکی ہیں ۔ کشمیر ایک انتہائی اسٹریجک مقام پر واقع ہے، جہاں سے بھارت اور پاکستان کے دریاؤں کا بنیادی منبع بہتا ہے، جو تبت سے نکل کر پاکستان میں داخل ہوتے ہیں۔ پاکستان کی 92 فیصد آبادی زراعت پر انحصار کرتی ہے۔ اس تنازعے کے کئی دیگر عوامل بھی ہو سکتے ہیں، لیکن اس کی بنیادی وجہ جغرافیائی سیکیورٹی خدشات اور خطرات ہیں۔ دونوں ممالک جغرافیائی مجبوریوں کا سامنا کر رہے ہیں اور ایک دوسرے کو جیت کی صورت حال میں رکھنا چاہتے ہیں۔ اسی طرح، پانی زمین کی زرخیزی کا راز ہے اور یہ زندگی کو برقرار رکھنے، خوراک، زراعت اور نقل و حمل کا ذریعہ ہے، لہذا یہ تسلیم کرنا ضروری ہے کہ کشمیر کا تنازعہ پانی کے مسئلے سے بھی جڑا ہوا ہے۔ دونوں ممالک کے برفانی ذخائر کشمیر میں موجود ہیں، جو اس تنازعے کی ایک اور بنیادی وجہ ہیں ۔
مسئلہ کشمیر اور اقوام متحدہ
جب سے بھارت اور کشمیر کے درمیان کشیدگی شروع ہوئی ، یہ خطہ اقوام متحدہ کی ناکامی کی علامت بن گیا۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے اگست 1947 سے 18 سال تک اس مسئلے کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کی لیکن آخر میں ایک غیر مؤثر قرارداد پر اختتام ہوا، جس پر عملدرآمد نہ ہو سکا۔ کئی بار ثالثوں نے اس بحران کو حل کرنے کی کوشش کی لیکن سب بے سود رہا۔ نئی بھارتی قانون سازی کے بعد،
اقوام متحدہ نے اس مسئلے کی سنگینی کو تسلیم کیا اور 20 ستمبر کو سلامتی کونسل میں ایک نئی قرارداد منظور کی۔
8 جولائی 1988 کو پہلیجیم اور کولمبیا کو کشمیرکمیشن کے ثالث کے طور پر نامزد کیا گیا؟ بھارت نے چیکوسلواکیہ اور پاکستان نے ارجنٹائن کو نامزد کیا۔ کمیشن کی رپورٹ پاکستان کے حق میں گئی اور کشمیر میں جنگ بندی کا مطالبہ کیا۔ ایک آسٹریلوی حج کو اقوام متحدہ کی طرف سے کشمیر تنازعے پر ثالث مقرر کیا گیا، جس نے 19 ستمبر 1950 کو اپنی رپورٹ پیش کی ، جس میں کشمیر میں غیر مسلح کرنے کی تجویز دی گئی۔
تاہم ، بھارت کی جانب سے مسترد کیے جانے کی وجہ سے اس پر عمل نہ ہو سکا۔
فروری 1951 میں، برطانیہ کے وفد نے ایک مشترکہ اینگلو- امریکی قرارداد پیش کی ، جس میں بھارت اور پاکستان کے درمیان مذاکرات کی تجویز دی گئی لیکن پھر بھی کوئی نتیجہ نہ نکل سکا۔ ناروے اور کیوبا نے بھی کشمیر تنازعے کے حل کے لیے اقوام متحدہ کے کمیشن کے ثالث کے طور پر کردار ادا کیا لیکن وہ بھی ناکام رہے۔ 1954 میں ، سویت یونین نے بھارت کی حمایت کی، حالانکہ اقوام متحدہ کے تحت مذاکرات ہو چکے تھے لیکن سویت یونین نے بھارت کے مؤقف کو ترجیح دی۔ کشمیر کے مسئلے کا واحد ممکنہ حل ایک آزادانہ اور منصفانہ رائے شماری ہے، لیکن اقوام متحدہ کی قراردادوں کے باوجود کوئی پیش رفت نہ ہو سکی۔
1962 میں، پاکستان کی درخواست پر اپریل سے 22 جون تک ایک اور مذاکراتی دور منعقد ہوا، جس میں اقوام متحدہ کے کشمیر کمیشن کی قرارداد کے مطابق اقدامات کرنے کی تجویز دی گئی ، لیکن سویت یونین کی جانب سے ووٹ ڈالنے کے بعد کوئی ٹھوس نتیجہ نہ نکل سکا۔ بالآخر، اقوام متحدہ کو براہ راست مذاکرات کی تجویز دینی پڑی، جو اس مسئلے پر اقوام متحدہ کی نااہلی کو ثابت کرتا ہے۔ روس اور امریکہ کی یکطرفہ حمایت ہمیشہ کشمیر تنازعے کے ممکنہ حل میں رکاوٹ بنی رہی ۔
یورپی پارلیمنٹ کے اقدامات
2019 میں، یورپی پارلیمنٹ نے جموں و کشمیر پر سیٹیزن امینڈ منٹ ایکٹ منظور کیا ، جس میں چھ سخت قراردادیں شامل تھیں، اور یہ قراردادیں یورپی یونین کے ارکان کی اکثریتی رائے سے منظور ہوئیں۔ تاہم ، بھارتی وزارت خارجہ نے ان ترامیم کو مسترد کر دیا تا کہ بھارت کے ساتھ تعلقات برقرار رکھے جاسکیں۔ یورپی پارلیمنٹ نے بعد میں یہ موقف اختیار کیا کہ وہ بھارت کے ساتھ مزید بات چیت کرے گا۔ بھارت پر بار بار انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کی خلاف ورزیوں کا الزام عائد کیا گیا ۔ جب بھارتی حکومت نے آرٹیکل 370 ختم کیا تو اس سے ایک سنگین بحران پیدا ہوا۔
اسلامی تعاون تنظیم (OIC) کا کردار
28 نومبر 2020 کو، اسلامی تعاون تنظیم (OIC) کے اجلاس میں تمام 57 رکن ممالک نے بھارت سے مطالبہ کیا کہ وہ متنازعہ علاقے میں کوئی مزید قدم نہ اٹھائے ۔ ”ڈان“ اخبار کی رپورٹ کے مطابق، او آئی سی نے بھارت کو ڈومیسائل سرٹیفکیٹ کے اجر اسمیت دیگر غیر قانونی اقدامات سے باز رہنے کا کہا۔ عالمی برادری سے بھی اپیل کی گئی کہ وہ بھارتی غیر قانونی اقدامات پر نظر ثانی کرے۔ یہ پاکستان کی ایک بڑی سفارتی کامیابی تھی، کیونکہ پاکستان نے پہلے بھی او آئی سی سے بھارت کے ظالمانہ اقدامات کی تحقیقات کرنے کی درخواست کی تھی ۔ او آئی سی کا یہ قدم مسلم دنیا کے لیے ایک جراتمندانہ قدم تھا، اور مستقبل میں اس مسئلے کے حل کے لیے امید پیدا ہوئی ہے۔
تنقیدی تجزیه
کوئی بھی بھارتی فوج کی نصف صدی سے زائد عرصے سے جاری بر بریت کو نظر انداز نہیں کر سکتا۔ انسانی حقوق کے علمبردار اس معاملے میں بے بس دکھائی دیتے ہیں۔ چاہے یہ اقوام متحدہ کے قومی یا بین الاقوامی مفادات ہوں لیکن انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزیوں پر عالمی برادری کی خاموشی انہیں بھارت کے جرائم میں برابر کا شریک بناتی ہے۔ دوسری طرف مسلم ممالک اور ان کے اتحاد بھی عملی طور پر غیر مؤثر ہیں، اور ان کی نام نہاد یکجہتی کا کوئی اثر نہیں ۔ کشمیر کا مسئلہ صرف کشمیری عوام کی خود مختاری“ کے ذریعے حل ہو سکتا ہے، نہ کہ محض مذاکرات، تقاریر، یا ہمدردی کے ذریعے۔
References:
World Time Book for the International Relations Third edition
Pakistan Affairs book by jwst second edition
The Economy Weekly (UN failure on Kashmir)
https://asia.nikkei.com/Politics/Kashmir-turmoil/Kashmir-conflict-takes-toll-on-India-and-Pakistan-economies
The draft resolutions(numbering from B9-0077/2020to B9-

