مدارس کے علاوہ ملک کی یونیورسٹیاں اور کچھ پرائیویٹ ادارےبھی عربی کے فروغ کے لیے پیش پیش ہیں جن میں بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کا کردار سب سے بڑھ کر ہے جو طویل عرصہ سے پی ایچ ڈی کی سطح تک کے پروگرام چلا رہی ہے.

عربی صرف مشرق وسطی میں ہی بولی یاسمجھی جانے والی زبان نہیں ہے بلکہ  اسلام جیسے آفاقی مذہب  اور اللہ کی آخری الہامی کتاب   کی زبان ہونے کی وجہ سے عالمی زبان کی حیثیت رکھتی ہے،یہی وجہ ہے کہ  18  دسمبر 1973 کو اقوام متحدہ نے  بھی عربی زبان کو اپنی رسمی زبانوں میں شامل کیا۔اس سے پہلے انگریزی ،ہسپانوی،روسی،چینی ،فرانسیسی اور جرمن زبانوں کو عالمی زبان کی حیثیت دے دی گئی تھی، اکتوبرء2012 میں یونیسکو نے 18 دسمبر کو عربی کا عالمی دن قرار دیا اور گذشتہ  چارسال سے اس دن کو اہتمام کے ساتھ منایا جا رہا ہے۔ پاکستان میں عربی کی ترویج و اشاعت کے لیے مدارس دینیہ (جنہیں مدارس عربیہ بھی کہا جاتا ہے) کا کردار کسی  پر مخفی نہیں تاہم یہ حقیقت ہے کہ محدود وسائل کی وجہ سے  عوام پر اس کا خاطر خواہ اثر نظر نہیں آتا، خود مدارس عربیہ  میں بھی   عربی علوم کی تدریس اردو یا دیگر مقامی زبانوں میں ہونے کی وجہ سے  عربی بول چال کا ماحول نہیں بن پاتا اور نتیجتا فضلاء مدارس عربی میں  تحریر  پردسترس تو رکھتے ہیں لیکن بول چال   پر قدرت نہیں رکھتے، اسی کمی کو محسوس کرتے ہوئے گذشتہ چند سالوں سے  بعض مدارس  نے  اردو کے ساتھ ساتھ عربی میں بھی درس نظامی شروع کیا اور کافی حد تک کامیابی حاصل کی، اور میری معلومات کے مطابق دو نئے مدارس قائم ہوئے جنہوں نے  نصاب میں بھی تبدیلیاں کیں اور  عربی  کو اپنے نصاب اور  ادارے کی اساس قرار دیا،ان میں  پہلا نام  فیصل آباد میں قائم مولانا طارق  جمیل صاحب کے ادارے جامعۃ الحسنین کا ہے جبکہ دوسرا    ادارہ جامعہ ابن عباس  کراچی ہے جسے ڈاکٹر امجد صاحب نے قائم کیا،مقام شکر ہے کہ یہ دونوں ادارے بڑی کامیابی کے ساتھ آگے بڑھ رہے ہیں  اور عربی کے ماہر علماء تیار کر رہے ہیں جو ملک  کے اندر اور باہر  قرآنی علوم  اور عربی زبان کی ترویج  کے لیے کام کر رہے ہیں۔

مدارس کے علاوہ   ملک کی یونیورسٹیاں  اور کچھ پرائیویٹ ادارےبھی   عربی کے فروغ کے لیے پیش پیش ہیں جن میں  بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کا کردار سب سے  بڑھ کر ہے جو طویل عرصہ سے  پی ایچ ڈی کی سطح تک کے  پروگرام چلا رہی ہے،پرائیویٹ اداروں میں شیخ بشیر سیالکوٹی  مرحوم  کا معھد اللغۃ العربیۃ اسلام آباد (جس نے ملک کی تاریخ میں پہلی مرتبہ فروغ عربی زبان  کے نام سے شاندار  واک  کا اہتمام کیا ہے)، شیخ ولی خان المظفر   کا جامعۃ العربیہ المفتوحہ، مولانا زاہد عبد الشاہد  کا جمعیت عشاق العربیۃ  نمایاں ہیں۔

ہمارا ادارہ سینٹر فار عریبک سٹڈیز (مرکز دراسات عربیہ) بھی اپنی بساط کے مطابق      دو سال سے سرگرم عمل  ہے،پہلے مرحلے میں عوام کے لئے شارٹ کورسز اور   نصاب سازی  پر کام جاری رکھے ہوئے ہے اور اس سلسلہ کی پہلی کتاب پریس میں جا چکی ہے جو کہ جلد ہی زیور طبع سے آراستہ ہو کر منظر عام پر آ جائے گی۔

عوام الناس کو عربی سے روشناس کروانے کے  لیے  درج ذیل اقدامات مؤثر ثابت ہو سکتے ہیں۔:

وفاق المساجد پاکستان  ائمہ مساجد اور علماء کرام کو  قائل  کرےکہ وہ اس  مقصد کے لیے مکاتب سے فائدہ اٹھائیں، اور شام کے اوقات میں ناظرہ پڑھنے کے لیے آنے والے بچوں کو صرف حروف کی پہچان کروانے  پر ہی اکتفا  نہ کریں بلکہ ان کے معانی بھی بتائیں، آپ اگر اردو انگریزی یا کوئی بھی زبان سیکھنے کے لیے ابتدائی کتاب اٹھائیں گے تو آپ کومفردات کے ساتھ تصویر یا اس کا دوسری زبان میں معنی ضرور ملے گا تاکہ قاری جو لفظ پڑھے اس کو سمجھ بھی سکے لیکن عربی وہ واحد زبان ہے جس کو سکھانے کے لیے اتنا بھونڈا انداز  اختیار کیا جاتاہے کہ  بچوں کو  صرف الفاظ تک محدود رکھا جاتا ہے اور پھر الفاظ بھی وہ جو مہمل اوربے معنی ہوں۔

 عربی کے مشکل ہونے کا تاثر پیدا ہونے کی وجہ بھی ہمارے تعلیمی اداروں کا طرز تعلیم ہے،اگر ایک شخص محض قرآن فہمی کے لیے عربی سیکھنا چاہ رہا ہے تو ہم کیوں اصرار کرتے ہیں کہ وہ پی ایچ ڈی کی سطح کی عربی سیکھے بغیر قرآن نہیں سمجھ سکتا؟ دعوتی اور تبلیغی تحریکیں بڑی محنت سے قرآن کو سمجھنے کا شعور اجاگر کرتی ہیں لیکن بدقسمتی سے جب کوئی اس طرف عملی قدم اٹھانے کی کوشش کرتا ہے تو اسے روز اول میں ہی گردانوں کا ایسا طویل پرچہ تھما دیا جاتا ہے کہ جسے دیکھتے ہی عام آدمی یہ باور کر لیتا ہے کہ یہ میرے بس کا روگ نہیں اور دوبارہ کبھی اس طرف کا رخ نہیں کرتا، اگر کوئی ہمت کر کے یہ مرحلہ عبور کر لیتا ہے تو جملوں کی ترکیب میں ایسا الجھا دیا جاتا ہے کہ زبان سیکھنے کا اصل مقصد ثانوی حیثیت اختیار کر جاتا ہے ،اس لیے ضرورت ہے کہ عربی کے نصاب کو عام فہم بنایا جائے،میری نظر میں عربی کی تعلیم کےموجودہ نصاب کا بیشتر حصہ عربی  لسانیات (لغویات) میں تخصص سے تعلق رکھتا ہے،ابتدائی درجہ کے لیے نصاب نہ ہونے کے برابر ہے(مرکز  دراسات عربیہ  کے  اقرا اوسس کے اشتراک   سےتیار کردہ نصاب  میں اسی امر پر فوکس کیا گیا ہے)۔

 عربی کی طرف رجحان کم ہونے کی ایک وجہ یہ بھی ہے جدید علوم کا بیشتر خزانہ انگریزی یا دیگر عالمی زبانوں میں ہے جس سے استفادہ کے لیے پوری متمدن دنیا  وہ  زبانیں سیکھتی ہے اور پھر اس علمی ذخیرے کو اپنی قومی زبانوں میں ترجمہ کی صورت میں منتقل کر دیتی ہے لیکن بدقسمتی سے عربی زبان بولنے والے اول تو اس ذخیرے تک رسائی کی زحمت ہی نہیں کرتے،یا کم ازکم ان علوم کو عربی میں منتقل کرنے کی بالکل سعی نہیں کرتے جوکہ عربی سے دوری پر منتج ہوتا ہے،اس لیے ضروری ہے کہ عربی ترجمہ پر بھی توجہ دی جائے اور اردو انگریزی اور دیگر زبانوں میں موجود علمی ذخیرے کو عربی میں منتقل کیا جائے ۔

عربی کی ترویج کے لیے مذکورہ بلاواسطہ اقدامات کے ساتھ ساتھ بالواسطہ اقدامات بھی ضروری ہیں،وہ یہ کہ اسلامی ممالک بالعموم اور عرب ممالک بالخصوص سائنس، ٹیکنالوجی اور جدید علوم میں ترقی کے لیے خاطر خواہ اقدامات کریں اور تعلیمی ایمرجنسی نافذ کر دیں،کیونکہ زبان کے حوالے سے قدرت کا قانون ہے کہ غالب اور ترقی یافتہ قوم کی زبان بھی تمام زبانوں پر غلبہ اختیار کرلیتی ہے،یہ نہیں ہو سکتا کہ ترقی کی دوڑ میں ہم سب سے پیچھے ہوں اور یہ خواہش رکھیں کہ ہماری قومی یا دینی زبان پوری دنیا پر اثرانداز ہو، زبان کی حیثیت کمیونیکیشن کے ذریعہ کی ہے،لہذا جو قوم مواصلات اور اتصالات کے وسائل میں ترقی یافتہ ہو گی اسی کی زبان بھی خود بخود ترقی یافتہ ہوتی چلی جائے گی،اس کے لیے کسی تحریک کی ضرور ت ہی نہیں رہے گی۔امید ہے کہ عربی کے عالمی دن کے موقع پر  ہونے والے پروگرامز عربی کے فروغ کے لیے راہ متعین کریں گے اور عربی سے محبت رکھنے والے اس کی تعلیم  کو اور بھی آسان بنانے میں اپنا کردار ادا کریں گے۔

Share.

Comments are closed.

Exit mobile version