تاریخی آئینی ترمیم 2010ء میں سیاسی اتفاق رائے سے منظور ہوئی۔ 30 جون 2011ء میں اختیارات صوبوں کو ملے تو خوشی میں یکم جولائی کو یومِ صوبائی خودمختاری منایا گیا جو 1970ء میں ون یونٹ کے خاتمہ کا دن تھا۔ علامتی اعتبار سے ہم وفاقیت کے ایک نئے سفر پر گامزن ہوئے۔
آج ایک دہائی گزر چکی ہے لیکن ابھی تک اس پر پوری طرح عملدآمد نہیں ہوسکا۔ وفاق کو شکایت ہے کہ صوبوں کو بہت زیادہ دے دیاگیا ہے اور وہ اپنا کام نہیں کررہے۔صوبوں کو شکوہ ہے کہ کاغذوں میں بہت کچھ دیا گیا ہے لیکن عملاََ آج بھی وسائل اور پالیسی پر وفاق کا کنٹرول ہے اور انہیں سانس لینے کی بھی اجازت نہیں ہے۔ سیچ کیا ہے؟ اس کھوج میں دیکھنا پڑے گا کہ اصل صورتحال کیا ہے؟ وفاقیت کا سوال پاکستان کی بنیاد، قیام اور استحکام سے جڑا ہوا ہے۔ اس حوالے سے کوتاہیوں کی ماضی میں ہم نے بڑی قیمت چکائی ہے۔ 1973ء کا آئین وفاقیت کی جانب پہلا قدم تھاتاہم اسے چار سال بعد معطل کردیاگیا،اور پھر اس میں ایسی ایسی ترامیم کی گئیں کہ اس کی وفاقی پارلیمانی روح زخمی ہوگئی۔ اٹھاریں ترمیم نے اسے کچھ حد تک بحال کرنے کی سعی کی۔ اس ترمیم کے ذریعے پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلیوں کو طاقت اور اختیار کا مرکز ومحور بنایاگیا، نیز ان اداروں کو وہ اختیارات بھی واپس کیے گئے جو ایوانِ صدر چلے گئے تھے۔
18ویں ترمیم نے اختیارات افراد سے لے کر اداروں کو دیے۔ مشترکہ مفادات کونسل کا قیام تو 1973ء میں ہوا لیکن 2010ء تک 37 سالوں میں اس کے فقط 11 اجلاس ہوئے۔ جبکہ اب گزشتہ دس سالوں میں اس کے 34 اجلاس ہوچکے ہیں اور اس نے ملک کو پہلی واٹر پالیسی دی،اور بھی بہت کام کیے۔ تاہم آج بھی دستور کی منشاء کے مطابق اس کا علیحدہ سیکریٹریٹ نہیں۔ کونسل اپنی دس سالہ رپورٹس پارلیمنٹ کے سامنے رکھ چکی ہیلیکن ان پر فقط ایک بار صرف سینٹ آف پاکستان میں ہی بحث ہوئی۔ کونسل کی دس سالہ کارکردگی کو پرکھیں تو صوبائی خودمختاری کے لیے چیخ وپکار کرتے صوبے ہمیں کچھ زیادہ متحرک دکھائی نہیں دیتے۔ اس کے اجلاس بھی آئین کے مطابق ہر 90 دن کے بعد نہیں ہوتے۔ کچھ ایسا ہی حال قومی اقتصادی کونسل کا ہے۔ 18ویں ترمیم کے بعد اس ہرسال کم ازکم دو اجلاس ہونے چاہیئں تاکہ ملک وقوم کی اقتصادی منصوبہ بندی پالیسی کے رہنما اصولوں کے مطابق ہوسکے۔ 2010ء سے 2020ء تک اس کے فقط دس اجلاس ہوئے، وہ بھی وفاقی بجٹ سے پہلے رسمی منظوری کے لیے۔ اگر باق دس اجلاس بھی ہوتے تو شاید وفاق اور صوبے باہم مل بیٹھ کر اقتصادی منصوبہ بندی کرلیتے۔ قومی اقتصادی کونسل کی سالانہ رپورٹ بھی 2018ء کے بعد سے پلارلیمنٹ کے سامنے نہیں رکھی گئی۔
نیشنل فنانس کمیشن ایوارڈ بھی 2009ء سے چل رہا ہے حالانکہ اسے ہر پانچ سال بعد ہونا چاہیے تھا۔ یہ ایوارڈ اٹھارویں ترمیم سے پہلے ہوا تھا اس کے بعد صوبوں کی ذمہ داریاں بڑھیں۔ صوبے کہتے ہیں کہ وفاق ہمیں وسائل کا پورا حصہ نہیں دیتاخ جو دیتا ہے وہ بجٹ سرپلس کے نام پر خرچ نہیں کرنے دیتا۔ یہ سارے امور ہاؤس آف فیڈریشن سینٹ آف پاکستان میں آنے چاہیئں تھے لیکن وہاں بھی اب سستی کا راج ہے۔ سینٹ نے اختیارات کی صوبوں کو منتقلی کے حوالے سے خصوصی کمیٹی بھی بنائی تھی لیکن شایڈ یہ اب نئے پاکستان کی ترجیحات میں شامل نہیں۔ یہ سچ ہے کہ تحریک انصاف چارٹر آف ڈیموکریسی اور 18ویں ترمیم کے عمل کا حصہ نہیں تھی کیونکہ اس وقت اس کی پارلیمانی نمائندگی نہ تھی۔ لیکن آئین تو ملک وقوم کا ہوتا ہے کسی ایک سایسی جماعت کا نہیں۔ ہاں اگر انہیں اعتراضات ہیں تو آئین میں درج طریقہ کار کے مطابق ترامیم لائیں اور اس پر قومی اتفاق رائے قائم کریں۔آخر 18ویں ترمیم بھی تو اس وقت ہوئی تھی جب اُس وقت کی حکمران جماعت پاکستان پیپلزپارٹی کے پاس سادہ اکثریت بھی نہیں تھی۔ کامیابی کنجی قومی سیاسی اتفاق رائے تھی۔دوسرا یہ بھی دکھ کی بات ہے کہ سینٹ آف پاکستان بھی اپنے قیام کے مقاصد سے اِدھر اُدھر ہوچکی ہے۔سیاسی جماعتوں نے دوسرے صوبوں سے اپنے لوگ سینیٹر بنوا لیے ہیں جو صوبائی معاملات پر بہت کم وکالت کرتے نظرآتے ہیں۔
اٹھارویں ترمیم کی ایک بدقسمتی یہ بھی رہی کہ بین الاقوامی ڈونر”اعدادوشمار“ اور ”رابطے کے فقدان“ کا بہانہ بناکر اس پر تنقید کرتے ہیں۔حالانکہ 2011ء میں پارلیمنٹ نے اعدودوشمار کی تنظیمِ نو کا ایک ایکٹ پاس کیااور ہر صوبے میں شماریات کا ایک بیور وموجود ہے۔ دکھ کی بات تو یہ ہے کہ شماریات کی وفاقی وزارت کو منصوبہ بندی کی وزارت میں ضم کردیاگیااور جنوری 2018ء سے پاکستان شماریات بیورو سربراہ سے محروم ہے۔لگتا ہے کہ بہت سارے معلاملات ذوق تھانیداری اور شوق ٹھیکیداری کی وجہ سے صوبوں اور وفاق کے درمیان فٹ بال بنے ہوئے ہیں جبکہ آئین بطور ریاست کے جمہوری سافٹ ویئر معاون اور شراکتی وفاقیت کی بات کرتا ہے۔آئین تو اس حدتک جاتا ہے کہ صوبے اگر اپنا کوئی کام نہیں کرپا رہے تو وہ اپنی اسمبلی میں قرارداد منظور کرکے یہ کام وفاق کے ذمہ دے سکتے ہیں۔اس طرح کی کئی مثالیں موجود ہیں،جیسے قدرتی آفات کا قانون،ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی وغیرہ۔لیکن شاید اسلام آباد بہت کچھ چھین کر اپنے پاس رکھنا چاہتا ہے۔یہاں یہ بات بھی بے جا نہ ہوگی کہ ہمارے صوبے تاریخی سرزمین کے طور پر صدیوں سے موجود ہیں لیکن ان کا انتظامی اور قانون سازی کا ارتقاء جدا جدا ہے۔سندھ بمبئی سے الگ ہوکر 1937ء میں صوبہ بنا تو بلوچستان کو یہ درجہ 1970ء میں نصیب ہوا۔شاید یہی وجہ تھی کہ 18ویں ترمیم نے آرٹیکل 140اے کے ذریعے چار معیارات کو مدنظر رکھ کر اپنا اپنا مقامی حکومت کا نظام بنانے کا اختیار دیا تھا۔ یہ معیارات تھے کہ مقامی حکومت کو مالی، سیاسی اور انتظامی اختیارات حاصل ہوں گے اور یہ منتخب ہوگی۔اس سفر میں محمودوایاز یعنی سبھی صوبے اوروفاق اسلام آباد اور چھاؤنیوں کے بورڈ کے حوالے سے ناکام ہوئے ہیں۔اس حوالے سے ان طبقات یا سیاسی گروہوں نے خوب شور بھی مچایا جو صوبائی حکومت کا حصہ نہیں۔آج گورننس کا نظام جمہوری مقامی بنیادوں کے بغیر کھڑا ہے۔
آج 18ویں ترمیم پر بات کی جائے توسیاسی درجہ حرارت بڑھ جاتا ہے۔غالباََ ضرورت اس بات کی ہے کہ پاکستان میں آئین پر اس کی روح کے مطابق عملدرآمد کے لیے سیاسی مکالمہ ہو۔اداروں خصوصاََ بیوروکریسی میں اصلاحات ہوں۔18ویں ترمیم آئین میں کوئی حتمی فل سٹاپ نہیں بلکہ شہریوں کو حکمرانی کے حوالے سے اچھی ڈیل دینے کی جانب قدم ہے۔ اِس تناظر میں بہتری کی گنجائش یقیناََ موجود ہوگی۔ اس حوالے سے کم بات ہوتی ہے اور رول بیک کی بات زیادہ ہوتی ہے۔ سیاسی وسماجی ارتقاء کو ریورس گئیر نہیں لگایا جاسکتا۔ بائیس کروڑ پاکستانی اچھی، باوقار اور خوشحال زندگی چاہتے ہیں۔ متوازن جمہوری وفاق سفر کے لیے انہیں دونوں پر وں کی ضرورت ہے۔ اول:سیاسی حقوق، دوئم: معاشی حقوق۔ ٹوٹے ہوئے پروں کے ساتھ بلندیوں کی جانب پرواز کا خواب ممکن نہیں ہے۔ پاکستان کو معاون اور مہربان وفاق، متحرک صوبے اور فعال مقامی حکومتیں چاہیئں وگرنہ مایسیوں کے بادل پہلے ہی گہرے ہیں۔ مزید گہرے ہوتے چلے جائیں گے۔
جدید آئین پتھر پر کندہ نہیں ہوتے، یہ زندہ جاوید دستاویز ہوتے ہیں جنہیں ضابطے کے مطابق تبدیل کیا جاسکتا ہے
18ویں ترمیم پر اچھی بری تنقید سے پہلے اس کی تفہیم کی بہت ضرورت ہے۔اس حوالے سے دھند اس لیے بھی ہے کہ ”باجوہ ڈاکٹرائن“ میں اس پر تنقید ہوئی تو اکثر پیچھے ہٹتے دکھائی دیے۔آئیے سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں کہ یہ ہے کیا؟
18ویں ترمیم:ایک جائزہ
جدید آئین پتھر پر کندہ نہیں ہوتے،یہ زندہ جاوید دستاویز ہوتے ہیں جنہیں ضابطے کے مطابق تبدیل کیا جاسکتا ہے۔اٹھارویں ترمیم کے سقم دور کرنے کے لیے انیسویں،بیسویں اور بائیسویں ترمیم ہوچکی ہے۔سابقہ فاٹا کا خیبرپختونخوا میں انضمام بھی پچیسویں ترمیم کے ذریعہ ہوا۔پاکستان کی پارلیمنٹ نے اپریل 2010ء میں تاریخی اٹھاریں ترمیم منظور کی جسے ”گفتگو کے ذریعے قانون سازی کا انقلاب“کہا گیا۔
2010ء ترمیم کا عمل:اس تاریخی ترمیم کی پہلی اینٹ 14مئی2006ء کا میثاق جمہوریت ہے جس پر سیاسی جماعتوں پاکستان پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن نے دستخط کیے۔
18مارچ2009ء کو پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب میں اس وقت کے صدر مملکت نے سپیکر قومی اسمبلی کو ایک کمیٹی بنانے کا کہا جو آئین میں ترامیم تجویز کرے۔بعدازاں صدرمملکت نے وزیراعظم کو بھی خط کے ذریعے عملی اقدامات کا کہا۔
10اپریل2009ء کو قومی اسمبلی نے تمام پارلیمانی سیاس یجماعتوں پر مشتمل خصوصی کمیٹی کے قیام کی قرارداد منظور کی۔سینٹ نے بھی 29اپریل 2009ء کو ایسی ہی قرارداد منظور کی۔جن کی روشنی میں سپیکر قومی اسمبلی نے پارلیمانی رہنماؤں سے مشاورت کے بعد 25 رکنی کمیٹی برائے آئینی اصلاحات قائم کی جس میں 14سیاسی جماعتوں اور آزاد اراکین کی نمائندگی تھی۔کمیٹی کا پہلا اجلاس 25 جون 2009ء کو ہوا اور سفنیٹر میاں رضاربانی کمیٹی کے متفقہ چیئرمین منتخب ہوئے۔
کمیٹی نے میڈیا کے ذریعے عوام سے تجاویز اور ترامیم کے حوالے سے سفارشارت طلب کیں اور اسے 982 تجاویزوسفارشات موصول ہوئیں۔کمیٹی نے سیاسی جماعتوں کے نمائندوں سے بھی تجاویزوسفارشات مانگیں،نیز ترامیم کے حوالے سے 91 پرائیویٹ ممبر بل بھی حاصل کیے۔
کمیٹی نے 77بندکمرے کے اجلاس کیے اور ہر اجلاس اوسطاََ پانچ گھنٹے کا تھا۔اس طرح تقریباََ385گھنٹے گفت وشنید ہوئی۔کچھ اسی طرح کا طریقہ کار 1973ء کے آئین کی تشکیل کے وقت اپنایاگیا تھا۔کمیٹی نے اپنے ٹرم آف ریفرنس کے علاوہ مندرجہ ذیل باتوں کا خیال رکھا:
نظام میں شفافیت۔
انفرادی صوابدیدی اختیارات میں کمی۔
پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلیوں کی مضبوطی۔
صوبائی خودمختاری۔
عدلیہ کی آزادی۔
بنیادی حقوق کی مضبوطی۔
میرٹ کا دفاع۔
اچھا انداز حکمرانی۔
اداروں کی مضبوطی۔
قومی اسمبلی نے بحث ومباحثہ کے بعد8اپریل2010ء کواور سینٹ نے 15 اپریل2010ء کو اٹھارویں ترمیم منظور کرلی۔ایک ایسی پارلیمنٹ میں دوتہائی اکثریت کا حصول جس میں کسی جماعت کے پاس سادہ اکثریت نہ،یہ سیاسی حلقے کے شعور کی گواہی ہے۔
18ویں ترمیم کیا ہے؟
اٹھارویں ترمیم نے ملک میں شراکتی وفاقیت کے کلچر کو فروغ دیا ہے۔یہ ایک عظیم سیاسی اتفاق رائے کی مظہر ہے کیونکہ اس کی تشکیل میں تمام بڑی چھوٹی جماعتوں نے حصہ لیا اور اس عمل کو وقعت دی۔
اس ترمیم نے مارشل لاء ادوار کی اچھی خاصی ترامیم کا خاتمہ کرکے پارلیمانی اختیارات کی اصل شکل میں بحالی اور صوبوں کے اختیارات میں اضافہ کیا۔
پارلیمانی کمیٹی برائے آئینی اصلاحات نے اپنی بند کمرے کی کاروائی کے دوران 3پراڈکٹس بنائیں۔
پہلی: 18ویں آئینی ترمیم کے ذریعے آئین کے 102 آرٹیکلز میں تبدیلی ترمیم ہوئی،آئین کا چھٹا اور ساتواں جدول ختم ہوئے،جبکہ چوتھے شیڈول میں سے کنٹریکٹ لسٹ کا خاتمہ ہوااور وفاقی قانون سازی کی فہرست اول جو وفاق یاپارلیمنٹ اور حکومت کا اختیار ہے،اسی طرح وفاقی قانون سازی کی فہرست حصہ دوئم جو قانون سازی کے لیے پارلیمنٹ کا اختیار ہے،جبکہ اداروں اور ان کی ریگولیشن اور پالیسی کے اعتبار سے اشترکہ مفادات کونسل کا اختیار ہے،ان سب میں کچھ ردوبدل کیاگیا۔
دوسری: پارلیمانی برائے آئینی اصلاحات نے انتظامیہ کے لیے 11سفارشات مرتب کیں جن کا تعلق قوانین میں ترمیم یا پالیسیوں میں بہتری سے تھا۔اس ضمن میں اہم ترین فاٹا اصلاحات تھیں۔اور سول سروس ریفارم کی بھی بات تھی۔
تیسری:15تجدیدی نوٹس جوکہ مختلف سیاسی جماعتوں نے ان امور پر دیے جن پر کمیٹی میں اتفاق رائے نہ ہوسکااور وہ آئینی ترمیم کا حصہ نہ بن سکے۔ان تجدیدی نوٹس کو ”منتظر سیاست“کہا جاتاسکتا ہے۔اور یہ نکات تاریخی ریکارڈ ہیں جو مستقبل میں صوبائی خودمختاری میں اضافے کے لیے رہنمائی فراہم کرسکتے ہیں۔
18ویں ترمیم کے بارے میں مکمل تفہیم کے لیے ان تینوں چیزوں کا مطالعہ لازمی ہے۔ اس سے ان تمام سوالوں کے جوابات مل جائیں گے جو ترمیم کے ناقدین اٹھاتے ہیں۔نیز ان حوالوں سے ابھرنے والے نئے سوالات اور حقائق بھی گفتگو اور جمہوری مکالمے کا موضوع ہوسکتے ہیں۔گویا کہا جاسکتا ہے کہ دستور ایک زندہ جاوید دستاویز ہے اور اس میں بہتری ”ورک اِن پراگرس“ رہتا ہے۔
حرفِ آخر کے طور پہ کہا جاسکتا ہے کہ 18ویں ترمیم:
مقامی سیاسی فکرکی بنیاد پر قانون سازی، انتظامی اموراورمالیاتی امور کے حوالے سے اصلاحات کا نام ہے۔اس لیے اس پر عملدرآمد کے بعد یکم جولائی 2011ء کوصوبائی خودمختاری کا دن منایاگیا۔
یہ وفاق اور صوبوں کے درمیان صوبائی خودمختاری کے محاورے میں لکھا ہوا ایک نیا معاہدہ ہے۔
اس کے ذریعے پارلیمنٹ اور صوبائیاسمبلیوں کو بااختیار بنایاگیا ہے اور یہی تمام اختیارات کی امین ہیں۔جیساکہ مشترکہ مفادات کونسل،قومی اقتصادی کونسل اور قومی فنانس کمیشن میں اصلاحات، ججوں کی تقرری کے لیے پارلیمانی کمیٹی کا قیام،الیکشن کمیشن آف پاکستان میں پارلیمنٹ کے ذریعے تقرریاں، نگران حکومتوں اور انسانی حقوق کے اداروں میں پارلیمنٹ کے راستے تقرریاں،ریفرنڈم کا سوال،یہ ان سب معاملات کو اب پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں ہی لکھا جاسکتا ہے۔
یہ ترمیم متحرک صوبائیت کا تصور ہے۔جس میں صوبوں کو ہنگامی حالت کے نفاذ میں کردار، صوبائی گورنر کے لیے شرط کہ اس کا تعلق اسی صوبے سے ہو،آرٹیکل 140 اے کے ذریعے مقامی حکومتوں کے لیے کم ازکم معیارات،قدرتی وسائل میں برابر حصہ اور ملکیت،اور قومی فنانس کمیشن ایوارڈ میں صوبوں کا محفوظ راستہ، وغیرہ جیسے امور شامل ہیں۔
اٹھارویں ترمیم معاون اور شراکتی وفاقیت کا پیغام ہے جس کا مقصد وفاق پاکستان کو ایک مشترکہ خاندان کی طرح چلانا ہے۔
اٹھارویں آئینی ترمیم پر سپریم کورٹ آف پاکستان نے دوبار متعدد پٹیشنوں کی سماعت بھی کی۔ پہلی بار تو پارلیمنٹ کو خط لکھ کر 19ویں ترمیم کرائی گئی جوکہ اعلی عدلیہ میں تقرریوں کے حوالے سے تھی۔بعدازاں دستور کے بنیادی تصور کی کھوج میں اسے جائز قرار دیاگیا۔اب اگر ایک بار پھر آئین سے کھلواڑ ہوا تو ہمیں نہیں بھولنا چاہیے کہ آج کی منقسم سیاست میں ہم مقامی حکومتوں کے اچھے برے قانون نہیں بنا پارہے،دستوری اصلاحات تو بہت بڑی چیز ہوتی ہے۔
