ہم لگ بھگ اپنا ہدف حاصل کرنے کے قریب ہی تھے۔ پچھلے پورے 15 مہینوں کے دوران پاکستان میں پولیو کا کوئی کیس سامنے نہیں آیا تھا۔ تاہم ضلع بنوں میں ایک بچے کے اندر وائلڈ پولیو کی تشخیص ہونے کے بعد اس مرض کے خاتمے کی قومی کوششوں میں دراڑ پڑی ہے۔

تفصیلات کے مطابق نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ نے معذوری کے شکار ایک 15 ماہ کے بچے میں ٹائپ 1 وائڈ پولیو (WPV1) کی موجودگی کی تصدیق کی ہے۔ مزیدبرآں رواں ماہ کے شروع میں بنوں کے ماحولیاتی نمونوں میں بھی وائلڈ پولیو پائے جانے کا پتہ چلا تھا۔

اس سے قبل پولیو کا آخری واحد کیس بلوچستان کے ضلع قلعہ عبداللہ میں گزشتہ سال جنوری میں سامنے آیا تھا۔ اس کے بعد سے اب تک وائلڈ پولیو کا ایک بھی کیس سامنے نہیں آیا تھا، جن ماحولیاتی نمونوں میں اس کی موجودگی کی تشخیص ہوئی تھی اس کی شرح بھی نہایت کم بتائی گئی تھی۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ رواں برس کی ابتدا میں ’عالمی ادارہ برائے صحت‘ نے پاکستانی محکمہ صحت کے ذمہ داران کو مشورہ دیا تھا کہ وہ مکمل احتیاط جاری رکھیں ویکسینیشن مہم میں کسی قسم کی لاپرواہی یا سست روی کا مظاہرہ نہ کریں۔ عالمی ادارہ صحت کا یہ بھی کہنا تھا کہ پورے سال کے دوران ایک بھی کیس سامنے نہ آنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ملک میں پولیو وائرس کا خاتمہ ہوچکا ہے۔ یہ وائرس عام طور پہ دوبارہ اس وقت نمودار ہوتا ہے جب اس کی زوردار منتقلی کا ایک اور موسم شروع ہوتا ہے۔

پولیو کے خاتمے کے لیے تگ ودو کرنے والے ذمہ دار افسران، ہیلتھ ورکرز جنہوں نے بھرپور محنت کی اور ان کی حفاظت پہ مامور پولیس اہلکار، یہ سب لوگ جنہوں نے ملک کو اس موذی مرض سے نجات دلانے کے لیے اپنی جانیں خطرے میں ڈالیں، اب خود کو مایوس اور دالبرداشتہ محسوس کریں گے۔

جیساکہ عالمی ادارہ صحت نے پاکستانی حکام کو مشورہ دیا ’اب وقت آگیا ہے کہ وائرس کو تندہی کے ساتھ تلاش کرنے کے لیے اپنی کوششوں اور نگرانی کے عمل کو تیزتر کیا جائے اور اس ضمن میں تمام رکاوٹوں کو راستے سے ہٹایا جائے‘۔ اور یہ مقصد یا تو وائرس کی منتقلی کی باقی ماندہ مقامی کڑیوں کو توڑ کر حاصل کیا جاسکتا ہے، جیساکہ عالمی ادارہ صحت نے تجوز کیا، یا پھر وائرس کی تلاش کے لیے فعال کوششیں بروئے کار لائی جائیں، جیساکہ یونیسف کا کہنا ہے کہ ملک میں ایک بڑی تعداد ایسے بچوں کی ہے جن تک حفاظتی ٹیکے نہیں پہنچے۔

یہ درست ہے کہ پولیو کے مکمل خاتمے کا ہدف ہم سے ابھی بہت دور ہے لیکن حالیہ تجربے سے یہ چیز ضرور ثابت ہوئی ہے کہ اس ہدف کو حاصل کرنا ناممکن نہیں ہے۔ متعلقہ ذمہ داران، ہیلتھ ورکرز اور عوام کو چاہیے کہ وہ ہمیشہ کے لیے اپنی سرزمین سے اس مہلک مرض کا صفایا کردینے کے لیے مل کر ایک آخری دھکا لگائیں۔

اداریہ روزنامہ ڈان

Share.

Comments are closed.

Exit mobile version