اگر کسی عالم ،سیاسی راہنما یا عام شخص سے دورانِ گفتگو کوئی ایسا جملہ سنیں جو اسلامی تعلیمات کے واضح خلاف ہو یا جو معروف کے خلاف ہو تو ان تینوں میں سے ایک وجہ خیال کی جاسکتی ہے، اول: سبقت لسانی یعنی وہ کہنا کچھ چاہ رہا تھا اور اُس کی زبان سے نکل کچھ اور گیا۔ دوم: وڈیو ایڈٹ کی گئی ہے (اگر ویڈیو ہے)۔ سوم: یا علم و مطالعہ کی کمی ہے۔

اگر اِن تین کے علاوہ آپ کوئی اور وجہ خیال کرتے ہیں تو کہنے والے کی بات کو اُس کے ماضی، عمومی خیالات و نظریات اور وضاحتی بیان سے بھی سمجھا جا سکتا ہے. میں نے ایک بار گفتگو کے دوران کہہ دیا کہ ’’کوزے کو دریا میں بند کر دیا‘‘جبکہ صحیح محاورہ ہے ’’دریا کو کوزے میں بند کر دینا‘‘۔ ایک عربی دوست مجھے کسی دوست سے ملوانے گیا، اس نے تعارف میں غیر ارادی طور پر ایسے الفاظ بول دیے جو اسلامی حوالے سے درست نہ تھے، بتانے پہ اس نے معذرت کی۔ ایسی اور بہت سی غلطیاں ہیں جو میں، آپ سب دورانِ گفتگو کرتے رہتے ہیں۔ ہاں! اگر کوئی اپنے نظریات و خیالات کو باہوش و حواس اور ارادہ و نیت سے بیان کر رہا ہے تو پھر اُس کا جواب دلائل اور سنجیدگی سے دیےجانےکی ضرورت ہے.

ایڈیٹ شدہ ویڈیو کا بہت بڑا فتنہ ہمارے ہاں موجود ہے۔ اِن ویڈیوز کی وجہ سے لوگوں میں ایک دوسرے کے خلاف شدید نفرت پائی جاتی ہے یا ویڈیوز کو اس طرح بنایا جاتا ہے جیسے ’’کہیں کی اینٹ کہیں کا روڑا، بھان متی نے کنبہ جوڑا‘‘ ایسی ویڈیوز بھی بہت زیادہ گردش کرتی ہیں۔ میں نے ایسی بہت سی ویڈیوز کی نشان دہی کر کے دوستوں کوبتایا۔

مجھے نہیں معلوم یہ فیک ویڈیوز بنانے والے کون لوگ ہیں؟ اگر مسلمان ہیں تو کیا انہیں خدا کا خوف نہیں ہے کہ انہوں نے کل اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضری دینی اور اپنے اعمال کا جواب دینا ہے۔ ایسی ویڈیوز اُن لوگوں کو گمراہ کر نے کے کام آتی ہیں جنہیں اس شخصیت کےنظریات و کردار کا علم نہیں ہوتا یا اُن میں سیاست، فر قے کی بنیاد پہ شدید نفرت اور تعصب پایا جا تا ہے۔ بد گمانی اور بد ظنی کے بجائے حسنِ ظن اور خوش گمانی سے کام لینا چاہیے۔ جب ایک شخص اپنی بات کی وضاحت کر دے تو ہمیں اُس کی وضاحت کو تسلیم کرنا چاہیے کیونکہ اُس کی بات اُس کی ملکیت ہے، جب وہ خود ہمیں بتا رہا ہے تو ہمیں کوئی حق نہیں پہنچتا کہ اُس کی وضاحت کے بعد ہم اپنی طرف سے اس کی بات کی تشریح کریں۔

پہلے ہم صرف Fakeسنتے اور دیکھتے تھے۔اب "Deep fake”کے بارے میں سن اور دیکھ رہے ہیں۔ ڈیپ فیک کی تعریف یہ ہے:
Deep fake is a type of artificial intelligence used to create convincing images, audio and video hoaxes. The term, which describes both the technology and the resulting bogus content, is a portmanteau of deep learning and fake.
"ڈیپ فیک مصنوعی ذھانت کی ایک قسم ہے جو متاثر کن تصویر، آڈیو اور ویڈیو بنانے کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔ یہ تصاویر، ویڈیوز اور آڈیوز دھوکہ پر مبنی ہوتی ہیں ۔یہ اصطلاح دونوں چیزوں، ٹیکنالوجی اور جھوٹے مواد کا نتیجہ ہے جو گہرے فن اور جعل سازی کا مرکب ہے” ۔

یہ وہ ٹیکنالوجی ہے جس سے سادہ لوح اور صاف دل افراد دھوکہ میں آجاتے ہیں۔ انہیں اندازہ ہی نہیں ہے کہ یہ سب کچھ جھوٹ اور فریب ہے۔ میں اِن لوگوں کو سادہ لوح اور صاف دل اس لیے سمجھتا ہوں کہ وہ اُس وڈیو یا آڈیو کے Content سے بھی اندازہ نہیں کرسکتے کہ آیا کہ بولنے والا ایسا بول بھی سکتا ہے یا نہیں؟ مثلاً کیا ایک سیاستدان علی الاعلان اپنے ملک کے خلاف بات کر سکتا ہے؟ مذہبی عقائد جو مسلّم و معروف ہیں، کیا کوئی سیاستدان یا مذہبی راہنما اُن کے خلاف بات کر سکتا ہے؟ یہ سادہ لوح اور صاف دل لوگ اُن آڈیوز اور ویڈیوز پہ بھی اعتبار کرلیتے ہیں۔ اس طرح اِن ویڈیوز کو چند سیکنڈ میں وائرل کرنے کا ذریعہ بنتے ہیں۔اخلاقیات اور خوف خدا کا تقاضا ہے کہ ہم اس کام سے باز آئیں اور اس معاملے میں ہمیشہ حسن ظن سے کام لیں۔

اگر کسی سے ہمارا سیاسی یا مذھبی اختلاف ہے تو اس کا مطلب غداری اور دین سے دوری نہیں ہے۔ ممکن ہے ہمارا حریف و مخالف ہم سے زیادہ محب الوطن اور دیندار ہو۔ اس حوالے سے دین کی بنیادی تعلیم ہماری راہنمائی کرتی ہے کہ تصدیق و تحقیق کے بغیر ہمیں کوئی بات آگے نہیں پہنچانی چاہئیے اور نہ ہی کوئی قدم اُٹھانا چاہئیے۔

Share.

Comments are closed.

Exit mobile version