پاکستان میں آئے روز خواتین کے قتل کے دلخراش واقعات رونما ہوتے ہیں۔ عام طور پر انہیں ’غیرت کے نام پہ قتل‘ کا نام دیا جاتا ہے۔ قتل ہونے والی خواتین میں پاکستانی اور پاکستانی نژاد دونوں طرح کی خواتین شامل ہیں۔ دو چار دن پہلے سپین پلٹ دو بہنوں کا گجرات میں قتل ہوا۔ ڈیڑھ سال قبل ان دونوں بہنوں کا نکاح اپنے کزنوں سے ہوا تھا۔ جب وہ واپس گئیں تو انہوں نے سپین کے ویزے کے لیے اپنے خاوندوں کو سپانسرشپ دینے سے انکار کردیا۔
بی بی سی کی خبر کے مطابق لڑکیوں کے بھائی اور والد نے والدہ کو اعتماد میں لیا۔ وہ اپنی دونوں بیٹیوں کو دس دن کا کہہ کر کسی تقریب میں شرکت کے لیے پاکستان لے آئی۔ اُس کے بعد اُنہیں قتل کردیا گیا ہے۔
تقریباً تین سال قبل پاکستانی نژاد اٹلی پلٹ 26 سالہ ثنا چیمہ کا قتل ہوا۔ اس کیس میں والد، بھائی اور چچا کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ یہ واقعہ گجرات کنجاہ کا تھا۔
ثمن عباس اٹلی میں ہی لاپتہ ہوگئی۔ بعد میں تفتیش کے ذریعے معلوم ہوا کہ اُسے قتل کردیا گیا ہے۔ اُس کا کیس بھی یہی تھا کہ اُس کے والدین چاہتے تھے کہ وہ پاکستان میں رشتہ داروں میں شادی کرے جب کہ اُس نے ایسا کرنے سے انکار کردیا تھا۔
ایک رپورٹ کے مطابق برطانیہ میں ستر فیصد جبری شادیاں پاکستان سے آئے خاندانوں میں ہوتی ہیں۔
ان تمام واقعات میں سے اکثریت کی ایک وجہ مشترک ہے، اور وہ یہ ہے کہ والد اپنی بیٹی کی شادی اپنے رشتہ داروں میں کرنا چا ہتا تھا۔ بیٹی کےانکار کی وجہ سے اُسے قتل کر دیا گیا۔ اس میں والدہ کا کردار سہولت کار کا ہوتا ہے۔ وہ اس سازش میں شامل ہوتی ہے یا اسے دھوکے میں رکھا جاتا ہے۔ تیسرا پہلو یہ بھی ہے کہ والدہ کو بھی طلاق اور قتل کی دھمکیاں دے کر اس ڈرامے میں بالجبر شامل کرکے خاموش کرایا جاتا ہے۔
ایسے واقعات کیوں رونما ہوتے ہیں؟ یہ بنیادی سوال ہے جس کا جواب ہمیں تلاش کرنا ہے۔
اس سوال کے تانے بانے ہمارے سماجی، مذہبی رویوں اور معاشی مجبوریوں سے جا ملتے ہیں۔ سماجی رویوں سے مراد روایات و رسوم اور باہمی تعلقات ہیں جن میں مرد عورت کے مرتبہ و حیثیت میں فرق کی تعلیم و رجحان ہے۔ سال ہا سال سے جاگیردارانہ دور میں تشکیل و تصویر پانے والے مذھبی رویے اس سوچ کو بڑھاوا دینے میں شامل ہیں۔ یورپ میں مقیم پاکستانی اپنے بچوں کو وہاں کے ماحول میں ترقی کرتا دیکھ کر خوش ہوتے ہیں کیونکہ یہ وہ محرومیاں ہوتی ہیں جن سے وہ خود گزرچکے ہوتے ہیں۔ یہ سب مواقع مہیا کرتے وقت وہ ہرگز نہیں خیال کرتے کہ اس کا ایک نتیجہ ہے اور وہ ذھنی آزادی، خاندانی بندھن اور مروّجہ روایات سے آزادی۔
ایسے واقعات کیوں رونما ہوتے ہیں؟ اس سوال کے تانے بانے ہمارے سماجی، مذہبی رویوں اور معاشی مجبوریوں سے جا ملتے ہیں
دین، اخلاقیات اور دنیا کا کوئی قانون کسی عاقل، بالغ بچہ یا بچی کو اپنی مرضی سے نکاح کرنے سے منع نہیں کرتا۔
ایسے واقعات بیٹوں سے متعلق کم سننے اور دیکھنے کو ملتے ہیں کیو نکہ وہ کسی کی بیٹی سے نکاح کرتا اور اپنی بیوی بنا کر لاتا ہے، لیکن بیٹی کے حوالے سے یہ سماج کی ذہنیت ہے کہ بیٹی ہماری عزت اور ہماری آبرو ہے لہٰذا یہ اپنے نکاح کا فیصلہ کر نے کا بھی حق نہیں رکھتی۔ یہ وہ ذہنیت ہے جو والد یا بھائی یا چچا کو انتہائی قدم اٹھانے کی طرف راغب کرتی ہے۔ معاشی سبب یہ ہے کہ یورپ میں رہنے والے والد یا بھائی بذات خود بیٹی یا بہن کو ایک ذریعہ خیال کرتے ہیں کہ اس کے ذریعے کسی خاندان کے فرد کو یورپ میں بلایا جاسکتا ہے۔ یہ ایک معاشی مسئلہ بھی بن جاتاہے کہ پاکستان میں موجود ایک خاندان اپنے معاشی استحکام کا خواب دیکھ رہا ہوتا ہے۔
اپنے رشتہ داروں کو خواب دکھانے والا کبھی اس خواب کو چکنا چور ہوتا نہیں دیکھ سکتا۔ وہ اپنی روایتی مردانگی کے جوہر دکھاتے ہوئے انکار کرنے والی اپنی سگی بیٹی کی جان لینے سے بھی باز نہیں آتا۔
یہ دراصل اس دولت کا بھی نشہ ہے جو ایک والد یا بھائی کو بد مست ہاتھی بنادیتا ہے جو ناز و نعم اور لاڈوں میں پرورش پانے والی بیٹی یا بہن کو اپنی فرعونیت اور انانیت کے پاوں تلے کچلنے سے بھی باز نہیں آتا۔
ایسے واقعات صرف پاکستانی نژاد خواتین کے ساتھ نہیں ہوتے۔ ایسے سفاکانہ واقعات پاکستان میں رہنے والی خواتین کے ساتھ بھی ہوتے ہیں۔ پاکستان میں ہونے والے واقعات کو ’غیرت کے نام پہ قتل‘ قرار دیا جاتا ہے۔ اُس کی وجو ہات میں اکثر اپنی پسند کی شادی ہوتی ہے۔ اب ایسے واقعات بھی دیکھنے کو مل رہے ہیں جس میں لڑکی روزگار کے سلسلے میں باہر نکلتی ہے یا بہن کا پیشہ گھر والوں کو پسند نہیں آتا۔ مثال کے طور پر، وہ ماڈلنگ کرتی ہے یا ٹک ٹاک سٹار ہے۔ ایسے واقعات کے پس منظر میں جائیں گے تو آپ کو معلوم ہوگا۔ اُس لڑکی کا والد کئی سالوں سے گھر میں بیٹھا ہوا ہے۔ اگر کوئی کام کرتا ہے تو کثرت اولاد کے سبب گھر کے اخراجات نہیں چلتے۔ بھائی ہیں تو وہ بے روز گار یا نکمے ہیں۔ جو تعلیم و محنت سے بھاگے ہوتے ہیں لیکن غیرت کے جذبات سے مغلوب ہیں۔ جنہیں کسی دوست اور رشتہ دار نے طعنہ دیا کہ تمہاری بہن اس طرح پیسے کماتی ہے اس کے کردار پہ شک کا اظہار کیا۔ بس بھائی نے آؤ دیکھا نہ تاؤ اور بہن کو فرمان جاری کردیا کہ تم نے اب کام نہیں کرنا اور گھر بیٹھنا ہے۔ وہ بہن جو پہلے ہی بھائیوں کے غیر ذمہ دارانہ رویے سے باغی ہو چکی ہوتی ہے۔ وہ صاف صاف انکار کر دیتی ہے جس کے بعد تو تکرار سے نوبت جھگڑے تک پہنچتی ہے اور بھائی غیرت کے نام پہ بہن کا قتل کردیتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ آخر جب بہن یا بیٹی گھر سے نکلتی ہے کہ وہ اپنے بہن بھائیوں کا پیٹ پالے یا وہ روشن مستقل کا خواب سجائے گھر سے نکلتی ہے، اس وقت غیرت مند باپ یا بھائی کہاں ہوتے ہیں؟
ان بہمانہ قتل کے خاتمے کے لیے سماجی، مذہبی رویوں اور معاشی حالات کو بدلنے کے لیے مسلسل تعلیم و تربیت کی ضرورت ہے۔ اگر پاکستانی قانون کا اطلاق دیانت داری سے ہو۔ اصلاحات کے ذریعے قانونی اداروں کو بہتر کیا جائے تو ان واقعات پہ بہت حد تک قابو پایا جا سکتا ہے۔
سپین پلٹ بچیوں نے قتل سے پہلے انکار کی وجہ بتاتے ہوئے کہا تھا ’’ساری زندگی یورپ میں گزارنے کے بعد وہ پاکستانی خاوند اور اس کے طور طریقوں کے مطابق نہیں ڈھل سکتیں اور ان کے کزنوں کےمزاجوں میں فرق ہے‘‘۔
لڑکیوں کا یہ کہنا در حقیقت زمینی حقائق کا بیان ہے، جسے والدین خصوصاً والد اور بھائی سمجھ نہیں پاتے۔ پاکستان اور یورپ کی تہذیب و ثقافت،رہن سہن اور طرز زندگی میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ انسان کا مزاج، پسند نا پسند اُس کے ماحول اور تربیت کے تابع ہوتی ہے۔
یورپ کے تعلیمی اداروں میں دی جانے والی تعلیم و تربیت سے جو سوچ اور رویہ پروان چڑھتا ہے وہ پاکستان کے تعلیمی اداروں یا گھروں میں دی جانے والی تعلیم و تربیت سے یکسر مختلف ہوتا ہے۔ والدین اس حقیقت کا ادراک نہیں کر پاتے کہ ایک بچی جسے ہم نے 25 سال یورپ کے ماحول میں رکھا اور جوان کیا، وہ کیسے اچانک اُن کے کہے کے مطابق شادی کرنے کے لیے تیار ہو جائے؟ دونوں ملکوں میں صرف زمینی فاصلہ ہی نہیں بلکہ تہذیبی اور ثقافتی فاصلے بھی ہیں۔
اُن بچیوں کا یہ بھی کہناتھا کہ ’’وہ پاکستانی خاوندوں کے طور طریقوں کے مطابق نہیں ڈھل سکتیں اور ان کے کزنز کے مزاجوں میں فرق ہے‘‘۔ اب اس میں ایسی کیا مشکل بات ہے جو والد اور بھائ کو سمجھ نہ آ سکے۔ جب وہ ساری زندگی یورپ میں رہیں، وہیں پرورش پائی، مزاجوں کا اختلاف تو فطری بات ہے۔ اس اختلاف کو کیسے زبردستی ختم کر کے دو لوگوں کو رشتہ ازدواج میں منسلک کردیا جائے؟
بیٹا ہو یا بیٹی شادی کےمعاملے میں اسے کُلّی اختیار حاصل ہے۔ زندگی اس کی ہے۔ اللہ نے اُسے اپنی زندگی کے معاملات میں فیصلہ کرنے کا مکمل اختیار دیا ہے۔ اُس سے یہ حق بھلا کون چھین سکتا ہے؟
جبری شادی کے واقعات اپنے انجام کو پہنچ کر میڈیا میں آجاتے ہیں لیکن بہت سے واقعات میڈیا میں رپورٹ نہیں ہوتے۔ بہت سی شادیاں ایسی بھی ہوتی ہیں جن میں دھمکی اور دھونس کام کر جاتے ہیں۔ بیٹیاں قتل ہونے کے ڈر سے خاموشی اختیار کر لیتی ہیں۔ اس رشتے میں بس نباہ ہوتا رہتا ہے۔ کئی شادیوں میں ایسا بھی ہوتا ہے کہ لڑکی کا قلبی تعلق نہیں بن پاتا۔ جب وہ واپس اپنے ملک پہنچ جاتی ہے، تو اس کے پاس دو راستے ہوتے ہیں یا وہ فوراً قدم اٹھائے اور علیحدگی اختیار کرلے یا اپنے خاوند کے مستقل ویزے تک اُسے برداشت کرے اور ایک ضرورت کا تعلق قائم رہے۔
جبری شادی درحقیقت دائرے کا سفر ہے۔ بات بالآخر پہنچتی وہیں پہ ہے جہاں اولاد پہلے روز سے کھڑی ہوتی ہے یعنی اپنی مرضی کی شادی اور مرضی کا شریک حیات۔
یہ والدین کی دانش مندی اور فراست پہ منحصر ہے کہ وہ اس مسئلے کا کیا حل نکالتے ہیں۔ یاکون سا حل تسلیم کرتے ہیں۔ اگر وہ بالجبر قدم اٹھاتے ہیں، اس کا نتیجہ وہی ہوتا ہے جو میں نے اوپر ذکر کردیا ہے۔ اگر وہ انتہائی قدم اٹھاتے ہیں، اس کا نتیجہ جیل، تھانوں کی ذلت و خواری، عمر اور پیسہ کا ضیاع ہے۔ اب فیصلہ والدین کے ہاتھ میں ہے۔
بقول فیض:
قرب کے نہ وفا کے ہوتے ہیں
سارے جھگڑے انا کے ہوتے ہیں

