1992ء سے 1997 تک پارٹی کے خلاف جاری آپریشن کے دوران پارٹی نے کھالیں جمع نہ کرنے کا اعلان نہیں کیا جبکہ ستمبر 2013ء سے شروع ہونے والے آپریشن میں بھی پارٹی دوسال تک کھالیں جمع کرتی رہی.
دوکروڑبیس لاکھ سے زائدآبادی کے شہرکراچی میں ہرسال لاکھوں افراد عیدالاضحی کے موقع پرجانوروں کی قربانی کرتے ہیں اورعیدالاضحی نزدیک ہوتے ہی کراچی شہرمیں مختلف سیاسی ومذہبی تنظیمیں ، فلاحی ادارے اورکالعدم جہادی گروپس قربانی کی کھالیں جمع کرنے کے لئے فعال ہوجاتی ہے اورشہرکی شاہرایں ان تنظیموں کے بینروں سے سج جاتی ہے جس میں عوام سے اپیل کی جاتی ہے کہ قربانی کی کھالیں انہیں دی جائے۔ ماضی میں قربانی کی کھالوں پر سیاسی اور مذہبی جماعتوں میں تصادم ہوتے رہے ہیں۔ ماضی میں قربانی کی کھالوں پرخونریزی کے واقعات پر حکومت کافی محتاط نظر آتی ہے۔
البتہ کراچی میں ان جانوروں کی حاصل ہونے والی کھالوں سے ماضی میں سب سے زیادہ مستفید ہونے والی جماعت متحدہ قومی موومنٹ نے پارٹی کودرپیش بحرانی صورت حال میں پارٹی کی 38 سالہ تاریخ میں پہلی مرتبہ قربانی کی کھالیں جمع نہ کرنے کا فیصلہ کیاہے جس کی اہم وجہ سیاسی مبصرین کے مطابق پارٹی کارکنوں کوگرفتاریوں سے بچانا ہے۔
کراچی کی ایک موثرسیاسی اورپارلیمانی جماعت متحدہ قومی موومنٹ ستمبر 2013 ء سے رینجرزکی سربراہی میں جاری ٹارگٹڈ آپریشن کے سبب کافی بحران کاشکارہے جبکہ حال ہی میں پارٹی قائد الطاف حسین کے 22 اگست کے پاکستان مخالف متنازعہ تقریر نے پارٹی کومذیربحرانی صورت حال میں دھکیل دیاہے۔ ایسے میں متحدہ قومی موومنٹ کا فیصلہ کراچی کی صورت حال کامطالعہ کرنے والے مبصرین کے لئے کافی اہم ہے۔
کراچی شہرمیں 10 ستمبرکوایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے رہنما ڈاکٹرفاروق ستار نے اس بار کھالیں جمع نہ کرنے کا اعلان کرتے ہوئے عوام سے اپیل کی کہ وہ قربانی کے جانوروں کی کھالیں پہلے نمبر پر عبدالستار ایدھی ٹرسٹ، دوسرے نمبر پر ڈاکٹر ادیب الحسن رضوی کے ایس آئی ٹی یو، تیسرے نمبر پر انڈس ہسپتال، چوتھے نمبر پر سیلانی ٹرسٹ، پانچویں نمبر پر جعفریہ ڈیزاسٹر سیل اور چھٹے نمبر پر چھیپا ویلفیئر ٹرسٹ کو دیں۔ انہوں نے کہا کہ ایم کیوایم ہرگز مذہبی انتہا پسندوں اور کالعدم تنظیموں کو کسی طور پر اجازت نہیں دیں گے اور عوام بھی انہیں ہرگز کھالیں نہ دی جائیں۔ڈاکٹر فاروق ستار کا کہنا تھا کہ ’فلاحی کاموں کے لیے ان کے پاس لوگوں سے عطیات جمع کرنے اور فلاحی سرگرمیوں کے لیے دو ہی ذرائع ہیں ایک زکوٰۃ، فطرہ جو رمضان میں جمع کرتے ہیں دوسرا چرم قربانی جو عید الاضحی کے موقع پر جمع کیا جاتا تھا‘ لیکن گذشتہ سال سے مشکلات درپیش آئیں اور اجازت کے باوجود انہیں انہیں زکوٰۃ، فطرہ اور چرم قربانی جمع نہیں کرنے دیا گیا۔انھوں نے بتایا کہ فلاحی کاموں میں ہلاک ہونے والے کارکنوں کے اہل خانہ، سیاسی اسیر ہیں، مستحقین، بیوہ خواتین، یتیم، تعلیم، اسکالر شپ، سیلف ایمپلائمنٹ کے لیے قرضہ شامل ہے ۔ ایم کیو ایم کے رہنماؤں نے پریس کانفرنس میں یہ بھی دعویٰ کیا کہ وہ ایم کیو ایم اور اس کے فلاحی ادارے کو بھی دوبارہ منظم کررہے ہیں اور اس کے ساتھ کے کے ایف کے رضاکاروں کی چھان بین کر رہے ہیں۔انہوں نے کہاکہ ’’ہماری صفوں میں اس بات کی اجازت نہیں کہ ہم جرائم پیشہ لوگوں کو اپنی صف میں کہیں پر موقع دیں کہ وہ ایم کیوایم کا شیلٹر لیں جب ہم چھان بین کے عمل سے گزر رہے ہیں خود کو اسر نو منظم کررہے ہیں۔‘‘ ڈاکٹر فاروق ستار نے شہرکے مخیر حضرات سے اپیل کی کہ وہ نذیر حسین یونیورسٹی، نذیر حسین اسپتال، کے کے ایف میت بس سروس، سرد خانے، سن اکیڈمی کے اداروں کو گود لے لیں اور ان اداروں کو بند کرنے کے بجائے از خود چلائیں۔
متحدہ قومی موومنٹ کی جانب سے 1978 ء میں ذیلی فلاحی ادارے خدمت خلق کمیٹی قائم کی گئی تھی جس کا نام بیس سال بعد تبدیل کرکے خدمت خلق فاؤنڈیشن رکھ دیاگیاتھا۔ یوں 38 سال پہلے قائم کردہ فلاحی ادارے کے نام پرمتحدہ قومی موومنٹ ہرسال باقاعدگی سے عیدالاضحی کے دنوں میں قربانی کی کھالیں ٖسنب سے فعال طریقے سے اکٹھی کیاکرتی رہی ہے جہاں ایم کیوایم کے یونٹ اورسیکٹرسطح کے کارکن بھرپورکوششیں کیاکرتے تھے۔ خدمت خلق فاؤنڈیشن کی سربراہی شیخ لیاقت حسین کیاکرتے تھے جومعروف ٹی وی شخصیت عامرلیاقت حسین کے والد تھے جبکہ ان کے انتقال کے بعد سابق میئرکراچی مصطفی کمال بھی اس ادارے کی نگرانی کیاکرتے تھے۔ شہرکی معروف فلاحی تنظیمیں اورقانون نافذکرنے والے ادارے شروع ہی سے متحدہ قومی موومنٹ پریہ الزام لگاتی رہی ہے کہ ایم کیوایم کے کارکنان اسلحے کے زورپرلوگوں سے کھالیں چھینتے ہیں جبکہ بعض اوقات میں فلاحی اداروں کی کھالوں سے بھری گاڑیاں بھی چھین لیاکرتے تھے۔ ان الزامات کی متحدہ قومی موومنٹ نے ہمیشہ نفی کی ہے۔
کراچی کی سیکیوریٹی اورسیاست پرگہری نظررکھنے والے حلقوں کاخیال ہے کہ اس سال متحدہ قومی موومنٹ کی جانب سے قربانی کی کھالیں نہ جمع کرنے کافیصلہ کافی اہمیت کاحامل ہے۔ اس سے قبل 1992ء سے 1997 تک بھی پارٹی کے خلاف جاری آپریشن کے دوران بھی پارٹی نے بھی کھالیں جمع نہ کرنے کا اعلان نہیں کیا جبکہ ستمبر 2013ء سے شروع ہونے والے آپریشن میں بھی پارٹی نے دوسال تک کھالیں جمع کرتی رہی مگر الطاف حسین کے حالیہ بیان اورپارٹی کا الطاف حسین اورلندن قیادت سے اعلان لاتعلقی کے بعد پارٹی نے 38 سال میں پہلی مرتبہ کھالیں جمع نہ کرنے کااعلان کیاہے۔ متحدہ قومی موومنٹ کے رہنماؤں کے مطابق کھالیں جمع کرنے کے لئے یونٹ اورسیکٹرکی سطح کے کارکنوں کی ایک بڑی تعداد کی ضروت ہوتی ہے اور کھالیں جمع کرنے کی مہم کے دوران کارکنوں کی بڑے سطح کی گرفتاریوں کے خدشے کے پیش نظرپارٹی نے امسال کھالیں نہ جمع کرنے کا اعلان کیاہے۔ پچھلے سال بھی رینجرزنے شہرمیں کھالیں چھیننے کے الزام میں متحدہ قومی موومنٹ کے کافی کارکنوں کوگرفتارکیاتھا اوران سے برامد ہونے والی کھالیں مختلف فلاحی اداروں، بالشمول ایدھی فاؤنڈیشن کودی گئی تھی۔
البتہ قانون نافذکرنے والے اداروں کی رپورٹس میں متحدہ قومی موومنٹ کی ذیلی فلاحی تنظیم خدمت خلق فاؤنڈیشن کے نام پرچندہ یا کھالیں اکھٹا کرنے پرشکوک ظاہرکئے گئے ہیں۔ ایک قانون نافذکرنے والے ادارے کے ایک سینئراہلکارکاکہناہے کہ نیشنل ایکشن پلان کے تحت دہشت گردی میں ملوث سیاسی تنظیموں اورکالعدم جہادی تنظیموں کوٖفنڈنگ کا راستہ روکنے کے لئے قربانی کے جانوروں کی کھالوں کی مد میں کروڑوں روپے کی آمدنی کے حصول سے ایسی تنظیموں کوروکنے کے لئے اقدامات کئے گئے ہیں اوریہی وجہ ہے کہ رینجرزکی جانب سے شہربھر میں بینرز اورپوسٹرلگائے گئے ہیں جس میں شہریوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ دہشت گردی میں ملوث تنظیموں کوقربانی کی کھالیں نہ دیں۔ متحدہ قومی موومنٹ کے حوالے سے انہوں نے کہاکہ ان کی ذیلی تنظیم خدمت خلق فاؤنڈیشن شہرمیں دہشت گردی کے واقعات میں سہولت کاری کے واقعات میں ملوث رہی ہے اوراسی وجہ سے یہ تنظیم واچ لسٹ میں ہے۔
متحدہ قومی موومنٹ کے علاوہ جماعت اسلامی سنی تحریک اور دعوت اسلامی، مجلس ختم نبوت، ایدھی فاؤنڈیشن، شوکت خانم میموریل ہسپتال کے علاوہ مدرسوں اور بھی کئی رفاحی ادارے بھی قربانی کی کھالیں جمع کرتے ہیں۔
صوبائی حکومت کی جانب سے ہر سال عید قربان کے موقعے پر کھالیں اکٹھا کرنے کے لیے ضابطہ خلاق جاری کیا جاتا ہے مگر ہر سال اس کی خلاف ورزی کی شکایات سامنے آتی ہیں۔ کھالوں کی یہ سیاست ہر سال پرتشدد بن جاتی ہے، جس میں چھیناجھپٹی اور فائرنگ کے واقعات رونما ہوتے ہیں اور ہر تنظیم اس کا ذمہ دار دوسری جماعت کو قرار دیتی ہے۔ ماہرین کے مطابق عام طور پر چھوٹے جانور کی کھال 1500 روپے اور بڑے جانور کی کھال 4000 سے 5000 تک فروخت ہوتی ہے جبکہ کراچی میں لاکھوں جانورذبح ہوتے ہیں جس سے سیاسی جماعتوں اورمذہبی تنظیموں کوکھالیں جمع کرکے اس فروخت کرنے سے کروڑوں روپوں کی آمدن ہوتی ہے۔لیدر انڈسٹری ذرائع کے مطابق متحدہ قومی موومنٹ شہر میں سب سے زیادہ کھالیں جمع کیا کرتی تھی اور کراچی سمیت سندھ سے لیدر انڈسٹری کیلئے کھالوں کی اہم سپلائر تھی۔
اس سال بھی حکومت سندھ نے عیدالاضحیٰ پر کھالیں جمع کرنے کے لیے فلاحی اداروں،تنظیموں،مساجد و مدارس کے لیے کھالیں جمع کرنے کا ضابطہ اخلاق جاری کردیا جس کے مطابق رجسٹرڈ اداروں کو کھالیں جمع کرنے کے لیے کمشنر یا ڈپٹی کمشنرز سے پیشگی اجازت لینا ہوگی اور اجازت نامہ حاصل کرنے کے بعد ہی کھالیں اکٹھی کی جاسکیں گی۔ ضابطہ اخلاق کے مطابق کھالیں جمع کرنے کیلیے کسی قسم کا اعلان کرنے کی اجازت نہیں ہوگی جب کہ پوسٹر یا بینرز کے ذریعے کھالیں مانگنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ اسی طرح عید الاضحیٰ پر کسی بھی قسم کا اسلحہ، ڈنڈے اور لاٹھی لیکر چلنے پرپابندی ہوگی۔ پابندی کااطلاق لائسنس یافتہ اسلحے پر بھی ہوگا۔ کھالیں ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنے کیلیے بھی اجازت نامہ ہوناچاہیے جب کہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو کارروائی کا اختیار ہوگا۔
