سیاسی کارکن کسی بھی جماعت کے اندر اپنی بقا کی جنگ لڑنے میں مصروف ہوتا ہے۔ اسے قدم بہ قدم یہ ثابت کرنا ہوتا ہے کہ وہ جماعت کےساتھ کس حد تک مخلص ہے۔ جیسا کہ کسی بھی تنظیم کا ایک ایک فرد یا رکن اہم ہوتا ہے، ویسے ہی کسی بھی سیاسی جماعت کے اندر سیاسی کارکن کا ایک کلیدی کردار ہوتا ہے۔ سیاست اور سیاسی عمل کا پہیہ چلانے والے یہی فکری اور نظریاتی سیاسی کارکن ہوتے ہیں جو مضبوط عزم کے ساتھ ساتھ اپنی قوم اور معاشرے کی فلاح و بہبود اورترقی کے لیے نیک مقاصد رکھتے ہیں۔ یہاں ہمارا موضوع قومی سیاسی جماعتوں کے اندر وہ فکری و نظریاتی سیاسی کارکن ہے جو اپنی زندگی کے خوبصورت ماہ و سال مفلسی ،غربت اور جفا کشی سے گزار دیتا ہے مگر اس کی سیاسی وابستگی، عزم اور مضبوط ارادوں  کو حکمرا ن یا بالادست قوتوں کا کوئی بھی لالچ، خوف اور مراعات کمزور نہیں کرسکتے۔ انہی سیاسی کارکنوں کی مرہون محنت ہماری سیاسی جماعتیں غیرجمہوری قوتوں کے سامنے انتہائی جرات مندی کا مظاہرہ کرتی ہیں۔ سیاسی کارکن کی اپنی کوئی ذاتی خواہش نہیں ہوتی، وہ ہمیشہ اپنی جماعت اور قوم کے لیے اپنا سب کچھ  قربان کرنے کے جذبہ سے سرشار ہوتا ہے۔ ان کی فکر اورسوچ میں بس ایک ہی خیال ہوتا ہے کہ ان کی ثابت قدمی اورارادے کی مضبوطی سے ان کی قومی سیاسی بقا ہے اور ان کی کمزوری کی صور ت میں ان کے وسیع مقاصد کو خطرہ لاحق ہوسکتا ہے۔

مگر ان کی اس ثابت قدمی اور نظریاتی وابستگی کی فکر کے ساتھ سیاسی جماعتیں کس حد تک خود مخلص ہیں؟ کیا آج  کےاس سیاسی عمل میں وہ سیاسی کارکن موجود ہے جو  اپنی سیاسی بقا اورجماعت کے لیے ہرظلم کے سامنے اپنا سینہ تان کر لیڈر شپ کا دفاع کرتا رہتا ہے؟ بدقسمتی سے ایسا بالکل نہیں  ،کیونکہ سیاسی کارکنوں کی ثابت قدمی  اور انکے جذبات کے ساتھ ہمیشہ کھیلا گیا ہے۔  وہ جس مقصد کے لیے اپنا سب کچھ قربان کر تے ہیں، انہیں بدلے میں در بدری  کے سوا کچھ نہیں ملتا۔  ان کی غربت  اورمفلسی میں مسلسل  اضافہ ہوتا جا رہا ہے ، جبکہ سیاسی قیادت کی روزمرہ زندگی میں کرشماتی تبدیلیاں رونما ہوجاتی ہیں۔ وقت کے ساتھ ساتھ یہ سب چیزیں ہر عام و خاص پر واضح ہوتی جا رہی ہیں اور سیاسی ورکرز کوبہت جلد  یہ اندازہ ہوتا جا رہا ہے  کہ ان کی فکری وابستگی، ثابت قدمی اور جدوجہد سے صرف سیاسی اشرافیہ ہی  مستفید ہوتا  ہے اور  ان کی اس سیاسی جدوجہد سے سیاسی عمل اور عام لوگوں کو کوئی فائدہ نہیں پہنچ رہا ۔  سیاسی کارکن کو یہ شدت سے احساس ہو رہا ہے کہ اس کے خون اور  پسینہ سے سیاسی اشرافیہ کے گروہی مفادات کو تحفظ مل رہا ہے۔

 وقت کے ساتھ ساتھ یہ سب چیزیں ہر عام و خاص پر واضح ہوتی جا رہی ہیں اور سیاسی ورکرز کوبہت جلد  یہ اندازہ ہوتا جا رہا ہے کہ ان کی فکری وابستگی، ثابت قدمی اور جدوجہد سے صرف سیاسی اشرافیہ ہی مستفید ہوتا ہے اور ان کی اس سیاسی جدوجہد سے سیاسی عمل اور عام لوگوں کو کوئی فائدہ نہیں پہنچ رہا۔ سیاسی کارکن کو یہ شدت سے احساس ہو رہا ہے کہ اس کے خون اور  پسینہ سے سیاسی اشرافیہ کے گروہی مفادات کو تحفظ مل رہا ہے۔

زیادہ دور کی بات نہیں، ماضی قریب میں سیاسی کارکن اپنی سیاسی قیادت پر فخر کیا کرتے تھے، کیونکہ وہ دور قید و بند ، اذیت اور عقوبت خانوں کا دور تھا۔سیاسی کارکن ہر مصیبت اور قید و بند کو   خوشی سے قبول کرنے میں  پیش پیش تھا اور اپنے لیڈر کو اس سے بچاتا تھا،مگروقت کے ساتھ ساتھ صورتحال تبدیل ہوتی جا رہی ہے۔ سیاسی جماعتوں کے نزدیک سیاسی کارکن کہ وہ اہمیت نہیں رہی اور وہ اس ثابت قدمی  اور نظریاتی وابستگی کو سیاسی کارکن کی مجبوری سمجھتے ہیں۔ جیسا کہ آج بلوچستان میں ایسا محسوس ہوتا ہے  کیونکہ یہاں  ایسے سیاسی حالات نظر آ رہے ہیں جہاں یہ لگتا ہے کہ سیاسی    لیڈر شپ کو سیاسی کارکن کی ضرورت نہیں ہے یا وہ اس خوش فہمی میں مبتلا ہے کہ ارباب اقتدار انہیں کارکنان کے بغیر مسند اقتدار پر بٹھا دیتے ہیں۔ لیکن اب ایسی قوتیں عوام اور سیاسی کارکنوں کے سامنے  بے بس نظر آئیں گی۔

(گہرام اسلم بلوچستان سے تعلق رکھنےوالے نوجوان صحافی ہیں۔ انہوں  نے شعبہ ابلاغیات اور قانون میں ماسٹر کیا ہے۔  وہ زمانہ طالب علمی سے بلوچستان میں جاری شورش پہ لکھتے آرہے ہیں۔ وہ، بلوچستان کی نمائندہ طلبا تنظیم ، بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن ( بی ایس او) کے مرکزی چئیرمین بھی رہ چکے ہیں۔)

Share.

Comments are closed.

Exit mobile version