ہمارے معاشرے کے فکری ماحول میں جس طرح دیگر بہت سے لفظ اپنی معنویت اور انفرادیت کھو چکے ہیں، اسی طرح ‘دانشور’ کا لفظ بھی ارزانی اور کثرتِ استعمال کے باعث بے معنی سا ہو کر رہ گیا ہے۔ فی الاصل دانشور کون ہوتا ہے اور اس کی خصوصیات کیا ہیں، اس حوالے سے ڈاکٹر سید جعفر احمد حقیقی اور آزاد فکر، کثیر الشعبہ علمی بنیاد، سماج سے متعلقہ خیالات اور تصورات کا علم ہونا اور بعض دیگر پیشہ ورانہ اور علمی امتیازات کو زیربحث لاتے ہیں۔ ہمارے ہاں دانشوری کی روایت مستحکم نہ ہو پانے کے حوالے سے بھی انھوں نے فکرانگیز نکات اٹھائے ہیں۔ مصنف ڈائریکٹر، انسٹی ٹیوٹ آف ہسٹوریکل اینڈ سوشل ریسرچ، کراچی اور ڈین، فیکلٹی آف سوشل سائنسز، سہیل یونیورسٹی، کراچی ہیں۔ (مدیر)
