"مجھے جنگ سے نہیں، جنگ کے بعد کی صورتحال سے ڈر لگتا ہے۔” یہ ڈائیلاگ مشہور سیریز Game of Thrones میں ایک کردار کی زبانی سننے کو ملتا ہے، اور حیرت کی بات یہ ہے کہ اس میں آج کی حقیقت چھپی ہوئی ہے۔ سوشل میڈیا پر جب بھی پاکستان اور بھارت کے درمیان تناؤ بڑھتا ہے تو ایک مخصوص طبقہ جنگ کو ایک تفریح بنا دیتا ہے۔ میمز بنتی ہیں، لطیفے گھڑے جاتے ہیں، اور ایسا تاثر دیا جاتا ہے جیسے جنگ کسی فلم کا سین ہو جو سب کو محظوظ کرے گا۔ لیکن اصل سوال یہ ہے کہ جنگ سے ہوگا کیا؟

جنگ صرف گولیوں، ٹینکوں اور میزائلوں کا نام نہیں۔ یہ بھوک، خوف، اور بربادی کا دوسرا نام ہے۔ جب جنگ چھڑتی ہے تو وہ صرف سرحدوں تک محدود نہیں رہتی، بلکہ ہر گلی، ہر بازار، ہر گھر تک اس کی لپیٹ آتی ہے۔ تاریخ اس بات کی گواہ ہے۔ 1965، 1971 اور کارگل کی جنگوں نے دونوں ممالک کے عوام کو جو نقصان پہنچایا، وہ آج بھی معیشت، ذہنی صحت، اور تعلقات کی صورت میں محسوس کیا جا سکتا ہے۔ لیکن یہ بات افسوسناک ہے کہ آج کی نسل جس نے نہ جنگ دیکھی ہے نہ اس کی تباہی، وہ اسے صرف اسکرین پر دیکھ کر ہیرو ازم سمجھتی ہے۔

انڈین میڈیا جنگی جنون کو ہوا دے رہا ہے۔ ایک طرف اینکرز قوم پرستی کے نعرے لگا رہے ہیں، تو دوسری طرف ہتھیاروں کی نمائش کی جا رہی ہے۔ مگر وہ بھول رہے ہیں کہ اگر جنگ ہوئی تو نقصان صرف پاکستان کا نہیں، بھارت کا بھی ہوگا۔ عالمی ماہرین، جیسا کہ نوم چومسکی اپنی کتاب Media Control میں لکھتے ہیں کہ میڈیا کس طرح عوامی رائے کو قابو میں رکھ کر اسے جنگ کی طرف مائل کرتا ہے، اور یہی کچھ اس وقت ہو رہا ہے۔ لوگ بھول گئے ہیں کہ اسلحے کے سوداگر صرف خون بیچتے ہیں، اور جنگ کا سب سے زیادہ منافع انہیں ہوتا ہے۔

جب جنگ کے بعد حالات بگڑتے ہیں، تو سب سے پہلے نوکریاں جاتی ہیں، مہنگائی آسمان کو چھونے لگتی ہے، اور غریب آدمی روٹی کے لیے ترستا ہے۔ لوگ چوہے، کتے، اور گندم کے دانے کھانے پر مجبور ہو جاتے ہیں، جیسے کہ شام، عراق اور افغانستان میں ہوا۔ عورتیں اپنے گلے کے زیورات بیچ کر سبزی خریدتی ہیں۔ یہ منظرنامے فلمی نہیں، بلکہ حقیقی ہیں۔

ہم نے وہ وقت دیکھا ہے جب دہشتگردی عام تھی۔ طالبان کے دور میں جینا، روز گھر سے نکلتے ہوئے یہ سوچنا کہ شاید واپس نہ لوٹ سکیں، یہ ہمارا معمول تھا۔ ہم نے بم دھماکوں کے بعد اپنے ہی پیاروں کی لاشیں اٹھائی ہیں۔ کیا واقعی ہم ایک اور غیر ضروری جنگ کے متحمل ہو سکتے ہیں؟ کیا ایک قوم ہونے کے ناطے ہم یہ نہیں سوچ سکتے کہ ہمیں محبت، تعلیم، روزگار، صحت اور ترقی کی بات کرنی چاہیے؟

سوشل میڈیا پر چند ہزار لائکس یا ری ٹویٹس کے لیے جنگی میمز بنانے والے شاید یہ نہیں جانتے کہ اگر جنگ چھڑ گئی، تو انٹرنیٹ، بجلی، پانی، گیس — سب کچھ ختم ہو سکتا ہے۔ اسکول بند، اسپتال ویران، اور سڑکیں خالی ہوں گی۔ تب صرف ایک خواہش بچے گی — کاش یہ جنگ نہ ہوتی۔

وقت ہے سوچنے کا۔ جنگ سے محبت نہیں، انسانیت سے محبت کریں۔ مذاق کا وقت تب ہوتا ہے جب زندگی محفوظ ہو۔ جب زندگی ہی نہ بچے تو ہنسی کس بات کی؟

Share.

Comments are closed.

Exit mobile version