فرقہ وارانہ تشدد کی حالیہ لہر سے دو باتیں ابھر کر سامنے آئی ہیں ۔ایک یہ کہ ملک کے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو دہشت گردی کے خلاف جو چیلنج درپیش ہے وہ کس قدر ہولناک ہے اور دوسری بات یہ کہ ایک عرصے سے حل طلب سب سے اہم سوال کا جواب کہ ریاست اس مذہبی انتہا پسندی کے سدباب کے لئے کیا اقدامات کر رہی ہے جو پُرتشدد فرقہ واریت میں بدل چکی ہے۔

فرقہ وارانہ تشدد کی حالیہ لہر سے دو باتیں ابھر کر سامنے آئی ہیں ۔ایک یہ کہ ملک کے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو دہشت گردی کے خلاف جو چیلنج درپیش ہے وہ کس قدر ہولناک ہے اور دوسری بات یہ کہ ایک عرصے سے حل طلب سب سے اہم  سوال کا جواب کہ  ریاست اس مذہبی انتہا پسندی کے سدباب کے لئے کیا اقدامات کر رہی ہے جو  پُرتشدد فرقہ واریت میں بدل چکی ہے۔

بظاہر ایسے لگتا ہے کہ جب سے قانون نافذ کرنے والے اداروں نے  پُر تشدد فرقہ وارانہ تنظیموں کے خلاف گھیرا تنگ کیا ہے تب سے یہ اپنے اپنے علاقے چھوڑ رہی ہیں جو بہرحال زیادہ تشویشناک بات ہے  کیونکہ یہ گروہ کمزور ہونے اور اپنے رہنماؤں کو کھونے کے بعد بھی دوبارہ منظم اور تازہ دم ہونے کی صلاحیت رکھتے ہیں ۔ لشکر جھنگوی کی دوبارہ لشکر جھنگوی العالمی کی صورت اختیار کرنے کے حوالے سے یہ سوال اور زیادہ اہمیت اختیار کر گیا ہے ۔

لشکر جھنگوی العالمی ، عالمی سطح پر ایک نیا اضافہ ہے جس سے  چھوٹے  ،بقا سے برسر پیکار عسکری گروہوں اور افراد بشمول وہ لوگ جوپر تشدد فرقہ واریت کی جانب جھکاؤ رکھتے ہیں ان سب کو ایک پلیٹ فارم مل گیا ہے ۔لشکر جھنگوی  العالمی  نے اپنے نظریاتی اور علاقائی تناظر میں وسعت پیدا کی ہے تاکہ یہ دہشت گردی کے عالمی گروہوں بشمول دولت اسلامیہ سے اپنی مطابقت پیدا کر سکے ۔

اگرچہ لشکر جھگوی العالمی نے ملک بھر میں کئی حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے جس کے بعد یہ قیاس کیا جاتا ہے کہ اس نے جندللہ ،تحریک طالبان پاکستان کے کچھ دھڑوں اور جماعت الاحرار کے ساتھ مل کربالائی سندھ اور بلوچستان کے سرحدی علاقوں میں اپنا  آپریشنل  نیٹ ورک قائم کر لیا ہے ۔گزشتہ دو سالوں میں بالائی سندھ میں دہشت گرد حملوں میں اضافہ ہوا ہے جس میں قانون نافذ کرنے والے اداروں پر  حملوں کے ساتھ فرقہ وارانہ اور مزاروں پر حملوں میں بھی اضافہ دیکھا گیا ہے جس کی بنا پر یہ کہا جاتا ہے کہ علاقے میں دہشت گردی کے نئے مراکز جنم لے رہے ہیں ۔

ایسے گروہ ہمیشہ محفوظ مقامات کی تلاش میں سرگرداں رہتے ہیں ۔اس لئے وہ صوبائی سرحدوں کے ساتھ اپنے مراکز بناے میں کامیاب ہو گئے ہیں ۔قبائلی علاقوں میں فوجی  آپریشنز اور انسداد دہشت گردی کی کارروائیوں کی وجہ سے دہشت گرد اپنے روایتی ٹھکانوں سے بھاگ کھڑے ہوئے کچھ نے پاک افغان سرحد کی دوسری جانب جائے پناہ ڈھونڈی اور کچھ پاکستان کے اندر پھیل کر  مقامی فرقہ وارانہ گروہوں سے مل کر اس کوشش میں لگ گئے کہ یہ تحریک طالبان پاکستان کے بچے کھچے افراد سے مل کر دوبارہ منظم ہو سکیں ۔

جس کی وجہ سے اس بات کا امکان مسترد نہیں کیا جاسکتا  کہ جیسے حملے کوئٹہ اور خضدار میں ہوئے ہیں اس طرح کے حملے  مستقبل میں ہوتے رہیں  ۔موجودہ حالات میں  افغانستان میں موجود پاکستانی گروہ کسی حد تک اپنا تنظیمی ڈھانچہ  سندھ اور بلوچستان کی سرحد سے متصل  نیم مستحکم علاقوں میں یا کہیں اور قائم کر سکتے ہیں ۔اس صورتحال میں داخلی سیکورٹی کو مزید چیلنج درپیش ہوں گے جس کی وجہ سے مزید نیم فوجی دستوں کی کمک کی ضرورت ہوگی ۔اگر ایسا ہوا تواس کے سیاسی مضمرات بھی ہوں گے ۔

پر تشدد فرقہ وارانہ تنظیمیں پاکستان کے عسکری ڈھانچے کی تشکیل میں اہم کردار رکھتی ہیں ۔پہلے وہ اپنے لئے محفوظ ٹھکانے قائم کرتی ہیں اور اس کے بعد دوسرے گروہوں  کو بھی راستہ فراہم کرتی ہیں۔یہ بات بھی  غور طلب ہے کہ حکومت نے عسکریت پسندوں کے خلاف اپنی فتح کا اعلان کیا ہے اور ایسا اس بنا پر کیا گیا  ہے کہ دہشت گرد حملوںمیں کمی آئی ہے  مگر دشمن سیکورٹی  فورسز کے خلاف نہ صرف جھڑپیں جاری رکھے ہوئے ہے بلکہ اکا دکا واقعات کے ساتھ کم  شدت کے حملے بھی مسلسل جاری ہیں ۔فرق صرف اتنا ہے کہ ماضی میں بڑے حملے تواتر کے ساتھ ہوتے تھے  ۔اگرچہ سیکورٹی فورسز انسداد دہشت گردی کے چیلنج سے نبرد آزما ہونے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہی ہیں تاہم یہ پرانا مسئلہ ہنوز خطرناک ہے اور اسے حل کرنے کی ضرورت ہے۔ جب بھی  انسداد دہشت گردی کی بحث میں  سخت حکمت عملی پر بات ہوتی ہے تو کچھ لوگ   متبادل  مگر معتدل اقدامات  اٹھانے پر زور دیتے ہیں ۔مگر ضرورت اس امر کی ہے کہ ان گروہوں کو تقویت فراہم کرنے والے عناصر پر نظر رکھی جائے ۔

یہ بنیادی سوال ہنوز درپیش ہے کہ گزشتہ تیس سالوں سے ان گروہوں کے خلاف جنگ لڑنے کے باوجود کچھ فرقہ وارانہ گروہوں کو  توڑا کیوں نہیں جا سکا۔لشکر جھنگوی العالمی گزشتہ دو دہائیوں میں لشکر جھنگوی کا تیسرا جنم ہے ۔2002میں ریاض بسرا سمیت اس کے بانیوں کی ہلاکت کے بعد فرقہ وارانہ حملوں میں ایک عارضی تعطل ضرور  آیا مگر 2004 میں ایک نئی لہر آئی جو 2008 میں اس کے  مزیدرہنماؤں کی ہلاکت تک جاری رہی ۔2010 میں ایک بار پھر  آصف چھوٹو اور نعیم بخاری کی  رہنمائی میں تشدد کی لہر میں  اضافہ ہو گیا ۔منصور خراسانی کی قیادت میں لشکر جھنگوی العالمی، سندھ اور بلوچستان کےکئی فرقہ وارانہ اور دہشت گرد گروہوں  کے سابقین کا مجموعہ ہے ۔

لشکر جھنگوی کو  ملک کے مذہبی اداروں کا بیانیہ تقویت دیتا ہے ۔مدرسوں کی تعداد میں اضافے اور فرقہ واریت کا باہمی تعلق ہے ۔یہ نئے علاقوں میں جا کر کم آمدنی والے طبقات کو ورغلا کر مزید طاقت پکڑتے ہیں ۔یہ رجحان اندرونی سندھ اور بلوچستان کے سرحدی علاقوں بالخصوص خضدار اور مکران میں دیکھا جا سکتا ہے ۔فرقہ وارانہ گروہ اس صورتحال سے فائدہ اٹھا کر نہ صرف اپنے لئے نئے ممبران بھرتی کرتے ہیں بلکہ دوسرے دہشت گرد گروہوں کو بھی راستہ فراہم کرتے ہیں ۔

چھوٹے مدارس کے حالات اور بھی زیادہ  پُر خطر  ہیں کیونکہ سیکورٹی ادارے ان پر بہت کم توجہ دیتے ہیں۔ ا س لئے ایسے   گروہوں کے لئے انہیں استعمال کرنے میں آسانی ہو جاتی ہے کہ وہ ان کے علما  کو ساتھ ملائیں اور ان کے وسائل استعمال کریں ۔جبکہ بڑے مدارس اور مذہبی فرقہ وارانہ تنظیمیں فرقہ وارانہ منافرت پھیلاتی ہیں اور چھوٹے مدارس یہ صلاحیت رکھتے ہیں کہ وہ اس منافرت پر مبنی بیانئے کو تشدد میں بدل ڈالیں ۔

ریاست فرقہ وارانہ مسئلے پر پوری توجہ مرکوز نہیں کر رہی جس کا ثبوت  یہ ہے کہ یہ پالیسی ترجیحات میں شامل نہیں ہے حالانکہ یہ کھلی حقیقت ہے کہ فرقہ واریت مقامی اور عالمی دہشت گرد گروپوں کو اکھٹا کر دیتی ہے ۔یہ بات بھی عیاں ہے کہ پاکستان میں نفرت کے بیانئے  کے فروغ کی وجہ فرقہ واریت ہے  جس نے اس کے قومی کرادر کو دھندلا دیا ہے ۔قومی مسائل کو چھوڑ کر لوگ مذہبی اور فرقہ وارانہ معاملات پر گلیوں میں نکل آتے ہیں ۔

سماجی ماہرین کے لئے یہ امر دلچسپی سے خالی نہیں کہ ایک ریاست جس نے مذہب کوقومی شناخت کے لئے استعمال کیامگر اس کا یجنڈا اچک کر اسے مکمل فرقہ وارانہ  شکل دے دی گئی ۔کئی سماجی ماہرین  کا یہ خیال ہے کہ کسی قسم کا ‘‘عصبیہ ’’ قومی مقاصد کے حصول کے لئے ناگزیر ہوتا ہے لیکن اگر یہ فرقہ واریت اور تشدد کی صورت اختیار کر جائے تو یہ منفی سماجی عمل کی شکل اختیار کر جاتا ہے ۔

یہ کس قدر ستم ظریفی ہے کہ ریاست اپنے کھوئے ہوئے بیانئے کو پانے کے لئے لاچار  ہے اور نہ ہی وہ یہ صلاحیت رکھتی ہے کہ وہ کسی متبادل قومی شناخت کو رواج دے سکے ۔ریاست تشدد پر قابو پانا چاہتی ہے مگر وہ اس تشدد کو ابھارنے والوں کے خلاف کچھ نہیں کرنا چاہتی ۔فرقہ وارانہ منافرت کو ہوا دینے والوں کی موجودگی میں ہمیں حیران ہونے کی ضرورت نہیں کہ کیسے کچھ مخصوص گروہ بار بار سر اٹھا تے رہیں ۔

(بشکریہ ڈان ، ترجمہ : سجاد اظہر )

Share.

Comments are closed.

Exit mobile version