یہ کیس پہلے دن سے انتہائی پیچیدہ تھا اور وکلا میں یہ بحث جاری تھی کہ کیا سپریم کورٹ نے آرٹیکل 184/3 کے تحت عوامی مفاد میں اس پیٹیشن کو قبول کرکے اپنے آپ کو ایک ایسے صحرا میں داخل کر لیا ہے جس میں تاحدِ نگاہ کوئی منزل نہیں اور کیا یہ ایک درست فورم ہے جس کی گونج کمرہِ عدالت میں شریف خاندان کے تینوں وکلا کے دلائل میں بھی سنائی دی اور انہوں نے عدالت کے دائرہ سماعت کو تو چیلنج نہ کیا لیکن سپریم کورٹ
حدیبیہ پیپر ملز کیس میں اسحاق ڈار کے اعترافی بیان کی اہمیت کیا ہے؟
اسحاق ڈار نے نیب سے ڈیل کرکے خود کو ملزم سے وعدہ معاف گواہ بنوا کر سن 2000 میں حدیبیہ پیپر ملز ریفرنس میں مجسٹریٹ کے سامنے دفعہ 164 کا اعترافی بیان جمع کروایا تھا جس میں وزیراعظم نوازشریف اور ان کے خاندان کے افراد پر منی لانڈرنگ کے الزامات لگاتے ہوئے رحمان ملک کی بطور ڈی جی ایف آئی اے 1998 میں تیار کردہ منی لانڈرنگ کی رپورٹ کی کہانی کے بیشتر نکات کو دہرایا تھا۔ بعد ازاں لاہور ہائیکورٹ کے تین رکنی بینچ نے اس بنیاد پر ریفرنس خارج کردیا تھا کہ اس ریفرنس میں ملوث ملزمان بیرونِ ملک تھے اور ان سے تفتیش کے بغیر سزا سنائی گئی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ریفرنس خارج کرتے وقت لاہور ہائیکورٹ نے اسحاق ڈار کے اعترافی بیان کو مسترد نہیں کیا تھا یعنی کے ریفرنس تکنیکی بنیادوں پر خارج ہوا تھا لیکن بریت نہیں تھی۔ اہم قانونی نکتہ جو سپریم کورٹ کے لارجز بینچ کے سامنے تھا وہ یہ تھا کہ لاہور ہائیکورٹ کے جس بینچ نے یہ فیصلہ سنایا اس میں ایک جج اس ریفرنس کے خارج کرتے ہوئے اسحاق ڈار کے بیان پر نئے سرے سے تحقیقات کرکے دوبارہ ٹرائل چاہتا تھا جبکہ دوسرا جج ریفرنس خارج کرکے دوبارہ انکوائری کا فیصلہ نیب پر چھوڑنا چاہتا تھا لیکن ریفری جج نے نہ صرف ریفرنس خارج کرنے والے دوسے جج کا ساتھ دیا بلکہ جو ریلیف حدیبیہ پیپر ملز نے نہیں بھی مانگا تھا وہ بھی دیتے ہوئے نیب کو اس کیس کی ازسرِ نو تحقیقات سے روک دیا جس کے خلاف نیب نے کوئی اپیل بھی نہ کی۔ سپریم کورٹ کے لارجر بینچ کے ارکان اس فیصلے سے واضح طور پر نالاں نظر آئے اور بار بار ریفری جج کی دلیل پر بولتے بولتے رک جاتے جس سے ایسا تاثر ملتا تھا کہ وہ جج کی ذات پر ریمارکس دیتے ہوئے ادارے کے تقدس کی خاطر خاموش ہوجاتے ہیں ورنہ ان کو بخوبی احساس ہے کہ یہ فیصلہ کسی بھی طرح انصاف کے معیار پر پورا نہیں اترتا اور کہیں نہ کہیں ریفری جج نے شریف خاندان کے حق میں جانبداری دکھاتے ہوئے کوئی گڑبڑ کی ہے۔ سپریم کورٹ کے سامنے پی ٹی آئی کے وکیل نعیم بخاری کی استدعا تھی کہ اس ریفرنس میں کیوں کے اسحاق ڈار کے بیان کو کیونکہ مسترد نہیں کیا گیا اور ان کی بریت نہیں ہوئی بلکہ ریفرنس خارج ہوا ہے اس لیے اس اعترافی بیان کو بطورِ شہادرت وزیراعظم نوازشریف کے خلاف استعمال کیا جائے۔ عدالت شاید اعترافی بیان کو اس مقام پر بطور شہادت استعمال سے گریز کرے لیکن لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف نیب کو اپیل کرکے اسحاق ڈار کے بیان پر نئے سرے سے تحقیقات کرکے ریفرنس کے دوبارہ اندراج کا حکم ضرور دے سکتی ہے تاکہ اگر اعترافی بیان میں استعمال کی گئی کہانی درست ثابت ہو تو پھر حدیبیہ پیپر ملز ریفرنس ہی وزیراعظم نوازشریف کے سیاسی مستقبل کے لیے پھندا ثابت ہوگا۔
نیب اور چیئرمین نیب پر ممکنہ چارج شیٹ
سپریم کورٹ نے چیئرمین نیب کو طلب کرکے ان سے دو موضوعات پر سوال کئے ایک پانامہ لیکس پر نیب نے کیا کاروائی کی اور دوسرا حدیبیہ پیپر ملز ریفرنس میں لاہور ہائیکورٹ کے فیصلہ کے خلاف نیب نے اپیل کیوں نہ کی۔ دونوں ایشوز پر چیئرمین نیب کے جوابات نے لارجر کو صرف مایوس ہی نہیں کیا بلکہ ججز کو برہم بھی کر دیا۔ عدالت نے چیئرمین نیب کو باور کروایا کہ صرف ان کے اِن ایکشن کی وجہ سے آج عدالت کو پانامہ لیکس کیس کی دلدل میں اترنا پڑا ہے۔ جسٹس آصف کھوسہ نے چیئرمین نیب قمرالدین چوہدری سے پانامہ لیکس پر کوئی ایکشن نہ لینے پر اپنی مایوسی کا اظہار کرتے کہا کہ کاش ان کو احساس ہے کہ اللہ نے انہیں کتنے بااختیار عہدے سے نوازا ہے جہاں انہیں تعینات کرنے والا بھی نہیں ہٹا سکتا اور ایسی پوزیشن پر بیٹھ کر وہ پاکستانی عوام کی کتنی خدمت کرسکتے تھے۔ اسی طرح جسٹس عظمت سعید شیخ نے چیئرمین نیب کو ان کے ادارے کے غیر فعال ہونے پر برہم ہوتے ہوئے کہا آپ کی وجہ سے ہمیں طعنے سننے پڑتے ہیں کہ اسرائیلی وزیراعظم سے گھر جاکر سوال ہوتے ہیں آپ کو تحفے کیوں ملے اور کس نے دیے؟ لیکن ہمارے ادارے ایکشن میں ہی نہیں آتے۔ اسی طرح جب چیئرمین نیب نے حدیبیہ پیپر ملز ریفرنس کے اخراج کے لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل میں نہ جانے کی وجہ ملنے والی قانونی ایڈوائس کو دیا تو عدالت نے ان سے وہ ایڈوائس پڑھنے کو کہا جس پر وہ گویا ہوا کہ ایڈوائس میں لکھا ہے کہ میاں شریف کیوں کہ فوت ہوچکے ہیں اس لیے ان کے خلاف ریفرنس کھولنے سے ادارے کے حصے میں صرف بدنامی آئے گی۔ جس پر بینچ میں وائٹ کالر کرائم کے ایکسپرٹ کی شہرت رکھنے والے جسٹس عظمت سعید شیخ نے طنزیہ طور پر کہا کہ ابھی تو نیب کے حصے میں بڑی نیک نامی آرہی ہے۔ جسٹس عظمت سعید یہیں نہیں رکے انہوں نے مزید کہا کہ ہم کسی کی چار سو روپے کے کیس میں بھی ضمانت لے لیں تو آپ یعنی نیب ہمارا دروازہ توڑ دیتے ہیں کہ ضمانت کیوں لی اور یہاں ایک ارب سے زائد قوم کے پیسے کا معاملہ ہے اور آپ نے اپیل کرنا مناسب ہی نہ سمجھا حالانکہ اس ہی فیصلہ میں ایک جج نیب کے اسحاق ڈار کے اعترافی بیان کو بنیاد بنا کر نئے سرے سے تحقیقات کرکے ریفرنس کو دوبارہ دائر کرنے کے حق میں دلائل لکھ رہا ہے آپ کاش ان دلائل کے سہارے ہی اپیل کرلیتے۔ لارجر بینچ کے سربراہ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے بھی اس موقع پر آبزرویشن دی کہ یہ قانونی ایڈوائس تو نہیں ہے۔ عدالت نے جب چیئرمین نیب سے استفسار کیا کہ کیا وہ اب لاہور ہائیکورٹ کے فیصلہ کے خلاف دوبارہ اپیل دائر کرسکتے ہیں تو چیئرمین نیب نے انکار کردیا جس پر ججز نے ان کو تنبیہ کردی کہ وہ اب نتائج کے لیے تیار رہیں۔ اس سے قبل عدالت چیئرمین نیب کی تعیناتی کے طریقہ کار پر بھی سوالات کرچکی تھی کہ یہ وہی چیئرمین نیب ہیں جن کو اپوزیشن لیڈر اور حکمران جماعت کے وزیراعظم باہمی مشاورت سے صدرِ مملکت لگاتے ہیں اور قمرالزمان چوہدری نے پیپلزپارٹی حکومت اور چوہدری نثار دونوں کے ماتحت بطور سیکریٹری داخلہ کام کیا ہے جس پر جسٹس آصف سعید کھوسہ نے حدیبیہ پیپر ملز پر لاہور ہائیکورٹ کے فیصلہ کے خلاف اپیل نہ کرنے کو فرینڈلی فائر قرار دیا۔ جبکہ لارجر بینچ کے سربراہ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ہی چیئرمین نیب کے بارے میں آبزرویشن دی کہ ایسا افسر کیا کسی کا چالان بھی پکڑ سکتا ہے؟ لارجر بینچ کے یہ ریمارکس ججز کا موڈ بتاتے ہیں کہ قوی امکان ہے عدالت چیئرمین نیب کی تقرری کے طریقہ کار کو تبدیل کرنے اور نیب قانون میں ترمیم کی تجویز دیتے ہوئے موجودہ چیئرمین نیب کو ایک کمپرومائزڈ افسر لکھتے ہوئے وفاقی حکومت کو ان کے خلاف کاروائی کا حکم بھی دے سکتی ہے۔ ایسا لگتا ہے عدالت نیب بطور ادارہ کے مینڈیٹ اور خودمختاری کے بارے میں بالعموم لیکن چیئرمین نیب کے بارے میں بالخصوص ایک چارج شیٹ دے گی جس کو بیناد بنا کر مستقبل میں کوئی بھی سپریم جوڈیشل کونسل میں نیب سربراہ کی برخاستگی کے لیے پیٹیشن دائر کرسکے گا کیونکہ چیئرمین نیب کو براہِ راست نہیں ہٹایا جاسکتا بلکہ اس کام کے لیے سپریم جوڈیشل کونسل کے فورم سے رجوع کرنا پڑتا ہے۔ جس طرح دھاندلی انکوائری کمیشن میں تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان وزیراعظم نوازشریف کا سیاسی سر لینے آئے تھے لیکن جسٹس ناصرالملک کی سربراہی میں قائم کمیشن نے کپتان کو الیکشن کمیشن کا گریبان پکڑا کر گھر بھیجا تھا شاید پانامہ لیکس کے فیصلے میں بھی سپریم کورٹ کا لارجر بینچ بھی خان صاحب کو وزیراعظم نوازشریف کی بجائے نیب کا گریبان پکڑا کر گھر بھیجے گا۔
شریف خاندان کے جواب کی تحقیقات کے لیے کمیشن کا آپشن؟
یہ دیکھنا انتہائی دلچسپ ہوگا کہ سپریم کورٹ کا لارجر بینچ کیا معاملہ کو مزید تحقیقات کے لیے تحقیقاتی فورمز نیب، ایف آئی اے اور ایف بی آر جیسے فورمز کو بھجوا کر کیا درخواستوں نمبٹا دیتا ہے یا جو ادارہ جسٹس عظمت سعید شیخ کی نظر میں وفات پاچکا اور وہ کہہ چکے کہ وزیراعظم کے خاندان کے خلاف نیب کے ذریعے تحقیقات کا معاملہ زمین کے چھ فٹ نیچے دفن ہوچکا ہے جبکہ لارجر بینچ سربراہ آصف سعید کھوسہ کہہ چکے کہ اس چیئرمین نیب جیسا افسر کیا کسی کا چالان بھی پکڑ سکتا ہے کیا سپریم کورٹ اس نیب سے اب یہ تحقیقات کروائے گی؟ امکان ہے کہ عدالت کوئی ایسا کمیشن بھی تجویز کرسکتی ہے جس کے ماتحت اس ادارے کے افسران دے کر ان سے مکمل تحقیقات کروائے اور جو فائنڈگز کمیشن دے ان کو احتساب عدالت میں ٹرائل کے لیے بھجوا دے کیونکہ سپریم کورٹ ارسلان افتخار کیس میں یہ اصول طے کرچکی ہے کہ جو شخصیت کوئی سرکاری عہدہ نہیں رکھتی ان کے خلاف کاروائی کا فورم وہ نہیں ہوسکتا جو کسی بھی سرکاری عہدیدار کے خلاف کاروائی کے لیے ہوسکتا ہے جیسا کہ میمو کمیشن میں ہوا تھا۔ میمو کمیشن میں ملزم حسین حقانی بطور امریکہ میں پاکستانی سفیر پبلک آفس ہولڈر تھے جو عوامی ٹیکس سے تنخواہ وصول کرتے تھے اور ریاستی پروٹوکول انجوائے کرتے تھے جبکہ ارسلان افتخار کمیشن میں سابق چیف جسٹس افتخار چوہدری کے صاحبزادے ارسلان افتخار اور بحریہ ٹاون کے مالک ملک ریاض دونوں پرائیویٹ بزنس مین تھے اور پبلک آفس ہولڈر نہیں تھے اس لیے ان دونوں کے دعوے کو حتمی فیصلہ کے لیے ٹرائل کورٹ بھجوا دیا گیا تھا۔ پانامہ لیکس کیس میں اگر معاملہ وزیراعظم کے بچوں کے خلاف تحقیقات تک محدود رہتا ہے تو وزیراعظم کے تینوں بچے حسین نواز، مریم نواز اور حسن نواز میں سے کوئی بھی سرکاری عہدہ نہیں رکھتا نہ ہی منتخب رکنِ اسمبلی ہے اس لیے ان پر میمو کمیشن والا نہیں بلکہ ارسلان افتخار کمیشن کا فارمولا لاگو ہوگا کہ کمیشن کی فائنڈنگز ماتحت عدلیہ کو مزید ٹرائل کے لیے بھجوا دی جائیں۔
وزیراعظم کے ذاتی مفادات اور امورِ مملکت میں ٹکراو؟
یہ سب سے دلچسپ نکتہ ہوگا جس کو امید ہے عدالت اپنے فیصلے کا حصہ بنائے گی۔ ججز اس بات پر ضرور سوال اٹھائیں گے کہ ملک کا وزیراعظم سب سے بااختیار اور حساس عہدے پر بیٹھا ہوا شخص ہے تو ایسے میں اس کے اہلخانہ کیونکر قطری حکمران شاہی خاندان کے ساتھ کاروبار کر رہے تھے جن سے ان کے والد بطور سربراہِ مملکت ریاست کے معاشی معاہدے کررہے تھے۔ اِسی وجہ سے عدالت نے حکومت سے قطری الثانی فیملی کی پاکستان میں سرمایہ کاری کا ریکارڈ بھی لیا۔ جسٹس اعجازالاحسن نے تو یہ سوال بھی کیے کہ حسین نواز نے اگر دو شادیاں کررکھی ہیں تو دونوں بیویوں کی نیشنیلٹی کیا ہے اور جب جواب ملا کہ دونوں پاکستانی نیشنل نہیں ہیں تو انہوں نے یہ تک پوچھا کہ کہاں کی نیشنل ہیں جس پر مریم نواز کے وکیل شاہد حامد نے تھوڑے تذبذب سے جواب دیا کہ ایک سعودی نیشنل ہے جبکہ دوسرے لبنانی نیشنل ہیں۔ بظاہر حسین نواز کی بیویوں کی نیشنیلٹی کا کیس سے کوئی تعلق نہیں لیکن عدالت دراصل یہ سمجھنے کی کوشش کررہی تھی کہ ملک کا وزیراعظم جو حکومت تو پاکستان پر کررہا ہے وہ جب اپنے اہلخانہ کا مفادات کا معاملہ آتا ہے تو کس حد تک پاکستان اور پاکستان کے لوگوں کو اہمیت دیتا ہے۔ لارجر بینچ یہ جاننے میں شاید دلچسپی رکھتا تھا کہ وزیراعظم نے اپنے خاندان کی جڑیں اندرونِ ملک گہری کرنے میں زیادہ دلچسپی لی یا بیرونِ ملک۔ اس لیے امید کی جاسکتی ہے کہ عدالت اپنے فیصلے میں گورننس کا ضابطہ بھی تجویز کرے گی جس کو اختیار کرکے سربراہِ مملکت، منتخب نمائندے اور سرکاری عہدے دار زیادہ شفافیت سے امورِ مملکت چلا سکتے ہیں۔
کیا کسی کو سزا ہوگی؟
پیٹشنرز کی خواہش تو ضرور ہوگی کہ وہ وزیراعظم کے خلاف یا ان کے بچوں (خاص کر مریم نواز کو) میں سے کسی کو سزا دلوا کر نکلیں لیکن شاید اس مرحلہ پر یہ ممکن نہ ہو کیونکہ سپریم کورٹ ملک میں انصاف کا سب سے بڑا مگر اپیل کا بھی آخری فورم ہونے کی وجہ سے اس سے گریز کرے۔ آئین کا آرٹیکل 10 اے ہر شہری کو شفاف ٹرائل کا حق دیتا ہے۔ اس لیے آرٹیکل 10 اے کی روح سے کسی بھی شخص کا ٹرائل براہِ راست ایسے فورم پر نہیں ہوسکتا جہاں سے آگے اس کے پاس اپیل کا کوئی فورم ہی نہ ہو یعنی اگر وہ ماتحت عدلیہ اور ہائیکورٹ سے سزا پاتا بھی ہے تو اس کے پاس اپیل کے لیے سپریم کورٹ کا فورم موجود ہوگا لیکن اگر سپریم کورٹ ہی براہِ راست اس کو ٹرائل کرکے سزا سنا دے تو وہ کسی ماتحت فورم پر تو ملک کی عدالتِ عظمٰی کے فیصلے کی خلاف اپیل کرنے سے رہا جس وجہ سے اس کے شفاف ٹرائل کے حقوق متاثر ہوتے ہیں۔ اس مقدمہ کا فیصلہ لکھتے ہوئے صرف ججز کے سامنے آئین اور قانون کا چیلنج نہیں ہوگا بلکہ ان کی بصیرت کا امتحان بھی ہوگا۔ عدالت کو دیکھنا ہوگا کہ کہیں ان کے فیصلہ کو لے کر ملک میں ایک اور سیاسی بحران لانگ مارچ یا دھرنے کی صورت میں پیدا نہ ہو جائے۔ لارجر بینچ مقدمہ میں آئین اور ملکی قوانین کی تشریح کے معیار طے کرتے وقت اس بات کو بھی مدِنظر رکھے گی کہ مستقبل میں ان ہی کے فیصلے کی نظیر لے کر کوئی آنے والی ملکی قیادت کو بہت آسانی سے ناک آوٹ نہ کرسکے ورنہ ملک میں الزامات لگا کر حکومتوں کو گھر بھیجنے کا ایک ایسا دروازہ کھل جائے گا کہ کوئی بھی حکومت یکسوئی سے ریاستی امور اور عوام کی فلاح کے لیے کام نہیں کرسکے گا۔ عدالت یہ بھی یقینی بنائے گی کہ جہاں کوئی سنی سنائی کہانی خط عدالت میں پیش کرکے بغیر کسی دستاویزی ٹریل کے صرف ممکنات کی دلیل کا استعمال کر کے احتساب سے بچ نہ سکے وہیں غالب امکان ہے ججز اس اصول کی بھی طے کریں گے کہ کوئی چند دستاویزات کی بنیاد پر واقعاتی شواہد کو جواز بنا کر عدالت سے فیصلہ نہ لے سکے۔ کیونکہ ججز کے سامنے دستاویزات تو 25 ہزار سے زائد ہیں لیکن بقول لارجر بینچ کے سربراہ جسٹس آصف سعید کھوسہ پیش کی گئی 99.9 فیصد دستاویزات کو اگر قانونِ شہادت کی نظر سے دیکھا تو وہ ردی کی ٹوکری میں جائیں گی۔ عدالت یہ اصول بھی طے کرے گی کہ شواہد کا معیار کیا ہونا چاہیے اور کونسا فورم کس قسم کی تحقیقات لیے موزوں ہے اور کس قسم کی درخواستوں کے ٹرائل کے لیے کس فورم سے رجوع کرنا چاہیے۔ جبکہ آرٹیکل 184/3 میں عدالت اپنے اختیارات کو کس حد تک استعمال کرسکتی ہے۔
آخر میں کچھ باتیں میں وکلا کی کارکردی اور مقدمے کی فریق جماعتوں کے بارے میں بھی لکھنا چاہوں گا۔ تحریک انصاف کا مقدمہ جتنا مظبوط تھا کاش وہ وکیل بھی اتنا ہی اچھا کرتی کیونکہ پی ٹی آئی کے وکیل نعیم بخاری نے اپنے دلائل کی سپورٹ میں کورٹ آف لا سے ایک بھی مثال نہ دی جس پر جسٹس عظمت سعید شیخ نے ان کو یہاں تک کہا کہ بخاری صاحب پوائنٹس سے فلرٹ کرنا بند کردیں اور ہمیں کورٹ آف لا سے مثال دے کر مطمعن کریں۔ شیخ رشید صاحب جس طرح میڈیا میں اپنا مقدمہ میڈیا میں لڑتے ہیں ویسے ہی عدالت میں لڑ رہے تھے جو فورم کے لحاظ سے شاید اتنا متاثر کن نہیں تھا۔ جماعت اسلامی نے شدید مایوس کیا کیونکہ اگر وہ واقعی ملک میں طاقتور کے احتساب کی داعی ہے تو وہ کیسے ایک انتہائی کمزور وکیل آصف توفیق کو صرف اس بنیاد پر کھڑا کرسکتی ہے کہ وہ اس کا کارکن ہے۔ وزیراعظم نوازشریف کے وکیل مخدوم علی خان نے اپنے دلائل سے وکالت کا ایسا بلند معیار مقرر کیا جس کو کم از کم اس سماعت کا حصہ رہنے والا کوئی بھی وکیل نہیں پہنچ سکتا۔ مریم نواز، کیپٹن صفدر اور اسحاق ڈار کے وکیل شاہد حامد نے ممکن حد تک اپنے موکلین کے دفاع کی کوشش کی جس میں کچھ حد تک ہی وہ کامیاب بھی ہوسکے۔ حسین نواز اور حسن نواز کے وکیل سلمان اکرم راجہ جو کہ شاید سب سے کمزور وکٹ پر تھے کیونکہ ان کے موکل حسین نواز کے ٹی وی انٹرویوز میں کیے جانے والے دعووں کی سپورٹ میں کوئی دستاویزی ریکارڈ نہیں تھا لیکن اس کے باوجود وہ انتہائی اعتماد سے عدالت کے سامنے اس دلیل کے ساتھ ڈٹے رہے کہ یا تو عدالت امکانات کی بنیاد پر ان کے موکل کو کلین چٹ دے یا اس مقدمہ کو ٹرائل کے لیے کسی اور فورم پر بھیجے۔ کمرہ عدالت میں دونوں جماعتوں کے رہنماوں کی ایک بڑی تعداد بھی موجود ہوتی تھی جس میں ن لیگ کے ایم این اے دانیال عزیز خصوصی طور پر ججز کے سوالات پر بڑبڑاتے ہوئے اخلاقیات کا دامن بھی ہاتھ سے چھوڑ دیتے تھے۔ اسی طرح تحریک انصاف کی کارکن خواتین عدالت کے احترام سے بالکل نابلد تھیں جو عدالت کی سماعت کے دوران تالیاں تک بجا دیتی تھیں۔ تحریک انصاف کے رہنماوں کی سیاسی اور قانونی سمجھ بوجھ کا اندازہ یہیں سے لگایا جاسکتا ہے کہ ایک دن میں مقدمہ کی سماعت کے دوران عمران خان صاحب کے عدالتی امور پر مشیر اسحاق خاکوانی کے ساتھ بیٹھا تھا تو وہ اپنے ساتھ آئے ہوئے کارکنوں کو بتا رہے تھے کہ دیکھو ن لیگ کے لوگوں کی باڈی لینگوئج کتنی مایوسی والی ہے اور ہمارے لوگوں کی کتنی پرجوش ہے جس سے آپ اندازہ لگا لو کہ مقدمہ کون جیت رہا۔ یہ مکالمہ سن کر مجھ سے کنٹرول نہ ہوا اور میں نے اسحاق خاکوانی صاحب سے عرض کیا کہ خاکوانی صاحب اپنی یا ن لیگیوں کی باڈی لینگوئج پر مت جائیں بلکہ ججز کی باڈی لینگوئج کو نوٹ کریں کیونکہ آخر میں ان کی باڈی لینگوئج سے رزلٹ نکلنا ہے نہ کے مقدمے کے فریقین کی باڈی لینگوئج سے۔ پانامہ لیکس مقدمہ کے فیصلے کے بہرحال دور رس سیاسی اور قانونی اثرات ہوں گے جس پر ن لیگ اور پی ٹی آئی کی 2018 کے عام انتخابات کی انتخابی حکمتِ عملی کا انحصار ہوگا۔ مضمون طویل تھا کیونکہ میں عام قاری کی سمجھ بوجھ کے لیے قانونی نکات کی سادہ الفاظ میں وضاحت کرنا چاہتا تھا اس لیے صبر سے مکمل مضمون پڑھنے پر آپ کا خصوصی طور پر مشکور ہوں۔
