گزشتہ ماہ 26 اپریل کے دن کراچی یونیورسٹی میں چینی فیکلٹی سے ملحقہ کنفیوشس انسٹی ٹیوٹ کے قریب گاڑی پر ہونے والا خودکش دھماکہ دراصل چین کی سافٹ پاور پر حملہ تھا۔ دہشت گردوں کو بخوبی علم تھا کہ یہ انسٹی ٹیوٹ چین کے ثقافتی اور تہذیبی اظہاریے کی علامت ہے، اور یہ کہ دوسروں کے مقابلے میں چین دنیا میں اپنا خوشگوار اور نرم گوشہ پیش کرنے کا بہت زیادہ خواہش مند ہے۔

دہشت گردوں نے اس حملے کے اثرات کو بڑھانے اور بین الاقوامی توجہ کو اپنی طرف مبذول کرانے کے لیے ایک خاتون خودکش بمبار کا انتخاب کیا۔ اس واقعے کے بعد بلوچ باغی تحریک کی بدلتی ہوئی حرکیات کے حوالے سے ایک نئی بحث حھڑ گئی ہے۔

حسبِ توقع چین کی جانب سے سخت ردعمل سامنے آیا۔ چنی وزارت خارجہ سے بیان جاری کیا گیا کہ واقعے کے پس پردہ کرداروں کو اس کی قیمت چکانی پڑے گی۔ لامحالہ اس بیان سے پاکستانی حکومت پر دباؤ میں اضافہ ہوگا۔ پاکستان کی جانب سے دیکھا جائے تو اِس مرتبہ حملے کے بعد حکومت نے زیادہ مربوط اور واضح انداز میں ردعمل کا اظہار کیا۔ 2021ء میں جب داسو ڈیم کے قریب کالعدم تحریک طالبان پاکستان نے چینی کارکنوں کو لے جانے والی بس پر حملہ کیا تھا تو اُس وقت کی حکومت نے پہلے تو واقعے کا سبب فنی خرابی بتاتے ہوئے حقائق پر پردہ ڈالنے کی کوشش کی تھی۔ چین کے دباؤ کے بعد حکومت نے اپنا موقف تبدیل کیا تھا اور چینی تفتیش کاروں کو اجازت دی کہ کہ وہ حملے کی تحقیقات میں پاکستانی ایجنسیوں کی مدد کریں۔ تاہم اُس کےبرعکس جامعہ کراچی والے حالیہ دھماکے کے بعد وزیراعظم شہباز شریف تعزیت کے لیے چینی سفارت خانے گئے اور ذمہ داران کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کا عزم ظاہر کیا۔

شاید چین کی جانب سے وزیراعظم کے فوری اور واضح ردعمل کو سراہا جائے، لیکن سکیورٹی سے متعلق چین کے خدشات کو دُور کرنے کے لیے ریاستی اداروں کو ایسے اقدامات کرنے ہوں گے جو بیجنگ کو مطمئن کرسکیں۔ ایسا کرنا سی پیک منصوبوں کو ہموار طریقے سے عملی جامہ پہنانےکے لیے بھی ضروری ہے۔

محض بیرونی عوامل کو موردِالزام ٹھہرانے سے مسئلہ حل نہیں ہوسکتا

پاکستان چینی باشندوں کی حفاظت اور سی پیک منصوبوں کی سکیورٹی کے لیے پہلے ہی خطیر رقم خرچ کر چکا ہے۔ اس مقصد کے لیے 2016ء میں ایک خصوصی سکیورٹی ڈویژن تشکیل دیا گیا تھا۔ یہ دو لائٹ انفنٹری ڈویژنز پر مشتمل ہے، جن میں سے ہر ایک کے اندر تقریباََ 15 ہزار فوجی اہلکار ہیں۔ اسپیشل سکیورٹی ڈویژن (SSD) کو فرنٹیر کور، پولیس اور لیویز کے 32 ہزار اہلکاروں پر مشتمل دستوں کا تعاون بھی حاصل ہے۔ جبکہ دہشت گردی سے متعلقہ خطرات سے نمٹنے کے لیے ایک سرگرم انٹیلیجنس نیٹ ورک اس کے علاوہ ہے۔

سی پیک منصوبوں پر کام کرنے والی چینی کمپنیاں ان حفاظتی اقدامات سے مطمئن ہیں، جیساکہ چین کے سرکاری اخبار ’گلوبل ٹائمز‘ نے حال ہی میں اس کی توثیق کی تھی۔ تاہم سکیورٹی پر اٹھنے والے اخراجات کی لاگت جس میں چین بھی تعاون کرتا ہے، بہت زیادہ ہے۔

اس کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ سی پیک کی سکیورٹی کا طریق کار اور اس کا ڈھانچہ مکمل طور پہ روایتی نوعیت کا ہے، یہ بنیادی طور پہ کام کی جگہوں کی حفاظت اور چینی انجینئرز و کارکنوں کے قافلوں کے تحفظ پر مشتمل ہے۔ چینی کمپنیاں بڑے شہری مراکز میں اپنے عملے کی حفاظت بارے فکرمند رہتی ہیں۔ پاکستان کے اندر کام کرنے والے بہت سے چینی باشندے جو ریستوران اور مینیوفیکچرنگ جیسی چھوٹی صنعتوں میں خدمات انجام دیتے ہیں، انہیں مناسب سکیورٹی نہیں مل پاتی۔

سکیورٹی پر اٹھنے والے اخراجات کی لاگت بھی ایک بڑا عنصر ہے جو سی پیک منصوبوں کو زیادہ مہنگا بناتا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق پاکستان نے 36 ارب روپے کے اس منصوبے کی منظوری ایک بار پھر مؤخر کردی ہے جس کا مقصد اربوں ڈالر پر مشتمل منصوبے ML-I کی تعمیر میں مشغول چینی باشندوں کو سکیورٹی فراہم کرنا تھا۔ ML-I منصوبہ ایک میگا پراجیکٹ ہے جس کے لیے ایک وسیع سکیورٹی ڈھانچے کی ضرورت ہے۔ مزیدبرآں سکیورٹی اہلکاروں کے انتظامی امور، ان کی تربیت اور جانچ پڑتال بھی ایک نمایاں پہلو ہے جس کے بارے میں چینی ذمہ داران فکرمند ہیں۔

بلاشبہ سی پیک منصوبوں کے لیے روایتی طرز کی سکیورٹی بھی ضروری ہے، لیکن ریاستی اداروں کو چاہیے کہ وہ جغرافیائی اور سیاسی تناظر کو بھی نظرانداز نہ کریں۔ محض بیرونی عوامل کو موردِالزام ٹھہرانے سے مسئلہ حل نہیں ہوسکتا۔ گہری خوداحتسابی اور معاملات کو دیکھنے کے تناظر کا تجزیہ کرنا بھی ناگزیر ہے۔ افغان طالبان کے حوالے سے پاکستان کو اپنی پالیسی پر نظرثانی کی ضرورت ہے، طالبان نے سرحدپار سے لاحق دہشت گردی کے خطرات سے نمٹنے کے لیے پاکستان کی توقعات کو پورا نہیں کیا۔ ’کالعدم تحریک طالبان پاکستان‘ کو افغان طالبان کی پوری طرح سرپرستی حاصل ہے، اور اس توسط سے انہیں نیٹو فورسز کے چھوڑے گئے ہتھیاروں تک رسائی بھی حاصل ہے۔ ایسے ہی بلوچ باغی اب بھی چھپنے کے لیے اور پاکستان کے خلاف دہشت گردانہ کاروائیوں کی منصوبہ بندی کے لیے افغان سرزمین استعمال کر رہے ہیں۔

بلوچستان میں بدامنی کے فروغ کی وجوہات ڈھکی چھپی نہیں ہیں اور اس موضوع پر بارہا بحث کی جا چکی ہے۔ ریاستی ادارے شورش کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے یکطرفہ قسم کے اقدامات پر مبنی تجربات کر رہے ہیں، چاہے وہ مفاہمت سے متعلق ہوں یا عام معافی جیسے اقدامات۔ تاہم پھر بھی اچھے نتائج برآمد نہیں ہوسکے، کیونکہ اس نوع کے تمام اقدامات ناقص اندز میں ترتیب دیے گئے، اور ان کا مقصد جنگجوؤں کو معمول کی زندگی کی جانب واپس لانے کی بجائے باغی قیادت کو تنہائی کی جانب دھکیلنا تھا۔ سکیورٹی اسٹیبلشمنٹ، بلوچ عوام بالخصوص نوجوانوں کے ساتھ ایک وسیع مکالمہ کررہی ہے۔ یہ اس لیے اچھا ہے کہ زمینی حقائق کی تفہیم ہونی چاہیے، لیکن جو چیز ناگزیر ہے وہ یہ ہے کہ اس سے نقطہ نظر اور معاملات کو جانچنے کے تناظر میں تبدیلی بھی آنی چاہیے، اور دوسرا یہ کہ اس طرح کا اقدام سیاسی عناصر کی طرف سے بھی شروع ہونا چاہیے۔ دیگر صوبوں کی طرح بلوچستان بھی آزادانہ ومنصفانہ انتخابات کا استحقاق رکھتا ہے اور یہ مکالمے کی کامیابی کے لیے ناگزیر ہے۔

اس مطالبے پر پیش رفت کے لیے زیادہ لاگت بھی نہیں آئے گی، بلکہ حقیقیت میں یہ بلوچستان کے دکھوں کا مداوا کرنے اور ملک کے اندر پاکستانیوں اور غیرملکیوں کو درپیش عدم تحفظ کے خطرات کو کم کرنے کا بہترین ذریعہ ثابت ہوگا۔ اگر ریاست صوبے کے اندر باغی تحریک کو دیوار سے لگانے اور ان کے حوصلے پست کرنے کے لیے سنجیدہ ہے تو اسے بلوچ لاپتہ افراد کے مسئلے کو حل کرنا ہوگا۔ ریاست مخالف سرگرمیوں اور دہشت گردی میں ملوث ہر ملزم کو قانون کی حکمرانی کے دائرے میں لانا ہوگا، عدلیہ کو مؤثر ومتعلق بنانا ہوگا اور اس نوع کے مقدمات کے ترجیحی بنیادوں پر فیصلے کرنے ہوں گے، تاکہ بلوچ عوام کو یہ پیغام مل سکے کہ انصاف ہو رہا ہے۔

ریاستی اداروں کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی تجزیاتی صلاحیتوں کو بڑھانے پر توجہ دیں۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ بلوچ عسکریت پسندی کافی مہلک تحریک کی شکل اختیار کرچکی ہے اور اپنے گروہوں کی موجودہ قیادت کی وجہ سے خود کو مقامی رنگ میں ڈھال رہی ہے اور رفتہ رفتہ صوبے میں اپنے لیے اجنبیت کے احساس کو ختم کررہی ہے۔ بلوچ لبریشن آرمی کا ذیلی جتھہ مجید بریگیڈ غیرمتوقع قسم کے مہلک ہتھکنڈے استعمال کرنے کے لیے بدنام ہوچکا ہے۔ اس کی آپریشنل حکمت عملیوں میں فوری تبدیلیاں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے کام کو مزید مشکل بنادیتی ہیں۔ کراچی حملے کے بعد یہ امکان بڑھ گیا ہے کہ خواتین جنگجوؤں اور خودکش بمباروں کو مزید پیچیدہ گوریلا کاروائیوں میں استعمال کیا جاسکتا ہے۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو چوکنا رہنے کی ضرورت ہے۔ دنیا بھر کی دہشت گرد تنظیموں کے حکمت عملیوں اور ان کے ہتھکنڈوں کا مطالعہ و تجزیہ کیا جانا چاہیے۔ اگر اس طرح اس کا مقصد پورا ہوتا ہوگا تو بلوچ لبریشن آرمی مذہبی دہشت گرد جماعتوں کے ہتھکنڈوں کو استعمال کرنے سے نہیں ہچکچائے گی۔

بشکریہ: روزنامہ ڈان، مترجم: شفیق منصور

Share.

Comments are closed.

Exit mobile version