بابائے کویت شیخ عبداللہ سالم الصباح نے 19 جون 1961ء کو سر جارج میڈلٹن کے ساتھ کویت کی برطانوی استعمار سے آزادی کی دستاویز پر دستخط کیے تھے
25 فروری کویت کا یوم آزادی ہے،آج سے چھپن برس قبل اس دن کویت نے برطانوی استعمار سے آزادی حاصل کی تھی، اسی مناسبت سے گزشتہ ہفتے کویت ایمبیسی کی طرف سے میریٹ ہوٹل اسلام آباد میں منعقد کی جانے والی ایک تقریب میں شرکت کا موقع ملا جس میں پاکستان کی سیاسی ،مذہبی اور میڈیا سے وابستہ شخصیات بھی شریک تھیں، تقریب کا مقصد شیخ عبد اللہ سالم الصباح سمیت دیگرآزادی کے رہنماؤں کو خراج تحسین پیش کرنا تھا۔
بابائے کویت شیخ عبداللہ سالم الصباح نے 19 جون 1961ء کو سر جارج میڈلٹن کے ساتھ کویت کی برطانوی استعمار سے آزادی کی دستاویز پر دستخط کیے تھے ،دستاویز میں یہ شرط بھی رکھی گئی تھی کہ آزادی کے بعد برطانیہ اور کویت کے درمیان جاری تعلقات میں کوئی فرق نہیں آئے گا اور اہم امور پر مشاورت سے معاملات طے کیے جائیں گے،نیز ضرورت پڑنے پر برطانیہ کویت کی ہرممکن مدد کرے گا۔
ان شرائط کی بنا پر حاصل کی جانے والی آزادی کو بعض حلقوں کی جانب سے جدید غلامی سے بھی تعبیر کیا گیا لیکن جاننے والے جانتے ہیں کہ جس صورتحال سے کویت کے مسلمان گزر رہے تھے اس میں شیخ عبداللہ سالم کی یہ بڑی کامیابی تھی اور اسی وجہ سے کویت کے عوام ہر سال پچیس فروری کو بابائے کویت کی کوششوں کا اعتراف کرتے ہیں اور دھوم دھام سے جشن آزادی مناتے ہیں۔
25 فروری کی اہمیت اہل کویت کے نزدیک صرف برطانوی استعمار سے آزادی کے لیے ہی نہیں ہے بلکہ آج سے چھبیس برس قبل اسی دن کویت نے عراقی قبضے سے بھی نجات حاصل کی تھی، اور 26 فروری 1991ء کو عراق نے ذلت آمیز شکست کے بعد کویت سے اپنی فوج نکال لی تھی۔
عراقی فوج کے انخلاء کے بعد کویت نے ترقی کا سفر شروع کیا اور آگے بڑھتا ہی چلا گیا یہاں تک کہ نہ صرف عرب دنیا بلکہ پورے عالم اسلام میں ممتاز مقام حاصل کر لیا، اس وقت کویت کے پوری دنیا کے ساتھ بڑے دوستانہ سیاسی اور اقتصادی تعلقات ہیں۔خلیجی ممالک کےدرمیان تعلقات میں کویت نے ہمیشہ قائدانہ کردار ادا کیا،اور یہ کویت ہی تھا جس نے 1976ء میں خلیجی تعاون کونسل کے قیام کی تجویز دی تھی جس پر گفت و شنید اور دائرہ عمل طے کرنے کے بعد 25 مئی 1981ء کو کونسل کا قیام عمل میں لایا گیا۔
حصول آزادی کے بعد کویت نے نہ صرف دنیا کے ممالک کے ساتھ سیاسی اور اقتصادی تعلقات کو بڑھایا بلکہ دنیا بھر میں ویلفیئر کے مراکز قائم کیے،اس وقت دنیا میں شاید ہی کوئی ایسا ملک ہو جہاں کویت کے قائم کردہ انسانیت دوست خیراتی مراکز نظر نہ آتے ہوں، ان ویلفیئر اداروں نے پاکستان سمیت دنیا بھر میں ہر مشکل گھڑی میں غریب عوام کی امداد کی،آفت زدہ علاقوں میں کھانے پینے کی اشیاء فراہم کیں اور علاج معالجے کا بندو بست کیا،سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں امدای کیمپ قائم کیے اور متاثرین کا سہارا بنے۔افریقہ کے پسماندہ علاقوں میں سب سے زیادہ رفاہی کام کرنے والوں میں کویت کا نام سرفہرست ہے، اور ڈاکٹر عبدالرحمن سمیط جیسی انسان دوست شخصیت کا چرچا صرف کویت کی عوام ہی میں نہیں ہے بلکہ یہ نام افریقہ کی عوام کے دلوں پر بھی رقم ہے۔
کویتی عوام میں انسانی ہمدردی کا بیج اس قدر راسخ ہے کہ کویت عراق جنگ کے دوران بھی اس کار خیر میں کمی نہیں آئی اور کویتی عوام خود حالت جنگ میں ہونے کے باوجود انسانی ہمدردی کے جذبے سے سرشار رہی اور اپنے طرہ امتیاز وصف ” فلاح انسانیت” سے متصف رہی۔
جشن آزادی کے اس موقع پر ہم کویت کے انسان دوست عوام کی خوشیوں میں شریک ہیں اور کویتی سفیر برائے پاکستان کوبشمول کویتی عوام کے دوہری آزادی پر مبارکباد پیش کرتے ہیں۔
