فرانز کافکا کا ایک قول ہے:

"میری ایک اہم ترین خواہش یہ تھی کہ زندگی کو اس طرح دیکھ سکوں کہ وہ اپنی پوری شدت، اتار چڑھاؤ اور جوش و خروش کے ساتھ جاری رہے اور ساتھ ہی اتنی ہی وضاحت سے ایک فریب، ایک خواب، ایک دھندلی سی معلق کیفیت کے طور پر بھی پہچانی جائے۔”

صدیق عالم کا ناول، "مرگِ دوام” مطبوعہ ” آج”، پڑھ کر یوں محسوس ہوتا ہے جیسے کافکا کا یہ قول، جو میرے خیال کی تہہ میں کہیں دب سا گیا تھا، اچانک نئی معنویت، تازہ جہتوں اور مزید گہرے تاثر کے ساتھ دل و دماغ کی سطح پر ابھر آیا ہے۔ یوں گمان ہوتا ہے جیسے کافکا کا فکری افق اور صدیق عالم کی تخلیقی بصیرت ایک ہی موج میں بہہ نکلے ہیں، اور "مرگِ دوام” اس بہاؤ میں ایک ایسا آئینہ ہے جس میں زندگی، موت، وجود، لا وجود حقیقت اور خواب ایک دوسرے کی پرچھائیوں میں ڈھلنے لگے ہیں۔

اردو ادب میں ایسے کئی ادیب ہیں جن کے پاس بڑی عمدہ کہانیاں، نرالا طرزِ اظہار اور ہئیت کے نت نئے تجربات ہیں لیکن جہاں بات تخیل کی آتی ہے اکثر اس پل صراط سے گزرتے ہوئے اوندھے منھ گرتے ہیں۔ اور معدودے چند ہی ہیں جو اس راہ سے سلامت گزر پاتے ہیں۔ صدیق عالم، تخیل کی اقلیم کے ایسے ہی بادیہ پیماؤں میں سے ایک ہے جن کے تخیل کی رفعتِ پرواز اور فکرِ نکتہ آرا کی فلک پیمائیاں تحیر کے نت نئے جہان دریافت کرتی ہیں۔ وہ دنیا کی قلعہ بند زندگی میں شعور کی ایسی کھڑکیاں کھول دیتے ہیں جس سے ہم انسانی وجود کے نادریافت شدہ اورحیرت انگیز مناظر دیکھ سکتے ہیں۔

صدیق عالم کا نیا ناول "مرگِ دوام” اپنے خوب صورت اسلوب کے ذریعے موت کی ٹھوس حقیقت سے لے کر تخیل اور فنتاسی کے موہوم سایوں پر اپنی کمندیں پھینکتا ہے۔ یہ محبت، موت اور قسمت کی ناقابل یقین کہانی ہے جو ایک انوکھے وجودی تجربے کو پیش کرتی ہے۔

میں نے اس ناول میں، چند مقامات کے استثناء کے ساتھ، کوئی علامتی نظام اور تمثیلی ڈھانچہ تلاش کرنے کی کوشش نہیں کی اور نہ ہی بہ ظاہر علامتوں اور تمثیلوں کو مسلی ہوئی ، پامال اور پیش پا افتادہ تعبیروں کے شکستہ عدسے سے دیکھنے کا مکتبی تنقیدی فریضہ انجام دیا ہے۔ ناول پڑھتے ہوئے میں نے مصنف کے تخیل کے ساتھ خود کو بہنے دیا ہے۔ میں کنڈیرا کی اس بات کا قائل ہوں کہ تخیل کو فی نفسہٖ ایک قدر تسلیم کیے بغیر ہم فکشن بالخصوص جدید فکشن کو سمجھ ہی نہیں سکتے۔ تعلیمی ضرورتوں اور مدرسانہ حاجتوں کے زنگ آلود لوہے سے تیار کردہ متنی تعبیروں کے پنجروں میں قارئین کے ادراک کے پرندے اڑان کیا بھریں، اپنے پر بھی پورے نہیں کھول پاتے۔

ناول کی کہانی کا مرکزی کردار ایک بیوروکریٹ ہے جو ٹرانسپورٹ کے محکمے میں ایک سیکریٹری کے ماتحت خدمات انجام دیتا ہے۔ وہ اپنی ضعیف اور بیمار والدہ کے ساتھ ایک فلیٹ میں مقیم ہے۔ اسی عمارت کی کسی منزل میں ایک کوچنگ سینٹر واقع ہے، جہاں گندھارا نامی ایک لڑکی تدریس کے لیے آتی ہے۔ ابتدائی ملاقات کے بعد رفتہ رفتہ راوی اور گندھارا کے درمیان قربت بڑھتی ہے، جو وقت کے ساتھ دوستی میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ ایک عجیب و غریب کردار جو ازاں بعد سند باد کے نام سے متعارف ہوتا ہے بار بار مرکزی کردار جو اس ناول کی کہانی کا راوی بھی ہے کے سامنے آتا ہے۔ لیکن ایسی منصوبہ بندی کے ساتھ کہ مرکزی کردار اسے صحیح طور پر دیکھ نہ سکے۔ ہر بار اس کا نظر آ کر غائب ہو جانا مرکزی کردار کے تجسس کو مہمیز کرتا ہے بل کہ اس کے ساتھ ساتھ اسے ایک ذہنی خلجان میں بھی مبتلا کرتا ہے۔ بالآخر ایک روز ٹرین میں سفر کرتے ہوئے سند باد اور راوی کا آمنا سامنا ہو جاتا ہے۔ اس مرتبہ سند باد اسے جُل دے کر فرار نہیں ہوتا بل کہ اسے لے کر ایک بلند وبالا عمارت کی چھت پر آ جاتا ہے جہاں راوی سند باد کی ناقابلِ یقین داستان سنتا ہے۔ وہ دعویٰ کرتا ہے کہ اس کی عمر ایک سو چالیس برس ہے۔ سو برس قبل وہ دنیا سے رخصت ہو چکا تھا، مگر موت بھی اس کی روح کو زنجیر نہ کر سکی۔ وہ ایک غیر مرئی وجود بن کر زمین پر بھٹکتا رہا۔ اس کے دل میں ایک آس ہمیشہ زندہ رہی کہ کسی دن کوئی ایسا شخص ضرور ملے گا جو اسے نہ صرف دیکھ سکے، بل کہ اس کے درد کو سمجھنے کا ہنر بھی رکھتا ہو۔ اب اسے یقین ہو چلا ہے کہ وہ گھڑی آن پہنچی ہے؛ جب اس کی دہائیوں پرانی بے قراری کو قرار ملے گا، اور وہ اپنے دکھوں سے رہائی پا کر ابدی سکون کی طرف روانہ ہو سکے گا۔ اور پھر اچانک سند باد راوی کے ہونٹوں کو چوم کر چھت سے کود کر خودکشی کر لیتا ہے۔ یہاں پر ایک عجیب و غریب واقعہ پیش آتا ہے۔ عمارت سے کودا تو سند باد تھا لیکن سڑک پر لاش راوی کی پڑی ہے۔ راوی مر کر ایک غیر مرئی روپ میں ڈھل چکا ہے: ایک سایہ، ایک آہ جو وقت کی راکھ میں لپٹی ہوئی ہے۔

میرے عزیز قاری! میں جانتا ہوں کہ تم بےچین ہو، آنکھوں میں سوال، دل میں جستجو لیے۔ تم چاہو گے کہ میں تمھیں ایک ہی سانس میں سب کچھ بتا دوں۔ مگر نہیں، میں تمھارے ساتھ یہ زیادتی نہیں کر سکتا۔

کیوں کہ یہ کہانی صرف الفاظ کا تانا بانا نہیں، یہ ایک احساس ہے، ایک سفر ہے، جو صفحہ بہ صفحہ تمہیں حیرت، تجسس اور تفکر کے جہانوں میں لیے پھرتا ہے۔ اگر میں نے تمھیں سب کچھ بتا دیا تو تمھاری آنکھوں سے وہ چمک، وہ حیرت اور وہ خوش کن بےچینی چھن جائے گی جو کسی بھی اچھے ناول کا اصل سرمایہ ہوتی ہے۔ سو میں تمھیں صرف جھلکیاں دکھاؤں گا: چند سطریں، چند کیفیات، کچھ مکالمے، اور کچھ ادھورے مناظر۔ باقی سفر تم خود طے کرو، خود محسوس کرو۔ کہانی کی خوشبو کو لفظ بہ لفظ سونگھو، اور جب تم آخری صفحے پر پہنچو، تب جانو کہ انتظار اور تجسس کا لطف کیسا ہوتا ہے۔

تو میرے عزیز قاری، اس ناول کو پڑھ کر تمھیں اندازہ ہوگا کہ فن سچا ہو تو فن کار اپنی زات کا مہین سا اشارہ کیے بغیر بھی کیسے ایک بہترین فن پارہ تخلیق کر سکتا ہے۔

ناول کی کہانی ایک ساختی دائرے میں گھومتی ہوئی محسوس ہوتی ہے۔ راوی اور اس کی ماں، گندھارا اور اس کا بھائی، تھیلیسیمیا کے شکار نو عمر لکی اور کرائسٹ، بوڑھا نکولاؤ، گیٹڈ سٹی کا انسانی ڈھانچہ، بیساکھیوں کے سہارے چلتا مراد اور اس کی بیوی پیالی: ٹوٹے ہوئے خوابوں اور ادھورے سوالوں کی گٹھڑیاں اٹھائے اپنے اپنے انجام کی جانب بڑھتے ہیں۔ وقت کے تجرباتی قانون (ماضی، حال اور مستقبل)، زندگی اور موت، حقیقت اور خواب کو مسترد کرتے ہوئے، بیانیہ بھی دائروی ساخت اپناتا ہے۔ ناول پڑھ کر احساس ہوتا ہے کہ کوئی کہانی مکمل نہیں ہو سکتی۔ زندگی ایک پیچیدہ حقیقت ہے، ایک نہ ختم ہونے والا تسلسل۔ اور کہانی کا اختتام ہرگز حدِ آخر نہیں۔

"مرگِ دوام” میں ایک اسرار کی وضاحت ایک دوسرا اسرار کرتا ہے لیکن جلدی کیجیے: یہ صورتِ حال خود بھی ایک چیستان میں ڈھلنے والی ہے۔ ایک معما جو ایک نئے معمے کا انکشاف کر رہا ہے۔ صفحہ نمبر 141 کی یہ سطور دیکھیے جہاں سند باد کے عمارت کی چھت سے کود کر خودکشی کرنے کے بعد راوی چھت سے نیچے اتر کر سڑک پر آتا ہے اور سند باد کی لاش پر مکرر نظر ڈالتا ہے:

” میں نے ایک بار پھر سند باد کے مسخ چہرے پر نظر ڈالی۔ مجھے کہیں پر کچھ غلط محسوس ہو رہا تھا۔ یہ سند باد نہیں ہو سکتا۔۔۔ وہ تو بھاری بھر کم کپڑوں میں ملبوس ایک تنومند شخص تھا، جبکہ یہ ایک اوسط قد کا آدمی تھا جس نے پتلون اور آدھی آستین کی شرٹ پہن رکھی تھی۔ اور تب۔۔۔۔میں لڑکھڑا کر پیچھے ہٹ گیا۔ خون سے لت پت وہ چہرہ سند باد کا تھا ہی نہیں؛ نہ وہ جسم ہی اس کا تھا۔ مگر اس سے زیادہ حیرت انگیز واقعہ میرا منتظر تھا۔
یہ تو میں تھا، جو زمین پر گرا ہوا، اپنی بےجان، پتھرائی ہوئی آنکھوں سے آسمان کی طرف دیکھ رہا تھا”

ناول کا مرکزی کردار اپنا مادی جسم، اس قدر اچانک اور ناقابلِ یقین طریقے سے، چھین لیے جانے پر جس حالت کا شکار ہے اس کا صرف تصور ہی کیا جا سکتا ہے۔ یہ سب اتنی جلدی ہوتا ہے کہ قاری بھی مرکزی کردار کی طرح اس کی نئی صورت حال میں بے چین ہے، وہ بھی اسی کی آنکھوں سے اس نئے وجود کو دیکھتا ہے۔ مرکزی کردار کی طرح قاری کو بھی اپنے ادراک کو منظم رکھنے اور حقیقت اور فنتاسی کے درمیان فرق کرنے میں بڑی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ صدیق عالم نے کس فنی چابک دستی سے ہمیں اپنے تخیلی تجربے کا حصہ بنا لیا ہے:

"سندباد کے واقعے نے میری یادداشت کو دھندلا دیا تھا، یا شاید دنیا اپنے محور پر الٹی طرف گھوم گئی تھی اور میرے سارے تیر بہک گئے تھے۔ میرے ساتھ جس طرح کا محیرالعقول واقعہ پیش آیا تھا اس کے بعد اور کیا سوچا جا سکتا ہے؟ مجھے کسی سنسان جگہ رک کر اپنے حواس درست کرنے ہوں گے۔ میں ان بے تکے واقعات کے ساتھ ہوٹل لوٹ نہیں سکتا، ورنہ سب کچھ گڈ مڈ ہو کر رہ جائے گا۔ میں ایک اجنبی شہر میں ہوں اور بہت ہی عجیب و غریب حالات سے گزر رہا ہوں۔ اگر مجھے ان حالات کو سمجھنا ہے تو اپنا دیکھنے کا طریقہ بدلنا ہوگا۔ مجھے کسی جگہ رک کر چیزوں کو نئے سرے سے سوچنا ہوگا، انھیں ترتیب سے سجانا ہوگا، ان کا رُخ متعین کرنا ہوگا، ورنہ میری ساری پہچانیں کھو جائیں گی۔” ( صفحہ نمبر 149)

جب حقیقت، اور حقیقت اور فنتاسی کے درمیان باریک لکیر ختم ہو جاتی ہے تو ایک عجیب و غریب دنیا وجود میں آتی ہےجو نہ مکمل خواب ہے نہ ہی مکمل جاگتی آنکھوں کا سچ، بل کہ یہ ان دونوں کا جادوئی امتزاج ہے۔ صفحہ نمبر 150 کی یہ سطور دیکھیے:

"میں سند باد کے واقعے کے بعد لابی میں, جہاں سیڑھی سے لڑھکتا ہوا میں جا کر گرا تھا, دیکھ چکا ہوں کہ کس طرح لوگوں نے میری طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھا تھا؛ میں لاش کے گرد لوگوں کی بھیڑ سے الجھ چکا ہوں، میں کانسٹیبل سے بات کرنے کی ناکام کوشش کر چکا ہوں، دوکان کے کیش کاؤنٹر پر بھی میرے ساتھ وہی واقعہ پیش آ چکا ہے، خود سڑک کے کنارے چلتے ہوئے گاڑی کے ڈرائیوروں کو میرے وجود کا کوئی احساس نہیں ہے، نہ ہی راہگیروں کو جو سامنا ہونے پر بھی راستہ نہیں دیتے، یہاں تک کہ خود مجھے راستے سے ہٹنا پڑتا ہے۔ آہ، اس دنیا میں انسان کے لیے نظر آنا کتنا لازمی ہے، اور یہ بھی لازمی ہے کہ اس کی آواز سب کو سنائی دے، جبکہ میں ان دونوں سہولتوں سے محروم ہو چکا ہوں۔ کیا یہ کوئی عارضی سانحہ ہے یا میں خواب کے اندر یہ سب دیکھ رہا ہوں؟ کم از کم ابھی کے حالات تو یہی بتا رہے ہیں کہ حقیقت کی دنیا سے میرا ربط ٹوٹ چکا ہے۔”

کبھی کبھی حقیقت کو فنتاسی سے الگ کرنا کس قدر مشکل ہوتا ہے۔ ناول نگار نے کس فنی مہارت سے زندگی اور موت، حقیقت اور فنتاسی کو بہ یک وقت مدغم کر دیا ہے۔

زات کا ناقابلِ شناخت ہونا کیسا لگتا ہے؟ کیا انسان کی شناخت اور اس کا وجود دکھائی دینے یا سنائی دینے سے مشروط ہے؟ کیا انسان دکھائی یا سنائی نہ دے تو کیا انسان ہی رہے گا؟ زات کا آغاز کہاں سے ہوتا ہے اور یہ کہاں اختتام پذیر ہوتی ہے؟ انسان کی زات کی نوعیت کتنی غیر یقینی اور ناقابلِ پیمائش ہے۔

سند باد کا عمارت سے کودنا اور راوی کا اس کی جگہ پر اپنی لاش دیکھنا اسی زات کے شناختی بحران کا آغاز ہے۔

شاید عمارت کی چھت سے راوی ہی کودا ہے اور اس کا سامنا اپنے ہی مردہ وجود سے ہوتا ہے۔ یہ وہ لمحہ ہے جب "میں” ( The Self) اپنی ذات کو باہر دیکھتا ہے اور پہچاننے سے انکار کر دیتا ہے۔ یہی لمحہ ادب کے سب سے بڑے سوالات میں سے ایک کو جنم دیتا ہے:
کیا میں وہی ہوں، جو میں سمجھتا ہوں؟ یا جو میں بن چکا ہوں، وہ میرا وہم ہے؟

بہ قول ہائیڈیگر: "موت انسان کا سب سے "اپنا” لمحہ ہے۔ موت محض اختتام نہیں، ایک آئینہ ہے، انسان کے "ہونے” کا سب سے خالص اظہار۔ مگر اس آئینے میں جھانکنا آسان نہیں کیوں کہ اس میں عکس "دوسرے” کا نہیں، ہمارا اپنا ہوتا ہے۔ اور اکثر ہم خود کو دیکھنے سے ڈرتے ہیں۔ موت انجام نہیں، بل کہ ایک ایسا آغاز بھی ہو سکتی ہے، جہاں انسان پہلی بار خود سے روبرو ہوتا ہے۔

اس منظر میں، مرنے والا جسمانی طور پر فنا ہو چکا ہے، مگر اس کا شعور باقی ہے۔ وہ شعور جو سب کچھ دیکھتا ہے مگر خود دکھائی نہیں دیتا، یہ وجود اور فنا کے درمیان ایک برزخ ہے، ایسا شعور جو ہونے اور نہ ہونے کے بیچ معلق ہے۔ یہی وہ مابعدالموتی شعور (Post-mortem Consciousness) ہے جو بتاتا ہے کہ جسم فنا ہو سکتا ہے، مگر خود آگاہی کی سزا شاید موت کے بعد بھی باقی رہتی ہے۔ موت کے بعد بھی "زندگی” کی سزا: خاموش، غیر مرئی، تنہا اور لوگوں کے درمیان۔

یہ صورتِ حال انسان کے شعور، شناخت، موت، آزادی اور تنہائی جیسے وجودی مسائل کی گہری پرتوں کو کھولتی ہے۔ یہ محض موت کی کہانی نہیں، بل کہ موت کے بعد باقی رہنے والے شعور کی اذیت کا استعارہ ہے۔ ” مرگِ دوام” صرف ایک سادہ بیانیہ نہیں، انسانی شعور، شناخت اور خودی کی گتھیوں میں الجھا ہوا ایک وجودی المیہ ہے۔

ناول کا مرکزی کردار ایک ماورائے فہم خارجی صورتِ حال کا شکار ہے۔ اس کی ساری داخلی زندگی اسی صورت حال میں جذب ہو گئی ہے۔ اس کے باطن کی پرتیں: خوف، امید، اضطراب اور خواہش اسی خارجی حقیقت میں مُحَلّل ہیں۔ وہ جو کچھ محسوس کرتا ہے، جو کچھ سوچتا ہے، وہ سب کچھ اسی صورتِ حال کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ اور بالآخر یہ صورت حال خود بھی ایک وجودی امکان کا روپ دھار لیتی ہے:

” کیا میں اس شہر کے اندر بنے ہوئے کسی دوسرے شہر کے اندر گم ہو چکا ہوں؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ واقعی زمین غلط سمت گھوم گئی ہو اور میں کسی ایسی دنیا میں پہنچ گیا ہوں جسے میں پہلی بار دیکھ رہا ہوں؟ مجھے ہر چیز اجنبی کیوں نظر آ رہی ہے جیسے میں کسی دوسرے سیارے سے آیا ہوا جاندار ہوں جو ابھی ابھی اڑن طشتری سے اترا ہے؟ اور یہ سڑک ختم ہونے کا نام کیوں نہیں لیتی ۔۔۔۔۔ کیا میں اس پر زندگی بھر چلتا رہوں گا؟ ( صفحہ نمبر 150)

ناول نگار نے کتنی عمدگی سے راوی کی داخلی کشمکش، احساسِ اجنبیت اور وجودی بے یقینی کو زینتِ قرطاس بنایا ہے۔

صفحہ نمبر 168 کی یہ سطور دیکھیے جنھیں پڑھتے ہوئے محسوس ہوتا ہے کہ راوی حالات کے طوفانی شور میں گم ایک ڈوبتا ہوا سُر ہے۔ وہ نہ اپنے خوف سے جدا ہے، نہ اپنی امید سے؛ دونوں ایک دوسرے میں گتھے ہوئے ہیں، اور یہ گتھم گتھا کیفیت اسے مسلسل کشمکش میں مبتلا رکھتی ہے:

” اکثر کسی پبلک پارک میں بنچ پر بیٹھ کر، یا فٹ پاتھ پر چلتے ہوئے جبکہ میری کوئی بھی منزل نہیں ہوتی، میں خود سے سوال کرنے لگتا ہوں کہ میں اس شہر میں کیا کر رہا ہوں، کہ یہاں میرے ہونے کا مقصد کیا ہے جبکہ میں یہاں پر سرے سے موجود ہی نہیں ہوں؟ شاید میرے اندر اپنے شہر واپس لوٹنے کی ہمت نہیں ہے، شاید میں انتظار کر رہا ہوں کہ تھوڑا وقت اور گزر جائے، میں چیزوں کو تھوڑا بہتر طور پر سمجھ لوں؛ یا پھر یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اب بھی میں کسی طرح کی احمقانہ امید میں گرفتار ہوں کہ واقعات کبھی بھی نیا موڑ لے سکتے ہیں، ہو سکتا آسمان صاف ہو جائے، سورج چمک اٹھے اور حالات معمول پر آ جائیں۔ ہو سکتا ہے یہ اور کچھ نہیں صرف ایک برا خواب ہو جس سے جاگ کر میں پھر سے حقیقت کی دنیا میں لوٹ آؤں جہاں ماں میرا انتظار کر رہی ہوگی۔”

صدیق عالم نے اپنے کرداروں کی نفسیاتی ساکھ کو ایسی فن کارانہ صناعی کے ساتھ ابھارا ہے کہ قاری یقین کرنے لگتا ہے کہ ان کے ساتھ پیش آنے والے واقعات یہی نتائج پیدا کریں گے۔

صدیق عالم اس ناول میں حقیقت کے ساتھ ایک تخلیقی رشتہ استوار کرتے ہوئے اس حقیقت کے ساتھ ایک تخیلاتی کش مکش میں بھی مصروف نظر آتے ہیں یعنی وہ حقیقت کو ہر ممکنہ طریقہ سے بدلنے میں مشغول ہیں۔ ناول نگار نے اس ناول میں کتنی تخلیقی وضاحت سے یہ امر آشکار کیا ہے کہ ہئیت اور مواد جامد اکائیاں نہیں ہیں۔ ہئیت، مواد کا تخیل و تخلیق میں گتھا ہوا غیر منفعل نتیجہ ہے۔

ناول اس بات کا عکاس ہے کہ آج کے معاشرتی، سیاسی، اور ثقافتی حالات میں انسان اپنی زات میں تنہائی کا شکار ہو گیا ہے، جہاں وہ اپنے آپ سے یا دوسروں سے گہری سطح پر جڑ نہیں پاتا۔ یہ ناول آج کے انسان کی ذہنی اور روحانی تنہائی کا عکس ہے جو انسانی روح کی پیچیدگیوں اور داخلی تنازعات کو منکشف کرتے ہوئے باور کراتا ہے کہ یہ تنہائی محض جغرافیائی یا جسمانی اکیلا پن نہیں ہے بل کہ ایک گہری داخلی مایوسی ہے جو انسان کو اپنے وجود کے بارے میں سوالات کرنے پر مجبور کرتی ہے۔ صفحہ نمبر 240 کی یہ سطور اسی ازلی تنہائی کا نوحہ ہیں:

” خود قدرت کو اس سے کوئی مطلب نہیں کہ اس نے انسان کو بنا کر اس کی زندگی میں کتنا خالی پن، کتنی خاموشی، کتنی ویرانی بھر دی ہے کہ اس سے فرار کی کوشش میں اسے جانے کیا کیا پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں، کتنی بلندیاں طے کرنی پڑتی ہیں، تصورات کی دنیا کو کائنات کے آخری سِرے تک پھیلانا پڑتا ہے، گھر کی دیواروں کو رنگنے سے لے کر وارڈروب کو انواع و اقسام کے کپڑوں سے بھرنےتک، قومیت کے تصور میں پناہ لینے سے گروہی قتلِ عام تک کے مرحلے طے کرنے پڑتے ہیں۔ شاید حقیقت اتنا بھاری پتھر ہے کہ انسان اسےاٹھا کر چل نہیں سکتا، اس لیے اپنی روزمرہ کی زندگی گزارنے کے لیے اسے فکشن کی ایک پوری کائنات تخلیق کرنی پڑتی ہے۔”

یہ بھی دیکھیے:

” ہم انسان ایک افراتفری اور اتفاقات کی پیداوار ہیں اور ہمارا وجود ان ککرمتّوں سے الگ کچھ نہیں جو درخت کی سڑی گلی چھالوں، پھپھوندی سے ڈھکی ہوئی لکڑیوں یا بدبو چھوڑتی ہوئی دلدلی زمین سے آگ آتے ہیں اور پھر مر کر مٹی میں مل جاتے ہیں۔” ( صفحہ نمبر 240-241)

ایک شدید احساس سارے ناول پر چھایا ہوا ہے: رائیگانی کا احساس۔ یہ احساس کبھی کبھی کرداروں کے جسموں کو چھوڑ کر خود بھی کردار بن جاتا ہے۔

ناول میں بیانیہ، تفکر اور نقطہء نظر ایک غیر منقسم اور فطری بہاؤ میں باہم ساتھ ساتھ چلتے ہیں۔ ناول نگار نے فکر اور بیانیہ کو ہم آمیز کر دیا ہے اور کمال یہ ہے کہ تفکر کی ترسیل کے دوران ناول کے تعمیری ڈھانچے کی لطافت کو بھی زائل نہیں ہونے دیا۔ صدیق عالم نے اپنے کئی ہم عصر ناول نگاروں کی طرح ناول کی ہئیت کو اپنے افکار کی تشریح کا زریعہ نہیں بنایا۔ اس کی فکر ناول کی کہانی، کرداروں اور بیانیے میں تحلیل ہو کر سراسر مفروضیاتی صورت میں سامنے آتی ہے جو صرف فکشن کا طرہء امتیاز ہے۔ فکشن میں داخل ہوتے ہی فکر و فلسفہ کی ماہیت بدل جاتی ہے۔ فکشن سے باہر کی دنیا دعووں کی دنیا ہے۔ فکشن فکر و فلسفہ کو سوال اور مفروضہ میں بدل دیتا ہے۔

صدیق عالم فکر و فلسفہ کی پرورش کسی مجرد اقلیم میں نہیں کرتے بل کہ اس کی صورت گری کرداروں، محل وقوع، منظر، اور کہانی میں تخلیقی تحلیل کے زریعے ایسی فن کارانہ دروبست سے کرتے ہیں کہ فکر و فلسفہ ناول کی وحدت میں یوں جذب ہو جاتا ہے جیسے مٹی میں نمی۔ فلسفہ اور فکر کسی الگ تھلگ فکری بحث، مجرد مبحث یا نظریاتی وعظ نہیں بنتا بلکہ ناول کی زندگی میں شامل ہو کر سانس لیتا ہے۔ صفحہ نمبر 222 کی یہ سطور ملاحظہ فرمائیں جہاں گندھارا راوی کو اپنے بھائی کی پینٹنگ کے بارے میں بتاتی ہے:

” اسے ماڈلوں سے کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ وہ ماڈل کو پینٹنگ کے بنیادی اصول کے خلاف سمجھتا ہے۔ اس کے خیال میں مصور جو چیز بناتا ہے وہ اور کچھ نہیں، کسی بھی انسان یا منظر یا کسی چیز کے سلسلے میں بنائی ہوئی مصور کی اپنی سوچ ہوتی ہےجو ایک پتلی سی لکیر کو بھی ایک خاص چیز بنا دیتی ہے۔ اسے حقیقت کی دنیا سے چڑ ہے، وہ اس سے اپنی پینٹگ کو داغدار نہیں کرنا چاہتا؛ اس کے خیال کے مطابق، وہ لاکھ کوشش کر لے حقیقت اس کے برش سے ہمیشہ دور رہنے پر مجبور ہوگی، کیونکہ اس کا سرے سے کوئی وجود ہے ہی نہیں۔”

صفحہ نمبر 453 پر راوی اور گندھارا کی پرچھائی کے مابین یہ مکالمہ بھی ملاحظہ کیجیے:

” تمھیں نہیں لگتا تم کسی چور زمین پر کھڑے ہو؟ میں کچھ بھی نہیں، صرف تمھارا بنایا ہوا فریب ہوں جو تم ہمیشہ خود کو دیتے آئے ہو۔ ہم دونوں نہ آج ہیں نہ کبھی تھے، مگر اس کائنات میں ہمیشہ موجود رہیں گے۔ اس نے آگے بڑھ کر اپنی گرم انگلی میری پیشانی پر رکھ دی۔ کچھ بھی حقیقت نہیں ہے، نہ تمھارا وجود، نہ تمھارا تصور۔ اس کائنات میں کوئی بھی شے پیدا نہیں ہوتی۔ یہ ایک مرگِ دوام کا کھیل ہے، جو کسی نہ کسی شکل میں ہمیشہ چلتا رہے گا، کیونکہ یہی ہمارے زندہ رہنے کی دلیل ہے۔۔۔۔ ایک مرگِ دوام کے گرد گردش کرتی ہرچھائیاں۔۔۔۔ اور کچھ بھی نہیں۔”

حقیقت، وجود اور موت سے متعلق یہ گہرا فکری اضطراب کس تخلیقی انداز میں ناول کے بنیادی تھیم میں گوندھا گیا ہے۔

مصنف کے ہاں کردار ایک مکمل سوانحی خاکہ بن کر سامنے نہیں آتے۔ وہ زندگی کے بکھرے ہوئے لمحوں سے تراشے گئے ایسے وجود ہیں جو محض دکھائی نہیں دیتے، بل کہ محسوس ہوتے ہیں۔ صدیق عالم کرداروں کے تعارف کے پلڑے میں نہ الفاظ کا بوجھ ڈالتے ہیں، نہ ہی کرداروں پر خارجی تفصیلات کی غیر ضروری پرتیں چڑھاتے ہیں۔ ان کا ہنر یہ ہے کہ وہ کردار کے وجود کے اس نازک مقام کو چھو لیتے ہیں جہاں اس کی زندگی کی اصل تلخی اور سچائی سانس لیتی ہے۔ صفحہ نمبر 300 کی یہ سطور ملاحظہ کیجیے:

” کرائسٹ کی دن بدن بگڑتی صحت، گھر کے اندر گہرا پڑتا سناٹا، آسمان سے اترتا اندھیرا، یہ ساری چیزیں مجھ پر بوجھ بنتی جا رہی تھیں۔ کبھی کبھار مجھے ایسا لگتا، میں بھی ان لوگوں کی طرح زندگی کی لعنت کو جھیل رہا ہوں۔ کاش میری موت مکمل ہوتی۔ کاش مجھے دنیا میں یہ سب کچھ نہ دیکھنا پڑتا۔ یہ ایک دو دن کا معاملہ نہیں۔۔ میں سالوں سال آنکھیں بند کرکے اتنے دکھوں کا سامنا نہیں کر سکتا، جبکہ زاتی طور پر ان سے میرا کوئی تعلق بھی نہیں۔ آخر مجھے ایسا کیوں محسوس ہونے لگا ہے جیسے میں ان زندہ لوگوں کے اندر سانس لے رہا ہوں؟ کہ یہ دوسروں کے دلوں کی دھڑکنیں ہیں جو میرے دورانِ خون کا پتہ دے رہی ہیں، یہ میں نہیں بلکہ دنیا میں زندہ لوگ طے کر رہے ہیں کہ میں کیا ہوں، کیا نہیں ہوں، میرا وجود ہے یا نہیں، کہ وقت میرے لیے کوئی اہمیت رکھتا ہے یا نہیں۔۔۔۔ گھڑی کے کانٹے اور کیلنڈر میرے لیے دن بدن نئی اہمیت کے حامل کیوں ہوتے جا رہے ہیں، جبکہ دل و جان سے میں ان سے پیچھا چھڑانا چاہتا ہوں؟”

صدیق عالم بہ خوبی جانتے ہیں کہ کردار کسی حقیقی وجود کا چربہ نہیں ہوتا بل کہ ایک فرضی وجود اور ایک تجرباتی زات ہوتا ہے۔ کردار کی تخلیق کسی روشن لمحے میں، فن کار کے تخیل اور انسانی وجود کی امکانی صورت کا اتصال ہے۔ اسی لیے وہ واقعیت نگاری اور کردار کی شباہت کے بیان کی بجائے اس کے وجودی مسئلے کے جوہر کی جڑیں تلاش کرتے ہیں. صفحہ نمبر 301 کی یہ سطور دیکھیے جہاں تھیلیسیمیا کا شکار، کرائسٹ نامی بچہ موت کی وادی میں اتر رہا ہے اور یہ المیہ دیکھتے ہوئے راوی کی بے بسی اس کے وجودی کرب کی زبان بن جاتی ہے:

” وقت گزرتا جا رہا ہے۔ نہیں، شاید وقت گزر نہیں رہا ہے۔ شہر کے اندر میرا وقت ختم ہو ہو رہا ہے۔ میں کرائسٹ سے دور رہنے لگا ہوں۔ مجھے اس کی آنکھوں سے لکی جھانکتا نظر آتا ہے۔ جب میں زندہ تھا تو ایسا انسان بالکل نہیں تھا جس کے اندر موت کے سلسلے میں اس طرح کے خوف پائے جاتے ہوں۔ پھر یہ کمزوری کیسے میرے اندر گھر کر گئی؟ آخر میرے یہاں ہونے کا جواز کیا ہے جبکہ میں زندہ لوگوں کے لیے کوئی معنی نہیں رکھتا؟ کل ملا کر میری حیثیت اس تماشائی کی بن چکی ہے جسے اپنے سامنے چلنے والی کہانی کے اختتام کا پتہ ہے۔ حال کے دنوں میں میرے ساتھ ایسا کیوں ہو رہا ہےکہ میں جہاں جاتا ہوں، موت کسی نہ کسی شکل میں میرے سامنے آ کھڑی ہو جاتی ہے؟”

احساسات اور محسوسات، جو بظاہر چھوٹے اور عارضی لگتے ہیں، دراصل وجود کی گہرائیوں میں جاکر ایسی تہیں کھولتے ہیں جہاں لفظ، منطق اور عقل کی رسائی ختم ہونے لگتی ہے۔ ایک لمحے کا درد، ایک نظر کی خوشی، یا ایک خیال کی گونج انسانی وجود کی کیسی کیسی گتھیاں کھولتی ہیں۔ صفحہ نمبر 407 کی یہ سطور ملاحظہ کیجیے جہاں مراد کی موت راوی کو ایک مرتبہ پھر اسی بےبسی اور لاچاری کے کرب ناک احساس کا شکار کرتی ہے جو اب سایہ بن کر اس کے ساتھ ساتھ چلنے لگا ہے:

” اس دن مجھے شدت سے سند باد کی یاد آئی۔ کچھ بلاوجہ ہی وہ اپنی موت سے فرار حاصل کرنا نہیں چاہتا تھا۔ کون ایسی زندگی جینا چاہے گا جس میں تمھارے ہاتھ میں کچھ بھی نہ ہو؛ نہ تم چیزوں کو بدل سکتے ہو، نہ کسی چیز کو ہونے سے روک سکتے ہو۔”

صدیق عالم کا تخلیقی شعور روایتی بیانیے سے آگے بڑھ کر ایک وجودی بصیرت اختیار کر لیتا ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ انسان کی سچائی اس کے دکھ، اس کی الجھنوں، اور اس کی خاموش ٹوٹ پھوٹ میں چھپی ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے کرداروں کا کرب ہمیں بلند آہنگ بیانات میں نہیں، بلکہ چھوٹے چھوٹے اشاروں، غیر واضح کیفیتوں، اور دبے دبے سوالوں میں سنائی دیتا ہے۔ وہ اپنے کرداروں کو محض چلتا پھرتا وجود نہیں بناتے، بلکہ انہیں ایک سوال، ایک اضطراب، ایک نہ ختم ہونے والی تلاش میں ڈھال دیتے ہیں۔ ملاحظہ فرمائیں:

” نہیں، میں شعوری طور پر گندھارا کے گھر کو نظر انداز کرکے اسے ہمیشہ کے لیے اپنے لاشعور کا حصہ نہیں بننے دے سکتا۔ اگر میں نے اس گھر کو یوں ہی جانے دیا تو یہ مکان اپنی نمناک دیواروں، سرخ برآمدوں، چوکور ستونوں، دوہرے کواڑ والے دروازوں اور دریچوں، نیز وسیع و عریض ٹیرس کے ساتھ، جو اس مکان کی سب سے نمایاں چیز تھی بلکہ میرے لاشعور میں مینارہء نور کی طرح روشن تھی، ہمیشہ میرا پیچھا کرتی رہے گی۔ میری تنہائی مجھ پر کم بوجھ نہیں کہ ایک اور بوجھ کندھے پر اٹھا لوں۔ چاہے وہ جیسے بھی ہو۔ گندھارا کے واقعے کا خاتمہ ضروری ہے۔ ” ( صفحہ نمبر 261)

ناول میں موضوعات کے بیان میں کسی قسم کی مشینی ترتیب نظر نہیں آتی۔ ناول پڑھتے ہوئے کسی لحظہ بھی آنکھوں میں ادبی میکانکیت کا موتیا نہیں اترتا۔ ناول نگار نے بڑے تخلیقی رکھ رکھاؤ سے ناول میں وحدتِ عمل قائم رکھنے کی فنی زمہ داری نبھائی ہے۔ ناول کے واقعات ایک دوسرے سے جدا ہو کر بامعنی نہیں رہتے ہر قصہ دوسرے قصہ پر روشنی ڈالتا ہے اس کی تشریح کرتا ہے۔ یہ سب مل جل کر ایک ہی معاملہ کی جانچ کرتے ہیں۔ سب کے لبوں پر ایک ہی سوال ہے۔

"مرگِ دوام” کے مختلف کردار اپنی الگ دنیاؤں میں سانس لیتے نظر آتے ہیں، مگر درد کا غیرمرئی رشتہ انھیں ایک لڑی میں پرو دیتا ہے۔ انسان اور اس کی جبلّی قوّتوں کی ابدی کشمکش سے جنم لینے والا تناؤ نہ صرف ان کے باطن کو جھنجھوڑتا ہے بلکہ انھیں ایک کولاژ جیسی وحدت میں ڈھال دیتا ہے۔ یوں ہر کردار اپنی ذاتی آزمائش میں تنہا ہونے کے باوجود، اس گہرے اور مشترکہ انسانی تجربے کا حصہ بن جاتا ہے جو وجود کی اصل حقیقت پر روشنی ڈالتا ہے۔

یہ تخلیقی تناؤ نہ صرف ہر کردار کی ذاتی جستجو کو معنی عطا کرتا ہے، بلکہ ایک بڑے اور کائناتی منظرنامے میں اُنہیں ہم آہنگ کرتا چلا جاتا ہے۔ اس طرح درد، تنہائی، اور لاشعور میں پوشیدہ محرّکات مل کر ایک نادیدہ دائرہ تخلیق کرتے ہیں، جو قاری کو اس گہرے فلسفیانہ تصور کی طرف متوجہ کرتا ہے کہ انسان اپنی وجودی حقیقتوں سے فرار نہیں پا سکتا۔ اس کے بجائے، وہ اپنی تقدیر میں نہاں تلخ سچائیوں اور داخلی آشوب کو قبول کر کے اپنے آپ سے ہم کلام ہوتا ہے۔

"مرگِ دوام” کا مصنف خیالات کے بحران کا شکار نہیں ہے۔ وہ اپنے ناول کا پیٹ جسم و روح کی گم راہیوں، خود تراشیدہ نفسیاتی تنازعات، تاریخ، صحافت اور معلوماتِ عامہ سے تیار کردہ مواد سے نہیں بھرتا۔ اس کا زرخیر تخیل انسانی افکار، جذبات و احساسات کے فن کارانہ اظہار کے تمثیلی سانچے تیار کرتا ہے: صفحہ نمبر 61 پر گندھارا کا راوی سے مکالمہ دیکھیے:

” ہم انسان دراصل قصہ گو ہیں، مفاہیم گر، جنھیں خود کو کہانی سنا کر سلانا اچھا لگتا ہے۔ اس معاملے میں ہم سے بڑا کہانی کار اس کائنات میں اور کوئی ہو ہی نہیں سکتا۔ دوسری طرف ہمیں خلا سے خود آتا ہے، اس لیے ہم اسے لفظوں سے بھرتے رہتے ہیں۔”

صفحہ نمبر 127 یہ سطور بھی پڑھیے جہاں سند باد راوی کو باور کرا رہا ہے:

” اگر تمھارے پاس آنکھیں ہوں تو تمھیں دکھائی دے گا کہ ایسی کوئی جگہ نہ ہوگی جہاں انسان یا تو فرشتوں کی طرح زندگی گزارنے کا ڈھونگ نہ رچا رہا ہو یا جانور کی زندگی جینے پر مجبور نہ ہو، شاید اس لیے کہ اس کے پاس انسان بننے کا وقت نہیں ہے۔”

صفحہ نمبر 128 پر بھی سند باد کا بیان جاری ہے:

” سچ کہوں تو دنیا کا کوئی شہر نہ ہوگا جس کی اپنی کہانی نہ ہو، جس کا اپنا عروج و زوال نہ ہو مگر ہر کہانی ایک دوسرے سے الگ رہ کر بھی بنیادی طور پر ایک ہی کہانی ہوتی ہے۔ اس لیے میں کہیں بھی چلا جاؤں، دنیا کے کسی بھی کونے میں رہوں، ہمیشہ ایک ہی شہر کے اندر رہوں گا، بلکہ دنیا کا ہر شہر وہ شہر ہونے پر مجبور ہوگا جو وہ نہیں ہے۔”

صفحہ نمبر 193 جہاں پولیس طوائفوں کو گرفتار کرتی ہے:

” یہ طے ہے کہ ایک بار پولیس کے ہتھے چڑھ جانے کے بعد وہ اپنے پوری مہینے کی آمدنی سے محروم ہو جائیں گی۔ یہ وہ بد نصیب لوگ ہیں جنھیں بھوک اور قانون کے بیچ زندہ رہنے کے لیے زمین تلاش کرنی پڑتی ہے۔”

ایسے کتنے ہی جملے ہیں جو کہانی کے تھیم اور کرداروں کے طور طریقوں میں رچے بسے، ناول میں صفحہ در صفحہ اپنی روشنی بکھیرتے ہیں۔

ناول میں جنس کے پیچھے کھڑی عورت کے انسان ہونے کا تاثر بہت گہرا ہے۔ بیدار جسم، روح اور ذہن کی مالک عورت: ذہانت، جنسیت اور روحانیت کا امتزاج۔ عورت کی طرف ناول نگار کا رویہ جنسی نفسیات کے ساتھ ساتھ جمالیاتی و فلسفیانہ بھی ہے۔ ناول میں جنس پراسرار، رومان انگیز اور تمنا آفرین ہے۔ گندھارا فقط جنسی معروض نہیں ہے بل کہ جذباتی کشمکش اور نفسیاتی پہلوؤں کو ابھارتا ہوا ایک زندہ کردار ہے۔ مرکزی کردار کا رویہ بھی گندھارا کی طرف بعینہٖ اسی نوع کا ہے۔ جنس کی گرم بازاری میں بھی ناول نگار نے گندھارا کی نفسیات اور جذبات سے فکری تعلق نہیں توڑا۔ اس کا عورت کی جنسیات اور نفسیات کا مشاہدہ قابلِ تعریف ہے۔ مرکزی کردار کا گندھارا کے ساتھ تعلق جنس، جذبات اور محبت کے ملے جلے رنگوں سے بھیگا ہوا ہے کبھی جنس کا رنگ زیادہ گہرا محسوس ہوتا ہے کہیں جذبات اور محبت نمایاں ہونے لگتے ہیں لیکن یہ سب کچھ اتنا وقتی اور عارضی محسوس ہوتا ہے کہ قاری کے لیے یہ فیصلہ کرنا مشکل ہو جاتا ہے کہ آخر مرکزی کردار کا گندھارا کے ساتھ اصل رشتہ ہے کیا۔ ایک نیم رومانی مزاحمتوں سے پلتا جنسی محبت کا رشتہ یا تنہائیوں کے دھاگے سے بندھے احساس کا تعلق۔

"مرگ دوام” میں صدیق عالم نے کئی مقامات پر بیانیہ سے ترسیل ہی نہیں انکشاف اور تحلیل و تجزیہ کے امکانات ابھارنے کا کام بھی لیا ہے۔ صفحہ نمبر 252 جہاں راوی کا غیر مرئی وجود، گندھارا کے بھائی کو گندھارا کی جوانی کی تصویر کے سامنے رکھ کر مشت زنی کرتے ہوئے دیکھتا ہے کو بہ طور مثال پیش کیا جا سکتا ہے:

” بلکہ ایک بار میں نے اسے ٹیرس پر، بوگنویلیا کے پتوں کے سائے میں سیمنٹ کے فرش پر بیٹھ کر مشت زنی بھی کرتے ہوئے پایا ہے۔ گرچہ میں اس کے اس فعل کو اوچھی نظر سے نہیں دیکھ سکتا کیونکہ یہ وہ جبلی آگ ہے جو انسان کو کسی نہ کسی طرح بجھانی ہی پڑتی ہے، مگر مجھے یہ دیکھ کر سخت تکلیف پہنچتی ہے کہ جب وہ اس عمل میں مصروف تھا تو اس نے دیوار سے ٹکا کر گندھارا کی جوانی کی تصویر کھڑی کر رکھی تھی۔ یہ منظر میرے تابوت پر آخری کیل ثابت ہوا۔۔۔۔ میں نے گندھارا کے گھر جانا چھوڑ دیا۔ اب گندھارا مجھے خود سے ساحل پر دکھائی دے جائے تو الگ بات ہے، میرے اندر اس کا سامنا کرنے کی ہمت نہیں ہے۔”

گندھارا کی تصویر دیکھ کر مشت زنی اس کا بھائی کرتا ہے لیکن راوی میں گندھارا کا سامنا کرنے کی ہمت کیوں نہیں ہے؟ یہ ایک سوال تشریحات کے باب در باب وا کیے جاتا ہے۔ غیر مرئی کردار نے جو کچھ دیکھا، وہ محض ایک فحش منظر نہیں بل کہ ایک "ممنوعہ علم” ہے۔ اس کا علم ہونا خود میں ایک بوجھ ہے۔ دیکھنا یہاں ایک بے ضرر فعل نہیں رہا؛ اس کی نگاہ شاید شریکِ جرم بن گئی ہے۔ یہ ایک اہم اخلاقی نکتہ ہےکیا محض کسی برے فعل کا گواہ ہونا بھی ایک اخلاقی آلودگی ہے؟ گندھارا اس منظر میں جسمانی طور پر غیر حاضر ہے، لیکن وہ مرکزی شبیہ ہے۔ اس کی تصویر ایک محفوظ، معصوم، اور محبت آمیز وجود کی علامت ہے مگر جیسے ہی بھائی کی شہوانی نظر اس تصویر کو آلودہ کرتی ہے، وہ معصوم شبیہ ٹوٹ جاتی ہے۔ یہ وہ لمحہ ہے جب محبت جمالیات سے نکل کر اخلاقی المیے میں بدل جاتی ہے۔

صفحہ نمبر 357 کی یہ سطور بھی ملاحظہ فرمائیں:

” آج میں جان چکا ہوں، موت جسم کے ساتھ مر نہیں جاتی۔
یہ ایک چور زمین بھی نہیں جس میں قدم رکھتے ہی انسان کا وجود غائب ہو جائے۔
نہ ہی یہ کسی دوسری دنیا کا دروازہ ہمارے لیے کھولتی ہے۔
کم از کم ابھی تک میں نے اپنے سامنے ایسا کوئی دروازہ کھلتے نہیں دیکھا ہے۔”

صدیق عالم نے احساسات کی سربستہ زندگی کو کس تخلیقی سطح پر بے نقاب کیا ہے۔ یہ اقتباس شعور، موت کے مفہوم اور اس کے بعد کی ممکنہ حقیقتوں پر ایک گہرا فکری سوال اٹھاتا ہے۔ یہ تحریر یقین کی کوئی ٹھوس بنیاد فراہم نہیں کرتی، بلکہ قاری کو غور و فکر کی راہ پر گامزن کرتی ہے۔ اس کی اصل جمالیاتی اہمیت اسی فکری پیچیدگی میں پوشیدہ ہے۔

"مرگِ دوام” کا بیانیہ ایک ایسی دُھند بھری وادی کی مانند ہے جہاں معنویت کے بے شمار امکانات ستاروں کی طرح جھلملاتے ہیں۔ قاری، اپنے باطن کی روشنی سے، ان میں سے کسی ایک مفہوم کو جھپٹ لیتا ہے اور باقی معانی احساس اور شعور کے کہرے میں نیم روشن خوابوں کی طرح کبھی اُبھرتے، کبھی ڈوبتے ہیں۔ ان میں سے بعض مفاہیم دل کی سطح پر ہلکی سی لرزش پیدا کرتے ہیں اور پھر تحت الشعور کی خوابیدہ وادیوں میں اتر جاتے ہیں، تاوقتیکہ کوئی اور لفظ، کوئی واقعہ اور احساس اُنھیں بیدار کر دے۔ ایک سادہ سا جملہ قاری کے ذہن میں ایک مکمل کائنات کی صورت اختیار کر لیتا ہے، جہاں معنی مسلسل سفر میں ہیں، روشنی اور تاریکی کے درمیان جھولتے، گہرے سکوت میں گونجتے ہوئے:

"کیا کسی چیز سے کلی انکار اس چیز کی غلامی کی طرف بڑھایا گیا پہلا قدم نہیں ہوتا، جو نہ چاہتے ہوئے بھی ایک بھاری پتھر کی طرح ہمیں مرتے دم تک اپنے ساتھ باندھے رکھتی ہے؟” (صفحہ نمبر 281 )

صفحہ نمبر 311 کی یہ سطور بھی دیکھیے:

” ہر بار میری سوچ کی چُولیں گھوم پھر کر ایک ہی جگہ آ جاتیں اور مجھے سوچنے پر مجبور ہونا پڑا کہ میں اپنے حافظے کے جن سے کبھی نجات حاصل کر پاؤں گا یا وہ ہمیشہ مجھے اپنی گرفت میں لے کر پرواز کرتا رہے گا! مٹی، ہوا اور پانی سے بنی اس دنیا میں ایسی کوئی تو جگہ ہوگی جہاں وقت ساحل سے ٹکرانے والی موج کی طرح دن رات انسان کو اندر سے کھرچتا نہ رہے۔”

انسانی ذہن میں وقت کے ساتھ جاری رہنے والی یادداشتوں کی کشمکش، اور اس سے آزادی کی آرزو کا احساس تخلیق کا جادوئی لمس پاتے ہی ایک نئے مفہوم میں سانس لینے لگتا ہے ۔ ناول نگار نے کس فن کارانہ رچاؤ کے ساتھ ایک انفرادی تجربے کو آفاقی احساس میں ڈھالا ہے۔

ناول میں ماحول کی تفصیلات اس مشاقی سے بیان کی گئی ہیں کہ وہ قاری کے فہم کو متشکل کر کے اس کے پڑھنے کے تجربے کو بصری تجربے میں بدل دیتی ہیں۔ صفحہ نمبر 223 دیکھیے:

” کمرے میں اندھیرا نہیں تھا۔ نائٹ ٹیبل پر لیمپ جل رہا تھا جس کی بیضوی روشنی لیمپ شیڈ کے اوپری سرے سے نکل کر چھت کی کڑیوں کو منور کر رہی تھی۔ یہ لیمپ شیڈ کے کپڑے سے چھن چھن کر آتی روشنی کا کارنامہ تھا کہ دیواروں کا رنگ بدل گیا تھا، فرش پر بچھے ہوئے سیاہ اور گیروے رنگ کے ٹائلوں سے لے کر پلنگ، الماری اور باقی فرنیچر تک چمک اٹھا تھا، دیواروں سے لٹکتے تصویروں کے فریم سے انسانی آنکھیں اس طرح جھانک رہی تھیں جیسے زندہ ہو گئی ہوں۔ کل ملا کر نفاست سے سجا سجایا یہ ایک ایسا کمرہ تھا جس کی کھڑکیوں سے میں لگی ہوئی سلاخیں ایک گھپ تاریک رات پر عمودی لکیریں کھینچنے میں مصروف تھیں جو کبھی دکھائی دیتیں اور کبھی دکھائی دینا بند ہو جاتیں، باہر خلا میں لٹکی ہوئی جھلملیوں پر ستارے جھلملا رہے تھے۔ آپ کو کھڑکی سے ہاتھ نکالنے کی دیر ہے اور آپ ستاروں کو اپنی مُٹھی میں لے سکتے ہیں۔”

کہانی اور راوی کے کردار کے تناظر میں یہ ایک طرح کی درون بینی محسوس ہوتی ہے یعنی یہ محض منظر کشی نہیں کردار کی نفسیاتی کیفیت کی توسیع بھی ہے۔ کمرہ وہی ہے مگر روشنی اور راوی کے باطن کے امتزاج سے سب کچھ نیا ہو گیا ہے اور اشیاء اپنی اصل سے نہیں بل کہ شعور کے تعامل سے معنی اخذ کر رہی ہیں۔

مصنف کی خوبیء فن یہ ہے کہ موضوع کی پیچیدگی اور کہانی کے نشیب و فراز کے باوصف وہ ایسی نادر کاری سے کام لیتا ہے کہ اس کے اسلوب میں تعقید، اشکال یا الجھاؤ پیدا نہیں ہوتا۔ اور بیانیہ ایسا سحر انگیز کہ تحیر میں مانوسیت اور مانوسیت میں حیرت پیدا ہونے لگتی ہے۔

فن کار جب کسی کردار کو بُنتا ہے تو وہ اپنی زات اور انسانی وجود کی ایک امکانی صورت کے درمیان ایک ربط جو وقت کے ایک زندہ لمحہ میں روشن ہوتا ہے، منکشف کرتا ہے۔ یہ کردار صرف اپنی نمائندگی نہیں کرتا بل کہ فن کار اور اپنے درمیان اس ربط کی عکاسی بھی کرتا ہے جو ایک زندہ لمحہ میں منکشف ہوا۔ یہ ربط، یہ تعلق دائمی نہیں بل کہ ہر لمحہ ارتقاء پذیر ہے، اسی لیے ناول میں تازگی، شادابی اور زندگی موجود رہتی ہے۔ قدیم، فرسودہ روابط یا پہلے سے تجربے میں آ چکے روابط کو نئے، زرق برق ملبوسات میں پیش کرنے سے ناول ناول نہیں رہتا پرانے روابط کی کھتونی بن جاتا ہے۔ صدیق عالم یہ بات اچھی طرح جانتے ہیں کہ فن کار کے پاس صرف اسی ناول کو لکھنے کا حق ہے جس میں نئی اور طبع زاد بات ہو اور "مرگِ دوام” اس تخلیقی شعور کا فن کارانہ اظہار ہے۔

ناول اول اول کردار کے عمل سے اس کی زات اور آخر آخر کردار کی باطنی کیفیات سے اس کی انفرادیت کی دریافت کا عمل ہے۔ یقیناً یہ عمل کاملاً ممکن نہیں ہے۔ تاہم ناول کی کامیابی کا دارومدار اس امر پر ہے کہ یہ عمل ناول کے امکانات کی حدود میں رہتے ہوئے کس قدر کام یاب ہوتا ہے یا ناول کی حدود کی نشان دہی کرنے میں کتنا سپھل ہوتا ہے۔ اس نقطہء نظر کے تناظر میں ” مرگِ دوام” کامیاب ناولوں کی صف میں نظر آتا ہے۔

” مرگِ دوام "انسانی وجود کے ایک حیرت انگیز امکان کو گرفت میں لاتا ہے۔ انسانی وجود کی ایک ناشناسہ قلمرو کی تخلیقی دریافت اس ناول کا کارنامہ ہے۔ یہ اقلیم نہ صرف مکان سے آزاد ہے بلکہ زمان کے پابند حلقے بھی توڑ دیتی ہے۔ یہاں ہر امکان، ایک خاموش صدا ہے جو شعور کی گہرائیوں سے ابھرتی ہے؛ ہر صورتِ حال، ایک آئینہ ہے جو وجود کی ان چھپی پرتوں کو دکھاتا ہے جن سے خود انسان بھی ناواقف ہے۔
یہ اقلیم روشنی اور سایے کے بیچ جھولتی رہتی ہے، نہ سراسر اجالا، نہ مکمل تاریکی: ایک ایسی سرزمین جہاں انسان، اپنے ہونے اور نہ ہونے کے بیچ معلق ہے۔

” مرگِ دوام” کی صورت حال انسانی وجود کا ایک بےحجت امکان ہے۔ اس انسان کو سمجھنا جسے اس گرداب میں پھینک دیا گیا ہے، اس کے طور طریقے، رویے، اور عمل و ردعمل جان لینا اہم ہے۔ صدیق عالم نے اس ناول کے زریعے وجود کا ایک نیا اور نامعلوم علاقہ دریافت کیا ہے۔ یہ امکان حقیقت بنتا ہے یا نہیں۔ اس بات کی حیثیت محض ثانوی ہے۔

” مرگِ دوام” کے موضوعات کا تنوع، وجودی امکانات کی اشکال ، نکتہء نظر کی بو قلمونی اور فنی محاسن کی وسعت ایک مضمون میں سمونا ممکن نہیں ہے۔ یہ مضمون اس ناول کے جہانِ حیرت میں داخلے کا محض ایک دروازہ ہے اور کچھ بھی نہیں۔

لیکن آخر میں اتنا ضرور کہوں گا کہ اچھے ناولوں کی قحط سالی میں "مرگِ دوام” ساون کا مینہ ہے۔ ایسا مینہ سرِ دامنِ کہسار جتنا برسے گا فن کی زمین اپنے اتنے ہی دفینے اگلے گی۔

Share.

Comments are closed.

Exit mobile version