پاک انسٹی ٹیوٹ فار پیس اسٹڈیز (PIPS) کے زیر اہتمام لاہور میں ادارہ کی ایک تحقیقی رپورٹ "پاکستان میں بین المذاہب تعلقات: پنجاب میں نوجوانوں کا نقطہ نظر اور عالمی تصور” کی تقریب رونمائی منعقد ہوئی ،جس میں پالیسی سازوں، سیاست دانوں، مذہبی سکالرز، ماہرینِ تعلیم، طلباء اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے شرکت کی۔اس رپورٹ میں پاکستانی نوجوانوں کی مجموعی حالت کو بہتر بنانے کے لیے سفارشات بھی پیش کی گئی ہیں۔اس رپورٹ میں یہ تجویز کیا گیا ہے کہ تنقیدی فکر اور استدلال کو اسکول کی سطح پر نصاب میں شامل کیا جائے کیونکہ نوجوانوں کی اکثریت میں یہ دونوں عناصر غائب ہیں۔
اس تحقیق کے لیےPIPS نے سماجی امن اور ہم آہنگی کے موضوع کے بارے میں نوجوانوں کی تربیت اور تعلیم کا انتخاب کیا۔لہٰذا، پنجاب کے کچھ بڑے شہروں میں نو (9) تربیتی اور تعلیمی ورکشاپس، اور پھر ورکشاپ سے پہلے اور بعد ازاں سروے، اور منتخب شرکاء کے تفصیلی انٹرویوز کیے گئے تاکہ موضوعات سے متعلق مختلف امور پر ان کے نقطہ نظر کو واضح طور پر سمجھا جا سکے۔ان سیشنز میں مختلف جامعات اور صوبے کے مختلف اضلاع کے تقریباً 250 طلبا شریک تھے ۔ یہ ورکشاپس بنیادی طور پر ماہرین اور نوجوانوں کے درمیان متنوع لیکن باہم جڑے ہوئے مسائل پر بات چیت کے لیے منعقد کی گئیں ۔
رپورٹ کے اجراء کی تقریب کے آغاز میں، پروگرام مینیجر( PIPS )احمد علی نے تحقیقی مطالعہ کے اہم نتائج پر روشنی ڈالی۔تحقیقی رپورٹ کے نتائج کے مطابق ہر سطح پر تعلیمی نصاب کو ایسے مواد سے پاک کیا جا سکتا ہے جو کسی بھی مذہبی عقیدے کے خلاف بد نیتی کو فروغ دیتے ہیں۔ایک اور سفارش کے مطابق، مشترکہ شناخت اور شہریت کے تصور کو ہائی اسکول کی سطح پر نصاب میں متعارف کرایا جانا چاہیے تاکہ طلباء میں ثقافتی تنوع کومقبول عام کیا جاسکے۔محمد علی نے رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا، "پاکستانی نوجوانوں کو مذہبی انتہا پسندی اور دہشت گردی کے ملکی معیشت کے ساتھ ساتھ ان کی انفرادی زندگیوں پر پڑنے والے منفی اثرات کے بارے میں بھی آگاہ کیا جا سکتا ہے۔” انہوں نے کہا کہ نوجوانوں میں سکول کی سطح پر تنقیدی فکر کو فروغ دینا ان کی جاب مارکیٹ میں آگے کی بقا کے لیے ضروری ہے۔ انہوں نے اس بات پر بھی روشنی ڈالی کہ طلباء کو آئین کی بنیادی شقوں کے بارے میں پڑھایا جانا چاہیے۔
ڈائریکٹر PIPS محمد عامر رانا ،جنہوں نےاس تقریب میں میزبانی کے فرائض سر انجام دیے، نے اپنے تعارفی کلمات میں کہا کہ رپورٹ میں پنجاب کے پڑھے لکھے نوجوانوں میں عام مسائل اور چیلنجز کی نشاندہی کی گئی ہے اور ان پر ممکنہ وضاحتیں پیش کی گئی ہیں۔انہوں نے کہا کہ رپورٹ میں پاکستانی نوجوانوں کی سوچ اور تجربات پر ایک نظر ڈالی گئی ہے کہ وہ خود کو اور اپنے ساتھی شہریوں کو کس طرح دیکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کو سماجی تبدیلیوں کی نوعیت کو دیکھنا ہو گا جو خلیج میں اور پاکستان میں بھی آئی ہیں-یہ ایک ایسا عمل ہے جس سے نوجوانوں کو اپنی توانائیوں کو درست سمت میں استعمال کرنے میں مدد ملے گی ، اور وہ اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ وہ ملک کی ترقی میں مثبت کردار ادا کر رہے ہیں۔
لوک سُجاگ، لاہور سے وابستہ ایک محقق طاہر مہدی نے کہا کہ معاشرے میں بین المذاہب تعلقات پر گفتگو بالکل غائب ہے۔ انہوں نے کہا کہ مختلف لوگ بین المذاہب تعلقات کو مختلف انداز میں لیتے ہیں، کچھ لوگ جبری تبدیلی کی بات کرتے ہیں اور کچھ اقلیتوں کے مذہبی مقامات پر زبردستی قبضے کی بات کرتے ہیں۔ لیکن اہم مسئلہ یہ ہے کہ ملک میں ذات پات پر مبنی نظام اب بھی رائج ہے اور اقلیتیں اس کا سب سے زیادہ شکار ہیں۔ انہوں نے وضاحت کی کہ معاشرے کی اکثریت مسیحی برادری کو "ناپاک” کا لیبل لگا کر ان کے ساتھ برتاؤ کرتی ہے اور یہ تجربات معاشرے کے ساتھ افراد کے تعلقات کو بھی تشکیل دیتے ہیں۔
ڈاکٹر فیاض نے اس نکتے پر بھی توجہ دلائی کہ پاکستانی ایک منقسم قوم ہیں اور آہستہ آہستہ نسلوں میں تقسیم ہو رہے ہیں۔ انہوں نے نسل پرستی کے بارے میں بات کی اور کہا کہ اب عسکریت پسند بلوچوں اور محروم بلوچوں کے اندر ہم آہنگی پیدا ہوگئی ہے۔ "یہ نسل پرستی ہے کہ عسکریت پسند اور غیر عسکریت پسند بلوچ ایک صفحے پر ہیں۔” انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان میں نسلوں کے حوالے سے ایک بڑی تبدیلی آئی ہے، اور یہ نسلی قوم پرستی سے نئی نسلی قوم پرستی میں تبدیل ہو گیا ہے ۔یہ ایک ایسا رجحان جس میں مختلف نسلوں کے عسکریت پسند گروہوں نے ایک دوسرے کے ساتھ ہاتھ ملایا ہے۔دوسرے لفظوں میں، بہت سی نسلیں اپنے مشترکہ خدشات کی وجہ سے اکٹھی ہوئی ہیں۔
"عملیت عزائم اور انسانی سوچوں سے بالاتر ہے اور اس کے بغیر کوئی بھی راستہ تلاش نہیں کر سکتا۔”
انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کو اپنے خوابوں کی دنیا سے نکل کر حقیقت کا سامنا کرنا چاہیے۔ انہوں نے صوبے کے سب سے بڑے تعلیمی ادارے پنجاب یونیورسٹی کی صورتحال کا حوالہ دیا اور کہا کہ وہاں نسلی گروہوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ڈاکٹرنعیمی نے کہا کہ مذہب کو کسی کی زندگی سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔انہوں نے کہا کہ ہمیں یہ سوچنا ہو گا کہ ریاست کس حد تک مذہب کو نافذ کر سکتی ہے، اور اسے محدود کرنے کے اختیارات حاصل ہونے چاہئیں۔ "ہم سمجھتے ہیں کہ ریاست کے اندر تمام عقائد کو پرامن بقائے باہمی کے ساتھ رہنا چاہیے۔”
بائیں بازو کی جماعت سے تعلق رکھنے والے ایک کارکن اور سیاست دان جاوید آفتاب نے سامعین سے اپنے مختصر ریمارکس میں کہا کہ مذہب کو ریاست سے منقطع کر دینا چاہیے اور انہیں ’’اقلیت‘‘ کا لفظ استعمال کرنے سے گریز کرنا چاہیے۔تقریب کے اختتام پر ڈائریکٹر PIPS عامر رانا نے کہا کہ ملک کے مذہبی نظام تعلیم (مدارس کا نظام) اور رسمی نظام تعلیم (دونوں سرکاری اور نجی شعبے کے تعلیمی نظام) میں بشریات اور سماجیات کے بنیادی تصورات کو شامل کرنے کی فوری ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ آئین کی خواندگی بھی ضروری ہے۔ انہوں نے ملک میں کوٹہ سسٹم کے خاتمے کی دلیل دیتے ہوئے کہا کہ جب آئین تقریر، نقل و حرکت اور کاروبار کی آزادی دیتا ہے تو اس طرح کے انتظام کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ بات چیت، مکالمہ اور سماجی کاری معاشرے کی خوبصورتی ہے۔

