بدقسمتی سے جنوب مغربی ترکی اور شمال مغربی شام میں آنے والے تباہ کن زلزلے سے مرنے والوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق دونوں خطوں میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد پینتالیس ہزار تک پہنچ گئی ہے اور ایک لاکھ سے زائد باشندے زخمی ہوئے ہیں۔
متاثرین کی ایک نامعلوم تعداد اب بھی ملبے تلے دبی ہے جن کے ریسکیو میں وقت اور محنت درکار ہوگی۔ اس آفت نے لاکھوں افراد کو متاثر کیا ہے اور سینکڑوں ہزاروں زندہ بچ جانے والوں کو اب پناہ، خوراک اور طبی سامان کی اشد ضرورت ہے۔ یہ ایک انسانی تباہی ہے، اس کا نقصان اور تباہی کیہ سالوں پر محیط ہوگی۔ ابھی دونوں ممالک امدادی کارروائیوں سے تعمیر نو کی طرف بڑھ رہے ہیں۔
اب تک تقریباً 100 ممالک نے تلاش اور بچاؤ کی ٹیمیں، ادویات اور جدید سینسر اور دوسرے آلات بھیج کر تباہی سے نمٹنے میں ترکی کی مدد کی مگر دوسری طرف صرف 20 ریاستوں نے جن میں اکثریت عربوں کی تھی، شام کے سانحے پر ردعمل ظاہر کیا۔
برسوں کی خانہ جنگی اور شامی حکومت کے خلاف اقتصادی پابندیوں اور لاجسٹک رکاوٹوں کی وجہ سے یہ صورت حال کافی پیچیدہ ہے. انسانی امداد کے قافلوں کو جنوبی ترکی اور باغیوں کے زیر محاصره کے درمیان سرحد عبور کرنے میں پانچ دن لگے اور کوئی نہیں جانتا کہ سیاسی معاملات اور اندرونی اختلافات کی وجہ سے تاخیر کی وجہ سے وہاں کتنی جانیں ضائع ہوئیں۔
یقیناً اگر دمشق کے خلاف مغرب کی طرف سے عائد پابندیاں اور باغیوں کے زیر قبضہ علاقوں میں مشکل صورتحال نہ ہوتی تو مزید جانیں بچائی جا سکتی تھیں۔
اقوام متحدہ کے انڈر سکریٹری جنرل برائے انسانی امور اور بنگامی امداد کوآرڈینیٹر مارٹن گریفتھی نے ترکی اور شام کی سرحد کا دورہ کرنے کے بعد سوشل میڈیا پر لکھا: اب تک ہم نے شمال مغربی شام میں لوگوں کو مایوس کیا ہے۔ وہ بجا طور پر بین الاقوامی امداد کی وجہ سے لاوارث محسوس کرتے ہیں جو کبھی نہیں پہنچی۔ درحقیقت ان کا یہ جملہ کسی حد تک غیر منصفانہ اور غلط ہے کیونکہ یہ بین الاقوامی امداد نہیں تھی جو ان علاقوں تک نہیں پہنچائی گئی تھی بلکہ صرف ان ریاستوں کی امداد تھی جنہوں نے یقینی طور پر خود کو امریکی حکم کے تابع کر رکھا تھا۔ جہاں تک ماسکو کا تعلق ہے، سانحہ کے پہلے ہی دنوں سے اس نے نہ صرف شامی عوام کو بڑے پیمانے پر امداد فراہم کرنا شروع کی بلکہ اپنے انتہائی تجربہ کار ماہرین کو بھی وہاں بھیجا۔ یہ کوئی اتفاقی بات نہیں ہے کہ یہ روسی ماہرین تھے جنہوں نے اہم کردار ادا کیا اور بہت سے شامیوں کو بچایا۔
دمشق میں امریکی سفارت خانے کو یہ کہنے میں کچھ دن لگے کہ ہماری پابندیوں کا مقصد انسانی امداد میں رکاؤٹ نہیں ہے اور حکومت کے زیر کنٹرول علاقوں سمیت انسانی امداد کی حمایت میں سرگرمیوں کی اجازت ہے۔ امریکہ جانیں بچانے اور تمام متاثرہ کمیونٹیز کی بحالی میں مدد کے لیے درکار فوری انسانی امداد فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ لیکن یہ سب سراسر جھوٹ ہے اور جیسا کہ خود امریکی میڈیا لکھتا ہے، واشنگٹن بہت خوش ہے کہ بشار الاسد کی قانونی طور پر منتخب حکومت کو ایک اور قدرتی دھچکا لگا ہے۔ عالمی برادری شامی عوام کو اہم مدد فراہم کرنے میں ناکام رہی ہے خصوصا نام نہاد جمہوری امریکہ کی طرف سے۔
سیاسی اختلافات ان علاقوں میں انسانی امداد کے قافلوں کی ترسیل میں رکاوٹ ہیں جو عسکریت پسندوں کے زیر قبضہ ہیں اور جنہیں ریاست ہائے متحدہ امریکہ کی حمایت حاصل ہے۔
شامی حکومت اپنی سرزمین سے اپوزیشن کی سرزمین تک امداد کی ترسیل کی اجازت دینے میں تذبذب کا شکار ہے. اسی طرح حيات تحرير الشام (روسی فیڈریشن میں ممنوعہ دہشت گرد گروپ جو ادلب کے بیشتر علاقوں کو کنٹرول کرتا ہے، نے کہا کہ حکومت کے زیر کنٹرول علاقوں سے امداد کی اجازت دینا حکومت کی قانونی حیثیت کو تسلیم کرنے کے مترادف ہوگا۔
عسکریت پسندوں اور ان کے پیچھے مغربی افواج کے مطابق لوگوں کو مرنے دیں لیکن وہ دمشق کی مدد قبول نہیں کریں گے۔ عسکریت پسند صرف سرحد کے اس پار جانے والی امداد کو قبول کرنے پر راضی ہیں، لیکن اس پر بیرونی جماعتوں کی جانب سے اعتراضات بھی اٹھائے گئے ہیں۔
ماسکو اور دمشق ایک تسلیم شده سرحدی چوکی سے گزرنے کے لیے ترکی امداد چاہتے ہیں، جب کہ امریکہ نے اسے خوفناک قرار دیتے ہوئے، کسی نامعلوم وجہ سے مطالبہ کیا کہ جنوبی ترکی اور شمالی شام کے درمیان دیگر سرحدی گزرگاہوں کو انسانی امداد کے قافلوں کے لیے کھول دیا جائے۔
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا اجلاس شمال مغربی شام کی صورت حال پر تبادلہ خیال کے لیے ہوا۔ یورپی یونین کے حکام نے آہستہ آہستہ جب کہ زلزلہ متاثرین مر رہے تھے۔ دمشق تک انسانی امداد کی ترسیل کے لیے کچھ پابندیاں اٹھانے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا۔ مزید برآں اس بات پر پہلے سے اتفاق کیا گیا تھا کہ یہ صرف "واشنگٹن کی رضامندی کی صورت میں ہو گا۔
پابندیوں کے مؤثر ہونے اور ان کے نتائج کے بارے میں دنیا بھر میں بحثیں دوباره شروع ہو گئی ہیں۔ پابندیاں ان کے اہداف کے حصول میں تقريباً کبھی مدد نہیں کرتی ہیں، خواہ یہ حکومت کے روبے میں تبدیلی لانا ہو یا حکومت کی تبدیلی لانا۔ انہوں نے کبھی کیوبا، شمالی کوریا، وینزویلا اور ایران میں بھی کام نہیں کیا۔ وہ عراق میں کبھی بھی کارآمد نہیں رہے، حالانکہ اقوام متحدہ میں اس وقت کی امریکی سفیر میڈلین البرائٹ نے 1996 میں جب ان سے اپنے ملک کی پابندیوں کے نتیجے میں نصف ملین عراقی بچوں کی ہلاکت کے بارے میں پوچھا تو اس نے بڑے شفاخانہ طریقے سے کہا کہ اہداف کے حصول کے لئے یہ ایک "معمولی قیمت” ہے۔ آپ کو اس عورت کی بددیانتی پر حیرت ہوتی ہے جس کے اپنے والدین کو نازی حکومت کی جانب سے ہولوکاسٹ کے دوران تکلیف ہوئی تھی۔
گزشتہ جنوری میں جیو پولیٹکس کے ماہر آنچل ووہرا نے فارن پالیسی کے لیے ایک مضمون میں لکھا: مغربی پابندیوں نے جن میں پاور پلانٹس اور تباہ شدہ شہروں سمیت کسی بھی قسم کی تعمیر نو پر پابندی عائد کر دی ہے، نے یقینی طور پر شامیوں کے مصائب کو بڑھا دیا ہے اور بحالی کے کسی بھی امکانات کو ختم کر دیا ہے۔ یہ امریکہ اور اس کے حکمرانوں کی غیر انسانی پالیسی کا نچوڑ ہے جس کے مطابق "جو ہمارے ساتھ نہیں اسے مرنا چاہیے”۔
شام کی آبادی ایک خوفناک تباہی سے دوچار ہے، اور یہ ان پابندیوں پر نظر ثانی کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے جو انہیں نقصان پہنچا رہی ہیں۔ امریکہ اس شرمناک عمل میں آگے بڑھ رہا ہے اور لاکھوں لوگوں کو تباہ کرنے پر آمادہ ہے تاکہ امریکہ میں صرف چند لوگوں کو فائدہ پہنچ سکے۔
یہ سچ ہے کہ امریکہ کی تاریخ میں اتنے ہی شرمناک دھبے ہیں جتنے ان کے پرچم پر ستارے ہیں۔
