ہمیں دانش ور کی بحث میں اکیڈیمیا اور دانش وری میں فرق کرنا ہوگا۔ افلاطون اپنے ”مکالمات“میں اکیڈیمیا کا نمائندہ ہے جب کہ ’ریاست‘ کے تصور کی تشکیل میں وہ دانش ور ہے۔ میکیاولی (Machiavelli) کا "جنگ کا فن” (The Art of War) اکیڈمک کام ہے، جب کہ The Princeمیں اس کا نقطہ نظر دانش ورانہ ہے۔ حسن عسکری کی ‘’وقت کی راگنی“ اکیڈیمیا کی بحثیں ہیں، جب کہ جدیدیت کی فکری گمراہیوں میں وہ سماج کی دانش ورانہ اصلاح کے قائل نظر آتے ہیں۔
