ڈاکٹر عامر لیاقت حسین گزشتہ روز 9 جُون 2022ء بروز جمعرات و فات پا گئے۔ تادمِ تحریر اُن کی وفات کی حتمی وجہ سامنے نہیں آسکی۔ دنیا سے جانے والا اپنی یادیں چھوڑ جاتا ہے۔ یہی یادیں ہیں جن سے زندہ لوگ بہت کچھ کشید کرتے اور مرنے والے کی باتوں سے اپنی محفلوں کو زندہ رکھتے اور رونقیں بحال رکھتے ہیں۔

ایک عام آدمی کی موت اور ایک ایسے انسان کی موت جس نے شہرت، دولت اور عزت کے کمال اور عروج پہ، زندگی گزاری ہو۔ اِن دونوں کی موت اور زندگی سے ملنے والے سبق اور عبرت میں بہت فرق ہے۔ زندگی دونوں میں مشترکہ ہوتی ہے لیکن دونوں کی زندگی کی کیفیت و حالت میں فرق ہوتا ہے۔ اِسی طرح دونوں کی موت ظاہراً ایک جیسی ہوتی ہے لیکن اِن کی موت کی کیفیت اور حالت میں بھی فرق ہوتا ہے۔

میں نے ہی نہیں لاکھوں کروڑوں انسانوں نے عامر لیاقت مرحوم کا عروج و کمال دیکھا ہے۔ جب انہیں لوگ صرف سننا ہی نہیں بلکہ دیکھنا بھی پسند کرتے تھے۔ رمضان ٹرانسمیشن کا نیلام گھر کی صورت میں آغاز کر نے والے عامر لیاقت ہیں۔ عالم آن لائن سے شہرت کی بلندیوں کو چھونے والے عامر لیاقت نے بہت ہی کم وقت میں ہی سب کچھ حاصل کر لیا جو اس شعبے سے تعلق رکھنے والے ساری زندگی حاصل نہیں کر پاتے۔

رمضان ٹرانسمیشن، مارننگ شو، عالم آن لائن پروگرام، کالم نگاری، تالیف و تصنیف، خطابت، سیاست، وزارت۔۔۔۔ یہ سب کچھ  نہ صرف حاصل کیا بلکہ اِن سب سے لطف اندوز بھی ہوئے۔ لیکن کسی ایک شعبے سے محکم تعلق قائم نہ رکھ سکے۔ زندگی میں ایک ہی چوٹی کو سر کیا جاتا ہے اور اُسے اپنا اوڑھنا بچھونا بنایا جا تا ہے۔ عامر لیاقت صاحب کی زندگی میں یہی تنوع یا تقسیم  اُن کی تھکاوٹ اور ڈپریشن کا سبب بھی بنا۔ ایک طرف اُن کی صلاحیت اور محنت کی داد دینا پڑتی ہے لیکن دوسری طرف ہم دیکھتے ہیں ایسے لوگ جلد تھک کر ٹوٹ جاتے ہیں۔ اُن کی طبیعت کی یہی جولانی اور اِسی افتادِ طبع نے انہیں ایک بیوی کے ساتھ رہنے بھی نہ دیا۔ میں اُن کے گھریلوں اور خاندانی حالات سے واقفیت نہیں رکھتا اور نہ مجھے اِس طرف جانا ہے، نہ یہ میرا حق ہے کہ میں اِس پہ رائے دوں۔ یا اِس معاملے میں کسی کو سچا یا جھوٹا قرار دوں۔ پہلی شادی کے بعد دوسری شادی اور پھر تیسری شادی۔ کہاں وہ شخص جسے دنیا مذہبی سکالر کے نام سے عزت دیتی تھی اور کہاں وہ شخص جس کی Memesبنائی گئیں، مذاق اڑایا گیا اور غیر سنجیدہ لیا گیا۔ عامر لیاقت صاحب کی زندگی میں کئی ایسے واضح پہلو ہیں جو ہم لوگوں کے لیئے راہنمائی و ہدایت کا سبب ہیں۔

دنیا سے جانے والاہر شخص ہمارے لیے بہت کچھ کرنے اور بہت کچھ نہ کر نے کا سامان چھوڑ جاتا ہے۔

دنیا میں شہرت و نام کے عروج پہ پہنچنے والے بھی بہرحال انسان ہی ہوتے ہیں۔ وہ معاشرے سے اسی سلوک کے حق دار ہوتے ہیں جو ایک انسان حقدار ہوتا ہے۔

ایک آفاقی اور عالمگیر سچائی ’فناء‘ ہے۔ انسان خواہ قوت و شہرت میں ہمالیہ کو چھو لے، دولت و عزت کے ’کے ٹو‘ پہ پہنچ جائے لیکن آخر اُس نے تہہ خاک جانا ہے۔ انسانی تاریخ اس کی گواہ ہے۔ کوئی انسان ہمیشہ کے لیے نہیں آیا۔ جن کے اقتدار کا آفتاب آب و تاب سے چمکتا تھا آج اُن کا بھی کوئی نام لینے والا نہیں ہے۔

دوسری بات، انسان اپنی ذات میں قناعت پسندی اور جوانی کے منہ زور گھوڑے کو لگام دے کر رکھے۔ اپنی شخصیت کو بکھرے آئینے کی طرح نہ بنائے کہ جسے جوڑتے اور جمع کرتے ہوئے مشکل پیش آئے اور اسی کوشش میں وہ مزید بکھرتا اور ٹوٹتا چلا جائے۔ اگر انسان اپنی خدا داد صلاحیت کو مرتکز رکھے اور ایک مقام کو اپنی زندگی میں مر کزی حیثیت دے دے تو اُسے زندگی میں کبھی پچھتاوا اور مایوسی نہیں ہوتی۔ زندگی صرف ایک خانے کا نام نہیں ہے۔ زندگی ایک ہے لیکن اس کے پرتو اور جہات مختلف ہیں۔ یہ بات ہمیں نو جوانی میں سمجھ نہیں آتی۔ ہم جسے مقصدِ حیات خیال کرکے باقی سب کچھ پس پشت ڈال دیتے ہیں۔  در حقیقت وہ سب جمع ہوتے ہیں تو زندگی کا گلدستہ تیار ہو تا ہے۔

زندگی میں ایک رنگ اگر دولت ہے تو دوسرا رنگ وقت بھی ہے۔ اگر ایک رنگ شہرت ہے تو دوسرا رنگ عزت بھی ہے۔ اگر ایک خانہ خاندان ہے تو دوسرا خانہ مذہب بھی ہے۔ اگر دوسروں کے لیے وقت نکالنا ہے تو اپنے لیے بھی وقت نکالنا ہے۔

دنیا میں شہرت و نامی کے عروج پہ پہنچنے والے بھی بہر حال انسان ہی ہوتے ہیں۔ وہ معاشرے سے اسی سلوک کے حق دار ہوتے ہیں جو ایک انسان حقدار ہوتا ہے۔

یہ معاشرے کی بے حسی اور غیر ذمہ دارانہ رویہ کی ایک جھلک ہے جس کا ہم بعض اوقات مشاہدہ کرتے ہیں۔ جو شخص زندگی کے کمال پہ پہنچ کر زوال کی طرف آتا ہے اس کی کیفیت اور حالت قابل رحم ہوتی ہے لیکن بے رحم معاشرہ ایسے موقع پہ بھی اُس کے آنسو، رونے اور تڑپنے کو مذاق اور ڈرامہ خیال کر تا ہے۔ وہ ’ہر کمال را زوال است‘ کی مثال بن رہا ہو تا ہے۔ اُس کی زندگی، ذات اور باطن ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو رہا ہوتا ہے۔ وہ خلوت و جلوت میں روتا ہے۔ وہ ایک بڑا آدمی ہو کر بھی روتا ہے اور خیال کرتا ہے لوگ اُس کے دکھ کو محسوس کریں گے۔ لیکن لوگ اُس کی ویڈیوز میں رونے دھونے کو ایک ڈرامہ خیال کر تے ہوئے، اُسے ’ڈرامہ لیاقت‘ کا نام دیتے ہیں۔ ایک نامی شخص دنیا سے چلا گیا۔ کتنے سبق ہمارے لیے چھوڑ گیا۔ صرف ہمارے لیے سبق نہیں بلکہ ہم پہ سوال چھوڑ گیا۔ ہمارے کردار، اخلاق، رویوں پہ بے حسی کا نشان چھوڑ گیا۔ اگر اُس کی زندگی اور موت میں عبرت ہے تو زندہ انسانوں کی لاشوں پہ بھی ماتم کرنے کو جی چاہتا ہے۔ یہ کیسا معاشرہ ہے جہاں اپنے دکھ غم، ڈپریشن اور فرسٹریشن کا یقین دلوانے کے لیے مرنا پڑتا ہے۔ ڈاکٹر عامر لیاقت حسین سے صرف ہم نے سبق نہیں سیکھنا ہم نے اپنے آپ سے اور اپنے سماج سے بھی سبق سیکھنا ہے کہ ہم فٹ پاتھ پر مرنے و الے انسان کو اٹھا کر ہسپتال نہیں لے جاتے بلکہ  اپنے یوٹیوب چینلز اور وی لاگ بنانے کے لیے اُس کی وڈیو بناتے اور پھر اسے وائرل کر تے ہیں۔

جانے والا چلا گیا لیکن اپنی زندگی اور موت میں ہمارے جاگنے اور ماننے کا بہت سامان چھوڑ گیا ہے۔

اللہ تعالی ڈاکٹر عامر لیاقت حسین کی مغفرت فرمائے۔ زندگی  میں  ہونے والے ہر گناہ سے درگزر فرمائے۔ اور ان کے نیک اعمال کو ان کے لیے بخشش و مغفرت کا ذریعہ بنائے،آمین۔

Share.

Comments are closed.

Exit mobile version