پاکستان ہمیشہ کسی نہ کسی بحران یا شدید مسئلے کا شکار رہتا ہے جس کے اثرات کا شکار زیادہ تر عام لوگ ہوتے ہیں۔ یہ ایک ایسا گھن چکر ہے جس میں عوام کو کبھی سکون کا وقفہ نہیں ملتا۔ اذیت در اذیت زندگیاں یونہی گزرتی ہیں۔ کچھ لوگ کوشش کرکے ملک سے باہر نکل جاتے ہیں اور جو رہ جاتے ہیں وہ ہر بحران کے وقت یہ کہتے سنے جاسکتے ہیں کہ ’کچھ نہیں ہوگا‘ گویا انہیں یقین ہے کہ قسمت میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔ ایک راسخ مایوسی ہے۔ شہروں میں تو کچھ لوگ تنگ آکر کسی مدعے پر تھوڑی دیر کے لیے سڑکوں پہ کبھی نظر آجاتے ہیں، (یہ بھی اب کم ہوتا جا رہا ہے) لیکن دیہی علاقوں میں تو احتجاج کا تصور بھی نہیں ہے۔ چاہے کوئی بھی قیامت ٹوٹ پڑے اشرافیہ کو اس حوالے سے تسلی ہوتی ہے کہ یہ بس وقتی ہلچل ہے، نظام یونہی چلتا رہے گا۔ ایسا لگتا ہے کہ پاکستان میں لوگوں سے احتجاج کی طاقت سلب کرلی گئی ہے یا اسے غیرمؤثر بنا دیا گیا ہے۔

اس کی بنیادی وجہ تو یہ ہے کہ پاکستان میں لوگوں کو شہریت اور انسانی حقوق سے متعلق آگاہی اور تعلیم نہیں دی گئی۔ اب سماج کے مقابلے میں ریاست اور اس کے ادارے اتنے طاقتور ہوچکے ہیں اور ان کے مفادات کا وزن اتنا ہوچکا ہے کہ یہاں سماج اور ریاست کے مابین توازن قائم کرنا ایک خواب سا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حالات چاہے جتنے بھی خراب ہوں اور اس عدم توازن کے باعث سنگین واقعات رونما ہوتے رہیں، ریاست مگر بلاتردد سخت گیر اور بے نیازی کا رویہ اپنائے رکھتی ہے، کیونکہ حقوق اور شہریت سے متعلق کوئی بھی ٹھوس سماجی فلاحی اقدامات لوگوں میں عادت جاگزیں کردیں گے کہ وہ اس کا مزید مطالبہ کریں۔ اور لوگوں بھی اس کا پورا ادراک ہے کہ ریاست بہت حاوی ہے اور وہ کمزور ہیں، اس لیے وہ خاموش رہتے ہیں۔

پاکستان میں اشرافیہ اور اس جامد نظام کے خلاف عوامی سطح پر جو تصورات مقبول ہوئے وہ عموما مذہبی نوعیت کے رہے ہیں۔ جیساکہ کہا جاتا ہے کہ اسلامی نظام آجائے تو سب ٹھیک ہوجائے گا۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ یہ تصور بھی خود ریاستی اداروں نے دیا اور اس کی بنیاد پہ پوری طرح عوام کا استحصال بھی کیا۔ اس کے برعکس ایسی کچھ آوازیں جو حقوق کی بنیاد پر اٹھیں وہ متنازعہ اور محدود رہیں اور اس ضمن میں عوام کی اکثریت ریاست کے ساتھ کھڑی نظر آئی۔ تاریخی حوالے سے دیکھا جائے تو محسوس ہوتا ہے کہ یہ عمومی مسلم روایت رہی ہے کہ حقوق کی تحریکیں شاذ ہی اٹھیں، جبکہ مقتدرہ اور نظام کے خلاف جو آوازیں بلند ہوئیں وہ مذہبی نوعیت کی تھیں جن کے نتائج اچھے نہیں نکلے۔ خوارج سے لے کر ٹی ٹی پی تک ایسی ہی مثالیں ملتی ہیں۔

سیاسی اشرافیہ ہو یا غیرسیاسی مقتدرہ، یہ اپنے اپنے مفادات کے لیے عوامی جذبات کا استحصال کرتے ہیں اور لوگوں کو مختلف مذہبی و غیرمذہبی طبقات اور شناختوں کے تحت تقسیم کر رکھا ہے۔ ان کے نعروں میں شہریت و حقوق کے تصورات کا گزر نہیں ہوتا۔ اشرافیہ کے یہ سب عناصر لوگوں میں سوچنے کی صلاحیت کو ختم کرتے ہیں اور انہیں متعصب وابستگیوں کا اسیر بناتے ہیں۔ لوگ یہ تو چاہتے ہیں کہ ان کی زندگی میں بہتری آنی چاہیے لیکن انہیں اس سے بے خبر بنایا گیا ہے کہ اس کا صحیح راستہ کونسا ہے۔ انسان جب خود کو کسی اجتماعیت کا حصہ بنا کر اپنے لیے ایک اتھارٹی کو محترم اور رہنما بنا لیتا ہے تو اس کے اندر اطاعتِ محض کی نفسیات پختہ ہونا شروع ہوجاتی ہیں۔ اس ماحول میں بہت ساری چیزیں ابتدا میں عجیب محسوس ہوتی ہیں لیکن وقت گزرنے کے ساتھ وہ ماحول اس کے لیے سب کچھ معقول بنا دیتا ہے اور اسے کچھ عجیب نہیں لگتا۔

پاکستان میں اشرافیہ اور اس جامد نظام کے خلاف عوامی سطح پر جو تصورات مقبول ہوئے وہ عموما مذہبی نوعیت کے رہے ہیں۔ اس کے برعکس ایسی کچھ آوازیں جو حقوق کی بنیاد پر اٹھیں وہ متنازعہ اور محدود رہیں اور اس ضمن میں عوام کی اکثریت ریاست کے ساتھ کھڑی نظر آئی

سماج اور ریاست کے مابین تعلق پر بات نہیں کی جاتی ہے۔  اعلیٰ تعلیمی اداروں میں بھی اساتذہ اس پر روشنی نہیں ڈالتے۔ آغاز ہی سے سماج، اس کے جمہوری و شہری خدو خال اور اس کے حقوق و ذمہ داریوں کو مکمل طور پر پس پشت ڈال دیا گیا۔ پچھتر سال کی کتھارسس نے ایک ایسی جامد فضا تشکیل دیدی ہے جس میں امید ختم ہوگئی ہے۔

ہمارے ہاں کوئی بھی مذہبی، سیاسی یا سماجی اجتماعیت فرد کی آزادی، شہریت اور ان اقدار کی اہمیت کو تسلیم نہیں کرتی۔ ایسے میں یہ ایک فطری امر بن جاتا ہے کہ سماج میں یہ اجتماعیتیں مطلق العنان اتھارٹی کی شکل اختیار کرلیں اور شہری اقدار بے معنی ہوجائیں۔ سوچنے کی صلاحیت ختم ہونے لگے اور بحران معمول کی چیز بن جائے۔ ہمارے اندر بحرانوں سے نہ نکل سکنے کا شعور گہرا ہوتا جارہا ہے۔ ہمارے پاس نوجوانوں کی ایسی قوت ہے جو ناکامی و تذلیل کے احساس کے ساتھ لبالب بھری ہوئی ہے۔ ہم ذلتوں کے مارے لوگ ٹوٹے مرتے جاتے ہیں اور کوئی روشنی نظر نہیں آتی۔

بہتری کی خواہش مگر راستے کے ابہام نے ایک کنفیوژن پیدا کردی ہے۔ حالیہ سیلاب کی طرح جب کوئی بڑا بحران سامنے آتا ہے تو ان کے اندر مایوسی کا احساس مزید گہرا ہوتا ہے۔ بحرانوں سے نہ نکل سکنے کے گہرے شعور اور مایوسی کی شدت کے بعد بھی ان کے پاس فکری یا عملی لحاظ سے کوئی ایسا راستہ دستیاب نہیں ہے جو حقیقی معنوں میں ان کے اندر حقوق و شہریت کی بنیاد پر اشرافیہ اور مقتدرہ کے مقابل کھڑا ہونے کی سکت پیدا کرتا اور سبیل فراہم کرتا ہو۔ سوائے ان عناصر کے جو حقیقت میں اسی نظام کا حصہ ہی ہیں۔

کچھ وقت پہلے ملک کے بعض حصوں میں حقوق کی چند ایک تحریکیں اٹھیں جو اگرچہ اپنے مخصوص علاقائی محرکات کی بنا پر سامنے آئیں لیکن ان کی وجوہات ٹھوس تھیں۔ یہ تحریکیں پرزور اور پرامن تھیں۔ شروع میں یہ محسوس کیا گیا کہ ان کے وسیع اثرات مرتب ہوں گے اور یہ پھیلیں گی۔ مگر ایسا نہیں ہوا۔ وہ متنازعہ بنیں اور ریاست نے ان کے ساتھ مرضی کا سلوک کیا۔ ایک صوبے سے تعلق رکھنے والے کتنے ہی خاندان طویل عرصے سے احتجاج پر ہیں۔ سیاسی اور غیرسیاسی اشرافیہ کا رویہ اس ضمن میں سامنے ہے۔

پاکستان میں کوئی بھی بحران تبدیلی کی اساس نہیں بنتا۔ لوگوں میں بس ابہام ہے، خوف ہے اور مایوسی ہے۔ ایک تہہ در تہہ پوری احتیاط اور کوشش کے ساتھ تشکیل دیا گیا نظام ہے جس کے ثمرات سے بلاتفریق ساری اشرافیہ فائدہ اٹھاتی ہے اور جس کی قیمت عوام ادا کرتے ہیں۔ تاہم یہ سمجھنا چاہیے کہ اگر اشرافیہ اور مقتدرہ اس نوع کے شدید اجتماعی بحرانوں میں بھی اپنا رویہ تبدیل نہیں کرتی تو اس کے خطرناک نتائج برآمد ہوں گے۔

Share.

Comments are closed.

Exit mobile version