ہم میڈیا کارکن بھی اسی معاشرے کا حصہ ہوتے ہیں۔ معاشرے میں پائی جانے والی نظریاتی، سیاسی، مذہبی اور لسانی تقسیم کے اثرات سے ہمارے ذہنوں کا محفوظ رہنا ہمارے لیے بھی ناممکن نہیں تو مشکل ضرور ہوتا ہے لیکن ایک کامیاب اور بہترین صحافی وہی ہوتا ہے جو واقعہ کے حقائق بیان کرتے ہوئے اپنی مذہبی، سیاسی، لسانی اور نظریاتی وابستگی کے زیرِ اثر نہ ہو ورنہ شاید وہ کہیں نہ کہیں ڈنڈی ضرور مار جائے گا۔

سپریم کورٹ کورٹ کا پانچ رکنی لارجر بینچ 23 فروری کو تاریخی مقدمے کی سماعت مکمل کرکے تمام فریقین کی طرف سے جمع کروائی گئی 25 ہزار سے زائد دستاویزات کے مطالعے میں مصروف ہے اور پاکستان بھر میں یہ بحث جاری ہے کہ آخر اس مقدمے کا فیصلہ کیا آئے گا؟ تحریک انصاف وزیراعظم نوازشریف کا “سر” عدالت سے لے کر نکلے گی یا میاں صاحب کو کلین چِٹ مل جائے گی۔ مجھے دیگر بہت سے سپریم کورٹ کو رپورٹ کرنے والے صحافیوں کی طرح اس تاریخی مقدمے کی ہر سماعت سننے کا اعزاز حاصل ہوا اور ججز کےبہت سے سوالات سے لے کر طرفین کے وکلا کے دلائل اپنی ڈائری میں قلمبند بھی کئے۔ اگر آپ ٹی وی اسکرینوں پر چلنے والے ٹکرز یا صبح صبح اخبارات میں چھپے ہوئے محدود دلائل اور چٹ پٹی سرخیوں پر انحصار کرنے کی بجائے کمرہ عدالت میں موجود ہوں تو طرفین کے وکلا کے دلائل پر ججز کے سوالات مکالمے کی صورت میں سننے پر آپ کچھ اندازہ لگاسکتے ہیں کہ معزز جج صاحبان اپنے سامنے موجود دستاویزات اور پوچھے جانے والے سوالات سے مقدمے کی کاروائی کو کن خطوط پر آگے بڑھا رہے۔ ظاہر ہے آپ ججز کے ذہنوں کو پڑھ تو نہیں پڑھ سکتے اور نہ ہی یہ دعویٰ کرسکتے ہیں کہ وہ کیا نتیجہ اخذ کرچکے ہیں مگر آپ اتنا ضرور اندازہ لگاسکتے ہیں کہ فیصلہ میں کن نکات کو شامل کیا جائے گا جبکہ معزز جج صاحبان جو سوالات اٹھاتے ہیں اِن کے جوابات پر ججز جو جوابی ریمارکس دیتے ہیں وہ آبزرویشنز آپ کے ذہن میں فیصلہ کا ایک عبوری خاکہ بھی بنارہی ہوتی ہیں۔ ماضی میں سپریم کورٹ کے مقدمات کی سماعت دیکھنے کے تجربے اور پاکستانی قوانین کے محدود سے علم کی بنیاد پر سوچا کہ روائیتی پیشنگوئیوں کی جگہ ایک ایسا آرٹیکل لکھا جائے جو کمرہِ عدالت سے باہر بیٹھے غیر صحافی قائرین، صحافت کے طالبعلموں اور سیاسی کارکنوں کو مقدمہ سمجھنے اور فیصلہ دیکھ کر اپنے اپنے سیاسی، مذہبی، نظریاتی تعصب اور مالی مفادات سے بالاتر ہو کر فیصلہ پر تبصرہ کرنے میں مددگار ہو کہ دراصل ان کے ذہنوں میں موجود سوالوں پر عدالت کے اندر کیا ہوا کیونکہ عدالت کے اندر الزامات اور جوابات کسی جلسے یا پریس کانفرنس کی طرح نہیں بیان کیے جاتے بلکہ ایک انتہائی پروقار انداز میں ایک قانون و ظابطے کے تحت معاملات زیرِ بحث آتے ہیں۔ شاید عدالت کو بھی احساس تھا کہ ایک پیٹشنز جماعت تحریک انصاف کے ساتھ آنے والے عام کارکنوں اور رہنماوں کی ایک بڑی تعداد پہلی بار کسی عدالتی کاروائی کو دیکھ رہی ہے اس لیے معزز جج صاحبان بار بار ایک جملہ دہراتے تھے کہ ہم کورٹ آف لاٴ ہیں یعنی ہم آئین اور قانون کے تحت وجود میں آیا ہوا فورم ہیں اس لیے ہمارے سامنے رکھی گئی بات اور دلیل بھی اِس قانون اور آئین کے میزان پر ہی تولی جائے گی۔

ہم میڈیا کارکن بھی اسی معاشرے کا حصہ ہوتے ہیں۔ معاشرے میں پائی جانے والی نظریاتی، سیاسی، مذہبی اور لسانی تقسیم کے اثرات سے ہمارے ذہنوں کا محفوظ رہنا ہمارے لیے بھی ناممکن نہیں تو مشکل ضرور ہوتا ہے لیکن ایک کامیاب اور بہترین صحافی وہی ہوتا ہے جو واقعہ کے حقائق بیان کرتے ہوئے اپنی مذہبی، سیاسی، لسانی اور نظریاتی وابستگی کے زیرِ اثر نہ ہو ورنہ شاید وہ کہیں نہ کہیں ڈنڈی ضرور مار جائے گا۔ بدقسمتی سے سینئر صحافی حامد میر پر حملے کے بعد سے پاکستانی میڈیا میں اینکرز و صحافیوں کی اکثریت نے کسی نہ کسی سیاسی جماعت یا ادارے کی چھتری تلے پناہ لے کر بیانیہ تشکیل دینے والوں کی جگہ خود کو عوامی موڈ کا پیروکار بنا لیا ہے۔ ایسے میں قاری تک معلومات زیادہ تر تعصب کی پیکنگ میں لپیٹ کر پہنچائی جاتی ہیں۔ اس عمل نے پہلے سے تقسیم معاشرے کو ایشوز پر اپنی فلاح کے لیے متحد ہونے کی بجائے سازشی تھیوریوں کا اسیر بنا دیا ہے اور ہم خود احتسابی سے بچتے ہوئے خود ترحمی کا شکار ہیں۔ میں اس تمہید سے قائرین کو یہ سمجھانا چاہتا تھا کہ میں نے پانامہ لیکس کیس کی تاریخی سماعت کسی سیاسی و نظریاتی وابستگی سے بالاتر ہو کر اسٹیڈیم میں موجود ایک ایسے تماشائی کی حیثیت سے دیکھی جس کے لیے کھیلنے والی دونوں ٹیمیں اس کی نہیں ہیں۔ اس لیے جو بھی بہتر پرفارم کرتا ہے وہ اس کو سراہتا ہے اور ساتھ ساتھ کھیل کے اصول و ضوابط بھی سمجھنے کی کوشش کرتا ہے۔ بہرحال سماعت اور ممکنہ فیصلے کی طرف واپس آتے ہیں۔

یہ کیس پہلے دن سے انتہائی پیچیدہ تھا اور وکلا میں یہ بحث جاری تھی کہ کیا سپریم کورٹ نے آرٹیکل 184‪/‬3 کے تحت عوامی مفاد میں اس پیٹیشن کو قبول کرکے اپنے آپ کو ایک ایسے صحرا میں داخل کر لیا ہے جس میں تاحدِ نگاہ کوئی منزل نہیں اور کیا یہ ایک درست فورم ہے جس کی گونج کمرہِ عدالت میں شریف خاندان کے تینوں وکلا کے دلائل میں بھی سنائی دی اور انہوں نے عدالت کے دائرہ سماعت کو تو چیلنج نہ کیا لیکن سپریم کورٹ کو آرٹیکل 184‪/‬3 اس کی حدود کے محدود ہونے کا بار بار یاد دلایا کہ آپ سامنے جو دستاویزات موجود ہیں ان کی بنیاد پر کسی کو سزا نہیں سنا سکتے۔ اِسی طرح وزیراعظم کے لیے استثنیٰ مانگے بغیر آرٹیکل 66 کے تحت ممبر پارلیمنٹ کو حاصل آئینی تحفظ کی دیوار بنام وزیراعظم کے استحقاق کھڑی کردی۔

شریف خاندان کے وکلا نے بظاہر ایک سوچی سمجھی قانونی اسٹریٹیجی کے تحت ججز کے بارہا سوال کرنے پر بھی لارجر بینچ کو ایک قطری خط کی علاوہ کوئی دستاویزی ثبوت دینے سے گریز کیا جس کی وجہ سے معزز جج صاحبان شدید مایوسی کے عالم میں یہی پوچھتے نظر آئے کہ جن ثبوتوں کا وعدہ کیا گیا وہ کہاں ہیں اور لگتا ہے کوئی بھی سچ تک پہنچنے میں ہماری مدد کرنا نہیں چاہتا۔ ججز کے اس تھریٹ کے باوجود کہ وہ ثبوت نہ دے کر اپنے موکلین کے دفاع میں بہت بڑا جوا کھیل رہے شریف خاندان کے وکلا ٹس سے مس نہ ہوئے۔ شریف خاندان کے وکلا کی نئی ٹیم مخدوم علی خان، شاہد حامد اور سلمان اکرم راجہ نے ایسا معلوم ہوتا تھا اپنے موکلین کو بتا دیا تھا کہ پانامہ لیکس میں سامنے آنے والی دستاویزات میں موجود تحریروں پر اتنے سوال اٹھ گئے ہیں تو اگر شریف خاندان کے کاروباری معاہدے اور منی ٹریلز عدالت میں پیش کی گئیں تو ان میں درج تحریروں اور رقوم کے ذرائع ہمارا کیس طویل اور ناقابلِ دفاع بنا دیں گی جبکہ شاید ان دستاویزات کو بنیاد بنا کر سپریم کورٹ کوئی ایسی آبزرویشن بھی دے دے جو بعد ازاں ٹرائل میں کسی ماتحت عدالت یا انکوائری فورم پر ہمارے گلے کا پھندا بن جائے۔

اس کے علاوہ شریف خاندان کے وکلا نے ایک طے شدہ حکمتِ عملی کے تحت جہاں اپنے جوابات میں موجود خالی جگہوں کو پر کرنے کے لیے درکار دستاویزات جمع نہ کروائیں، وہیں تحریک انصاف کی طرف سے عدالت کو جمع کروائے گئے ثبوتوں اور پانامہ پیپرز میں افشا دستاویزات کی قانونی حیثیت کو بھی قانونِ شہادت کی روح سے نشانہ بنایا۔ پاکستانی عدالتوں میں زیرِ سماعت مقدمات میں پیش کی جانے والے ثبوتوں کو وضع کردہ قانونِ شہادت کے ضوابط کے تحت پرکھا جاتا ہے کہ اگر یہ دستاویز قانونِ شہادت کے معیار پر پوری اترتی ہے تو اس کو عدالت اپنے ریکارڈ کا حصہ بنائے گی اور کسی بھی فیصلہ پر پہنچنے کے لیے اِس دستاویز سے مدد بھی لے گی ورنہ چاہے اس دستاویز میں جتنی بھی اہم معلومات ہوں اگر وہ قانونِ شہادت کے معیار پر پورا نہیں اترتی تو ردی کی ٹوکری میں جائے گی۔ اٹارنی جنرل اشتر اوصاف نے عدالت کے سامنے یہ بات بھی رکھی کہ پانامہ لیکس کی جن دستاویزات پر عدالت انحصار کررہی ہے وہ قانونِ شہادت کی روح کے مطابق نہیں کیونکہ پاکستانی قانونِ شہادت لیک شدہ دستاویزات کو جن کو لیک کرنے والا سامنے نہ ہو چوری شدہ دستاویزات قرار دے کر ان کو بطورِ ثبوت نہیں مانتا۔ اسی طرح یہ دستاویزات کمپیوٹر سے ڈاون لوڈ کی گئی غیر تصدیق شدہ کاپیاں ہیں تو اس بنیاد پر بھی یہ قانونِ شہادت کی روح سے مسترد ٹھہرتی ہیں۔ کیونکہ وزیراعظم کے بچے ان دستاویزات کو درست تسلیم کرکے زیرِ تنازع فلیٹس کی ملکیت تسلیم کرچکے ہیں اس لیے یہ دیکھنا دلچسپی سے خالی نہیں ہوگا کہ عدالت پانامہ پیپرز میں جاری کردہ دستاویزات کو قانونِ شہادت کے طے کردہ معیار پر پرکھ کر مسترد کرتی ہے یا وزیراعظم کے بچوں کی طرف سے دستاویزات کو درست تسلیم کیے جانے کو بنیاد بنا کر ان کو ریکارڈ کا حصہ بناتے ہوئے کوئی حکم صادر کرتی ہے۔

سپریم کورٹ پانامہ لیکس کی دستاویزات کو تسلیم کرتی ہے یا مسترد، قطری خط کو مانتی ہے یا نہیں، وزیراعظم کی تقریروں میں قطر کے ذکر نہ کرنے پر ان کو صادق یا امین کے میزان پر کیسے تولتی ہے، مریم نواز کو وزیراعظم کے زیرِ کفالت مانتی ہے یا نہیں، وزیراعظم اور کیپٹن صفدر کے الیکشن کمیشن میں جمع کروائے گئے گوشواروں میں بیان کی گئی تفصیلات کو درست تسلیم کرتی ہے یا نہیں، وزیراعظم نے قوم سے غلط بیانی کی یا حقائق چھپائے، وزیراعظم صادق اور امین رہے یا نہیں، سپریم کورٹ وزیراعظم کی اہلیت یا نااہلی کا فیصلہ کرنے کا فورم بن سکتی ہے یا نہیں، مریم لندن اپارٹمنٹس کی مالک ہیں یا ٹرسٹی، حسین نواز نے فلیٹس 2006 میں ہی قطری شہزادے سے حاصل کیے یا پہلے سے ہی شریف خاندان نے خفیہ طور پر خرید رکھے تھے؟ اور فلیٹس جن ذرائع آمدن سے لیے گئے کیا وہ جائز تھے یا ناجائز، کیا حدیبیہ پیپر ملز ریفرنس میں وزیرِ خزانہ اسحاق ڈار کا جمع کروایا گیا اعترافی بیان وزیراعظم کے خلاف بطورِ ثبوت استعمال ہوسکتا ہے یا نہیں، کیا عدالت خود ایک انکوائری فورم کا کردار اختیار کرکے پانامہ لیکس کیس میں لگنے والے الزامات کی تحقیق کر سکتی ہے؟ کیا سپریم کورٹ خود ٹرائل کورٹ بن کر کسی کو سزا دے سکتی ہے؟ اور آرٹیکل 184‪/‬3 کے تحت پیٹشن کی سماعت کرتے ہوئےسپریم کورٹ اپنے دائرہِ سماعت کو کتنی وسعت دے کر کس حد تک جاسکتی ہے؟ یہ وہ سب اصول ہیں جن کو سپریم کورٹ نے اپنے اس فیصلہ میں طے کرکے ایک ایسی نظیر قائم کرنی ہے جو آنے والے سالوں میں پاکستانی عدلیہ میں بطورِ دلیل استعمال ہوگی اور اس بات کا بینچ میں موجود ججز کو بخوبی اندازہ ہے تبھی لارجر بینچ کے سربراہ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ ایسا مظبوط فیصلہ کریں گے جو اگلے 20 سال تک کھڑا رہے۔ مظبوط فیصلہ سے ان کی مراد ایسا فیصلہ تھا جس میں جو اصول طے کیے جائیں اور آئینی و قانونی نکات کی جو تشریح بیان کی جائے بعد میں کسی اور عدالتی فیصلہ میں انہی آرٹیکلز کی کوئی ایسی تشریح نہ کردی جائے کہ مستقبل میں وکلا اس فیصلہ کو اپنے دلائل کا حصہ بناتے ہوئے گھبرائیں کہ مخالف وکیل کسی دوسرے بینچ کے فیصلے کی مثال دے کر میری دلیل کو کمزور نہ کردے۔ اب آتے ہیں اس تاریخی کیس کے فیصلے کی طرف کہ اس میں کیا ممکنہ نکات ہوں گے۔

پانامہ پیپرز کی دستاویزات کی قانونی حیثیت؟
زیادہ امکان یہی ہے کہ عدالت ان کو تسلیم کرتے ہوئے ریکارڈ کا حصہ بنائے گی کیونکہ چاہے یہ قانونِ شہادت پر پورا نہیں اترتے لیکن شریف خاندان کی طرف سے ان کو تسلیم کرنے کے بعد ان کو مسترد کیے جانے کا کوئی خاص جواز نہیں رہا ورنہ عدالت اس کیس کو پہلی چند سماعتوں پر ہی فارغ کردیتی کہ کیونکہ مقدمہ کی بنیاد جو دستاویزات ہیں وہ ہی قانونِ شہادت کی روح پر پورا نہیں اتر رہیں۔

قطری خط کی حیثیت؟
15 نومبر کو جب یہ خط عدالت میں پہلی بار پیش کیا گیا تو جسٹس عظمت سعید شیخ نے ریمارکس دے کر اس خط کو ایک طرف رکھ دیا تھا کہ جب تک یہ قطری شہزادہ عدالت میں پیش ہو کر اس خط کو اپنا نہیں مانتا اور اِس کے مندرجات کی تصدیق کرتے ہوئے جرح کروا کر ہمیں مطمعن نہیں کرتا اس خط کی کوئی قانونی حیثیت نہیں کیونکہ قانونِ شہادت ایسی کسی دستاویز کو تسلیم نہیں کرتا جس کا راقم خود پیش ہوکر اس کو قبول نہیں کرتا۔ سپریم کورٹ میں 23 فروری کو سماعت مکمل ہونے تک نہ تو شریف خاندان کے وکلا نے قطری شہزادے کو پیش کرنے کی کوئی آفر کی نہ ہی عدالت نے شہزادے کو طلب کرنے پر اصرار کیا جس سے بظاہر ایسا لگتا ہے کہ لارجر بینچ خود سے اس کیس کا فیصلہ سنانے میں دلچسپی نہیں رکھتا بلکہ کیس کو مزید انکوائری اور ٹرائل کے لیے دیگر فورمز پر بھیجنا چاہتا ہے۔ کیونکہ اگر عدالت شہزادے کو خود طلب کرکے اس پر جرح کرتی اور وہ سپریم کورٹ کو مطمعن کر دیتا یا بینچ اس کے جواب کو دستاویزی شواہد نہ ہونے پر سنی سنائی کہانی کہہ کر مسترد کردیتی تو پھر عدالت کو کوئی واضح فیصلہ دینا پڑتا جس سے عدالت نے گریز کی کوشش کی ہے۔ تو امید کی جاسکتی ہے کہ سپریم کورٹ اپنے فیصلے میں قطری خط کو کسی انکوائری فورم کے حوالے کرے گی کہ آپ اس خط میں بیان کی گئی معلومات کی تحقیقات کریں اور قطری شہزادے کو طلب کرکے اس پر جرح کریں اور شہزادے سے اس خط میں بیان کی گئی کہانی کے دستاویزی شواہد مانگیں۔

وزیراعظم صادق اور امین ہیں یا نہیں؟
سپریم کورٹ سے پانامہ لیکس کیس کے پیٹشنر عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید وزیراعظم کے آرٹیکل 62‪/‬63 کا اطلاق کرتے ہوئے صادق اور امین ہونے یا نہ ہونے پر ڈگری جاری کرنے کا مطالبہ کرتے رہے کہ وزیراعظم نے قوم سے دو خطابوں اور پارلیمنٹ میں اپنی تقریر میں قطر کا ذکر نہیں کیا جبکہ عدالت میں بیان کی گئی قطری شہزادے سے لندن کے فلیٹس کی settlement کی کہانی کے برعکس وزیراعظم نے دبئی اور جدہ کی فیکٹری کی فروخت سے حاصل ہونے والے ذرائع سے فلیٹس خریدنے کا دعویٰ کیا۔ سپریم کورٹ فیصلہ میں شاید پارلیمینٹ کے فلور پر کی گئی تقریر پر ممبر قومی اسمبلی کو آرٹیکل 66 کے تحت حاصل تحفظ کا فائدہ وزیراعظم کو بھی بطور رکنِ اسمبلی دے دے لیکن وزیراعظم کے قوم سے ریاستی ٹی وی پر کیے گئے دونوں خطابات پر ضرور سوال کھڑے گی کہ وزیراعظم نے قطر کا ذکر جان بوجھ کر چھپایا یا وہ یہ ذکر کرنا بھول گئے اور اس معاملے پر ہوسکتا ہے بینچ تین دو میں تقسیم بھی ہوجائے۔ جس سے ممکنہ طور پر دو ججز کہیں کہ وزیراعظم قطر کا ذکر چھپا کر قوم سے غلط بیانی کے مرتکب ہوئے اور اس لیے وہ صادق امین نہیں رہے جبکہ تین ججز شاید لکھیں کہ بظاہر قطر کا ذکر نہ کرکے وزیراعظم نے اچھی مثال قائم نہیں کی لیکن کیا وزیراعظم نے جان بوجھ کر یہ معلومات چھپائی یا وہ بھول گئے اس پر وہ کوئی حتمی رائے قائم کرنے سے گریز کرتے ہوئے وزیراعظم پر چھوڑتے ہیں کہ اپنے بیانیہ میں موجود اس تضاد کے بعد اخلاقی طور پر اپنے عہدے پر رہنا چاہتے ہیں یا نہیں۔ اس طرح عدالت اس نکتے کو الیکشن کمیشن  کو بھجوا دے گی کہ وہ ہی اس پر کوئی فیصلہ کرے۔

مریم نواز وزیراعظم کے زیر کفالت ہیں یا نہیں؟
ادھر شاید عدالت وزیراعظم کا موقف تسلیم کرلے کہ مریم ان کے زیر کفالت نہیں ہیں لیکن وزیراعظم اور ان کے اہلخانہ جس انداز میں رقم اور زمین کو بطور تحفہ دینے کے قانون کا فائدہ اٹھا رہے ہیں کہ وزیراعظم کے صاحبزادے حسین نواز اپنے والد میاں نوازشریف کو رقم بطور تحفہ بھجواتے ہیں جس سے وہ زرعی رقبہ مریم نواز کے لیے خریدتے ہیں اور پھر حسین نواز اپنے والد وزیراعظم کو دوبارہ رقم بطور تحفہ بھجواتے ہیں جو وزیراعظم اپنی بیٹی مریم نواز یعنی حسین نواز کی بہن کو بطور تحفہ دے دیتے ہیں اور مریم نواز تحفے میں موصول ہونے والی رقم واپس وزیراعظم کو ادا کرکے وہ رزعی رقبہ اپنے والد سے خرید لیتی ہیں۔ عدالت اس طریقہ کار پر سنجیدہ سوالات اٹھاتے ہوئے اس قانون میں ترمیم تجویز کرسکتی ہے۔

مریم نواز لندن فلیٹس کی مالک ہیں یا ٹرسٹی؟
حسین نواز کے اس دعوے کہ ان کی بہن مریم نواز ان کے فلیٹس کی بطور ٹرسٹی مالک ہیں جس کے لیے انہوں نے ایک ٹرسٹ ڈیڈ بھی عدالت میں جمع کروائی ہے۔ کیونکہ یہ ٹرسٹی دستاویز کہیں باقاعدہ رجسٹرڈ نہیں ہے اس لیے اس کی قانونی حیثیت مشکوک قرار دیتے ہوئے سپریم کورٹ اس پر مزید تحقیقات کا حکم دے سکتی ہے لیکن اس کو فوری مسترد کرنے سے شاید گریز کرے۔

کیپٹن صفدر کی اہلیت کا معاملہ؟
اگر مریم بطور ٹرسٹی بھی ان فلیٹس کی ملکیت رکھتی ہیں تو ان کو انتخابی گوشواروں میں ظاہر نہ کرکے کیا رکنِ قومی اسمبلی کیپٹن صفدر اثاثے چھپانے کے مرتکب ہوئے ہیں یا وہ ایسے فلیٹس اپنے انتخابی گوشواروں میں داخل کرنے کے پابند نہیں تھے جن کی ملکیت ان کی اہلیہ کے پاس صرف بطور ٹرسٹی تھی یہ پیچیدہ سوال بھی عدالت کے سامنے ہوگا اور شاید عدالت اس معاملے پر بھی خود ڈگری جاری کرنے سے گریز کرتے ہوئے معاملہ الیکشن کمیشن کو بھجوا دے کہ وہ اپنے قوانین کے تحت دیکھے کیپٹن صفدر اثاثے چھپانے کے مرتکب ہوئے ہیں یا نہیں۔

لندن فلیٹس کیا واقعی 2006 میں حسین نواز کی ملکیت میں آئے؟
فلیٹس کے 2006 میں حسین نواز کو منتقلی کا جو دعویٰ قطری خط میں کیا گیا، اس دعوے کی سپورٹ میں حسین نواز نے صرف ایک دستاویز عدالت میں پیش کی جس میں انہوں نے فلیٹس کے بیئرر شیئرز کو 2006 میں منروا کمپنی کے نام رجسٹرڈ کروایا۔ حسین نواز کے وکیل سلمان اکرم راجہ کے بقول بیئرر شیئرز کرنسی نوٹوں کی طرح ہوتے ہیں جن پر کسی کا نام درج نہیں ہوتا آپ اپنے ہاتھوں سے بھی کسی کے حوالے کرسکتے ہیں اس کی ٹرانسفر کے لیے کسی دستاویزی معاہدہ کی ضرورت نہیں اس لیے قطری شہزادے نے یہ حسین نواز کے حوالے کردئیے اور حسین نواز نے بعدازاں ان کو بیرئیر شیئرز کو منروا کمپنی کے نام رجسٹرڈ کروا لیا جس کے ڈائریکٹرز میں انہوں نے مریم نواز کو ڈائریکٹر نامزد کردیا۔ سپریم کورٹ شاید اس طرح بغیر کسی تحریری معاہدہ کے فلیٹس کے بیرئر شیئرز کی حسین نواز کو منتقلی سے بھی شاید مطمعن نہ ہو اور اس معاملہ کی مزید تحقیقات کا حکم دے۔

(جاری ہے)

Share.

Comments are closed.

Exit mobile version