آپریشن رد الفساد کو ایک ایسی کاری ضرب کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جو خطرے کا خاتمہ کر دے مگر ابھی تک یہ طے نہیں ہو سکا کہ اس کو ادارہ جاتی سطح پر کس طرح عملی جامہ پہنایا جا ئے گا۔

ملک بھر میں شروع کئے جانے والے آپریشن ‘‘رد الفساد ’’سے  آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا سیکورٹی ویژن کھل کر سامنے آ گیا ہے ۔ آپریشن ضرب ِ عضب کے بعد سامنے آنے والے  چیلنجوں سے نبرد آزما ہونے کے لئے از سر نو سیکورٹی جائزے کی ضرورت تھی مگر نئی حکمت عملی کی  جزیات سامنے نہیں آئیں جن سے معلوم ہو سکے کہ یہ حکمت عملی جنرل راحیل شریف سےکیسے مختلف ہے جس کا مقصد دہشت گردوں سے علاقے واگزار کرانا تھا ۔باظاھر‘‘رد الفساد ’’ ملک کے اندر پھیلے ہوئے دہشت گردوں کے نیٹ ورکس اور ڈھانچے کو تباہ کرنے پر اپنے توجہ مرکوز کرے گا ۔

کچھ ماہرین سمجھتے ہیں کہ فوج کی انسداد دہشت گردی کیموجودہ حکمت عملی ایک ارتقائی عمل کا نتیجہ ہےاور آپریشن ضرب ِ عضب کے بعد رد الفساد ایک منطقی فیصلہ ہے۔ضرب ِ عضب ابھی بھی جاری ہے ا سلئے ہم یہ جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ ان دونوں حکمت عملیوں میں کتنا ربط ہے ۔

کامیابی کے باوجود ضرب ِ عضب نے  داخلی سلامتی کو درپیش خطرات کا مکمل قلع قمع نہیں کیا۔دہشت گرد سرحد کی دوسری جانب اس لئے اپنی طاقت دوبارہ مجتمع کرنے میں کامیاب ہوگئے کیونکہ انہیں پاکستان کے اندر موجود نیٹ ورکس سے مدد مل رہی تھی ۔اس سے قبل یہ توقع رکھی جا رہی تھی کہ شمالی وزیر ستان میں فوجی آپریشن سے اسلام آباد ، کابل اور واشنگٹن کے درمیان بد اعتمادی کو ختم کرنے میں مدد ملے گی ۔مگر اس کے باوجود فوج پر مزید پابندیاں عائد کر دی گئیں جن میں اتحادی سپورٹ فندز میں کٹوتیاں بھی شامل تھیں ۔

کچھ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ شمالی وزیرستان آپریشن شروع ہونے میں جو وقت ضائع ہوا اس کی وجہ سے اس کی افادیت کم ہو گئی ،یہ کسی حد تک درست ہے کیونکہ فوجی قیادت نیٹو اور افغانستان سے اس بات کی ضمانت حاصل کرنے میں ناکام ہو گئی کہ جو دہشت گرد  بھاگ کر سرحد کی دوسری جانب پناہ لیں گے ان کے خلاف کیا کارروائی کی جائے گی ۔دوسری جانب سے تعاون نہ ہونے کی وجہ سے آپیشن ضرب ِ عضب کی کامیابی متاثر ہوئی اگر افغانستان مکمل مدد فراہم کرتا تو اس کو پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کا اعتماد حاصل کرنے میں کامیابی مل  سکتی تھی جس کا نتیجہ یہ نکلتا کہ دونوں ممالک کے درمیان اہم مسائل  توجہ حاصل کر پاتے ۔

انسداد دہشت گردی کی نئی حکمت عملی کو بارڈر مینجمنٹ کے مسائل پر بھی توجہ مرکوز کرنی ہو گی مگر ایسےلگتا ہے کہ اس بار  افغانستان  کے تعاون کا امکان کم ہو گا کیونکہ کابل اپنے اندرونی مسائل میں الجھا ہوا ہے دنیا  بالخصوص امریکہ بھی  دونوں ممالک کے درمیان ثالثی میں دلچسپی نہیں لے رہے ۔

ان حالات میں پاکستانی سیکورٹی فورسز کو دہشت گردی  کے خطرے کے  خلاف اندرونی نظام مئوثر بناناہو گا ۔اگرچہ افغانستان میں موجود دہشت گردی کے نیٹ ورکس اور سرحدوں پر موجود کشیدگی ،اندرونی سلامتی کو مسلسل دباؤ میں رکھیں گے۔اس دباؤ کو اس صورت کم کیا جا سکتا ہے اگر سیکورٹی اداروں کے اندر بہتر رابطے اور تعاون موجود ہو ۔

آپریشن رد الفساد کو ایک ایسی کاری ضرب کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جو خطرے کا خاتمہ کر دے مگر ابھی تک یہ طے نہیں ہو سکا کہ اس کو ادارہ جاتی سطح پر کس طرح عملی جامہ پہنایا جا ئے گا۔قانون نافذ کرنے والے ادارے اس نئے چیلنج سے صرف اسی صورت عہدہ بر اہ ہو سکتے ہیں جب وہ تفتتیشی عمل کو بہتر بنائیں ،انٹیلی جنس معلومات کے حصول اور اس سے استفادے کے لئے کوئی بہتر حکمت عملی اختیار کریں ۔مگر ابھی تک یہ سب کچھ ایک خواب ہی ہے ۔

انسداد دہشت گردی کی نئی حکمت عملی کے لئے ضروری ہو گا کہ حکومت اور سیکورٹی ادارے ،قانون نافذ کرنے والے اداروں کی سفارشات کو بھی خاطر میں لائیں کیونکہ اشرافیہ  عموماً ان کو نظر انداز کر دیتی ہے ۔ان سفارشات کے اندر اتنا دم خم ہے کہ اگر ان کو عملی جامہ پہنایا جائے تو اس سے دہشت گردی کے مقابلہ کرنے کے لئے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی استعداد اور صلاحیتیں دونوں میں اضافہ ہو سکتا ہے ۔

پولیس کا مطالبہ ہے کہ ایک ایسا ڈیٹا بنک قائم کیا جائے جو پولیس  کے علاوہ نادرا، نیکٹا ، ایف آئی اے اور سٹیٹ بنک کے ساتھ منسلک ہو ۔اس ڈیٹا بنک میں درج ذیل چیزیں شامل ہو ں :

قومی سطح پر جو ‘‘ریڈ بک ’’ موجود ہے اس میں مطلوب  اور مشتبہ افراد ،جو دہشت گرد گرفتار ہیں  وہ اور ان کے ساتھی ، ان سب کے بارے میں جامع معلومات ہوں ۔اگر کسی ادارے کو معلومات کے تبادلے میں خدشات ہوں تو اس صورت میں نیشنل ڈیٹا بنک کو دو  حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے ۔ ایک عام استعمال کے لئے جس میں  دہشت گردوں اور ان کی سرگرمیوں کے بارے میں معلومات ہوں اور دوسرا جو پو لیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لئے مخصوص ہو جس میں  سرگرم دہشت گردوں ، مشتبہ افراد  اور شیڈول  نمبر چار کے تحت آنے والوں کے  بنک کھاتوں ، مالی معاملات ،جائیداد اوراثاثوں  سے متعلق معلومات ہوں ۔اس کے لئے نیکٹا کی زیر نگرانی ایک مشترکہ ویب سائٹ بنائی جا سکتی ہے جس کے لئے پولیس اور تمام متعلقہ اداروں کے لئے لازم قرار دیا جائے کہ وہ ہفتہ وار یا ماہانہ بنیادوں پر معلومات کو اپ ڈیٹ کریں ۔

سیکورٹی کے نئے فریم ورک میں نیشنل ایکشن پلان کو انسداد دہشت گردی کے سب سے اہم حصے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے ۔ اس بات کا ادراک سب کو ہے کہ نیشنل ایکشن پلان پر عمل در آمد کے سلسلے میں سب سے بڑی رکاوٹ اجتماعی میکنزم کی کمی ہے ۔اس مسئلے سے نمٹنے کے لئے حکومت نے مانیٹرنگ کے لئے ملتے جلتے طریقہ کار وضع کئے جس سے  ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت کی زیادہ دلچسپیاں نیشنل ایکشن پلان کی مانیٹرنگ میں ہیں بجائے اس کے کہ وہ انسداد دہشت گردی کے لئے کوئی عملی قدم اٹھاتی ۔

اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ تمام بوجھ پولیس اور انسداد دہشت گردی کے محکموں کے کاندھوں پر آ گیا ۔پولیس کو ہمیشہ حکومت کی آشیر باد اور دیگر متعلقہ ادروں کی مدد کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ وہ اپنے آپریشنز کو مئوثر بنا سکے۔پولیس اور قانون نافذ کرنے والے ادارے دباؤ کم کرنے کے لئے ماورائے عدالت اقدامات کا سہارا لیتے ہیں ۔جس سے اداروں کی عمل داری کی کمزوری کے ساتھ ان کے ایک دوسرے کے ساتھ تضادات بھی سامنے آتے ہیں جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ نیشنل ایکشن پلان کے کچھ نکات کے بارے میں  الجھن پیدا ہوتی ہے بالخصوص وہ نکات جن کا تعلق ملک میں  کالعدم تنظیموں اور مدرسہ اصلاحات سے ہے ۔کچھ تجزیہ نگار یہ نقطہ  بھی اٹھاتے ہیں کہ نیشنل ایکشن پلان کا زیادہ تعلق فوج سے ہے اور اس سے سول عمل داری کو کم کرنا مقصود ہے ۔

نئے آپریشنل فریم ورک میں پنجاب میں عسکریت پسندی کے مسئلے پر خصوصی توجہ دی ہے۔ اس پر بحث ایک عرصے سے  جاری تھی ۔اس بارے میں کوئی شک و شبہ نہیں کہ عسکریت پسند وں کوپنجاب میں بھر پور مدد حاصل ہے جس  کے تدارک کے لئے ایک طویل المدتی حکمت عملی درکار ہو گی ۔ عسکری گروہوں کے بارے میں ایک مو ثر انٹیلی جنس نیٹ ورک اور مکمل معلومات کے بغیر رینجر صوبے میں اسی طرح بے دست و پا ہو گی جس طرح کہ پولیس ہے ۔

عسکریت کا خطرہ پنجاب کے مخصوص  علاقوں تک محدود نہیں بلکہ تمام صوبے کے لئے  عسکریت پسندی کا خطرہ  یکساں نوعیت کا ہے ۔بھر پورآپریشن کی حکمت عملی کے ساتھ صوبائی سرحدوں بالخصوص سندھ اور بلوچستان  سے ملحقہ علاقوں کو محفوظ بنایا جائے ۔اس کے علاوہ سندھ اور پنجاب کی سرحد سے منسلک  علاقوں کو  جرائم پیشہ عناصر اور دہشت گردوں سے پاک کیا جائے کیونکہ یہ دور افتادہ علاقے ان کی محفوظ پناہ گاہیں بن چکی ہیں ۔

اگرچہ اندرونی سلامتی کو یقینی بنانا ایک ھمہ پہلو چیلنجہے اگر اس کے آپریشنل پہلو کواہمیت دی جائےتو بڑے مقاصد کی طرف پیش قدمی کی جا سکتی ہے۔

(بشکریہ : ڈان ، ترجمہ ، سجاد اظہر )

Share.

Comments are closed.

Exit mobile version