یونانی قبرص (جنوبی) اور ترک قبرص (شمالی ) کے رہنماؤں کے مابین سویٹزرلینڈ میں ہونے والے مذاکرات بھی کسی نتیجہ پر پہنچے بغیر ختم ہو گئے ہیں

یونانی قبرص (جنوبی) اور ترک قبرص   (شمالی ) کے رہنماؤں کے مابین سویٹزرلینڈ میں ہونے والے مذاکرات بھی کسی  نتیجہ پر پہنچے بغیر ختم ہو گئے ہیں۔ قبرص میں اقوام متحدہ  کے ترجمان کے مطابق  دونوں فریقوں نے  بھرپور کوشش کی   کہ  فائنل  مرحلے سے پہلے  کوئی ایسا  متفقہ پیمانہ  طے کرنے میں  کامیاب ہوجائیں  جس کے مطابق  متنازعہ اراضی کا مسئلہ حل کیا جاسکے،تاہم  جانبین نے  اس پر اتفاق کیا ہے کہ قبرص  جاکر وہ اس مسئلہ کا نتیجہ خیز حل نکالنے کے لیے صلاح مشورے کریں گے نیز مسئلہ قبرص کے حل کے لیے  دونوں ملکوں کے رہنماؤں   نےہفتے میں دو بار ملاقات کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ دو طرفہ مذاکرات کے نتیجے میں قبرصی یونانی انتظامیہ کی طرف سے  مصالحتی  اور غیر مصالحتی موضوعات کے اندراج  کے موضوع  کو ختم کر دیا گیا ہے  ۔صدر عاکنجی نے کہا کہ ہم  کنفیڈریشن کے ناممکن ہونے کا شعور رکھتے ہیں لہذا قبرصی یونانی انتظامیہ کو واحد مملکت کے موقف کو ترک کرنے کی ضرورت ہے ۔

مذاکرات سے ایک ہفتہ قبل ترک وزیراعظم احمد داود اوغلو نے شمالی قبرصی وزیراعظم سے ملاقات کے دوران مسئلہ قبرص پر جلد از جلد  قیام امن کی خواہش کا اظہار کیا ، وزیر اعظم احمد داؤد اوغلو کا نے کہا  کہ مشرقی بحیرہ روم کے علاقے کو شمالی قبرصی ترک جمہوریہ کے لیے ہر گز بند نہیں کیا جا سکتا ، مشرقی بحیرہ روم کے خصوصی اقتصادی علاقے پر دونوں معاشروں کے مساوی حقوق ہیں۔ ان حقوق کو بروئے کار لائے جانے کے معاملے پر کسی قسم کے تردد یا ہچکچاہٹ کا مظاہرہ نہیں کیا جا سکتا۔

شمالی قبرصی ترک جمہوریہ میں صدر مصطفی   عاکنجی نے  عہدہ سنبھالنے کے بعدیونانی قبرصی  رہنما  نکوس اناستاسیادس  کے ساتھ  مسئلہ قبرص کے حل پر مذاکراتی عمل 15 مئی 2015  کو اقوام متحدہ کی نگرانی میں شروع کیا تھا اور توقع کی جارہی تھی کہ  نومبر میں ہونے والے حالیہ مذاکرات  نتیجہ خیز ثابت ہوں گے۔

قبرص کا مسئلہ

ترک جمہوریہ شمالی قبرص  یونانی قبرصی قبضے کے نو سال بعد 1983 میں قائم ہوا۔تھوڑے عرصے تک رہنے والا یہ قبضہ یونانی فوجی دستوں کی حمایت سے ای او کے اے-بی کے حامیوں نے کیا تھا جو 1967 سے 1974 تک قائم رہا،بعد ازاں قبرص میں ترکی کی فوجی مداخلت کے باعث یہ ریاست تشکیل پائی۔ اس وقت سے آج تک علاقے میں ترکی کی افواج کثیر تعداد میں موجود ہیں۔ ترک جمہوریہ شمالی قبرص کے قیام سے قبل یہ علاقہ "ترک وفاقی ریاست شمالی قبرص” کہلاتاتھا۔

ویکیپیڈیا کے مطابق ریاست کی آبادی 265،000 ہے اور یہ 3،355 مربع کلومیٹر کے علاقے پر پھیلی ہوئی ہے۔ اس کی تقریباً تمام آبادی ترکی زبان بولنے والے نسلاً ترک باشندوں پر مشتمل ہے۔ علاقے کی آبادی تین برادریوں میں منقسم ہے، ایک اصلی ترک قبرصی، دوسرے وہ ترک باشندے جن کے شادیوں کے ذریعے یہاں کے قبرصیوں سے تعلقات بنے اور تیسرے اناطولیہ  سے ہجرت کر کے آنے والے ترک باشندے، علاوہ ازیں کچھ کرد  آبادی بھی وہاں موجود ہے۔ 33 ہزار ماہر ترکی فوجی  بھی وہاں موجود ہیں۔

ترک جمہوریہ شمالی قبرص میں نکوسیا  شہر کا شمالی حصہ بھی شامل ہے جو  شمالی اور جنوبی  دونوں  منقسم  قبرص  کا دارالحکومت  ہے،1963 کے بعد یہاں کی کثیر آبادی ہجرت کر گئی۔ اکثریت نے برطانیہ  کا رخ کیا جبکہ بڑی تعداد نے ترکی میں بھی رہائش اختیار کی۔ اس ہجرت کی وجہ عالمی سطح پر تسلیم نہ کی جانے کے باعث ترک جمہوریہ شمالی قبرص کی خراب اقتصادی صورتحال تھی۔ ریاست کو دیگر ممالک کے ساتھ تجارت میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

ترک جمہوریہ شمالی قبرص اور جمہوریہ قبرص کے درمیان کا علاقہ اقوام متحدہ کے زیر انتظام ہے۔

جمہوریہ قبرص کا قیام اس وقت عمل میں آیا جب یہاں کی آبادی کے اصرار کے باوجود برطانیہ نے قبرص کے یونان کے ساتھ الحاق کو منظور نہ کیا اور اس کے بجائے مکمل خود مختاری دینے کی پیشکش کی اور اس طرح یہ جزیرہ برطانیہ سے آزاد ہو گیا۔ جزیرے پر رہنے والی قبرصی اور ترک دونوں برادریوں کو نئی جمہوریہ کو چلانے کے لیے بلایا گیا۔ کیونکہ جمہوریہ قبرص کے آئین کے مطابق کوئی ترک قبرصی صدر اور کوئی یونانی قبرصی نائب صدر نہیں بن سکتا  تھااس لیے سیاسی تجزیہ نگاروں نے ابتدا ہی میں ان خدشات کا اظہار کیا کہ جمہوریہ قبرص میں کوئی مسئلہ پیدا ہونے والا ہے۔ دونوں اقوام کو حکومتی ایوانوں اور سرکاری ملازمتوں میں مخصوص تعداد میں نمائندگی دی گئی۔ آئین  میں طے پایا کہ ایوان نمائندگان میں 70 فیصد یونانی قبرصی اور 30 فیصد ترک قبرصی ہوں گے۔ دیگر معاملات میں بھی اسی طرح تناسب مقرر کیا گیا جیسے افواج اور سرکاری ملازمتوں میں یہ تناسب بالترتیب 60 اور 40 تھا۔ 1960 کے معاہدہ ضمانت کے تحت یونان، ترکی اور برطانیہ جمہوریہ کی ضامن قوتیں تھیں۔

دسمبر 1963ء میں قبرص کی حکومت کا اس وقت خاتمہ ہو گیا جب ترک قبرصیوں نے اس میں شرکت سے دستبرداری اختیار کرلی۔ کسی بھی متفقہ فیصلے تک پہنچنے کے لیے دونوں برادریوں میں اتفاق رائے نہ ہونے کے باعث تین سال کے لیے قانونی معاملات رکے رہے۔ اس تنازع کو مزید ہوا اس وقت ملی جب جمہوریہ قبرص کے آئین میں ترمیم کی 13 تجاویز دی گئی۔ ترک قبرصیوں نے ان کی شدید مخالفت کی اور انہوں نے ریاست کے شریک بانی کے بجائے خود کو اقلیت قرار دیا۔ انہوں نے ترامیم کو یونان کے ساتھ الحاق کی جانب اہم قدم قرار دیا۔

21 دسمبر 1963ء  کو ترک قبرصیوں اور وزارت داخلہ کے سادہ اہلکاروں میں ملبوس اہلکاروں کے درمیان ہونے والی جھڑپ میں دو ترک قبرصی اور ایک یونانی قبرصی پولیس اہلکار ہلاک ہو گیا۔ اس کے ساتھ ہی دونوں اقوام کے درمیان جنگی صورت پیدا ہو گئی اور یونانی قبرصیوں نے یونان کی شہ پر ترک قبرصیوں کے خلاف "جدوجہد” کا آغاز کر دیا۔

ان فسادات میں 191 ترک اور 133 یونانی قبرصی مارے گئے جبکہ 209 ترک اور 41 یونانی لاپتہ ہوئے۔ ترک قبرصیوں کے علاقوں کو مکمل طور پر لوٹ لیا گیا اور وہ اپنی ہی سرزمین پر مہاجرین کی صورت میں خیموں میں رہنے پر مجبورہو گئے۔ اگلے 11 سال تک ان کی زندگی کا انحصار اس غذا اور دواؤں پر ہوتا تھا جو ترکی کی جانب سے آتی تھیں۔

15 جولائی 1974 کو یونان کے فوجی دستوں نے  قبرص  پر حملہ کر دیا اور  صدر میکاریوس کو  معزول کر کے من پسند رکن پارلیمنٹ  نکولس کو نیا صدر بنا دیا،ترکی نے اسے 1960 کے معاہدہ ضمانت کی  کھلی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے  اس کے خلاف  فوجی کاروائی   کو جائز قرار دیا اور  یوں 20 جولائی 1974 کو قبرص پر حملہ کر دیا۔قبرص میں ترک آبادی کو بچانے کے لیے ترکی کا یہ اقدام بہت ضروری تھا۔ترک افواج نے جزیرے کے 37 فیصد حصے پر قبضہ کر لیااور یوں یونانی قبرصیوں کی بڑی آبادی کو بھی اپنے گھروں سے محروم ہونا پڑا۔ ایک لاکھ 95 ہزار یونانی قبرصی جزیرے کے جنوبی جانب جبکہ 50 ہزار ترک قبرصی جزیرےکی شمالی جانب ہجرت کر گئے۔ جنگی صورتحال کے خاتمے تک ہزاروں ترک اور یونانی قبرصی لاپتہ ہو گئے۔

1975 میں میں ترک وفاقی ریاست شمالی قبرص کا قیام جزیرہ قبرص پر ترک قبرصیوں کی ریاست کی حیثیت سے عالمی سطح پر شناخت حاصل کرنے کے لیے پہلا قدم تھا۔ جسے جمہوریہ قبرص، اقوام متحدہ اور بین الاقوامی برادری نے تسلیم نہ کیا۔ یونانی قبرصی قیادت کے ساتھ آٹھ سال کے ناکام مذاکرات کے بعد شمالی قبرص نے 15 نومبر 1983 ء  کو اپنی آزادی کا اعلان کر دیا اور یوں ترک جمہوریہ شمالی قبرص معرض وجود میں آیا۔ آج تک ترکی کے علاوہ دنیا کے کسی ملک نے  اسے تسلیم نہیں کیا،تاہم پاکستان اور قطر سمیت متعدد ممالک  کئی بار  اس بارے میں  اپنی مثبت سوچ کا اظہار کر چکے ہیں۔

مسئلہ قبرص کے تصفیے کے لیےگذشتہ برس سے  جاری مذاکرات  آئندہ بھی نتیجہ خیز ثابت ہوتے نظر نہیں آتے،جزیرے پر دعویدار دونوں پڑوسی ممالک  کی نظر  جمہوریہ  قبرص کے عوام سے زیادہ  ذاتی  مفادات پر ہے،  پرامن قبرص کے  لیے   خودمختار قبرص کا ہونا ناگزیر ہے،جوکہ  مذاکرات سے نہیں بلکہ استصواب رائے سے ممکن ہے۔

Share.

Comments are closed.

Exit mobile version