اگر عرب سربراہان اسرائیل کو ٹف ٹائم دینے کی جرات نہیں رکھتے تھے تو کم از کم اس اہم ایشو کی وجہ سے اپنی ناراضی کو تو برقرار رکھتے، لیکن معلوم نہیں انہیں کیا سوجھی اور وہ لگے اسرائیل سے پینگیں بڑھانے
2011ء کے اوائل میں عرب بہار کے نام سے اٹھنے والی تحریک نے جہاں مشرق وسطی کے متاثرہ ممالک کو خطرے کی لپیٹ میں لیا وہاں اس کا ایک منفی اثر مسئلہ فلسطین پر بھی پڑا،انقلاب بہار سے قبل عرب دنیا کا سب سے بڑا مسئلہ فلسطین میں یہودی آبادکاری اور فلسطینیوں پر تسلسل سے ڈھایا جانے والا ظلم و ستم تھا،لیکن لیبیا،یمن ،مصر اور بالخصوص شام میں "اپنوں” کی طرف سے رقم کی جانے والی ظلم کی داستاں نے صیہونی مظالم کو بھی پیچھے چھوڑ دیا،جس کے بعد انقلاب بہار کے متاثرہ ممالک کی طرف توجہ مرکوز ہونا فطری امر تھا۔
لیکن بات یہیں ختم نہیں ہو جاتی، امراء عرب نے اس طرح مسئلہ فلسطین کو سرد خانے میں ڈال دیا جیسے انہیں پہلے سے کسی "عرب بہار” کا انتظار تھا تاکہ ان کی اس مسئلہ پر دیے جانے والے رسمی بیانات سے بھی جان چھوٹ جائے، دوسر ی طرف عرب بہار کی طرف توجہ مبذول کرنے والی مشرق وسطی کی بڑی طاقتوں نے متاثرہ ممالک کے مسئلے کو بھی حل کرنے سے زیادہ اسے بگاڑا ہی ہے،اس لیے یہ بھی نہیں کہا جا سکتا کہ مسئلہ فلسطین کو طاق نسیان میں رکھنے سے دیگر ممالک کو کچھ فائدہ ہوا ۔
اگر عرب سربراہان اسرائیل کو ٹف ٹائم دینے کی جرات نہیں رکھتے تھے تو کم از کم اس اہم ایشو کی وجہ سے اپنی ناراضی کو تو برقرار رکھتے، لیکن معلوم نہیں انہیں کیا سوجھی اور وہ لگے اسرائیل سے پینگیں بڑھانے،اور ایک عرصہ خفیہ روابط رکھنے کے بعد اب اعلانیہ دورے ہونے لگے،اور مسئلہ فلسطین کے چیمپین اسرائیل کے ساتھ مصالحت میں ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوشش کرتے نظر آئے۔
اسرائیل کے ساتھ خفیہ تعلقات میں اس وقت قطر پیش پیش ہے،اردن،اور ترکی کے علاوہ سعودی عرب بھی ایران مخالفت میں اسرائیل سے قربت چاہتا ہے اور اس سلسلہ میں خفیہ ہونے والی ملاقاتوں کے بعد پچھلے دنوں ایک دورے کی خبریں میڈیا پر بھی آئیں جن کی اگرچہ سعودی حکام کی طرف سے تردید کی گئی لیکن دونوں ملکوں کے خفیہ تعلقات پر نظر رکھنے والوں نے اس تردید کو مسترد کر دیا ہے۔
واحد عرب ملک مصر جس نے فلسطین کے لیے اسرائیل سے جنگ بھی کی اورجس پر فلسطین کوسب سے زیادہ اعتماد تھا اس وقت سب سے زیادہ اسرائیل کے قریب ہے، عرب مبصرین کا کہنا ہے کہ السیسی اور نیتنیاھو کے درمیان بڑھتی ہوئی قربت سے لگتا ہے کہ اب معاملہ قربت سے کہیں بڑھ کر محبت تک پہنچ چکا ہے اور السیسی ایسا اس لیے کر رہے ہیں تاکہ امریکہ اور یورپین ممالک ان کی حکومت کے ساتھ تعاون جاری رکھیں، السیسی کا اس وقت صرف اور صرف ایک ہی ایجنڈا ہے کہ کس طرح اپنی حکومت کو بچا کر اسے طول دیا جائے،وہ اپنی حکومت برقرار رکھنے کے لیے بڑی سے بڑی قیمت چکانے کے لیے بھی تیار ہیں۔
اسرائیلی امور کے ماہر سلطان العجلونی کے مطابق مصر میں فوجی حکومت کا مقصد ہی حماس کو کمزور کرنا ہے یہی وجہ ہے کہ اسرائیل اپنے لیے مصر کو خدا کی طرف سے عطیہ سمجھتا ہے اور اسے خطے میں اپنا اہم حلیف قرار دیتا ہے۔انہوں نے کہا کہ پہلے قاہرہ کےتل ابیب سے جو تعلقات خفیہ تھے وہ اب منظر عام پر آ گئے ہیں اور السیسی حکومت نے یہ واضح پیغام دے دیا ہے کہ اب اس کے اسرائیل کے ساتھ تعلقات کوئی راز نہیں رہے اور یہ کہ دونوں ملکوں میں تعلقات دن بہ دن مضبوط ہوں گے خاص طور پر سیناء میں داعش کے خلاف دونوں ملک مل کر لڑیں گے۔سلطان العجلونی نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کے ساتھ جنگ کرنے والا واحد ملک اور سب سے مضبوط فوج رکھنے والا عرب ملک اگر اس طرح اسرائیل کے آگے بچھ گیا ہے تو دیگر عرب ممالک سے اب کیا توقع رکھی جائے؟اب یہ خبریں بھی گردش کر رہی ہیں کہ جلد ہی اسرائیل کے وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو مصر کا سرکاری دورہ کرنے والے ہیں۔ نیتن یاہو نے تو یہاں تک کہہ دیا ہے کہ عرب حکمران اب اسرائیلی ریاست کو اپنے حلیف کے طور پر دیکھنے لگے ہیں۔
فلسطین کی مزاحمتی تحریک حماس نے مصر کے مقابلے میں ترکی کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ مصر نے مسئلہ فلسطین کو پس پشت ڈال دیا ہے اور اب ہماری ساری امیدیں صرف اور صرف ترکی سے وابستہ ہو گئی ہیں۔
عرب اور اسلامی ممالک کی طرف سے مسئلہ فلسطین پر سرد مہری کا اسرائیل خوب فائدہ اٹھا رہا ہے اور فلسطین کے نہتے مسلمانوں کے خلاف اس کی کاروائیاں بڑھتی جا رہی ہیں، پے در پے انسانی حقوق کی پامالی کرتے ہوئے رواں ہفتے میں اسرائیلی فوج نے الخلیل شہر میں درجنوں فلسطینیوں کو گھر سے نکال کر ان کے گھر مسمار کر دیےاور متعدد کو زخمی کر دیا۔
ایسے محسوس ہوتا ہے کہ دنیا فلسطین کو فراموش کرنے پر تلی ہوئی ہے۔ عالمی سرمایہ دارانہ ریاستوں اور طاقتوں کی سفارتکاری اور سودے بازی میں شاید اس سلگتے ہوئے مسئلے کو فراموش کرنے میں ہی اس نظام کے پالیسی سازوں اور منصوبہ کاروں کا مفادہے۔
یہی وجہ ہے کہ دو ہفتے قبل عالمی سرچ انجن ’’گوگل‘‘ کی جانب سے بھی ’’گوگل میپ‘‘ ایپلی کیشن میں نقشے سے فلسطین کا نام نکال کر اسرائیل کا نام شامل کر دیا گیاجس پر فلسطینی عوامی اور سماجی حلقوں کی طرف سے شدید رد عمل سامنے آیا ہے۔ فلسطینی سماجی کارکنوں کی طرف سے جہاں ایک طرف گوگل کے اس اقدام کو صہیونی ریاست کی طرف داری قراردیا گیا ہے وہیں ساتھ ہی ایک آن لائن مہم شروع کی گئی ہے جس میں ’’گوگل میپ‘‘ میں اسرائیل کے بجائے فلسطین کا نام شامل کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
سماجی کارکنوں اور مبصرین کا کہنا ہے کہ فلسطینی ریاست کو دنیا کے 136 ملکوں نے تسلیم کررکھا ہے، مگر اس کے باوجود ’’گوگل‘‘ جیسی عالم گیر کمپنی کا فلسطینی ریاست کے وجود سے انکار حیران کن ہے۔
اس کے علاوہ اسرائیلی ریاست نے فلسطینی کالونیوں میں قائم اسکول بھی بند کرنا شروع کر دیے ہیں۔
مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو کی براہ راست ہدایت پر مشرقی بیت المقدس میں ’’الخان الاحمر‘‘ پرائمری اسکول بند کر دیا گیا ہے۔
مقامی شہریوں کا کہنا ہے کہ گذشتہ روز اسرائیلی پولیس کے ایک درجن اہلکاروں نے اسکول پر دھاوا بولا، اسکول کے بچوں اور اساتذہ کو زد و کوب کرنے کے بعد اسکول کو تالے لگا دیے اور بچوں کو وہاں سے نکال دیا گیا۔
اس ساری صورتحال کو دیکھ کر بھی نہ سلامتی کونسل ٹس سے مس ہوئی ،اورنہ ہی عرب لیگ یا او آئی سی کی غیرت جاگی، بان کی مون اپنے روایتی”گہرے دکھ اور افسوس” کا اظہار تک نہ کر پائے۔
اس وقت مسئلہ فلسطین کو بھر پور انداز سے دوبارہ اٹھانے کی ضرورت ہے، مغربی پروپیگنڈا اسرائیل کے حق میں مصروف عمل ہے جس سے ہمارے نوجوان بھی متاثر ہو رہے ہیں اور فلسطین کی تاریخ سے ناواقف اور عاقبت نااندیش مسلمان بھی دیکھا دیکھی اسرائیل کو تسلیم کرنے کی بات کر نے لگےہیں اس لیے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ فلسطین کی قدیم و جدید تاریخ سے یہ ثابت کیا جائے کہ ارض فلسطین کا اصل وارث کون ہے؟ اور صدیوں سے قائم اسلامی ریاست کے اندر ناپاک ریاست کا وجود کیسے ممکن ہوا؟اور پاکستان سمیت اسلامی دنیا اسرائیل کو کیوں تسلیم نہیں کر رہی؟ یہ تمام تفصیلات آئندہ کالم میں پیش کی جائیں گی۔
(جاری ہے)
