جمہوری جدوجہد، لبرل سیاست اورصوفی روایات کے حوالے سے مشہورصوبہ سندھ کا شمالی علاقہ آج کل مذہبی انتہاپسندی اورفرقہ وارانہ دہشت گردی کی زد میں ہے جبکہ حالیہ سالوں میں خودکش حملوں اوردہشت گردی کے بڑھتے ہوئے واقعات کے بعد قانون نافذکرنے والے اداروں نے اس خطے کو ’نیا وزیرستان‘ قراردیناشروع کردیاہے
جمہوری جدوجہد، لبرل سیاست اورصوفی روایات کے حوالے سے مشہورصوبہ سندھ کا شمالی علاقہ آج کل مذہبی انتہاپسندی اورفرقہ وارانہ دہشت گردی کی زد میں ہے جبکہ حالیہ سالوں میں خودکش حملوں اوردہشت گردی کے بڑھتے ہوئے واقعات کے بعد قانون نافذکرنے والے اداروں نے اس خطے کو ’نیا وزیرستان‘ قراردیناشروع کردیاہے جہاں شمالی وزیرستان میں آپریشن ضرب عضب اورکراچی میں کاروائیوں کے سبب شدت پسندوں نے اپنے ٹھکانے بنائے ہوئے ہیں۔
سندھ کا شمالی خطہ جیکب آباد، شکارپور، کشمور، گھوٹکی، لاڑکانہ اورقمبرشہدادکوٹ کے اضلاع پرمشتمل ہے اوراس خطے کی سرحدیں بلوچستان اورجنوبی پنجاب سے بھی ملتی ہے۔
اسٹریٹجک لحاظ سے اہم اس خطے میں گزشتہ کئی سالوں سے دہشت گردی کے کافی واقعات رونما ہورہے ہیں مگر قبائلی علاقہ جات اورکراچی پرقانون نافذکرنے والے اداروں نے زیادہ ’فوکس‘ ہونے کی وجہ سے یہ علاقے توجہ کامرکزنہ بن سکے۔ حکومتی جماعتوں خصوصا پاکستان پیپلزپارٹی میں شامل خطے کے بااثر سرداروں کی قبائلی لڑائیوں اورجرگوں میں شمولیت اوراورڈکیت گروپوں کی سرپرستی کے سبب اس خطے کی صورت حال پختون قبائلی علاقہ جات سے زیادہ مختلف نہیں جبکہ غربت کی انتہاء، تعلیم وصحت کی سہولتوں کی محرومی اورقانون کی نام نہاد علمداری کے سبب مقامی باشندے متبادل کے طور پر مذہبی جماعتوں خصوصا جمعیت علمائے اسلام (ف) اوراہلسنت والجماعت (سابق سپاہ صحابہ پاکستان) کی حمایت کرنے پرمجبورہیں۔ مذہبی جماعتوں کی گزشتہ چند سالوں میں فعالیت کے سبب شمالی سندھ کی شاہراہوں اورہرضلع کے داخلی اورخارجی مقامات پربڑے بڑے مدارس کھل رہے ہیں جہاں مقامی غریب عوام اپنے بچوں کوتعلیم کے حصول کے لئے بھیج رہے ہیں۔ البتہ حال ہی میں متعدد مدارس نے کالعدم فرقہ پرست اورجہادی گروپوں سے بھی روابط قائم کرلیے ہیں۔
البتہ قانون نافذکرنے والے ادارے سندھ کے شمالی اضلاع میں حال ہی میں مذہبی انتہاپسندی اورفرقہ وارانہ دہشت گردی کے پے درپے واقعات کے بعد اس خطے کوبڑی سنجیدگی سے لے رہے ہیں۔شمالی سندھ میں گزشتہ چندسالوں میں شیعہ کمیونٹی پرخودکش حملوں کے ساتھ ساتھ افغانستان میں نیٹو افواج کے لئے تیل لے جانے والے ٹینکروں پرحملے ہوئے ہیں جبکہ جبکہ قومی اسمبلی کی نشست پر امیدوار اورنیشنل پیپلزپارٹی کے مرکزی رہنما ابراہیم جتوئی، صوفی روحانی شخصیات پیرسیدحجن شاہ اورسید حسین شاہ قنبر پرحملے اورسکھر میں آئی ایس آئی کے دفترپرحملے یہ ظاہرکررہے ہیں کہ شدت پسند گروپ ملک کے دیگرحصوں کی طرح شمالی سندھ میں فعال ہورہے ہیں۔ گزشتہ سال اکتوبرمیں جیکب آباد کے لاشاری محلہ میں شیعہ کمیونیٹی پرایک خود کش حملے میں 26 سے زائد افراد جاں بحق ہوئے تھے جبکہ اسی سال جنوری میں شکارپورضلع میں شیعہ امام بارگاہ پرخود کش حملے میں 57 سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے۔ رواں سال عیدالاضحی کے موقع پرپولیس کی جانب سے شکارپورکے علاقے خان پور میں ایک خودکش حملہ آور کودھماکہ کرنے سے پہلے گرفتارکرلیاگیاتھا جس کے سبب ایک بڑا سانحہ رونما ہونے سے بروقت رک گیا۔ اس سے قبل بھی سکھرمیں آئی ایس آئی کے دفتر پرحملہ بھی ہواہے۔
’تجزیات‘ کی جانب سے حال ہی میں خطے میں کی گئی تحقیق اورقانون نافذکرنے والے اداروں کے افسران سے بات چیت سے یہ معلوم ہواکہ خیبرپختونخواہ اورقبائلی علاقہ جات سے پناہ کی طلب میں بھاگنے والے طالبان شدت گروپ اب تک قانون نافذکرنے والے اداروں کی ریڈار میں نہیں آئے مگردہشت گردی کے بڑے واقعات کے بعد اس خطے پرکافی توجہ دی جارہی ہے۔
حال ہی میں سندھ پولیس کے کاؤنٹرٹیرارزم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی )کی جانب سے مرکز اوربلوچستان حکومت کو سندھ کے شمالی اضلاع سے متعصل بلوچستان کے ضلع خضدارکے علاقوں خصوصا وڈھ میں آپریشن کئے جانے کی سفارش کی گئی ہے اورکہاگیاہے کہ شمالی سندھ خصوصا جیکب آباد اورشکارپورمیں رونماہونے والے دہشت گردی کے واقعات کے ملزمان بلوچستان سے سندھ میں داخل ہوئے تھے۔ خان پورمیں گرفتارہونے والے خودکش حملہ آورنے بھی دوران تفتیش قانون نافذکرنے والے اداروں کوبتایاکہ وہ اوراس کے ساتھیوں کاتعلق فضل اللہ کی تحریک طالبان پاکستان سے ہے اوروہ بلوچستان میں قیام پذیرتھے جہاں سے وہ حملے کی منصوبہ بندی کرکے سندھ میں داخل ہوتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق شمالی سندھ میں مدارس کی بھرمار کی وجہ سے شدت پسندوں کو مقامی سطح پرکافی سپورٹ مل رہی ہے۔ ذرائع کے مطابق وزیراعلیٰ سندھ کی جانب سے حال ہی میں کہاگیاہے کہ صوبے بھر میں 93 مدارس کاتعلق شدت پسندی سے ہے جن میں اکثریت شمالی سندھ میں حال ہی میں قائم ہوئی ہے۔
سی ٹی ڈی کے ایک اعلیٰ افسر کے مطابق بلوچستان اورشمالی سندھ کے سرحدی علاقوں میں قبائلی علاقہ جات اورکراچی سے بھاگے ہوئے شدت پسند وں نے پناہ گاہیں ڈھونڈی ہوئی ہے جہاں لشکرجھنگوی، تحریک طالبان پاکستان، القاعدہ اوردیگرچھوٹی بڑی تنظیمیں مل کرکام کررہی ہیں۔ افسر کے مطابق خضدار کے شفیق مینگل اورامان اللہ زہری مختلف اقسام کے گروپوں کی سرپرستی کررہے ہیں اورحال ہی میں انہوں نے قبائلی علاقہ جات اورکراچی سے بھاگے ہوئے شدت پسند وں کو پناہ گاہیں فراہم کی ہے۔
