Close Menu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    Home»کالم»چنگ کہاں نازل ہوا؟ 
    کالم

    چنگ کہاں نازل ہوا؟ 

    صبا حسینBy صبا حسینجولائی 11, 2023کوئی تبصرہ نہیں ہے۔4 Mins Read3 Views
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest WhatsApp Email

    سوچا جائے تو سُر و ساز کی تاریخ اتنی ہی قدیم لگتی ہے جتنی کہ انسان کی تاریخ ہے۔ فطرت میں ایک ردھم ہے۔ ہواوں، دریاوں، بارشوں اور ندی آبشاروں میں ایک ردھم ہے۔ انسان نے پہلی بار ماتم کرتے ہوئے چھاتی پیٹی ہوگی تو ممکن ہے انسان نے دریافت کرلیا ہو کہ میری ذات میں بھی ردھم ہے۔

    سازوں کی دنیا بہت بڑی ہے مگر آج میں ایک مخصوص اور قدیم ساز کی بات کرنا چاہ رہی ہوں۔ "چنگ”۔ چنگ وہ آلہ ہے جس کو تقریبا ہر خطہ اپنی ثقافت کا حصہ سمجھتا ہے۔ اندازہا س بات سے لگالیں کہ اس چھوٹے سے آلے کے لیے پوری دنیا میں ایک ہزار سے زیادہ نام موجود ہیں۔

     چنگ منہ سے بجانے والا ساز ہے جو چوڑے سرے کے فریم پر مشتمل ہوتا ہے اور تار کی شکل میں ایک لچکدار دھاتی سے جڑا ہوتا ہے۔ موسیقار اس کا آزاد سرا سامنے کرکے اپنے دانتوں میں رکھتا ہے۔ ایک بار دانتوں میں فکس ہونے کے بعد زبان اور منہ کے ذریعے آواز پیدا کرتا ہے۔

    لیکن یہ قدیم ساز پہلی بار دریافت کہاں ہوا؟

    بہت سارے مصنفین کا کہنا ہے کہ چنگ (جس کو Jews harp بھی کہتے ہیں) کی ابتدا کسی یہودی علاقے سے ہوئی تھی جس وجہ سے اس کا نام بھی Jews harp پڑا ہے۔ لیکن اس دعوے کو بڑے پیمانے پر رد کر دیا گیا ہے کیونکہ اس دعوے کے کوئی خاص شواہد نہیں ملتے اور اس کے جواز میں یہ بھی کہا جاتا ہے کہ چونکہ یہودی سیاسی اور مذہبی وجوہات کی بنا پر بہت سفر کرتے رہے ہیں اور وہ جس جس خطے کی میزبانی میں رہیں ہیں وہاں وہاں کا انھوں نے آرٹ اور کرافٹ بھی اپنالیا ہے۔

    اگر سندھ کے پس منظر میں دیکھا جائے تو کہنے والوں کے بقول چنگ چودھویں صدی میں سندھ اور راجستھان میں مقبول ہوا اور اس کو بجانے والے زیادہ تر چرواہے تھے۔ چرواہوں میں مقبولیت کی کئی اہم وجوہات بتائی جاتی ہیں۔چرواہے کے کام میں وقت درکار ہوتا ہے اور چرواہوں کے پاس کچھ خاص کرنے کو نہیں ہوتا تھا۔ سفر کی تھکان اتارنے کے لیے یہ مددگار ہوتا تھا۔ موسیقی کے آلات کو چرواہوں نے اپنے چوپایوں کے ساتھ کمیونیکیشن کا ذریعہ بھی بنایا ہوتا تھا۔ خاص طور سے چنگ ساتھ لیے پھرنے میں اس لیے آسانی ہوتی تھی کہ یہ ایک بالکل چھوٹا اور سادہ سا آلہ ہ، جو چرواہے کے سامان پر بوجھ نہیں بنتا۔

    اس کے علاوہ سترھویں صدی کے سندھ کے مشہور شاعر شاہ عبداللطیف بھٹائی اپنے ایک سر (راگ) میں چنگ کے ساز کا ذکر کرتے ہیں جس کو سر سورٹھ بھی کہا جاتا ہے۔ اس کہانی میں چنگ کا ذکر کچھ اس طرح سے آتا ہے کہ بادشاہ کو چنگ کی آواز بہت لبھاتی ہے۔ بادشاہ جذبات کے دریا میں ڈوبا جاتا ہے۔ اس کیفیت کے بدلے میں وہ ساز بجانے والے کو کچھ مانگنے کے لئے کہہ دیتا ہے اور پھر وہ مانگنے والا بدلے میں بادشاہ کا سر مانگ لیتا ہے۔ بادشاہ اس کی مانگ کو ان الفاظ کے ساتھ پوری کرتا ہے:
    جو آگاہی تمہارے ساز کی تار سے ملی ہے وہ مل چکی ہے۔ اور وہ آگاہی اتنی عظیم ہے کہ میرا سر اس کے سامنے کچھ بھی نہیں ہے۔ میرا سر تمہاری اس موسیقی کے بدلے تمہیں پیش کردیا گیا ہے۔ ویسے بھی سر مٹی کا ہے اور جب اسے کاٹا جائے گا تو وہ صرف خاک ہی رہ جائے گا۔

    یہ بھی کہا جاتا ہے کہ چنگ سندھ میں ایران کے راستے داخل ہوا ہے۔ سندھ ایران کے آس پڑوس میں رہا ہے اس کی ساحلی پٹی اس کے لئے ہمیشہ کھلی رہی ہے۔ اس چار سو سال کے تعلق نے سندھی ثقافت اور طرز زندگی کو متاثر کیا ہے اور چنگ بھی اسی کی بدولت سندھ میں داخل ہوا ہے۔
    آرکیالوجسٹ کے مطابق فارسی موسیقی میں چنگ کا ذکر موجود ہے جو 4000 قبل مسیح پرانا ہے۔ فارسی ادب کے ساتھ ساتھ فارسی موسیقی کا اثر بھی اس قدر طاقتور رہا ہے کہ اس نے وسط ایشیا میں اپنے بازو پھیلائے رکھے۔ یہی وجہ ہے کہ ایران ہو یا سندھ ہو، ہر طرح کے حالات میں یہ سریلے ہی رہتے ہیں۔

    حوالہ جات

     Chang, Ancient Musical instrument from Indus Valley by Shaikh Aziz.

    Introduction to the Poetry and Mystic Thought of Shah Abdul Lateef Bhittai by Agha Saleem.

    Chang Musical Instrument چنگ آلہ موسیقی
    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleسیکیورٹی کا بدلتا منظرنامہ
    Next Article سویڈن میں توہینِ قرآن کا واقعہ: غوروفکر کا پہلو کیا ہے؟
    صبا حسین

    Related Posts

    سندھ کی تقسیم کے خلاف دلائل

    ستمبر 1, 2026

    جنگ مذاق نہیں

    اپریل 25, 2025

    امید کا ایک اور قطرہ

    اکتوبر 7, 2024

    Comments are closed.

    تجزیات آن لائن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    © 2026 تجزیات آن لائن، جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.

    Powered by
    ►
    Necessary cookies enable essential site features like secure log-ins and consent preference adjustments. They do not store personal data.
    None
    ►
    Functional cookies support features like content sharing on social media, collecting feedback, and enabling third-party tools.
    None
    ►
    Analytical cookies track visitor interactions, providing insights on metrics like visitor count, bounce rate, and traffic sources.
    None
    ►
    Advertisement cookies deliver personalized ads based on your previous visits and analyze the effectiveness of ad campaigns.
    None
    ►
    Unclassified cookies are cookies that we are in the process of classifying, together with the providers of individual cookies.
    None
    Powered by