انجینئر بلیغ الرحمن نے یونیورسٹی پر زور دیا کے وہ عوام الناس اور فنی تعلیم حاصل کرنے والے طلباء کے لیے بھی سپوکن عربی کے خصوصی کورسز ڈیزائن کرے تاکہ مشرق وسطی اور عربی زبان بولے جانے والے ممالک میں انہیں روزگار حاصل کرنے میں آسانی ہو۔کانفرنس سے یونیورسٹی کے ریکٹر معصوم یاسین زئی اور پریذیڈنٹ احمد بن یوسف الدریویش نے بھی خطاب کیا۔آخر میں فیکلٹی آف عریبک کے ڈین ڈاکٹر محمد بشیر نے

بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی  اسلام آباد نے 6 اور 7 مارچ 2017 کو  ایک بھرپور دو روزہ  انٹرنیشنل کانفرنس کا انعقاد کیا جس میں  14 ملکوں کے مندوبین نے شرکت کی اور 44 علمی  وتحقیقی مقالے پیش کیے گئے۔ کانفرنس کا مقصد اسلامی جامعات و مدارس  کی فروغ عربی  کے لیے کی جانے والی کوششوں کو اجاگر کرنا  تھا۔افتتاحی تقریب میں  وفاقی وزیر برائےمذہبی امور سردار یوسف نے کہا کہ حکومت عربی زبان  کی ترویج کے لیے اقدامات کر رہی ہے اور اسلامی  یونیورسٹی کا کردار اس حوالے سے کلیدی ہے۔سینیٹر طلحہ  محمود نے کہا کہ  مسلم معاشرے میں عربی  کی اہمیت مسلم ہے اور    عربی  جانے بغیر قرآن کا فہم حاصل کرنا  ناممکن ہے، بعد  میں سینیٹر طلحہ   نے سینٹ ممبران کے سامنے   بھی کانفرنس کا مدعا رکھا اور  انہیں  سکولوں و کالجوں میں عربی زبان کی تدریس کے لیے قانون سازی   پر قائل کیا۔
افتتاحی تقریب کاانعقاد  اسلامی یونیورسٹی  فیصل مسجد کیمپس  کے قائد اعظم آڈیٹوریم  میں کیا گیا تھا جبکہ  اس کے بعد آخر تک   تقریب علامہ اقبال  ہال  میں انعقاد پذیر رہی، پہلےسیشن  کی صدارت  سوڈان کے ڈاکٹر عبدالمنعم  نے کی  جس میں  مقالہ نگاروں نے :فروغ عربی کے لیے دینی مدارس اور اسلامی یونیوسٹی  کا کردار، عربی زبان کا مستقبل  اورعجمیوں کو عربی سیکھنے میں  درپیش آنے والی مشکلات جیسے اہم موضوعات پر مقالے پیش کیے ،جبکہ دوسرے سیشن  کے صدر جلسہ  مصر سے آنے والے مہمان  ڈاکٹر کمال عبدالعزیز ابراہیم  تھے ،اس سیشن میں  بہاء الدین زکریا یونیورسٹی ملتان،وفاق المدارس العربیہ ملتان۔شیخ بشیر سیالکوٹی   اور ویب سائٹس  کےعربی کی نشر واشاعت میں کردار  پر تفصیلی روشنی ڈالی گئی۔
دوسرے دن پہلے سیشن کی ادارت اسلامی یونیورسٹی کے  شعبہ ترجمہ و ترجمانی کے انچارج  ڈاکٹر انعام الحق غازی نے کرنا تھی جو کہ بیماری کی وجہ سے  حاضر نہ ہو سکے،کانفرنس میں ان کی صحتیابی کے لیے دعا کی گئی اور  ان کی نیابت میں  ڈاکٹر فضل اللہ  کو   پروگرام کی کاروائی سونپی گئی،جبکہ دوسرے سیشن کی صدارت   جامعۃ الازہر کے استاذ ادب ڈاکٹر محمود حسن مخلوف  کے حصہ میں آئی۔دوسرے دن بھی عربی زبان و ادب   اورطرق تدریس  سمیت متعدداہم  موضوعات   پر مقالہ جات پیش کیے گئے۔

اختتامی تقریب میں   وزیر مملکت برائے تعلیم  انجینئر بلیغ الرحمن مہمان خصوصی تھے، انہوں نے کہا کہ پہلے مرحلے میں  پرائمری تک ناظرہ کی تعلیم تمام سرکاری و غیر سرکاری سکولوں میں لازمی کر دی گئی ہے اور کے پی  اور سندھ حکومتیں اس حوالے سے قراداد بھی منظور کر چکی  ہیں(وزیر محترم نے  دونوں صوبوں  بلوچستان اور پنجاب کے حوالے سے کسی قرارداد کا ذکر نہیں کیا جہاں ان کی اپنی پارٹی برسراقتدار ہے )  جبکہ دوسرے مرحلے میں  چھٹی جماعت سے میٹرک تک مکی سورتیں جن میں انبیا کے قصے اور سابقہ اقوام کے واقعات ہیں بمع ترجمہ پڑھائی جائیں گی اور ہائر سکینڈری میں مدنی  سورتوں کی  ترجمے کے ساتھ تعلیم لازمی ہو گی اور طلباء کو دینی مسائل  و احکام سے روشناس کروایا جائے گا۔وزیر مملکت نے کہا کہ فوری طور پر عربی  زبان کی تعلیم  لازمی قرار دینے سے  اساتذہ کی کمی کا سامنا کرنا پڑے گا اس لیے  اسلامی یونیورسٹی  سے ہم توقع کرتے ہیں کہ وہ جلد  عربی کے  ماہر اساتذہ تیار کرے تاکہ  جب حکومت کی طرف سے عربی زبان کو سکولوں میں لازمی قرار دیا جائے تو    ٹرینرز اور اساتذہ کی کمی نہ ہو۔
انجینئر بلیغ الرحمن نے   یونیورسٹی پر زور دیا کے وہ عوام الناس اور   فنی تعلیم حاصل کرنے والے طلباء  کے لیے بھی  سپوکن عربی کے خصوصی کورسز ڈیزائن کرے تاکہ  مشرق وسطی اور  عربی زبان  بولے جانے والے ممالک  میں انہیں روزگار حاصل کرنے  میں آسانی ہو۔کانفرنس سے یونیورسٹی  کے ریکٹر  معصوم یاسین زئی  اور پریذیڈنٹ  احمد بن یوسف الدریویش نے بھی خطاب کیا۔آخر میں   فیکلٹی آف عریبک  کے ڈین  ڈاکٹر محمد بشیر نے کانفرنس کا اعلامیہ اور تجاویز پیش کیں اور مقالہ نگاروں میں شیلڈز اور سرٹیفکیٹس پیش کیے گئے۔
دو روزہ اس کانفرنس  میں  غیر عرب کے عربی زبان  سیکھنے کے لیے مختلف مناہج پیش کیے گئے اور  دینی مدارس پر  زور دیا گیا کہ وہ  بھی اس ضمن میں پہلے سے  زیادہ مؤثر انداز میں  اپنا کردار  ادا کریں  تاکہ دینی مدارس اور عصری جامعات  مل کر   ملک میں عربی زبان رائج  کرنے میں  حکومت کا تعاون کریں۔

ایچ ای سی  کے اشتراک سے منعقد کی جانے والی یہ کانفرنس  بلاشبہ کامیاب  رہی جس پر  اسلامی یونیورسٹی  کی فیکلٹی آف عریبک مبارکباد کی مستحق ہے،ضرورت اس  امر کی ہے   زیادہ سے زیادہ  تدریب المعلمین ورکشاپس کا انعقاد کیا جائے  اور جو تجاویز اس  کانفرنس میں دنیا بھر کے اصحاب علم اور   سکالرز کی طرف سے پیش کی گئی ہیں  ان کے مطابق اساتذہ تیا ر کیے جائیں تاکہ  یہ کانفرنس بھی "نشستن،گفتن اور برخاستن”  کی مصداق نہ ہو بلکہ  اس کا فائدہ عملی شکل میں بھی نظر آئے۔

Share.

Comments are closed.

Exit mobile version