انگریزی سے ترجمہ : اجمل کمال

ہندوستان کے پہلے مغل فرماں روا ظہیر الدین محمد بابر (۱۵۳۰ – ۱۴۸۳ء) کی خود نوشت سوانحبا برنامه ازمنہ وسطی کی دنیا کی ایک حیران کن یادگار ہے۔ یہ دنیا کی ان گفتی کی ادبی تحریروں میں سے ایک ہے جنھیں اپنے زمرے کی واحد تحریر قرار دیا جا سکتا ہے: ایک ایسی تحریر جس کے لیے نہ تو پہلے سے کوئی نمونہ موجود تھا اور نہ جس کی بعد میں آنے والوں نے پیروی کی۔

مغربی روایت میں جنگی یادداشتوں کا نسبی سلسلہ بہت پیچھے زمینوفون (Xenophon) اور جولیس سیز رسے جاملتا ہے۔ بابر کو ایسا کوئی پیش رو دستیاب نہ تھا۔ بلاشبہ، جیسا کہ بابر نامہ کے تازہ ترین مترجم ویرایم ٹیکسٹن نے کہا ہے، بابر کی یادداشتیں اسلامی ادب میں خود نوشت سوان کی اولین اور مقابلتا حالیہ ادوار تک، واحد مثال کی حیثیت رکھتی ہیں ۔ دوسرے لفظوں میں، اپنی داستان حیات تحریر کرنے کا ارادہ کر کے بابر نے ایک ایسا کام کیا جو معدودے چنداد یبوں کے حصے میں آتا ہے۔ اس نے گویا ایک بغیر کے کپڑے سے ایک نئی وضع ایجاد کی۔ اس اعتبار سے اس کے حقیقی ادبی ہم سروں میں لیڈی موراسا کی اور سروانتیز جیسی عہد ساز شخصیات شامل ہیں ۔ تاہم، بابر ایک عظیم سلطنت کا بانی بھی تھا۔ دوسرے لفظوں میں وہ بیک وقت پیزارو (Pisarro) اور سر وانتیز تھا۔ اسے کس چیز نے اس وسیع کتاب ( اصل ترکی مسودہ ۳۸۲ فولیو صفحات پر مشتمل ہے ) کے لکھنے پر اکسایا ؟ اور اسے اس کام کے لیے وقت کیوں کر دستیاب ہوا؟ ان لمحات کے درمیان جب اس نے ، بارہ برس کی عمر میں ، اپنی پہلی اقلیم حاصل کی ، اور جب، اس کے پینتیس برس بعد ، وہ اس دنیا سے رخصت ہوا، بابر کی زندگی میں مشکل ہی سے کسی پر سکون دن کا سراغ ملتا ہے۔ صرف اس کی پہلی اقلیم ایسی تھی جسے حاصل کرنے میں اسے اپنی جان خطرے میں نہیں ڈالنی پڑی اسے اس نے اپنے باپ کے ترکے میں حاصل کیا تھا، جو ایک ایسی شاہی نسل کا رکن تھا جس میں اقلیموں کی تعداد فرماں روائی کے خواہش مندوں کے مقابلے میں کہیں کم تھی۔ بابر نے اپنے باپ کا تذکرہ سیدھے حقیقت پسندانہ انداز میں کیا ہے : ” وہ پستہ قد گول داڑھی اور پر گوشت چہرے والا تھا، اور موٹا تھا۔ شراب بہت پیتا تھا۔ زندگی کے آخری حصے میں وہ ہفتے میں ایک یا دو بار شراب کی محفل بر پا کرتا مجلس میں اس کی صحبت مسرت کا باعث تھی اور وہ اپنے ہم نشینوں کو شاعری سنا یا کرتا تھا۔ وہ معجون کا بہت شائق ہو گیا تھا اور اس کے نشے میں اپنے حواس کھو بیٹھتا تھا۔ وہ جھگڑالو مزاج رکھتا تھا جس کی شہادت اس کے جسم پر جا بجاز زخموں اور چوٹوں کے نشانات سے ملتی تھی۔“

بابر کا باپ، عمر شیخ مرزا، ایک مثالی باپ نہ بھی سہی، اپنے خاندان کے دیگر افراد کی نسبت سے اسے نرم خوئی کا نمونہ سمجھا جا سکتا تھا۔ اپنے باپ کی موت کی خبر سن کر جو کم و بیش پہلا خیال بابر کے دماغ میں گذرا وہ یہ تھا کہ فرار ہو کر پہاڑوں میں جاچھے تا کہ کم از کم قید ہونے سے اور اپنے چاؤں میں سے کسی کے ہاتھوں میں پڑنے سے محفوظ رہے۔ اپنے چچاؤں میں سے ایک کے بارے میں بابر لکھتا ہے : ” وہ دن کی پانچ نمازیں کبھی قضا نہ کرتا تھا، اس وقت بھی نہیں جب وہ شراب پی رہا ہوتا تھا۔ اگر وہ ایک بار پینا شروع کر دیتا تو ہیں یا تمہیں دن تک لگا تار پیتا رہتا لیکن جب ترک کرتا تو اتنے ہی دنوں کے لیے بالکل ترک کر دیتا۔ ایک اور چچا کے بارے میں لکھتا ہے وہ لہو ولعب اور عیش و عشرت کا دلدادہ تھا۔ مسلسل شراب پیا کرتا۔ اس نے متعدد امر در کھے ہوئے تھے اور اپنی اقلیم میں اسے کوئی بھی خوب رو اور بے ریش لڑکا دکھائی دے جاتا تو اسے امرد بنانے کے لیے وہ ہر کوشش کر گزرتا“۔

جیسا کہ پیش گوئی کی جاسکتی تھی، بابر کے چچا اور عم زاد، اس کے تخت سنبھالنے کے کچھ ہی عرصے بعد اس کے محکوم علاقوں پر ٹوٹ پڑے۔ شکست تسلیم نہ کرتے ہوئے بابر نے جوابی حملہ کیا۔ تیرہ برس کی عمر میں اس نے ایک لشکر کی کمان کرتے ہوئے سمرقند پر حملہ کیا جہاں اس کے متعد دعم زاد اور دور کے رشتے دار، اپنے ایک اور رشتے دار کی غیر موجودگی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے، قابض تھے، اور اس افسانوی شہر کا محاصرہ کر لیا۔

سات مہینے کے محاصرے کے بعد بابر نے سمرقند کے حکمران کا تاج پہننے میں کامیابی حاصل کر لی۔ شہر پر اس کی حکمرانی کا عرصہ سو دن سے زیادہ پر محیط نہ ہوا لیکن فتح کا یہ لمحہ کئی اعتبار سے باہر کی زندگی کا رخ متعین کرنے والا تھا۔ آخر کار حتمی اور فیصلہ کن طور پر جنوب کی طرف دھکیل دیے جانے سے پہلے اسے سمرقند کو کئی بار فتح کرنا اور اتنی ہی بارا سے ہاتھ سے دینا تھا۔ لیکن اپنی زندگی کے آخری لمحے تک، جبکہ وہ ایک ایسی اقلیم فتح کر چکا تھا جو ان علاقوں سے کہیں زیادہ وسیع کہیں زیادہ مال دار اور کہیں زیادہ امکانات سے پر تھی جن ن سے اسے محروم کیا گیا تھا، وہ اس کھوئے ہوئے شہر کو یاد کرتا رہا: سمرقند بابر کے نزدیک تہذیب کی معراج ، دنیا کے تمدن کا مرکز ، اور ثقافت کا سر چشمہ تھا۔ اس نے ہندوستان کے ایک خاصے بڑے حصے پر قبضہ کیا ، اور یہ وہ سرزمین تھی جس کے خزانوں نے یوروپ میں مہم جوئی کے عہد کا آغاز کیا تھا۔ لیکن اسے در حقیقت سمرقند ہی کی آرزو رہی۔ سمرقند سے بابر کا تعلق ، سب سے اول، خاندانی نوعیت کا تھا۔ اس کے جد اعلیٰ امیر تیمور نے سمرقند کو ایک سلطنت کا صدر مقام بنایا تھا اور اسے فنون اور ادب کے ایک عظیم مرکز کی حیثیت بخشی تھی۔ بابر کے لیے، اور اس کے بے شمار تیموری چچاؤں اور عم زادوں کے لیے بھی سمرقند پر غلبہ پانا اپنے پر شوکت سلف کی جانشینی کا جواز حاصل کرنے کے برابر تھا۔

سلطنتیں اور اقلیمیں فتح کرنا بابر کے خاندانی ورثے میں شامل تھا۔ وہ اپنے نسب کو صرف تیمور سے نہیں بلکہ اس سے بھی پیچھے لے جا کر چنگیز خان سے ملاتا تھا۔ اقلیم کی تلاش میں اس کی نو عمری کی مہمات کا اصل منبع آبادیوں اور ثقافتوں کے تہہ و بالا ہونے کے اس عمل میں پوشیدہ تھا جو چنگیز خان کی تیرھویں صدی کی فتوحات سے پیدا ہوا تھا۔

چنگیز خان کے اخلاف نے مختلف معاشرتوں اور ثقافتوں میں خود کو ڈھال لینے کی غیر معمولی صلاحیت اس سے ورثے میں پائی تھی۔ اپنی عمر کے دورانیے میں یہ عمر رسیدہ شخص چینی معاشرت میں روز افزوں طور پر جذب ہوتا چلا گیا تھا اور اسے بدھ مت اور کنفیوشس مت سے دلچسپی پیدا ہوگئی تھی۔ مغربی ایشیا کی ثقافت اور روایات سے اسے کم ہی تعلق تھا: بلا شبہ ان خطوں کے مسلمان اور مسیحی باشندوں کا سابقہ اس سے زیادہ پر عزم دشمن سے کبھی نہیں پڑا۔ اس کے باوجود محض چند نسلوں کے عرصے میں چنگیز خان کے اخلاف نے اپنی مفتوحہ سرزمینوں کا تہذیبی اور مذہبی اثر قبول کر لیا (اگر چہ لسانی اثر قبول نہ کیا ) ۔ اس کا ایک پوتا قبلائی خان چین کے تخت پر متمکن ہوا اور کنفیوشس کے نظام میں بنیادی حیثیت حاصل کر لی ، جبکہ دوسرا پوتا فارس کا سلطان اور ایک پر جوش اور راسخ العقیدہ مسلمان بنا۔ بابر کا تعلق چنگیز خان کے منجھلے بیٹے چغتائی کی شاخ سے تھا۔ جب چنگیز خان کی مفتوحہ دنیاؤں کے اس کے پسماندگان میں تقسیم کرنے کا وقت آیا تو چغتائی کو وسط ایشیا کے علاقے حاصل ہوئے جہاں کا بڑا مذہب اسلام اور جہاں کی ثقافتی زبان فارسی تھی۔ چغتائی کا ورثہ بہت جلد ایک دوسرے سے متحارب چھوٹی چھوٹی ریاستوں میں بٹ گیا، لیکن اس نے اپنا نام نہ صرف ایک اقلیم کو بلکہ ایک نسل اور ایک زبان کو بخشا۔ مشرقی ترکی ، اور یہی وہ زبان تھی جس کے عظیم ترین ادبی ترجمان کی حیثیت بابر کو حاصل ہونے والی تھی۔

وسط ایشیا کو ایک بار پھر کچھ عرصے کے لیے امیر تیمور نے متحد کیا، جو خاندان سے باہر کا ایک غاصب فاتح تھا لیکن اس نے سیاسی حکمت عملی کے تحت ایک چنگیزی شہزادی سے شادی کر کے خان اعظم کے خاندان سے وابستگی حاصل کر لی تھی۔ تاہم اس کے اخلاف، ازمنہ وسطی کے شہزادوں کے سلطانی انتہاک کے ساتھ ، ایک دوسرے سے نبرد آزما ہو گئے ۔ بابر کی پیدائش کے وقت تک وسط ایشیا کی وادیاں اور سرسبز میدان ایسے تیموری شہزادوں سے اٹ چکے تھے جو حکمرانی کے لیے اقلیموں کی تلاش میں پھر رہے تھے۔ تیمور اور چنگیز سے نسبی تعلق میں نہ جانے کیسا جادو تھا کہ اسے اپنانے والا کوئی بھی شخص تاج حاصل کرنے کے حق سے کبھی دستبردار نہ ہوا۔ بارہ برس کی عمر کے بعد سے بابر (اپنے بے شمار چچاؤں اور عم زادوں کی طرح ) اپنے اس یقین میں راسخ تھا کہ اسے حکمرانی کے لیے پیدا کیا گیا ہے۔ حکمرانی ایک لحاظ سے ایک پیشہ یا شغف تھا، ایک ایسا کام جس کے سوا وہ کوئی اور کام نہ جانتا تھا اور نہ کرنے کا تصور کر سکتا تھا۔ ایسے موقعوں پر بھی جب اس کے پاس اس کے گھوڑے اور تن کے کپڑوں کے سوا کچھ نہ تھا، اسے اور اس کے مختصر سے لشکر کے ارکان کو اس بات کا پورا یقین تھا کہ کہیں نہ کہیں ایک اقلیم اسے حاصل ہو جائے گی ، اس علاقے میں نہیں تو اگلے علاقے میں۔ اس طرح نیم تذبذب کے عالم میں باہر پسپا ہوتا ہوا مشرقی افغانستان اور وہاں سے، بالآخر شمالی ہندوستان میں وارد ہوا۔ یہ اس کی مرضی کی اقلیمیں نہ تھیں لیکن ایک بے روزگار بادشاہ ہونے کی حالت سے بہر حال بہتر تھیں ۔

اقلیم کی تلاش میں گزارے ہوئے اپنے اولین برسوں میں بابر کی درماندگی کا سبب شیبانی خان نامی ایک از یک شخص تھا جس سے باہر کے خاندان کی دشمنی نسل در نسل چلی آتی تھی۔ یہ چنگیزی فتوحات کا شاخسانہ تھا جن میں اس کی افواج نے از بک اور دیگر ترک مغل قبیلوں کو در بدر ہو کر جنوب اور مغرب کی سمتوں میں پناہ لینے پر مجبور کر دیا تھا؛ چناں چہ بابر اور اس کے عم زادوں کو اب انھی قبائل کا سامنا تھا جنھوں نے اب اپنا مقدر تراشنے کی ٹھان لی تھی۔ چیری چننے والے کی سی محتاط مشاقی سے شیبانی خان نے بابر اور اس کے ساتھی تیمور زادوں کو ایک ایک کر کے چنا اور انھیں گھیر کر اپنے مقابل لے آیا ۔ تقریباً ایک سو چالیس سال تک سمرقند ہمارے خاندان کے پاس رہا تھا، باب لکھتا ہے۔ پھر از بک ، خارجی دشمن ، نہ جانے کہاں سے آئے اور سمرقند پر قابض ہو گئے ۔ بابران واقعات میں اس درجہ الجھا ہوا تھا کہ بلاشبہ اسے اس بات کا احساس نہ ہو سکتا تھا لیکن وسط ایشیا میں مہاجرتوں کے اس صدیوں طویل عمل میں قبضے اور بے دخلی ، قوموں یا خانوادوں کے عروج اور زوال سمرقند اور بخارا، غزنی اور ہرات جیسے شہری مراکز کے آباد ہونے اور اجڑنے کے عظیم تاریخی عمل میں متعدد حیران کن تر تمہیں موجود تھیں۔ ان میں سے بعض تر تمہیں خود بابر کی اپنی زندگی میں بھی در آئی تھیں۔ جس انداز میں شیبانی خان از یک بابر کو گھیر کر لا رہا تھا، بالکل اس انداز میں کبھی چنگیز خان نے ایک اور جنگ آزما شاعر کا تعاقب کیا تھا، اور یہ وہ شخص تھا جس کی زندگی شاید بابر کی زندگی سے بھی زیادہ پر ماجر تھی۔ خان اعظم کے اس ہدف کا نام جلال الدین تھا اور وہ وسط ایشیا کے خطے میں بحیرہ خزر (کیسپین ) سے بحیرہ ارال تک پھیلی ہوئی خوارزم کی عظیم سلطنت کا ولی عہد تھا۔ چنگیز خان کو شاہ خوارزم سے خاص عداوت تھی اور اس سلطنت پر قابض ہونے کے بعد اس نے اپنے تیز رفتار ترین سواروں کا ایک دستہ شاہی خاندان کو گرفتار کرنے کی غرض سے روانہ کیا۔ فرار کے ایک واقعے میں، جسے دنیا کی محیر العقول ترین فراری مہمات میں گنا جانا چاہیے، چودہ سالہ جلال الدین ، بغیر رکے چالیس دن تک گھوڑے پر سفر کرتا رہا اور ایران اور افغانستان کے ریگستانوں، سرسبز میدانوں اور پہاڑوں میں چکر کا ٹتا ہوا کسی نہ کسی طرح عظیم مغل جنرل جے خان سے ، جسے خود اپنے شہسواروں پر مشتمل خاندان میں تیز” کے لقب سے یاد کیا جاتا تھا ، آگے آگے رہا۔ جے خان آخر کار جلال الدین کو گھیر کر ایک ایسے مقام تک لے آیا جہاں سے فرار ہونا قطعی ناممکن معلوم ہوتا تھا: یہ مقام بالائی دریائے سندھ پر واقع ایک درہ تھا۔ لیکن یہاں بھی جلال الدین جسے خان کو چکما دینے میں کامیاب رہا: اس نے اپنے گھوڑے کو چٹان پر سے چھلانگ لگوائی اور سوفٹ نیچے دریا میں گرا دیا ۔ کہا جاتا ہے کہ اس پر چنگیز خان نے اپنے دستے کو واپس بلا کر نیچے ریلے میں تیرتے ہوئے نو عمر شہزادے کی طرف اشارہ کیا۔

وہ چنگیز خان نے کہا : ” ایک بہادر شخص جا رہا ہے ۔ اپنی نسل میں پیدا ہونے والے بابر کے لیے بھی وہ اس سے کم رتبے کے الفاظ کا انتخاب نہ کرتا: بابر اگر بہادر نہ تھا تو کچھ نہ تھا۔ بابر نامہ میں ایک مقام پر وہ سو آدمیوں کا تقریبا تن تنہا مقابلہ کرتا ہے۔ ”سلطان احمد تنبل تقریباً سو آدمیوں کے ساتھ مضبوطی سے جما کھڑا تھا اور چیخ کر کہہ رہا تھا، جملہ کرو! حملہ کرو!… اس موقعے پر میرے ساتھ صرف تین افراد رہ گئے تھے۔… میں نے ایک تیر چلا یا جو اپنی انگشتری میں چھپا رکھا تھا ۔… جب میں نے ایک اور تیر چڑھا لیا تو آگے بڑھ آیا۔ میرے تینوں ساتھی پیچھے رہ گئے ۔ ایسے لحات بھی آتے ہیں جب اسے خاتمے کی جھلک دکھائی دیتی ہے۔ اپنے ایک سابق معتمد کے ہاتھوں ایک جال میں پھننے کے بعد، وہ لکھتا ہے، اچانک مجھے بہت عجیب سا احساس ہوا۔ دنیا میں اپنی جان کے خوف سے بدتر کوئی شے نہیں … مجھے محسوس ہوا کہ میں اب مزید برداشت نہیں کر سکتا۔ میں اٹھا اور باغ کے ایک کونے میں چلا گیا۔ میں نے خود سے خیال کیا کہ خواہ آدمی سو سال زندہ رہے یا ہزار سال ، آخر کار اسے مرنا ہی ہوتا ہے۔ … میں نے خود کو مرنے کے لیے تیار کر لیا۔ چند لمحے بعد کمک آ پہنچی۔

بعض اوقات وہ مایوسی کا شکار ہوتا ہے۔ اس کا انیسواں برس خاصا دشوار ثابت ہوا ۔ تاشقند میں اس مدت کے دوران مجھے بہت دشواریاں اور مصائب برداشت کرنے پڑے۔ حکمرانی کے لیے میرے پاس کوئی اقلیم ہی تھی اور نہ ہاتھ آنے کی امید ہی تھی۔ میرے بیشتر ساتھی امرار خصت ہو چکے تھے ۔ جو چند ایک رہ گئے تھے وہ اتنے خستہ حال تھے کہ میرے ساتھ چل نہ سکتے تھے ۔… آخر کار میں بے گھری اور بیگانگی سے بالکل تنگ آگیا۔ میں نے خود سے کہا ، اگر مجھے ایسی ہی دشواریاں جھیلنی ہیں تو میں اکیلا ہی اس وقت تک چلتا رہوں گا جب تک میری زندگی باقی ہے، اور چلتے چلتے دنیا کے آخری کونے میں چلا جاؤں گا لیکن آخر کار اس نے خود کو حکمرانی کے لیے ایک اقلیم کی تلاش کے دشوار کام پر آمادہ کر لیا۔ ” جب آدمی حکمرانی کی طلب اور فتح کی خواہش رکھتا ہو ، تو وہ خاموش بیٹھ کر واقعات کو رونما ہوتے دیکھنے پر قانع نہیں رہ سکتا۔

بالآخر اس کا عزم شمر لایا ۔ ۱۵۰۴ء میں، اپنی زندگی کے تیئیسویں سال کے آغاز پر جب اس نے اپنے چہرے پر پہلی بار استرا پھیرا جنوب کی سمت بڑھتے ہوے، جبکہ از بک مسلسل اس کے تعاقب میں تھے، وہ کابل کی طرف جا نکلا۔ وہاں اسے کسی خاص مزاحمت کا سامنا نہ کرنا پڑا اور اس نے کابل پر قبضہ کر کے بادشاہ بننے کا فیصلہ کیا۔

اس کی یہ نی اقلیم ایک حیران کن جگہ تھی ۔ ”کابل کے صوبے میں گیارہ یا بارہ بولیاں بولی جاتی ہیں: عربی ، فارسی ، ترکی مغولی ، ہندی معلوم نہیں کسی اور صوبے میں بھی اتنی مختلف قو میں اور زبانیں موجود ہوں گی یا نہیں“ ۔

آہستہ آہستہ لیکن ناگزیر طور پر، اس کی توجہ پہاڑوں کے دوسری طرف واقع وسیع و عریض بر صغیر کی طرف مبذول ہوئی ۔ چار راستے ہندوستان سے ( کابل کی طرف ) نکلتے ہیں، اس نے قیاس آرائی کے سے انداز میں لکھا۔

لیکن کچھ وقت کے لیے اس نے اپنی نئی اقلیم کی حکمرانی پر اکتفا کیا ، اور گذشتہ دس برس کے عرصے میں پہلی بار سکون سے بیٹھا۔

اپنی ان تمام مہمات کے دوران بابر نے لکھنا جاری رکھا؛ وہ بیشتر شاعری کیا کرتا حتی کہ تعاقب کرتے ہوے ازبکوں سے بچ نکلتے ہوئے بھی اس نے ایک چشمے کے پاس کی چٹان پر ایک شعر کھود کر لکھنے کی مہلت نکال لی۔

ہم میں سے کتنوں نے اس چشمے کے کنارے باتیں کیں ، مگر چشم زدن میں دنیا سے رخصت ہو گئے۔

ہم نے دنیا کو بہادری سے فتح کیا لیکن اسے اپنے ساتھ قبر میں نہ لے جاسکے ۔ یہ بات ہمارے اپنے زمانے پر ایک تبصرہ ہے کہ ہمیں یہ بات عجیب نہیں تو غیر متوقع ضرور معلوم ہوتی ہے کہ ایک جنگ آزما اور سیاست کا راپنی توجہ شعر گوئی اور عروض کے نازک سوالات کی طرف مبذول کرے۔ لیکن بابر کا تعلق ان حکمرانوں کے طویل سلسلے سے تھا جو ادبی ذوق رکھتے تھے : فارسی ادب کے بعض عظیم ترین نمونوں کی تخلیق اس کے جد اعلیٰ امیر تیور کے دربار میں ہوئی تھی۔ لیکن اس کے اجداد کی ادبی سرگرمی محض سخن فہمی ، فنون کی سر پرستی، اور بعض مثالوں میں ایک آدھ دیوان کی تصنیف تک محدود رہی تھی۔ بابر نے شاعری کے کنی دیوان تحریر کیے لیکن انوکھی بات یہ تھی کہ اس نے نثر کی بھی ایک طویل کتاب تصنیف کی ۔ اور مزید یہ کہ اس نے یہ کتاب اپنے دربار کی ادبی زبان فارسی میں نہیں بلکہ اپنے خاندان کی بات چیت کی زبان چغتائی ترکی میں لکھی۔

با برنامہ کو پڑھنے والا متواتر خود سے یہ سوال کرتا رہتا ہے کہ آخر بابر کی حیثیت کے شخص کو کس بات نے اپنی یادداشتیں قلم بند کرنے پر اکسایا ہوگا۔ تاریخی طور پر خود نوشت سوانح ایسی صنف نہ تھی جس نے ایشیا کے براعظم میں ، خصوصاً وسط ایشیا کے خطے میں جہاں بابر کی شخصیت کی جڑیں قائم تھیں، رواج پایا ہو ۔ جہاں تک برصغیر ہندوستان کا تعلق ہے، مجھے انیسویں صدی سے پہلے لکھی گئی صرف ایک اس قسم کی تحریر کا علم ہے، اور وہ ایک تاجر کی زندگی کے مختصر احوال پر مشتمل تھی۔ بابر اپنے محرکات کو بیان کرنے کے سب سے زیادہ نزدیک اس مقام پر آتا ہے جہاں وہ لکھتا ہے : ” میں نے صرف حقائق لکھے ہیں۔ اس سے میرا مقصد اپنی تحسین کرنا نہیں : میں نے صرف واقعات کو بیان کیا ہے۔ میں نے اس تاریخ میں ہر شے کی اصلیت کے سوا کچھ تحریر نہ کرنے کا ارادہ کیا ہے، اس لیے میں نے ہر آشنا اور اجنبی کی ، اپنے باپ اور بھائی تک کی ، اچھی بری باتیں بے کم و کاست لکھ دی ہیں ۔ اس تحریر کا پڑھنے والا اور اسے سننے والا اس کے لیے مجھے معاف کرے ۔“

لیکن اس سے بھی زیادہ حقیقت کے قریب وہ اپنی اس غزل میں پہنچتا ہے جو اس نے اٹھارہ برس کی عمر میں کہی تھی ۔ اپنی روح کے سوا مجھے کوئی وفادار دوست نہ ملا۔ اپنے دل کے سوا میں اپنار از کسی اور سے نہ کہ ہر کا۔

ممکن ہے تنہائی ، یا بلکہ علیحدگی ، کے اس احساس ہی کی وجہ سے بابر نے اپنی زندگی کے بارے میں اپنے تاثرات رقم کرنے کا ارادہ کیا ہو۔ اور غالباً اس عمل کی انتہائی ذاتی نوعیت ہی کے سبب سے بابر نے اس تحریر کے لیے فارسی کے بجاے، جو اس کے حلقے میں عموماً استعمال ہوتی تھی ، اپنی گھر یلو زبان ترکی کا انتخاب کیا ہو۔

نتیجے کے طور پر جو یادداشتیں سامنے آئیں ان میں سلطنت کے معاملات اور جنگوں میں شکست و فتحکا ذکر درباری وقائع نگاری کے انداز میں بالکل نہیں ملتا ۔ نفسیات کے میدان میں ذات کی دریافت سے صدیوں پہلے لکھا جانے والا با برنامه حیران کن طور پر دریافت ذات کا بیانیہ ہے۔ اس کا لہجہ ایسا ہے جیسے لکھنے والا الا پڑھنے والے کو اپنے کسی نہایت ذاتی راز میں شریک کر رہا ہو اور وہ متحیر ہو کر اسے پڑھتا چلا جائے اور انکشاف ذات کے معاملے میں وہ بیسویں صدی کے اواخر میں لکھے گئے کسی اعترافی خود نوشت سوانحی بیانیے سے کسی طرح پیچھے نہیں۔ بابر نے اپنی پہلی شادی پر محسوس ہونے والے جنسی تذبذب کے حال کو بھی نظر انداز نہیں کیا۔ ( یہ میری پہلی شادی تھی اس لیے میں شرماتا تھا اور اس کے پاس دس پندرہ یا ہیں دن میں ایک بار سے زیادہ نہ جاتا ) ؛ اس نے بلوغت کے زمانے میں ایک لڑکے پر عاشق ہو جانے کا حال بھی بڑے غنائیہ انداز میں تحریر کیا ہے اس تجربے سے پہلے میں نے کسی کے لیے اپنے دل میں اتنی شدید آرزو محسوس نہیں کی تھی ، اور نہ میں نے عشق و محبت اور اس قسم کی چیزوں کے بارے میں باتیں اس نتیجے کے طور پر جو یادداشتیں سامنے آئیں ان میں سلطنت کے معاملات اور جنگوں میں شکست و فتحکا ذکر درباری وقائع نگاری کے انداز میں بالکل نہیں ملتا ۔ نفسیات کے میدان میں ذات کی دریافت سے صدیوں پہلے لکھا جانے والا با برنامه حیران کن طور پر دریافت ذات کا بیانیہ ہے۔ اس کا لہجہ ایسا ہے جیسے لکھنے والا الا پڑھنے والے کو اپنے کسی نہایت ذاتی راز میں شریک کر رہا ہو اور وہ متحیر ہو کر اسے پڑھتا چلا جائے اور انکشاف ذات کے معاملے میں وہ بیسویں صدی کے اواخر میں لکھے گئے کسی اعترافی خود نوشت سوانحی بیانیے سے کسی طرح پیچھے نہیں۔ بابر نے اپنی پہلی شادی پر محسوس ہونے والے جنسی تذبذب کے حال کو بھی نظر انداز نہیں کیا۔ ( یہ میری پہلی شادی تھی اس لیے میں شرماتا تھا اور اس کے پاس دس پندرہ یا ہیں دن میں ایک بار سے زیادہ نہ جاتا ) ؛ اس نے بلوغت کے زمانے میں ایک لڑکے پر عاشق ہو جانے کا حال بھی بڑے غنائیہ انداز میں تحریر کیا ہے اس تجربے سے پہلے میں نے کسی کے لیے اپنے دل میں اتنی شدید آرزو محسوس نہیں کی تھی ، اور نہ میں نے عشق و محبت اور اس قسم کی چیزوں کے بارے میں باتیں اس

بابر نامہ میں جن عورتوں کا تذکرہ ہے وہ مضبوط ، پر عزم اور آزاد ہیں اور سیاسی اور ذاتی معاملات میں اپنے ارادوں کا اظہار کرنے میں کسی ہچکچاہٹ سے کام نہیں لیتیں ۔ ہم اسے بعض نازک موقعوں پر مشورے کے لیے زنان خانے میں جاتا دیکھتے ہیں ؟ ایک خطا کار بیوہ خالہ کا ذکر پڑھتے ہیں جس نے اپنے بیٹے کی سلطنت اُس دہشت انگیز از یک شیبانی خان کے حوالے کر دی تھی ، اس امید میں کہ اسے اس کی محبت حاصل ہو جائے گی ۔ (شوہر حاصل کرنے کی ہوس میں وہ بد بخت ، کم عقل عورت اپنے ہے بیٹے کے سر بلا لے آئی ) ، اور ایک اور خالہ یا چیپسی کا تذکرہ آتا ہے جسے شراب پینے کا شوق ہو گیا تھا اور جو اس قدر تحکمانہ مزاج رکھتی تھی کہ اس کا شوہر اپنی دوسری بیویوں کے قریب جانے کی ہمت نہ کرتا تھا؛ ہمیں ایسے طاقتور شہزادے ملتے ہیں جن کی بلند عزائم رکھنے والی داشتا میں انھیں جھٹک کر دور کر دیتی ہیں، ہمیں ایسی عورتوں تک کا ذکر ملتا ہے جو بابر کی توجہ حاصل کرنے کے لیے خود پیش قدمی کرتی ہیں۔ ہمارے دور کے مسلمان بنیاد پرستوں کے لیے، جو افغانستان کو ایک خیالی ماضی میں پہنچا دینا چاہتے ہیں جہاں عورتیں گھر سے باہر قدم نہیں نکالتیں، بابر نامہ کا مطالعہ بہت مفید ہو گا : اس سے ان کو معلوم ہوگا کہ از منہ وسطی کی تہذیب ویسی نہیں تھی جیسا وہ اپنے تصور میں اسے سمجھتے ہیں۔

بابر کی صاف گوئی اپنے عروج پر وہاں دکھائی دیتی ہے جہاں وہ اپنی شراب نوشی کی زندگی کا تذکرہ کرتا ہے۔ اگر چہ اس کے آبا و اجداد شراب نوشی کے نہایت شائق اور عادی رہے تھے، بابر نے انتیس سال کی عمر سے پہلے شراب کو ہاتھ نہ لگایا۔ لڑکپن میں مجھے شراب سے بالکل رغبت نہ تھی ، کیونکہ میں اس کی لذت سے واقف نہ تھا۔ بعض موقعوں پر میرے باپ نے مجھے پینے کی دعوت دی لیکن میں نے کوئی نہ کوئی بہانہ کر دیا۔ باپ کے مرنے کے بعد میں تمام لذتوں سے محتر زرہا … بعد میں جوانی کی امنگوں اور روحعیش کے اکسانے پر جب مجھے شراب سے رغبت پیدا ہوئی تو کوئی مجھے دعوت نہ دیتا تھا، کیونکہ سب سمجھتے تھے کہ مجھے اس سے قطعی دلچسپی نہیں ۔

پھر جنوب مغربی افغانستان کے ہرات شہر میں امرا کی جانب سے بر پا کی گئی ایک ضیافت کے دوران اسے شراب پیش کی گئی ۔ بابر لکھتا ہے ، مجھے خیال آیا کہ یہ لوگ اس قدر اصرار کر رہے ہیں، اور یہ ہرات شہر ہے جہاں عیش و عشرت کے سب سامان مہیا ہیں ، اگر میں نے اب بھی نہ پی تو کب پیوں گا ؟ اپنے ذہن میں اس طرح غور و فکر کرنے کے بعد میں نے جام اٹھانے کا فیصلہ کیا۔ یہ شراب نوشی سے بابر کی ہیں سال طویل آشنائی کا آغاز تھا۔ افغانستان میں اپنے قیام کا بیشتر حصہ بابر نے شراب اور معجون سے دل بہلانے میں بسر کیا۔ افغان بنیاد پرستی کو آپ اس پر قیاس کر سکتے ہیں۔ بابر نے کابل کے قیام کے برسوں میں ہونے والی ضیافتوں کا نہایت تفصیلی نقشہ کھینچا ہے۔ دو پہر کو ہم سب سوار ہو کر سیر کو نکلے۔ کشتی کہ میں بیٹھے اور شراب سے لطف اندوز ہوئے .. ہم کشتی میں بیٹھے رات گئے تک شراب پیتے رہے، پھر سخت نشے کے عالم میں کشتی سے اتر کر گھوڑوں پر سوار ہوے۔ میں نے ایک مشعل اپنے ہاتھ میں لی اور دائیں بائیں جھولتا اور گھوڑے کو دریا کے کنارے بگٹٹ دوڑاتا ہوالشکر گاہ تک واپس آیا۔ میں نشے کے باعث ہر چیز سے بے خبر تھا۔ اگلے روز صبح مجھے بتایا گیا کہ میں مشکل ہاتھ میں لیے گھوڑا دوڑاتا ہوا لشکر گاہ میں پہنچا تھا۔ مجھے سوائے اس کے کچھ یاد نہ تھا کہ میں نے اپنے خیمے میں پہنچنے کے بعد کئی بار الٹیاں کی تھیں ۔ اور یہ معاملات اس طرح پر قائم رہے یہاں تک کہ اس نے ہندوستان پر اپنا پانچواں اور آخری حملہ کیا۔ اس مہم کے آغاز پر ، فیصلہ کن جنگ سے ذرا پہلے، بابر نے شراب نوشی ترک کرنے کا بر سر عام اعلان کیا۔ اس کے لشکر میں موجود شراب کے ذخیرے ریت میں لنڈھا دیے گئے ، اور خود اس نے اپنے بیش قیمت سنہری اور نقرئی جام و سبو توڑ ڈالے اور ان کے ٹکڑے غریبوں میں بانٹ دیے۔ تین ہفتے بعد وہ اپنی فوج کی کمان کرتا ہوا شمالی ہند میں اس وقت کے طاقتور ترین راجپوت فرماں روارانا سنگرام سنگھ کی عظیم فوج سے مقابلے کے لیے میدان میں اترا۔ اس جنگ میں بابر کی فتح ہوئی۔ ترک شراب کے عزم پر قائم رہنا بابر کے لیے آسان ثابت نہ ہوا ، حالانکہ اس نے خود کو بہلانے کے لیے معجون کا استعمال بڑھا دیا تھا۔ ہر شخص شراب نوشی پر شرمسار ہو کر تو بہ کرتا ہے، بابر نے لکھا۔ میں تو بہ کر بیٹھا اور اب اس پر شرمسار ہوں۔“

لیکن بابر اپنی تو بہ پر قائم رہا: اس نے پھر کبھی شراب کو ہاتھ نہ لگایا۔ کابل میں بسر کیے ہوئے دو عشروں کے دوران میں بابر ہندوستان پر اس سے پہلے چار بار یورش کر چکا تھا۔ اس کی پانچویں اور آخری مہم اکتوبر ۱۵۲۵ء میں شروع ہوئی ۔ اس کا آغاز اس کی مخصوص بے پروائی سے ہوا تھا : ” ہم بیشتر وقت پیتے رہتے اور صبح کے وقت خمار میں مبتلا ہوتے ۔ پیش قدمی کے دوران بابر اور اس کے امرا شعر کہتے بخش لطائف جمع کرتے ، اور کہیں کہیں گینڈوں کا تعاقب کرتے ۔ دہلی اس وقت لودھی سلطنت کے قبضے میں تھا۔ لودھی سلطانوں کا خاندان افغان مسلمانوں پر مشتمل تھا جنھوں نے اس شہر کے تعمیری ورثے میں بیش بہا اضافہ کیا تھا۔ ان کی یاد آج بھی نئی دہلی کے لودھی باغ کی شکل میں موجود ہے، جو دنیا کے خوشگوار ترین شہری باغات میں شامل ہے۔ اپنے داخلی مناقشوں کے باوجود لودھیوں نے بابر کی بارہ ہزار کی مختصر سپاہ کے مقابلے کے لیے ایک لاکھ سپاہیوں اور ایک ہزار ہاتھیوں پر مشتمل فوج جمع کر لی۔ دونوں فوجیں ۲۰ اپریل ۱۵۲۶ء کے دن دہلی سے چند میل شمال کی جانب واقع پانی پت کے تاریخی میدان میں اتریں۔ عددی فرق کے باوجود بابر نے لودھی سلطان کو شکست دے کر دہلی پر قبضہ کر لیا۔ اگلے سال رانا سانگھا کے راجپوت اتحاد کی شکست کے بعد شمالی ہندوستان پر بابر کا اقتدار متحکم ہو گیا۔ اگر چہ شورشیں وقفے وقفے سے سر اٹھاتی رہیں اور چھوٹی موٹی جنگوں کا سلسلہ جاری رہا لیکن بابر بیشتر وقت مال غنیمت کو اپنے ساتھیوں اور سپاہیوں میں تقسیم کرنے اور اپنی نئی اقلیم کے بارے میں تفصیلی اندراجات کرنے میں مشغول رہا۔ اپنے مخصوص تجس کے ساتھ اس نے شمالی ہند کی طبعی تاریخ کی مفصل دریافتیں رقم کیں اور یہاں کے باشندوں کے اعتقادات اور رسوم کے بارے میں تفصیل سے لکھا۔ اس کی کتاب کے اندراجات سے یہ بات واضح ہے کہ اسے بہت سی ایسی چیزیں نظر آئیں جو اس کے لیے نا پسندیدہ تھیں : موسم بہت زیادہ گرم تھا، یہاں کے پھل اجنبی تھے ، لوگ اس قسم کے تھے جو اس سے پہلے اس کے تجربے میں نہ آئے تھے۔ لیکن جہاں تک لوگوں کا معاملہ ہے، بابر مشکل ہی سے کسی کو پسند کرتا تھا: وہ ایک قبائلی دنیا سے تعلق رکھتا تھا، اور اس کی وفاداری اور افتخار بیشتر اس کے اپنے خاندان اور نسل کے لوگوں کے لیے وقف تھا۔ اس حلقے سے باہر جو لوگ اس کے رابطے میں آئے ۔ افغان ، شیعه، از بک ، ہندوستانی اور دیگر ان میں سے بیشتر کے حق میں اس کی رائے بدگمانی اور ناپسندیدگی پر مبنی تھی۔

بابر نامہ کے آخری صفحات ایک گہرے حزن کے احساس سے مملو معلوم ہوتے ہیں، گویا اسے اس بات کا احساس ہو گیا ہو کہ اپنی نئی سلطنت پر حکمرانی کرنے کا مطلب اس کے لیے اپنے بچپن کی سرزمینوں سے ہمیشہ کی جلا وطنی ہو گا ۔ ( کابل کی جانب ) ہماری پیش قدمی کا مقصد لا محدود اور غیر ختم ہے، اس نے اپنی موت سے ایک سال پہلے اپنے ایک دوست کو لکھا، اُس زمین کی مسرتیں آدمی کے دل سے کیوں کر محو ہو سکتی ہیں ؟ خصوصاً جب کہ شراب کی نعمت بھی میسر نہ ہو، آدمی کس طرح وہاں کے خربوزوں اور انگوروں کی لذتیں فراموش کر سکتا ہے؟ حال ہی میں میرے پاس ایک خربوزہ لایا گیا اور اسے کاٹتے اور کھاتے ہوے میرے دل پر عجب اثر ہوا۔ اسے کھانے کے دوران مسلسل میرے آنسو بہتے رہے۔ بابر کی ہندوستانی فتوحات نے اسے اس بات کا احساس دلا دیا تھا کہ اس کی زندگی کا مقصد پورا ہو چکا ہے : وطن سے جدائی، گزرے وقت کی یاد اور شراب کے ترک نے باہم مل کر اسے زندہ رہنے کی خواہش سے محروم کر دیا تھا۔

بابر کی زندگی کے بارے میں جو قصے مشہور ہیں ان میں سب سے زیادہ حیران کن قصہ اس کی موت کے بارے میں ہے۔ ۱۵۳۰ء میں بابر کا محبوب بیٹا اور ولی عہد ہمایوں سخت بخار میں مبتلا ہو گیا۔ اسے فوراً آگرہ، بابر کے دربار میں ، لایا گیا لیکن شاہی طبیبوں کی تمام تر کوششوں کے باوجود اس کی حالت متواتر بگڑتی گئی۔ سخت مایوسی کے عالم میں بابر نے ایک بزرگ سے صلاح لی جس نے اسے اپنی سب سے عزیز چیز صدقہ کر کے خدا سے اس کے عوض بیٹے کی صحت یابی کی دعا مانگنے کا مشورہ دیا۔ کہا جاتا ہے کہ بابر نے اسے جواب دیا : ” ہمایوں کی ملکیت میں سب سے قیمتی چیز میری جان ہے، سو میں اس کے لیے اپنی جان کی قربانی دوں گا۔ خدا یہ صدقہ قبول کرے۔ بابر کے امرا نے سخت مضطرب ہو کر بابر کو سمجھانے کی کوشش کی کہ بزرگ کی نصیحت کا مطلب یہ تھا کہ وہ دولت ، سونے یا جاگیر کا صدقہ پیش کرے۔ انھوں نے کہا کہ ہمایوں کے پاس ایک بیش قیمت ہیرا ہے جسے فروخت کر کے اس کی رقم کسی غریب کو دی جاسکتی ہے۔

بابر نے یہ مشورہ قبول نہ کیا۔ دنیا وی دولت کی کیا حقیقت ہے، بابر کا جواب یوں نقل کیا جاتا ہے، اور ہمایوں کو اس قربانی سے کیا فائدہ پہنچ سکتا ہے؟ میں خود اپنی جان کی قربانی دوں گا ۔“ اس نے ہمایوں کی چار پائی کے گرد تین چکر لگائے اور خدا سے دعا کی : اے خدا، اگر جان جان کا عوض ہو سکتی ہے تو میں، بابر، ہمایوں کے عوض اپنی جان پیش کرتا ہوں ۔ چند لمحے بعد اس نے پکار کر کہا، ” اس کا مرض جاتا رہا، اس کا مرض جاتا رہا۔“ اور بلاشبہ، اس لمحے سے بابر کی صحت خراب اور ہمایوں کی بیماری رفتہ رفتہ دور ہوتی گئی۔

بابر نے ۲۱ دسمبر ۱۵۳۰ء کو آگرہ کے قریب وفات پائی ۔ ایک ادیب مفکر اور سپاہی کے طور پر بابر کا مقام اپنے ہم عصروں کے مقابلے میں بہت بلند ہے: تاہم ایک حکمران کے طور پر اس کا ذہن ان خیالات سے زیادہ آگے نہیں گیا جو اس نے اپنے عم زادوں اور چاؤں سے اُس دور میں اخذ کیے تھے جب وہ ایک اقلیم کی تلاش میں میدانوں میں بھٹکتا پھرتا تھا۔ اس نے ہندوستان میں انتظام سلطنت کا جو طریقہ نافذ کیا وہ بنیادی طور پر وہی تھا جو اس نے اپنی عملی زندگی کے ابتدائی برسوں میں سیکھا تھا، جس کی رو سے حکمرانی کا مطلب صرف یہ ہوتا تھا کہ اپنے حریف کو زیر کر کے اس کی جگہ پر خود قبضہ کر لیا جائے۔ اسے حکمرانی کے ادارے وضع کرنے سے کوئی دلچسپی نہ تھی ، جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اس نے اپنے پیچھے جو سلطنت چھوڑی اس کی بنیادیں بہت کمزور تھیں۔ اس کی موت کے دس برس کے اندر اندر اس کے بیٹے ہمایوں کو ایک غیر معمولی صلاحیت اور بصیرت والے سپاہی زادے شیر شاہ سوری نے ہندوستان سے فرار ہونے پر مجبور کر دیا۔ ہندوستان کے مشرقی صوبے بہار کے ایک کم حیثیت مسلمان خاندان میں جنم لینے والے شیر شاہ نے ایک ایسا انتظامی ڈھانچا تعمیر کیا جو اپنی پیچیدگی میں غیر معمولی تھا۔ اسے دہلی پر صرف چار برس حکمران رہنے کا موقع ملا لیکن اس نے اپنی موت کے بعد سلطنت کا ایک مضبوط نظام چھوڑا۔ ۱۵۵۵ء میں ہمایوں نے شاہ فارس کی مدد سے شمالی ہندوستان پر حملہ کیا اور شیر شاہ کے نااہل اخلاف سے دہلی کو دوبارہ چھین لیا۔ یہ ب شاید مغلیہ خاندان کی خوش نصیبی تھی کہ وہ زیادہ عرصے تخت نشیں نہ رہا۔ وہ دہلی میں داخل ہونے کے چند ماہ کے اندر اندر نشے کے عالم میں ایک ڈھلواں زینے کی سیڑھیوں سے گر کر مر گیا۔ اس کے مرنے کے بعد بابر کے پوتے اکبر نے کم عمری میں تخت سنبھالا۔ اکبر برصغیر ہندوستان کے عظیم ترین حکمرانوں میں سے ایک ثابت ہوا۔ راجپوت ماں کے بیٹے اکبر کو، معلوم ہوتا ہے، راج پاٹ کے ہندوستانی اداروں اور خصوصاً سمپورن راجا ( ہمہ گیر بادشاہ ) کے تصور سے گہری واقفیت تھی۔ اس نے اپنی سلطنت کی مختلف النوع مذہبی، لسانی اور نسلی روایات کو اپنے دربار کی تہذیب میں سمونے میں کامیابی حاصل کی ۔ بلکہ اس نے مختلف مسلم اور ہندو روایات کو با ہم آمیخت کر کے اپنا ایک جدا گانہ مذہب بھی اختراع کیا، جسے دین البی” کہا جاتا تھا اور جس کا مرکز متوقع طور پر خود اس کی اپنی ذات تھی۔ یہ مذہب مقبول نہ ہو سکا، تا ہم اکبر کو حکمرانی کا غیر معمولی طور پر طویل عرصہ نصیب ہوا۔ اس نے پچاس برس سے زیادہ بادشاہی کی اور ایسی بنیاد رکھی جس پر مغل سلطنت ایک صدی سے زائد عرصے تک قائم رہی۔ تاریخ اس بات کے لیے بد نام ہے کہ اس کا تعلق ماضی سے نہیں بلکہ حال سے ہوتا ہے۔ چند سال پہلے ہندوستان کے انتہا پسند ہندو مغل دور حکمرانی کے بعض پہلوؤں کو نمایاں کر کے سیاسی تنازعے کا ایک آتشیں طوفان برپا کرنے میں کامیاب ہو گئے ۔ ۱۹۹۲ء میں ایک منظم ہندو ہجوم نے محض چند گھنٹوں میں ایودھیا کے شہر میں واقع سولھویں صدی کی ایک مسجد کو مسمار کر دیا جس کے نتیجے میں ہندوستانی جمہوریہ کی تاریخ کا ایک سنگین ترین بحران پیدا ہوا۔ بابر کے نام سے منسوب یہ مسجد بابری مسجد کہلاتی تھی : ہندو انتہا پسندوں کا موقف یہ تھا کہ یہ مسجد ایک ایسے مندر کے مقام پر تعمیر کی گئی جو رامائن کے مرکزی کردار دیوتا رام سے منسوب تھا۔ اس موضوع پر ایک سیاسی ( اور آثار قدیمہ کی زبردست بحث آج بھی جاری ہے، اور دونوں طرف کے لوگوں میں سیاست داں، عالم اور ماہرین موجود ہیں۔ بابر نامہ کو پڑھنے سے اس امر میں کوئی شک نہیں رہتا کہ اس کا مصنف، اپنے منفرد انداز میں، ایک راسخ العقیدہ مسلمان تھا۔ اسے، مثال کے طور پر، اپنے لیے غازی کا لقب بہت پسند تھا جسے اس نے کنوہا کی جنگ کے بعد اختیار کیا تھا۔ اپنی خود نوشت میں بابر نے متعدد مقامات پر ہندو مندروں اور بتوں کو تباہ کرنے کے ارادے کا اعلان کیا ہے۔ یہ اعلانات واضحطور پر ہندوستان کے مقامی مسلمانوں کی حمایت حاصل کرنے کی غرض سے کیے گئے تھے۔ جہاں تک با قاعدہ مندروں کو ڈھانے اور مسجد میں تعمیر کرنے کا تعلق ہے، بابر کے اعلانات قریب قریب یقینی طور پر اس کے حقیقی عزائم کی بہ نسبت زیادہ بلند آہنگ ہیں۔ تاہم، اگر اس نے واقعتاً مندروں کی جگہ مسجد میں تعمیر کی بھی ہوتیں ( جس کی کوئی قطعی شہادت موجود نہیں ہے ) تو اس کا یہ عمل کئی صدیوں پہلے کے ہندورا جاؤں کے عمل سے زیادہ سنگین نہ ہوتا۔ آثار قدیمہ کی شہادتوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ کئی اہم ہندو مندر اس سے قبل کے بودھ مندروں کی جگہ پر تعمیر کیے گئے تھے ؟ مثال کے طور پر متھرا کا عظیم کرشن مندر اس بودھ مقام پر بنا ہوا ہے جہاں غالباً بودھ مت کی ایک درس گاہ قائم تھی۔ تا ہم ، بابر کے پر جوش مذہبی اعلانات کے با وجود، اس کی خود نوشت سوانح کے صفحات سے یہ بات بالکل واضح ہے کہ وہ کوئی متشد د مسلمان نہیں تھا۔ ہندو اس کے دربار میں اکثر حاضر ہوتے تھے اور چند ایک نے اس کی ملازمت بھی اختیار کی تھی۔ سکھوں میں، جو آگے چل کر سترھویں صدی میں مغل ریاست کے مضبوط حریف بننے والے تھے ، ایک قصہ ہمیشہ شوق سے سنایا جاتا رہا ہے، اور اسے ان کی مذہبی دستاویزوں میں بھی محفوظ کیا گیا ہے، جو بابر اور سکھ مت کے بانی بابا گرونانک کی ملاقات کے بارے میں ہے۔ پنجاب کے ایک شہر پر یلغار کے دوران کہا جاتا ہے کہ بابر کے سپاہیوں نے گرونانک کو ان کے ایک چیلے کے ساتھ قید کر لیا تھا۔ گرو نانک کی ایک کرامت کا تذکرہ سن کر با برقید خانے میں ان سے ملنے گیا۔ گرونانک کی ہستی میں ایسی خصوصیت تھی کہ بابر گھٹنوں کے بل جھک گیا اور پکار کر بولا اس فقیر کے چہرے میں خدا کی شبیہ دکھائی دیتی ہے۔ کچھ بھی ہو، یہ بات اختلاف رائے سے ماورا ہے کہ بابر کے بعد آنے والے مغل بادشاہوں کے دور میں ہندوؤں کی مذہبی سرگرمی غیر معمولی طور پر پھلی پھولی۔ ہندومت، اپنی موجودہ شکل میں خصوصاً شمالی ہندوستانی شکل میں مغل حکمرانوں ہی کے دور میں ڈھلا ، اور اس عمل کو حکمرانوں اور ان کے امرا اور اہلکاروں کی شرکت اور حمایت حاصل رہی ۔ مثلاً ” رام چرت مانس ( آغاز تحریر ۱۵۷۴ء) ، یعنی رامائن کا وہ روپ جسے شمالی ہندوستان کی عبادت کی رسوم میں مرکزی حیثیت حاصل ہے عظیم صوفی شاعر تلسی داس نے اکبر کے دور حکومت میں لکھی تھی۔ مغل دور ہی کرشن سے متعلق مذہبی افکار ورسوم کے عظیم احیا کے زمانے سے بھی مطابقت رکھتا ہے۔ یہ اسی دور میں ہوا کہ روپا گوسوامی اور بنگالی ریشی چینیہ مہا پر بھو کے دوسرے چیلوں نے کرشن کے قصے سے تعلق رکھنے والے مقدس جغرافیائی مقامات کو دوبارہ دریافت کر کے ان کا نقشہ تیار کیا۔ کرشن کے قصے کا محل وقوع جو جغرافیائی علاقہ ہے وہ آگرہ اور دہلی کے درمیان واقع ہے، اور یہ دونوں سولھویں صدی میں مغل اقتدار کے بڑے مراکز تھے۔ ان دونوں بادشاہی شہروں کو ملانے والی سڑک اس علاقے کے مقدس مقامات کے بالکل پاس سے گذرتی ہے۔ اس بات کی بار بار نشان دہی کی جاتی رہی ہے کہ اگر مغلوں میں ان ہندو رشیوں اور یاتریوں پر جو ان دنوں ان تمام تیرتھوں کو نئے سرے سے دریافت کرنے میں مشغول تھے، پابندیاں لگانے کی کوئی خواہش ہوتی تو ان کے لیے ایسا کرنا مشکل نہ تھا۔ لیکن اکبر اور اس کے امرا نے ان سرگرمیوں پر پابندی لگانے کے بر خلاف ان کی با قاعدہ حوصلہ افزائی کی۔ اس کے دربار کے ہند و سپہ سالاروں اور اہلکاروں نے اس علاقے کے چند اہم ترین مندر تعمیر کرائے اور اس عمل میں انھیں اکبر کی عملی حمایت حاصل رہی ۔ ان میں سے بعض مندروں کو چلانے کا خرچ براہ راست اکبر اٹھایا کرتا تھا: ان میں پینتیس سے زیادہ مندر ایسے ہیں جنھیں اس نے جا گیر اور لگان حاصل کرنے کے دائمی حقوق عطا کیے تھے۔ اگر سولھویں صدی میں کرشن بھگتی اور کرشن سے متعلق مذہبی افکار و رسوم کو با قاعدہ دبایا گیا ہوتا تو ہندومت آج ہماری جانی پہچانی شکل میں نہ ہوتا : غالباً اس کی جگہ دوسری مذہبی بھیجیں لے لیتیں لیکن آج ہم نہیں کہہ سکتے کہ وہ پیشیں کون سی ہوتیں۔ ایک زندہ معاصر مذہب کے طور ہندومت ان سرگرمیوں کے بغیر آج موجود ود نہ ہوتا جو مغل دور حکومت میں انجام دی گئیں ۔ یہ ایک غمناک ستم ظریفی ہے کہ جن ہندو مذہبی جنونیوں نے بابری مسجد کو تباہ کیا انھوں نے دراصل اس وسیع المشربی کی ایک علامت پر حملہ کیا تھا جس کی بدولت ان کے مذہبی اعتقادات کا وجود ممکن ہوا تھا۔ بابر کے خاندان کا آخری فرماں روا بہادر شاہ ظفر تھا جو دہلی میں اس وقت تخت نشیں ہوا جب انگریز شمالی ہندوستان کے بیشتر علاقے پر تسلط حاصل کر چکے تھے۔ آخری فرماں روا کا اقتدار اس کے اپنے محل کے باہر کے علاقے پر نہ تھا لیکن اس کے نام پر ہندوستان بھر کے لاکھوں افراد نے ۱۸۵۷ء میں انگریزوں کے خلاف پر جوش لیکن نا کام بغاوت کی تھی۔ اس بغاوت کے نتیجے میں بہادر شاہ کو جلا وطن کر کے رنگون بھیج دیا گیا، جہاں اس نے ۱۸۶۲ء میں وفات پائی ۔ اس سال کے شروع میں رنگون کے ایک سفر کے دوران مجھے پتا چلا کہ برما میں ہندوستان کے موجودہ سفیر نے ، جو میز ورم سے تعلق رکھنے والے ایک مسیحی اور پیشہ ور سفارت کار ہیں ، بہادر شاہ کے زبوں حال مزار کی مرمت اور درستی کا اہتمام کیا ہے۔ میں مغلوں کی وسیع تر سلطنت کی تخیلی طاقت کو اس سے زیادہ مناسب خراج تحسین کا تصور نہیں کر سکتا۔ ڈبلیوایم ٹیکسٹن کا کیا ہوا بابر نامہ کا انگریزی ترجمہ کیمرے اور مو قلم کی ان تصویروں سے شاندار طور پر مزین ہے جو واشنگٹن کی فریئر اور آرتھر ایم سی کلر گیلریوں کے ذخیروں سے لی گئی ہیں۔ یہ بابر نامہ کا تیسرا انگریزی ترجمہ ہے۔ اس سے پہلے انیسویں صدی میں اینیٹ بیورج کا کیا ہوا مشہور ترجمہ بھی شائع ہو چکا ہے۔ اپنی تمام تر ادبی صلاحیت کے باوجود اینیٹ بیورج پیشہ ور اسکالر نہیں تھی ، اور ڈبلیوایم ٹیکسٹن ، جو ہارورڈ میں مشرق قریب کی زبانوں کا پروفیسر ہے، بیورج کے ترجموں کی خامیاں لگی لپٹی رکھے بغیر بیان کرتا ہے۔ اس کے لفظوں میں یہ کسی طالب علم کا ہوا کیا ہوا کام معلوم ہوتا ہے۔ تمام لفظوں کے ترجمے لغت میں دیکھ کر ایک جگہ ڈھیر کر دیے گئے ہیں ۔ واضحطور پر ڈاکٹر ٹیکسٹن کی شخصیت میں بھی کچھ کچھ بابر کی سی خصوصیت موجود ہے کہ اس نے ایک ایسے من کی تنقیص میں کسی ہچکچاہٹ سے کام نہ لیا جسے ای ایم فورسٹر کی نسل سے تعلق رکھنے والی ادبی شخصیات کی حسین حاصل رہی ہے۔ چونکہ میں خود اسکول کے زمانے میں بابر نامہ کا بیورج کا کیا ہوا ترجمہ دیکھ چکا ہوں ، مجھے بھی شروع میں ٹھیکسٹن کی طرف سے اپنے پیشرو کو یوں چٹکیوں میں اڑا دینے کا رویہ بہت اشتعال انگیز معلوم ہوا۔ لیکن بعض کلیدی حصوں کے دونوں ترجموں کا موازنہ کرنے کے بعد میں نے پایا کہ ڈاکٹر تھیکسٹن نے اس کتاب کو زیادہ رواں، با محاورہ اور گفتگو کی زبان میں ترجمہ کرنے کا اپنا دعوئی درست ثابت کیا ہے۔ اگر کسی بات پر حرف گیری کی جاسکتی ہے تو اس پر کہ یہ خصوصیات اس ترجمے میں ضرورت سے کچھ زیادہ موجود ہیں۔ ایک جملہ جسے مسز بیورج نے اس طرح ترجمہ کیا ہے :
Stay here while I look along the Gava Road.
ڈاکٹر ٹیکسٹن کے ترجمے میں اس صورت میں سامنے آتا ہے:
Your Stay here. I’ll go and check out the Gava Raod.

با لیکن ظاہر ہے یہ بات کسی امان اصول کی مد سے ثابت نہیں کی جاتی کہ باری زبان کسی ایوروین نخل من کی بہ نسبت ایک کنکٹی کٹ مالروٹ سے زیادہ مشابہ رہی ہوگی۔ اپنے کار آمد اور پر از معلومات دیباچے میں ڈاکٹر ٹیکسٹن نے ہمیں مطلع کیا ہے کہ مغل کا لفظ اس شاہی خاندان کے نام کے طور پر قطعی غیر موزوں ہے جس کی ابتدا بابر سے ہوئی تھی۔ بابر اور اس کے اخلاف خود کو گورکانی“ کہہ کر بیان کیا کرتے تھے، جس کے لغوی معنی برادر نسبتی کے ہیں، اور اس کی وجہ تسمیہ یہ ہے کہ چنگیزی خاندان تیمور کی سسرال تھا۔ بابر کے نزدیک مغل کا لفظ وسط ایشیا کے دور دراز خطوں سے تعلق رکھنے والے نیم بودھ اور نیم شامانی قبیلوں کا نام تھا۔ مغلوں کے لیے اس کی نفرت اس عداوت سے بھی بڑھ کر تھی جو وہ شیعوں ، افغانوں اور مختلف اقسام کے کافروں سے رکھتا تھا۔ مغل قوم سے ہمیشہ تباہی اور بربادی کا صدور ہوا ہے۔ آج کی تاریخ تک وہ میرے خلاف پانچ بار بغاوت کر چکے ہیں، جس میں میرے کسی عمل کو کچھ دخل نہیں کیوں کہ وہ یہی کام اکثر اپنے خانوں کے خلاف بھی کرتے رہے ہیں ۔ اب غالبا مغل” کے لقب پر اس اعتراض کو قبول کرنے کے لیے بہت زیادہ تاخیر ہو چکی ہے، خواہ اس کے حق میں دیے جانے والے دلائل کتنے ہی معقول کیوں نہ ہوں۔ کیا ایسا ممکن ہے کہ ہم کسی روز اخبار نیو یارک ٹائمز“ کھولیں اور ہمیں اس میں ٹرنر اور مرڈوک صاحبان کے نام کے ساتھ میڈ یا مغل کے بجائے میڈ یا گورکانی کا لقب دکھائی دے؟ میرا خیال ہے یہ ممکن نہیں۔

خواہ اس کا دیا جانے والا نام درست ہو یا نہ ہو، بابر نے جس خاندان کی بنیاد رکھی وہ شان و شوکت کا مترادف بن چکی ہے۔ بلا شبہ ایک صدی سے زیادہ عرصے سے برطانیہ اور ہندوستان دونوں جگہ لکھی جانے والی سرکاری تاریخیں مغلیہ دور کو ہندوستان کے ایک ریاست بننے کے عمل کے استعارے کے طور پر پیش کرتی آ رہی ہیں۔ اپنی پیش رو برطانوی نو آبادیاتی حکومت کی طرح، ہندوستان اور پاکستان کی حکومتوں نے بھی مغل دور کی چیدہ چیدہ علامتوں کو اختیار کیا ہے۔ آج تک ہندوستانی صدر یوم جمہوریہ کی سالانہ تقریر شاہ جہاں کے لال قلعے کی فصیل پر سے کرتا ہے۔

مغلوں کو ملک میں اور بیرون ملک حاصل ہونے والی اس غیر متناسب توجہ سے کچھ زیادہ فائدہ نہیں پہنچا۔ عہد وسطی کے ہندوستان کی تمام فنی اور ثقافتی کامیابیوں کا سہرا ان کے سر باندھے جانے کے بعد اب انھیں اس پورے دور کے مختلف شعبوں میں پیش آنے والی مفروضہ ناکامیوں کے لیے بھی اپنے حصے سے زیادہ قصور وار ٹھہرایا جانے لگا ہے۔ سرکاری شان و شوکت کی علامتوں کے ساتھ بعض اوقات ایسا ہونا ناگزیر ہے کہ وہ ایسے تلخ رد عمل کا ہدف بن جائیں جس کا رخ در اصل کسی اور جانب ہونا چاہیے تھا۔ عین ممکن ہے یہ بھی ان عناصر میں شامل ہو جن کے باعث بابری مسجد کے تنازعے نے اس قدر شدت اختیار کر لی۔

علاقے در حقیقت مغل سلطنت کبھی بھی پورے برصغیر پر محیط نہیں ہوئی۔ اپنے بہترین زمانے میں اس کو جزیرہ نمائے دکن میں بمشکل ذرا سے علاقے پر تسلط حاصل تھا۔ بعد کے مغل بادشاہوں نے اپنے زیر نگیں قے کو وسعت دینے کی سخت کوششیں کیں لیکن ان کی سلطنت کی جنوبی سرحد بالکل غلیل کی طرح ان کے انگلی ہٹاتے ہی پھر اپنی سابقہ جگہ پر واپس آجاتی تھی۔ اورنگ زیب نے ، جو چھ عظیم مغل بادشاہوں میں آخری تھا، سلطنت کی حدوں کو جنوب کی سمت وسیع کرنے کی کوشش میں اسے تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا۔ تاریخ کے طویل تناظر میں دیکھیں تو مغل دور حکومت در اصل خوش نصیبی کے ایک نادر و قفے سے زیادہ کچھ نہ تھا، ایک عظیم الشان فریب نظر جس کا انجام اس کے آغاز سے بھی پہلے متصور کیا جا چکا تھا۔ کیوں کہ سچ یہ ہے کہ جس وقت با بر گنگا اور سندھ کے دو آبے میں اپنی عظیم جنگیں لڑ رہا تھا ، اس وقت برصغیر کی قسمت کا فیصلہ اس سے بہت کم شدت کی ان لڑائیوں میں ہورہا تھا جن میں ہندوستان کے مغربی ساحل پر مختلف را جا اور حاکم پرتگیزیوں سے نبرد آزما تھے۔ مجموعی طور پر برصغیر ہندوستان کے لیے سولھویں صدی میں لڑی جانے والی فیصلہ کن جنگ غالبا پانی پت میں بابر کی جنگ نہیں تھی (جیسا کہ مجھے اسکول و کالج میں پڑھایا گیا ) بلکہ گوا کے ساحل پر دیو (Diu) کی لڑائی تھی ۔

یہ بات بڑی تعجب خیز ہے کہ اپنی تمام ذہانت اور تجس کے باوجود بابر کو مغربی ہندوستان میں پرتگیز یوں کی موجودگی کا ذرا بھی علم نہ ہوا، یا اگر علم تھا تو اس نے ان کو اہمیت دینے کے قابل نہ سمجھا۔ اس نے اپنی خود نوشت سوانح میں پرتگیزیوں کا تذکرہ تک نہیں کیا، حالانکہ جس وقت وہ دہلی کے تخت پر بیٹھا اس وقت تک وہ مغربی ساحل پر گوا میں ایک بڑی نو آبادی قائم کر چکے تھے۔ وہ مرتے دم تک سرسبز میدانوں کا باشندہ رہا: چونکہ اس نے اپنی زندگی میں کبھی سمندر نہ دیکھا تھا ، اس سے توقع نہیں کی جاسکتی کہ وہ بحری طاقت کی اہمیت کا دیکھا تھا۔

را اندازہ کر سکتا ہوگا۔ بابر کے اخلاف کو اس پر یہ فوقیت حاصل تھی کہ انھوں نے اپنی سلطنت کی حدوں کو دونوں جانب کے ساحلوں تک پھیلا دیا۔ لیکن ان کی نظریں بھی ، اب پیچھے مڑ کر دیکھنے پر یہ بات کسی قدر حیران کن لگتی ہے سختی سے ساحلوں کے بیچ کی زمین پر مرکوز رہیں۔ فارس جانے کے لیے ان کے ایچی زمینی راستہ اختیار کرتے تھے جو زیادہ دشوار گزار اور خطر ناک تھا لیکن آسان اور مختصر سمندری راستے سے جانے کا ان کو کبھی خیال نہ آیا۔ ایسے حکمرانوں کے لیے جو بحری طاقت کی بالا دستی کے زمانے میں زندہ ہوں ، اس سے زیادہ بڑی معذوری کا تصور کرنا مشکل ہے۔ میرے نزدیک بابر کے مختصر ہندوستانی قیام کا سب سے غمناک پہلو یہ ہے کہ وہ اس عظیم ترین تحفے کو دیکھے بغیر دنیا سے رخصت ہو گیا جو برصغیر ہندوستان اسے پیش کر سکتا تھا۔ کھلا سمندر ۔ اگر سرسبز میدانوں میں جنم لینے والا ، بے انتہا نجس کا مالک یہ غیر معمولی شخص سمندر تک پہنچ جاتا تو اس سے کیا کچھ حاصل کر سکتا تھا ؟ اس باب میں ہم صرف قیاس آرائی ہی کر سکتے ہیں۔

امیتابھ گھوش Ami av Ghosh کی تحریروں سے "آج” کے پڑھنے والے خاصے مانوس ہیں ۔ جس مضمون کا ترجمہ پچھلے صفحات میں پیش کیا گیا وہ امیتابھ گھوش کی ویب سائٹ سے حاصل کیا گیا تھا۔ بابری مسجد پر اٹھائے گئے تنازعے کے پس منظر میں ، جس نے المناک واقعات کے ایک پورے سلسلے کو جنم دیا، یہ مضمون ایک خاص اہمیت رکھتا ہے۔ اس سے ایک بار پھر واضح ہوتا ہے کہ دیوانگی اور تشدد پیدا کرنے والی قوتیں تاریخ کے ایک نامکمل اور مسخ کردہ تصور کو اپنے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرتی ہیں۔ گھوش کے لفظوں میں تاریخ اس بات کے لیے بد نام ہے کہ اس کا تعلق ماضی سے نہیں بلکہ حال سے ہوتا ہے۔”

امیتابھ گھوش کے نام کے درست تلفظ اور املا کی نشان دہی کرنے کے لیے ہم آج کے ایک پرانے کرم فرما اور دوست انیس صدیقی کے ممنون ہیں ۔

Share.

Comments are closed.

Exit mobile version