انسداد دہشت گردی کی عدالت نے دو دن قبل سانحہ سیالکوٹ کے مجرموں میں سے 6 کو سزائے موت اور 9 افراد کو عمرقید کی سزا سنائی ہے، جبکہ 76 ملزمان کو دو دو سال قید کی سزا کا فیصلہ دیا گیا ہے۔
گزشتہ برس دسمبر کے شروع میں وقوع پذیر ہونے والے اس سانحے میں ایک ہجوم نے توہینِ مذہب کی بنیاد پر ایک سری لنکن فیکٹری مینیجر پریانتھا کمارا کو بری طرح تشدد کرکے جان سے مار دیا تھا اور لاش کی بے حرمتی کی تھی۔
عدالت کا یہ فیصلہ خوش آئند ہے کہ کم وقت میں اس حوالے سے قانونی تقاضے پورے کرتے ہوئے سزا سنائی گئی۔ اس فیصلے کا تمام طبقات، بالخصوص مذہبی حلقوں اور جماعتوں کو کھل کر خیرمقدم کرنا چاہیے تاکہ عام لوگوں کو اس کا مطلوب پیغام پہنچ سکے۔
جس طرح اِس واقعے میں قوانین پر عملدرآمد کیا گیا، ایسے ہی اس نوع کے تمام مقدمات میں بروقت اور انصاف پر مبنی فیصلے کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ملک میں ماورائے عدالت قتل و تشدد کے واقعات کو روکا جاسکے۔ یہ سانحہ بین الاقوامی توجہ کا مرکز بنا اور اس کے بعد ریاست پر دباؤ تھا کہ وہ اس واقعے پر کاروائی عمل میں لائے۔ ملک کے اندر بھی یکجہتی کا مظاہرہ کیا گیا تھا۔
اس تناظر میں عدالت کا حالیہ فیصلہ بہت اچھی خبر ہے۔ البتہ مذہب کے نام پر ماورائے عدالت قتل و تشدد کے تمام اقدامات میں اسی طرح ردعمل دیتے ہوئے انصاف کے تقاضوں کو پورا کرنے کی ضرورت ہے۔ ریاست شہریوں پر یہ ثابت کرے کہ کسی کو قانونی حدود پھلانگنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ اسی طرح سماجی طبقات، خصوصاَ مذہبی جماعتیں سیالکوٹ جیسے دیگر واقعات کو بھی متنازعہ نہ بنائیں۔

