ہم پاکستان میں بین المسالک ہم آہنگی کے لیے بہت عرصہ سے مصروف عمل ہیں اور تمام مکتب فکر کے سنجیدہ علماء کے ساتھ کاوشیں کر رہے ہیں اور بین المسالک مصالحت کا بیانیہ بھی پیش کر چکے ہیں۔ اس حوالے سے کچھ باتیں ان تمام حضرات کے گوش گزار کرنا چاہتے ہیں جو کسی مسلک کی اپنے عقیدہ یا مسلک پر انتہا پسندی سے بین المسالک ہم آہنگی کی ان کاوشوں سے مایوس ہو جاتے ہیں۔
سب سے پہلی بات یہ کہ ہم آہنگی سے مراد کسی کو بھی اس کے نظریات یا عقیدہ سے ہٹانا مقصود نہیں ہونا چاہیے۔ ہم یہ کوشش کر سکتے ہیں کہ تمام مسالک اپنے بات کو شائستہ انداز میں پیش کریں۔
ہماری کاوشوں کا مقصد ان مسالک کو تصادم سے روکنا ہے جس سے ماضی میں قتل و غارت ہوتی رہی ہے۔ اور ان کو پرتشدد کاروائیوں سے اور مسلح گروہوں سے نکالنا ہے۔
دوسرا ہمارا مقصد ان مسالک کو ایک دوسرے کے خلاف اعلانیہ کفر کے فتووں سے نکالنا ہے۔
تیسرا ہمارا مقصد ان کو ایک دوسرے کے ساتھ قریب کرنا اور ان کے مابین مکالمہ کی فضا پیدا کرنا ہے۔ اور کچھ غلط فہمیوں کا ازالہ کرنا ہے۔
ان مسالک کے مابین عقائد کے اختلافات یا دیگر مذہبی اختلافات پر مباحثہ، مکالمہ یا مناظرہ کبھی بھی ہم آہنگی کی کاوشوں کا حصہ نہیں ہونا چاہیے۔
ایک دوسرے سے ملنا، ایک دوسرے کے پاس آنا جانا اور روابط رکھنا یہ بہت اہم ہے تاکہ کبھی بین المسالک منافرت کی فضا اتنی آلودہ نہ ہو کہ دوبارہ پرتشدد کاروائیاں شروع ہو جائیں۔ اس کے لیے تمام سماجی تنظیمیں اور علماء مشترکہ نشستیں، سیمینارز اور تربیتی نشستیں منعقد کروا رہے پیں جو بہت ثمر آور ہے۔
بین المسالک ہم آہنگی کے لیے اتحاد امت کی اصطلاح ہماری تحقیق کے مطابق اس لیے درست نہیں کہ مسالک کے مابین اختلافات ہمیشہ رہیں گے اورمشترکات ہونے کے باوجود یہ مسالک اپنے نظریات پر کبھی کمپرومائز نہیں کر سکتے۔اس لیے ان مسالک کے مابین ملکی معاملات پر قومی اتحاد تو ممکن ہو سکتا ہے مگر دینی اتحاد کبھی ممکن نہیں۔
مشترکہ مفادات اور مذہبی طاقت کے بیانیہ پر اکھٹا ہونے کے لیے ایسی کا وشوں کی ضرورت نہیں ہوتی۔ مفاد خود بخود اتحاد کا محرک بن جاتا ہے۔
ایک اور بات جو اکثر سننے میں آتی ہے کہ ہم آہنگی کے داعی خود منافرت پھیلاتے ہیں۔ تو یہ حقیقت ہے کہ جو لوگ ہم آہنگی کے داعی یا چیمپئن ہیں یا دعوی کرتے ہیں یا ایسی کاوشوں کا حصہ بننا چاہتے ہیں ان کے لیے تو مسلکی شناخت کو فوقیت دینا یا مسلک کی نمائندگی کرنا زیب نہیں دیتا۔
اکثر علماء اپنے مسلک کی ترجمانی کرتے ہوئے بھی اس منافرت کو کم کرنے میں یقینا مددگار ہیں اور قابل تحسین ہیں۔
اس لیے جو لوگ تصادم کو روکنے کے لیے ایسی کاوشیں کر رہے ہیں انہیں ہر گز مایوس نہیں ہونا چاہیے۔۔فساد کو روکنا ہی بہت بڑا کام ہے۔ الاجر من اللہ

Share.

Comments are closed.

Exit mobile version