شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے رکن ممالک ہندوستان کے 22 ویں سربراہی اجلاس…
Browsing: Muhammad Amir Rana
گزشتہ ماہ چین، ایران اور پاکستان کے درمیان سہ فریقی مذاکرات اس سال کے شروع…
ملک میں موجودہ سیاسی اور معاشی عدم استحکام دہشت گرد تنظیموں کے لیے اپنی نشونما…
بلوچستان کے تعلیم یافتہ نوجوانوں کو پاکستان کے شہری علاقوں بالخصوص پنجاب جو ملک کے…
ملک میں جاری حالیہ بحران کے دوران پاکستان کی حکمران اشرافیہ نے مفاہمت کی بچی…
یہ ہفتہ پاکستان کی مختلف النوع واقعات پر مشتمل تاریخ کا ایک اور افسوس ناک…
ملک کو موجودہ بحران سے نکالنے کے لیے پاکستان کو ایک نئی سیاسی جماعت کی ضرورت ہے۔ ایک ایسی جماعت جو اصلاحات متعارف کرانے کا وژن اور صلاحیت رکھتی ہو اور جو جمود کی قوتوں کو چیلنج بھی کر سکتی ہو۔ ایک ایسی جماعت جو نہ نظریاتی بوجھ سے لدی ہوئی ہو اور نہ ہی اسٹیبلشمنٹ کے ہاتھ میں بندھی ہوئی ہو۔ ایسی جماعت جو اپنی طاقت صرف عوام کی حمایت سے حاصل کرنے میں کامیاب ہو۔
پاکستان کی افغان پالیسی ہمیشہ تزویراتی اہمیت پر مرکوز رہی ہے جس میں انقلابی تبدیلی کی ضرورت ہے۔ نئی افغان پالیسی کو افغان عوام اور اقتدار میں موجود حکومت کے ساتھ وسیع تر روابط پر مرکوز ہونا چاہیے۔
حال ہی میں منعقدہ قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں پیش کی گئی ایک رپورٹ نے صوبائی محکمہ انسداد دہشت گردی کی کمزوریوں اور صلاحیت کے مابین خلا کو نمایاں کیا ہے۔ بنوں کے سی ٹی ڈی سینٹر میں سیکورٹی فورسز اور ٹی ٹی پی کے زیر حراست افراد کے درمیان تعطل، جو بالآخر دو دن بعد فورسز کے آپریشن کے بعد ختم ہوا، نے دہشت گرد گروہوں کی صلاحیت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی تیاری کی کمی کو پوری طرح بے نقاب کر دیا۔
