working
   
 
   
Untitled Document
موجودہ شمارہ

Untitled Document
 
Bookmark and Share
10 April 2015
تاریخ اشاعت

 پاکستان میں دینی مدارس اور حالیہ تناظر

فکرو نظر

کیا اقبال اجتہاد کو امت کے لئے خطرہ سمجھتے تھے ؟

ڈاکٹر خالد مسعود

 

اجتہاد ہمیشہ سے امت ِ مسلمہ کا اہم موضوع رہا ہے ۔اجتہاد سے مراد قرآن وسنت اور اجماع کی روشنی میں مقررہ شرائط کے مطابق استنباط و استخراج،شرعی احکام اورقوانین کی تشکیل جدید،تفصیل ،توسیع اور تنقیدکے لئے ماہرانہ علمی کاوش ہے۔علامہ اقبال کے کلام اور خطابات میں اس پس منظر میں بہت کچھ لکھا گیا ہے۔ڈاکٹر خالد مسعود نے زیر نظر مضمون میں انہی آرا کا جائزہ لیا ہے ۔آپ نامور اسلامی مفکر ہیں جو تجزیات کے صفحات پر باقاعدگی سے لکھتے ہیں ۔آپ اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین،اسلامک ریسرچ انسٹی ٹیوٹ بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد کے ڈائریکٹر،انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ فار دی سٹڈی آف اسلام ہالینڈ کے بھی ڈائریکٹر رہ چکے ہیں ۔آج کل سپریم کورٹ کے شریعت اپیلٹ بنچ کے ایڈہاک ممبر ہیں (مدیر)

کم از کم ڈاکٹرمحمد اسد کو تو یہی یاد ہے کہ علامہ اقبال نے 1934 میں پہلی ملاقات میں ان سے کہا کہ "زوال کے جس عہد میں ہم جی رہے ہیں، اس میں اجتہاد خطرناک ہے کیونکہ یہ اسلام کے بارے میں بے قابواختلاف رائے کی راہ اختیار کر سکتا ہے۔ اور ہمارا معاشرہ کہیں بڑے فساد سے دو چار ہو سکتا ہے"۔
ایسے وقت میں جب پاکستان میں ملکی تاریخ اور نظریات پر گفتگو بحث سے زیادہ مناظرے کے معرکہ آرا جوش و جذبے سے جاری ہے حیران کن اکتشافات سامنے آرہے ہیں۔ ہم اس مضمون میں ان نہایت ہی پیچیدہ اختلافات کا تجزیہ اس امید کے ساتھ پیش کر رہے ہیں کہ بحث کو اصل مسئلے کی طرف لایا جاسکے۔
ڈاکٹر اسد لکھتے ہیں:
" اس شام میں چوہدری الہٰی بخش کے مکان کی بیٹھک میں داخل ہوا تو اقبال دری پر بیٹھے تھے اور ان کے گرد ہر عمر کے دس بارہ لوگ پوری توجہ سے ان کی باتیں سن رہے تھے۔ میرے آنے سے ان کے انہماک میں چند لمحوں کا خلل پڑا لیکن تعارف کی رسم پوری ہوتے ہی اقبال کی گفتگو کا سلسلہ پھر سے جاری ہوگیا اور لوگ پھر اسی خاموشی سے ان کے خطاب میں محو ہو گئے۔ مجھے یاد پڑتا ہے کہ اقبال مسلمانوں کی قدیم تاریخ کا تذکرہ کرکے اس کے سنہری دور کا آج کے زوال سے موازنہ کر رہے تھے۔ گفتگو سوال جواب کی بجائے تقریر کی شکل میں ہو رہی تھی، جیسے استاد طلبا سے مخا طب ہو۔ اقبال بے تکلفی سے دیواری تکیوں کا سہارا لئے آلتی پالتی بیٹھے دھیمی آواز میں ٹھہر ٹھہر کر بات کر رہے تھے۔ پوری آگہی کے ساتھ کہ انہیں سامعین کی مکمل اور مو¿دبانہ توجہ حاصل ہے۔ اچانک اپنی گفتگو بیچ میں چھوڑ کر وہ میری طرف مڑے اور کہنے لگے
"میں نے تمہاری کتاب "اسلام دو راہے پر" پڑھی ہے اور جو کچھ تم نے لکھا مجھے وہ پسند بھی ہے۔ البتہ تم نے نئے اجتہاد کی جودعوت دی ہے اس سے مجھے اتفاق نہیں۔ اجتہاد اپنے طور پر تو یقیناً ضروری اور قابل تعریف ہے۔ لیکن آج زوال کے جس عہد میں ہم جی رہے ہیں، اجتہاد خطرناک ہے کیونکہ یہ اسلام کے بارے میں بے قابواختلاف رائے کی راہ اختیار کر سکتا ہے۔ اور ہمارا معاشرہ کہیں بڑے فساد سے دو چار ہو سکتا ہے"۔
میں ضبط نہ کر سکا اور کسی قدر بلند آواز سے ان کی بات کاٹتے ہوے بولا:
" لیکن ڈاکٹر اقبال کیا آپ نہیں مانتے کہ جو مسلمان سوچنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اگر وہ بھی اجتہاد کی راہ اختیار نہیں کریں گے تو مسلم معاشرہ جس ثقافتی بانجھ پن میں مبتلا ہے وہ تازہ اور زندہ اجتہاد کے بغیر اتنا گہرا ہوتا چلا جائے گا کہ اس کنویں سے باہر نکلنے کی کوئی امید بھی نہیں رہے گی۔ مجھے اس بات میں کوئی شک نہیں کہ آپ غلطی پر ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ آج جیسے زوال کے عہد میں ہی ہم پر یہ فرض عائد ہوتا ہے کہ اس سے قطع نظر کہ اسلام کے مسائل کے بارے پہلی نسلیں کیا سوچتی تھیں، ہم اپنے نظریات پر نظر ثانی کی جرا¿ت پیدا کریں۔ بلکہ اگر ہم بطور ملت باقی رہنا چاہتے ہیں اور اپنی ثقافتی پسماندگی پر قابو پانا چاہتے ہیں تو ملا کی پسند اور
نا پسند کی پروا کئے بغیر اجتہاد کی کوشش کرنا ہم پر فرض ہے۔ اس میں غلطیوں کا خطرہ بھی مول لینا ہوگا۔ ہمیں غلطیوں سے ڈرنے کی بجائے جمود سے ڈرنا چاہئے"۔
اقبال کے مداحوں پر تو جیسے اچانک بجلی گر گئی ہو۔ صاف نظر آرہا تھا کہ وہ اس بے حیثیت نو جوان کی جسارت سے سکتے میں آگئے ہیں۔ انہیں صدمہ تھا کہ اس عظیم فلسفی شاعر پر اتنا کھل کر اور اتنی اونچی آواز سے اعتراض کی جرا¿ت کیسے ہوئی۔ اقبال اس دوران زیر لب مسکراتے رہے۔ میرے اس طرح پھٹ پڑنے سے ان کے سکون اور اطمینان میں ذرا بھی فرق نہیںآیا تھا۔ حاضرین میں سے ایک یا دو نے احتجاج بھی کرنا چاہا۔ لیکن اقبال نے بات شروع کی تو سب چپ ہو گئے۔ وہ کہہ رہے تھے۔
" میرے دوست، ہم اس موضوع پر پھر کسی وقت بات کریں گے۔ تم میرے گھر آسکتے ہو ؟ شاید کل ہی".
یہ تھی اس عظیم شخص سے میری دوستی کی ابتدا جو اس کی زندگی کے آخری چار سال1938میں ان کی وفات تک جاری رہی۔ "
یہ اقتباس ڈاکٹرمحمد اسد کی کتاب جی گھر آیا (ھوم کمنگ آف دی ہارٹ، 1932۔1992 ) سے ہے جو ان کی ہر دلعزیز کتاب مکہ کی راہ (دی روڈ ٹو مکہ) کی دوسری جلد کے طور پر2015 میں شائع ہوئی ہے۔ اس میں پہلے دس باب ڈاکٹر محمد اسد کی تحریرہیں اورآخری سات مختصر ابواب ان کی اہلیہ پولا حمیدہ اسد کی 1932-1992 کی یاد داشتوں پر مشتمل ہیں۔ کتاب کے مرتب معروف محقق اور دانشور ڈاکٹر اکرام چغتائی ہیں جن کے تفصیلی حواشی نے اسے مزید بیش قیمت بنا دیا ہے۔ یہی کتاب چغتائی صاحب کے اردو ترجمہ کے ساتھ بندہ صحرائی کے عنوان سے اردو میں بھی دستیاب ہے۔
ڈاکٹر اسد کی یادداشتوں کے مطالعہ سے جہاں ابتدائی دنوں میں پاکستان میں مہاجرین کی
غیر متوقع آمد، خارجہ پالیسی کے قبلہ کے رخ کی برطانیہ سے امریکہ کی جانب تبدیلی، اور کشمیر کے مسئلے میں پاکستانی حکومت کے برطانیہ اور بھارت کے پر فریب وعدوں پر مسلسل اعتبار جیسے مسائل اور ان کے بارے میں اندرونی کہانیوں کا علم ہوتا ہے وہاں یہ پتا بھی چلتا ہے کہ انہی مسائل کی وجہ سے پاکستان میں آئین سازی کو مو¿خر بلکہ بار بارملتوی کیا جاتا رہا۔ بیان کئے گئے واقعات سے یہ اندازہ بھی ہوتا ہے کہ ان مسائل کے علاوہ اسلامی ریاست کے قیام اور قانون سازی میں رکاوٹ کا بڑا سبب پاکستان میں اجتہاد کے بارے میں اختلاف رائے تھا۔ سیاسی رہنماو¿ں، بیوروکریسی، اور قانون سازی کی مجالس کے لئے منتخب علما اور دانشوروں کے مابین اجتہاد کے اصولوں اور تصورات پربنیادی اختلافات اس کام میں رکاوٹ رہے۔
علامہ اقبال کے تصور اجتہاد پر تو بہت گفتگو رہی ہے، لیکن ڈاکٹر اسد جو آئین سازی کی اس جدوجہد میں پیش پیش تھے ان پر اکا دکا لوگوں نے بات کی ہے۔ ڈاکٹر اکرام چغتائی نے ڈاکٹراسد کی یاد داشتوں کو شائع کرکے قیام پاکستان کے فوراً بعد اجتہاد کے بارے میں اختلافات کے ایک اہم پہلو پر نظر ڈالنے کا موقع دیا ہے۔ خصوصاً ڈاکٹر محمد اسد کے اس بیان نے کہ اقبال اجتہاد کو امت کے لئے خطرہ سمجھتے تھے اس دور کو ازسر نو سمجھنے کی دعوت دی ہے۔
اقبال کے تصور اجتہاد کے حوالے سے اہل علم ہمیشہ سے دو متحارب مسلکوں میں تقسیم رہے ہیں۔ مولانا سلیمان ندوی اور دیگر جید علما کو خطبات اقبال کی اشاعت پر افسوس تھا۔ بھارت سے الطاف اعظمی نے بھی خطبات پر دینی نقطہ نظر سے بہت سخت تنقید کی ہے۔ اس لحاظ سے ڈاکٹر اسد کی یادوں سے یہ اقتباس کئی لحاظ سے اہم بھی ہے اور دلچسپ بھی۔ دلچسپ اس لئے کہ یہ واقعہ بقول اسد1934 کا ہے۔ خطبات اقبال ( اسلام میں دینی فکر کی تشکیل جدید) جن میں اقبال نے اجتہاد کو اسلامی ثقافت کی روح اور اصول حرکت بتا یا تھا اسی سال آکسفرڈ سے شائع ہوئے تھے۔ پھرایسا کیا ہوا تھا کہ اشاعت کے ساتھ ہی اقبال کی رائے تبدیل ہو گئی اور وہ اجتہاد کو امت کے لئے خطرہ سمجھنے لگے تھے۔ یا تو ڈاکٹر اسد نے اس وقت تک اقبال کے خطبات کا مطالعہ نہیں کیا تھا۔ یا دونوں کے خیالات اتنے مختلف تھے کہ دونوں ایک دوسرے کی بات سمجھ نہیں پائے۔
اہم اس لئے کہ1934 میں سیاسی اور فکری آزادی کی تحریکیں عروج پر تھیں۔ انڈیا کے اخبارات میںپنڈت جواہر لال نہرو اور علامہ اقبال کے درمیان تجدید اور اصلاح مذہب پر ایک بحث چلی۔ نہرو کا کہنا تھا کہ اسلام تجدید مذہب کا متحمل نہیں۔ انہوں نے ترکی کے حوالے سے لکھا کہ مصطفی کمال اتا ترک نے مذہب میں اصلاحات کیں تو ان کی وجہ سے ترکی اب مسلمان ملک نہیں رہا۔ ان اصلاحات میں نہرو نے خاص طور پر خلافت کے خاتمے، سیکولر طرز حکمرانی، لاطینی رسم الخط، یورپی لباس اور ترکی میں اذان کے حوالے دئے۔
اقبال نے جواب میں لکھا کہ یہ ساری اصلاحات ترکوں کے اجتہادات ہیں۔ یہ غلط بھی ہوں تب بھی ترکی مسلمان ہی ہے۔ کیونکہ اجتہاد میں غلطی سے مسلمان کافر نہیں ہوتا۔ جہاں تک ترکی میں مادیت اور سیکولرزم کا سوال ہے اقبال نے واضح کیا کہ مادیت مذہب کے لئے نقصان دہ ضرور ہے لیکن اسلام کی روح کو مادیت سے کوئی خطرہ نہیں کیونکہ اسلام دین اور دنیا کی تفریق کا قائل نہیں۔ اسلام کو خطرہ ملائیت اور پیر پرستی سے ہے۔ ملا اور پیر سادہ لوح مسلمان کو احمق سمجھتے ہیں اور عوام کی جہالت اور سریع الاعتقادی کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہیں۔ اتاترک نے ملا کو لوگوں کی مذہبی زندگی سے بے دخل کرکے وہ کام کیا ہے جس سے شاہ ولی اللہ اور ابن تیمیہ کی روحیں بے حد خوش ہوئی ہوں گی۔
اقبال ہندوستان کے مقابلے میں ترکی میں حالات کو اجتہاد کے لئے زیادہ ساز گار سمجھتے تھے۔ ان کی1924 میں لکھی نظم طلوع اسلام سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے۔ اسی سال جب ترکی نے خلافت کے خاتمے کا اعلان کیا تو اقبال نے اسے ترکوں کا اجتہاد قرار دے کر خیر مقدم کیا۔ اقبال مغرب کی تقلید کی بجائے اجتہاد سے کام لیتے ہوے فقہ اسلامی کی تشکیل جدید چاہتے تھے۔ ایسے میں1934 میں علامہ اقبال کی جانب سے اجتہاد کی مخالفت کی بات سمجھ میں نہیں آتی۔ تاہم جب ترکی نے قانون کی تدوین نو کرنے کی بجائے مغربی قانونی ضابطے اپنائے تو ترکوں کی نادانی پرافسوس کا اظہار بھی کیا۔ اس لحاظ سے اقبال اور اسد دونوں مغرب کی تقلید کے مخالف نظر آتے ہیں۔اب ایک یہی وجہ ہو سکتی ہے کہ اقبال اور اسد دونوں کے اجتہاد کے تصور میں فرق ہو۔
علامہ اقبال کے تصور اجتہاد کو فقہ اسلامی کی تشکیل جدید کہا جا سکتا ہے۔ فقہ کی تشکیل جدید نہ تو فقہی مذاہب کی تقلید کی چار دیواری میں ممکن تھی اور نہ ہی اصول فقہ میں قیاس اور اجماع کو قرآن و سنت کا درجہ دینے سے۔ تقلید کی قید میں قیاس اور اجماع سے اجتہاد کا کام نہیں لیا جاسکتا تھا۔ وہ قیاس کو منطق اور استخراج سے آزاد کرکے مقاصد شریعت اور قرآن و سنت سے استقرائی استنباط سے کام لینے کی بات کرتے تھے۔ اجماع کو ادارے کی شکل دے کر اسے انفرادی آرا کے اتفاق کی بجائے اجتماعی عمل میں تبدیل کرنے کے قائل تھے۔ اس طرح قیاس اور اجماع مصادر کی بجائے اجتہاد کے طریقے کے طورپر زیادہ مو¿ثر کردار ادا کرسکتے ہیں۔ مصادر قرآن اور سنت ہی ہیں۔
ڈاکٹر محمد اسد کے ہاں اجتہاد کا تصور تقلید کی مخالفت سے وابستہ تھا۔ لیکن ان کے ہاں فقہی مذاہب سے زیادہ ثقافتی تقلید کی مذمت پر زور تھا۔ ان کی رائے میں مسلمان اشرافیہ مغرب کی تقلید کو ترقی کی راہ سمجھتی تھی اور علما ماضی کی تقلید کو احیا ئے اسلام سمجھتے تھے۔ اسد کا کہنا تھا کہ مسلمانوں کا احیا ءاس احساس کی بیداری سے وابستہ ہے کہ وہ معاشرتی اور ثقافتی لحاظ سے مغربی تہذیب سے قطعاً مختلف ہیں۔ مسلمانوں کی ترقی اسلامی اقدار پر فخر کے احساس اور ان کو زندہ کرنے سے ہی ممکن ہے۔ان کی جانب سے مغرب کی تقلید کی مخالفت اور اسلامی اقدار کے احیاءکی بات بر صغیر میں بہت مقبول ہوئی۔
اسد اس مقبولیت سے خوش نہیں تھے، ان کو افسوس تھا کہ ان کی بات کو غلط سمجھا گیا۔ ان کے نزدیک ماضی کی زوال کی صدیوں کی معاشرت کی بحالی سے اسلام کا احیاءنہیں ہو سکتا۔ وہ قرآن و سنت کی اصل تعلیمات کے احیا ءکی بات کر رہے تھے۔ مسلمانوں کے زوال کے دور میں اسلامی تعلیمات کی اصل روح غائب ہو چکی تھی۔ یہی وجہ تھی کہ جو رویے ماضی میں مسلمانوں کی قوت تھے اب وہی ان کی کمزوری بن چکے ہیں۔ اسلامی ثقافت اپنی اصل میں دینی ہے۔ زندگی ایک کامل اکائی ہے۔ اسے دین اور دنیا میں تقسیم نہیں کیا جا سکتا۔اسلام کی اشاعت دنیا پر غلبے کے لئے نہیں تھی۔ غلبے کی سوچ مغرب کی تقلید سے پیدا ہوئی ہے۔ مغربی تہذیب محض مادہ پرست ہے۔ اسلامی تہذیب دنیاوی زندگی کو آخرت کی تیاری سمجھتی ہے اس لئے انسان کی معاشرتی اور اقتصادی ضرورتوں کو انسان کے حقوق میں شامل کرتی ہے۔عام طور پر یہی سمجھا جاتا ہے کہ اقبال اور اسد اجتہاد کے موضوع پر ہم خیال تھے۔ اوپر دئے اقتباس میں ڈاکٹر محمد اسد کہتے ہیں کہ اجتہاد کا عمل زوال سے متاثر نہیں ہوتا بلکہ اس کی وجہ سے تقویت پاتا ہے۔ اجتہاد تقلید کی نفی کرتا ہے۔ تقلید مغرب کی ہو یا ماضی کی روایات کی، اجتہاد کے اصول اور مقاصد کے خلاف ہے۔ اس اقتباس میں یہ اشارہ بھی ملتا ہے کہ ماضی کی اجتہاد مخالف روایات ہی موجودہ زوال کی ذمہ دار ہیں۔ اجتہاد ان روایات کی تقلید سے باز رکھتا ہے۔
مارماڈیوک پکتھا ل نے ڈاکٹر اسد کی کتاب” اسلام دوراہے “پر کا خلاصہ چار نکات میں بیان کیا ہے:
۱۔ اسلامی اور مغربی تہذیب دونوں ایک دوسرے سے مختلف اور متضاد ہیں۔
۲۔ مغربی افکار اور معاشرتی اطوار کی تقلید اسلامی تہذیب کے معاشرتی نظم اور ثقافتی اقدار کے تخلیقی تسلسل کو تباہ کر رہی ہے۔
۳۔ اسلام کی نظریاتی ہیئت میں سنت کے تصورکا کردار بنیادی ہے۔
۴۔ اسلام اور مسلم معاشرے کی بقا اور اس کا مستقبل صرف اس حقیقت میں مضمر ہے کہ وہ باقی دنیا سے مختلف ہے۔
اجتہاد کے بارے میں ڈاکٹر اسد کے حوالے سے زیادہ لکھا نہیں گیا۔ اس موضوع پر ڈاکٹر محمد ارشد اور طرز فکر کتاب اسلامی ریاست کی تشکیل جدید: معروف نومسلم سکالر محمد اسد کے افکار کا تنقیدی مطالعہ بہت اہم ہے۔ یہ کتاب اصل میں ان کا نہایت عرق ریزی سے لکھا پی ایچ ڈی کا مقالہ ہے جو2011 میں کتابی شکل میں لاہور سے شائع ہوا۔
ڈاکٹر محمد ارشد کی تحقیق کے مطابق بر صغیر کے اکثر علما اقبال اور اسد دونوں کے اجتہاد کے تصورات کو امت کے لئے خطرناک سمجھتے تھے اور ان کے ہاں اب بھی اس بات پر اتفاق رائے پایا جاتا ہے۔ ان علما کے بقول اقبال کے تصور اجتہاد کو سواد اعظم کے اجتماعی ضمیر نے کبھی قبول نہیں کیا۔ اس ضمن میں ڈاکٹر ارشد نے سلیمان ندوی اور الطاف احمد اعظمی کے علاوہ مولانا زاہد الراشدی، میاں انعام الرحمن اور دیگر ہم عصر علما کا بھی حوالہ دیا ہے۔ انہوں نے اقبال اور اسد کے مابین اختلافات اوراسد کے بارے میں اس دور کے علما کے خدشات کی تفصیل نہیں دی اور نہ ہی اسلامی آئین کے اصولوں اور خدو خال کے بارے میں علما کی مخالفت کے اسباب اور دلائل کا تفصیلی تجزیہ اس کتاب کا موضوع ہیں۔ البتہ ڈاکٹر ارشد نے اسد کے نظریہ اجتہاد کے جائزے اور اس پر نقد اور تبصرہ کے دوران مولانا محمد تقی عثمانی، محمود احمد غازی، شہاب الدین ندوی، محمد یوسف فاروقی، محمد میاں صدیقی اور عرفان خالد ڈھلوں اور دیگر چند ذی علم اصحاب کا ذکر کیا ہے جنہوں نے ڈاکٹر اسد کے خیالات سے اتفاق نہیں کیا۔ ذیل میں اجتہاد اور تقلید کے تجزیے میں ہم نے اسی کتاب سے استفادہ کیا ہے۔
ڈاکٹر محمد اسد کے تصور اجتہاد میں بنیادی مفہوم تقلید کی مذمت یا ترک تقلید ہے۔ اس مفہوم کے حوالے سے ڈاکٹر اسد کا موقف بہت سادہ ہے اور فقہی مذاہب میں اہلحدیث سے بہت مماثلت رکھتا ہے۔ اہلحدیث بھی فقہی مذاہب کی پابندی کے قائل نہیں اس لئے شروع میں انہیں غیر مقلد بھی کہا جاتا تھا۔ ڈاکٹر اسد شریعت اور فقہ میں فرق کرتے ہوے کہتے ہیں کہ شریعت فقہ کی طرح جامد نہیں کیونکہ انسانی اجتہادات ہونے کی وجہ سے فقہ کا دائرہ زمانی اور مکانی اعتبار سے محدود ہے۔ اس لئے یہ شریعت کا جز نہیں۔ نصوص قرآن و سنت قطعی اور ابدی اصول فراہم کرتی ہیں۔ اس لئے قانونی ضروریات کی تکمیل کے لئے اجتہاد لازمی ہے، لیکن صرف معاملات میں اور وہاں بھی صرف ان امور میں جہاں قرآن و سنت خاموش ہیں یا ان میں تفصیل نہیں ملتی۔اجتہادات پر مبنی قوانین چونکہ ابدی نہیں ان میں حسب ضرورت ترمیم اور تنسیخ کی جا سکتی ہے۔
قدیم فقہ کا ذخیرہ جدید دور میں قابل عمل نہیں رہا۔ یہ نہ تو جدید دور میں قرآن اور سنت کی نمائندگی کرتا ہے۔اس میں اختلاف رائے زیادہ باہمی ہم آہنگی نہ ہونے کی وجہ سے یہ جدید مسائل میں رہنمائی نہیں کر سکتا۔ مثال کے طور پر مسلم تاریخ کی گذشتہ صدی کی فقہ کی کتابوں میں ایسے سیاسی نظام کے قیام کے بارے میں کہیں رہنمائی نہیں ملتی جسے صحیح معنوں میں اسلامی کہا جائے۔ ہماری خواہش ضرور ہے لیکن ایک جانب تقلید اور دوسری جانب فکری انتشار آڑے آتا ہے۔اس صورت حال سے باہر نکلنے کا ایک ہی راستہ ہے کہ ہم صرف قرآن کے واضح الفاظ اور اللہ کے آخری رسول کی صریح تعلیمات سے رہنمائی حاصل کریں۔ ڈاکٹر اسد فقہائے اسلام میں ابن حزم کو بہت اہمیت دیتے تھے جو قیاس اور اجماع کو اجتہاد کا مصدر نہیں مانتے تھے۔
حکومت مغربی پنجاب نے 1947میں لاہور میں محکمہ احیا ئے ملت اسلامیہ قائم کیا اور ڈاکٹر اسد کوناظم مقرر کیا۔ لیکن فوراً مخالفت شروع ہو گئی۔ علما ان کے مجتہدانہ افکار سے خوفزدہ تھے تو صاحبان اقتدار اسد کو الزام دیتے تھے کہ وہ نوزائیدہ ریاست کو "رجعت پسندی" کی طرف دھکیلنا چاہتے ہیں۔1949 میں محکمہ ختم کرکے اسد کو مرکزی حکومت کے ماتحت وزارت خارجہ میں بھیج دیا گیا۔ وہاں سے اقوام متحدہ میں پاکستانی سفارتی مشن میں تعینات کر دیا گیا۔ اب ان کے بارے میں پاکستان سے وفاداری کے مشکوک اور اسلام سے ارتداد کے الزام شروع ہوئے۔ آخر امریکی نومسلم پولا حمیدہ اسد سے شادی کے معاملے میں وزارت خارجہ کی ملازمت سے سبکدوش کر دیا گیا۔
اجتہاد کے بارے میں اقبال کی ہچکچاہٹ کی وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ اسد کو اجتہاد سے زیادہ تقلید کی نفی پر اصرار تھا۔ اس لئے اسد کے تصور اجتہاد کو ترک تقلید کہنا بہتر ہوگا۔ اس تصور میں بعض نکات میں علامہ اقبال اور بعض میں اہلحدیث سے مماثلت ضرور پائی جاتی ہے لیکن اسد کلی طور ان سے متفق نظر نہیں آتے۔ علما کی جانب سے ڈاکٹر اسد کی مخالفت سے بھی پتا چلتا ہے کہ ڈاکٹر اسد کی تقلید کی تفہیم میں اور علما کے تصور تقلید میں فرق بہت وسیع اور گہرا ہے۔ یہی صورت حال علما اور علامہ اقبال کے مابین اختلاف کی بھی تھی۔
ہماری رائے میں برصغیر میں اجتہاد کے چار بڑے مفاہیم رائج رہے ہیں۔ فقہ کی تشکیل جدید (ڈاکٹر محمد اقبال)، ترک تقلید (ڈاکٹرمحمد اسد، اہل حدیث)، تقلید کی حدود میں اجتہاد ( اہل سنت والجماعت)،اور ولایت فقہییہ (امام خمینی)۔ اصولی اعتبار سے یہ چاروں مفاہیم اجتہاد کی ضرورت کے قائل ہیں۔ تاہم اجتہاد اور تقلید کی تفہیم میں ان چاروں میں اختلافات ہیں۔ علما اقبال اور اسد کے اجتہاد کی تفہیم سے اتفاق نہیں کرتے تھے تو علما اور اقبال اور اسد بھی ایک دوسرے سے اختلاف کرتے تھے۔اس اختلاف میں سنی اور شیعہ دونوں علما شامل ہیں۔
سنی مذاہب فقہ کے برعکس شیعہ فقہی تاریخ میں اجتہاد کا عمل رکنے نہیں پایا۔ تقلید کے شخصی فریضہ ہونے کی وجہ سے بھی مجتہد ین کا وجود ضروری شمار کیا جاتا ہے۔ کہا جا سکتا ہے کہ امامت کے تصور کے تحت ہی ولایت فقیہ یعنی فقیہ کے ولی، نائب، حاکم اور قابل اطاعت ہونے کا نظریہ سامنے آیا۔ تاہم ماضی قریب کی مباحث میں ان تمام مسائل پر علمی اختلافات کے زیر اثر ولایت فقہیہ کا نظریہ بھی نظر ثانی کے عمل سے گذرا۔ اس میں پیش رفت کی ایک وجہ غالباً یہ بھی ہے کہ تجزیہ اور فیصلہ دونوں فقہا کی ذمہ داری تھی۔ اہل السنت و الجماعت کو اقتدار کی یہ آسانی حاصل نہیں رہی۔ ان کا اقتدار حکومت و ریاست کی متوازی قوت کے طور پر ہی استوار رہا۔ اس لئے اجتہاد کا امکان تقلید کے دائرے میں ہی ممکن ہو سکا۔
اہل سنت کے استدلال میں بنیادی بحث اجتہاد کی بجائے تقلید کی ضرورت پر مرکوز رہی ہے۔ مولانا اشرف علی تھانوی کے نزدیک اجتہاد کی اہلیت کا ہر عہد میں پایا جانا نہ عقلی لحاظ سے محال ہے نہ شرعی طورپر منع ہے لیکن ایک مدت سے یہ اہلیت لوگوں میں پائی ہی نہیں جاتی (مولانا اشرف علی تھانوی، تقلید و اجتہاد)۔ قاری محمد طیب کی رائے میں فقہی مذاہب کے اماموں نے فقہ کو اس حد تک مکمل کردیا ہے کہ اجتہاد کی اس اہلیت کی اب ضرورت نہیں رہی جو قرآن و حدیث کی عبارات میں احکام کی بنیاد اور علت کے استنباط کے لئے درکار ہے۔ اس لئے آج کل یہ اہلیت لوگوں میں پائی ہی نہیں جاتی ( قاری طیب، اجتہاد اور تقلید)۔ مولانا محمد تقی عثمانی اسی استدلال کو آگے بڑھاتے ہوے کہتے ہیں کہ اس دور میں فقہی مذاہب کو نظر انداز کرکے قرآن و سنت سے براہ راست قانون کی تدوین دشوار ہی نہیں قانون کو ناقابل عمل بھی بنا دیتی ہے۔ گذشتہ صدیوں کے گراں قدر ذخیرے کو فراموش کرکے از سرِنو قانون سازی اور تدوین کے لئے جو گہراعلم اور طویل مدت درکار ہے وہ دستیاب نہیں۔ ایسے عمل سے اختلافات ختم ہونے کی بجائے اور بڑھیں گے۔ مولانا کی رائے میں آج کے دور میں موزوں صورت یہی ہے کہ جس ملک میں جو فقہی مذہب رائج ہے اسی کو سامنے رکھ کر حالات کے مطابق جہاں تبدیلی کی ضرورت ہو وہاں تبدیلی اور جہاں نئے مسائل کا سامنا ہو وہاں اسی مذہب کے اصولوں کی روشنی میں قانون کی تدوین کی جائے( مولانا محمد تقی عثمانی، تقلید کی شرعی حیثیت)۔
مولانا تقی عثمانی کے استدلال کے اسلوب سے پتا چلتا ہے کہ وہ ڈاکٹر اسد کا جواب دے رہے ہیں جو فقہی کتابوں کی بجائے براہ راست قرآن و سنت کی رہنمائی میں اجتہاد پر زور دیتے تھے۔ مولانا کا استدلال یہ تسلیم کرکے چلتا ہے کہ ملک میں ایک ہی فقہی مذہب رائج ہے جبکہ عملی طورپر اکثر مسلم ممالک میں ایک سے زیادہ فقہی مذاہب کے پیروکار پائے جاتے ہیں۔ اس فقہی تنوع کو نظر انداز کرنے سے یہ استدلال کمزور پڑ جاتا ہے۔
مولانا کے استدلال میں دوسرا اہم نکتہ فقہی مذاہب کے اپنے اصولوں کا حوالہ ہے جو معروف اصول فقہ سے الگ ہیں. ہر فقہی مذہب کے قرآن سے استنباط اور احادیث کے قبول کرنے کے اپنے اصول ہیں۔ تقلید کے دائرے میں اجتہاد کے لئے ان اصولوں کا علم اور مہارت شرط ہے۔ استدلال کو سمجھنے کے لئے اس پس منظر کو جاننا ضروری ہے جو تقلید کے اعتبار سے اجتہاد کی درجہ بندی کرتا ہے۔
فقہی مذاہب میں اجتہاد کے چھ مختلف درجے بتائے جاتے ہیں۔ پہلا درجہ اجتہاد کی مطلق اور مکمل استعداد کا ہے جو صرف ائمہ مذاہب کو حاصل تھی۔ دوسرا درجہ مخصوص مذہب کے اصولوں اور مسائل کو پوری طرح جاننے کا ہے۔ تیسرا درجہ خصوصی استعداد کا ہے جو تمام مسائل کی بجائے مخصوص مسائل میں کامل مہارت کا ہے۔ چوتھا درجہ اس مہارت کا ہے جو کسی بھی مسئلے پر فقہی مذہب کے ذخیرے میں مستند رائے کی نشاندہی کر سکے۔ پانچواں درجہ اس مہارت کا ہے جو بہت سی مختلف فقہی آرا کی چھان بین کرکے ایک رائے کو ترجیح دے سکے۔ چھٹا درجہ اس استعداد کا ہے جو کسی خاص مسئلے پر موجود مختلف آرا میں فرق کرسکے اور بتا سکے کہ زیر غور مسئلے پر کونسی رائے کا اطلاق بہتر ہے۔ سولہویں صدی تک ترجیح کا درجہ اور استعداد موجود رہی۔ اسی لئے سترہویں صدی تک ترجیح کی تدوین کا کام جاری رہا۔ حنفی مسلک میں مغل سلطنت میں فتاوی ٰعالمگیری اورعثمانی سلطنت مین ملتقی الابحر مدون ہوئیں۔ لیکن جب یہ عمل جاری نہ رہا تو ایسے حالات میں تقلید کو لازمی قرار دینا لازمی ہوگیا۔ تقلید کو لازمی قرار دینے کے لئے اجتہاد کے نا ممکن ہونے کا تصور ضروری ٹھہرا۔ بتدریج تقلید کی شدت اتنی بڑھی کہ اجتہاد سے مراد پانچویں مذہب کی ایجاد اورامت میں افتراق اور انتشار کی کوشش بتایا جانے لگا۔ شیعہ اور سنی علما کے مابین بھی اجتہاد اور تقلید کے تصور اور اس کے اطلاق میں اصولی فرق تو ہے ہی لیکن تفصیلات میں بھی اتنے اختلافات ہیں کہ کسی ایک عالم کی رائے کو نمائندہ تصور کرنا صحیح نہ ہوگا۔ آج کے قانونی نظام میں ان اختلافات کو نظر انداز بھی نہیں کیا جاسکتا کیونکہ قانون سازی، عدالتی طریق کاراور قانون کے نفاذ کے عمل انہی اختلافات سے متاثر ہوتے ہیں۔ انہی وجوہات کی بنا پر اجتہاد کے خطرناک ہونے کا خیال زور پکڑتا گیا۔ کیا اقبال انہی معنوں میں اجتہاد کو خطرناک سمجھتے تھے؟ یہ علما کے خدشات تو تھے لیکن غالباً اقبال ایسا نہیں سوچتے تھے۔
اقبال کے نزدیک اجتہاد اور تقلید میں اس درجہ بندی نے اجتہاد کو ہی نہیں تقلید کو بھی کمزور کر دیا۔یہ درجہ بندی اصل میں اجتہاد کی شرائط اور علوم کی درجہ بندی کا نتیجہ تھا۔ ایک طرف فقہ کے علم کو دوسرے علوم سے حتی کہ اخلاقیات سے الگ کیا گیا تو دوسری طرف فقیہ، مفتی اور قاضی کی اہلیت کے معیارات کو اجتہاد کی شرائط سے الگ کرکے مجتہد کی درجہ بندی کردی گئی۔ اس کا منطقی نتیجہ ہے کہ اجتہاد قصہ ماضی بن گیا۔ اجتہاد اور تقلید کی یہی افراط و تفریط عہد زوال کا خاصہ بنی۔ 1915 میں اسرار خودی میں شامل یہ اشعار اسی افراط و تفریط کے دینی، سیاسی اور معاشرتی نتائج کے مشاہدات پر مبنی ہیں۔
اجتہاد اندر زمان انحطاط
قوم را برہم ہمی پیچد بساط
ز اجتہاد عالمان کم نظر
اقتدا بر رفتگاں محفوظ ترقلید
(زوال کے زمانے میں اجتہاد قوم کو برہم کرکے اس کی بساط لپیٹ ڈالتا ہے۔ کم نظرعلما کے اجتہاد سے گذرے لوگوں کی پیروی زیادہ محفوظ ہے)۔
ان کو یقین تھا کہ بر صغیر زوال کے عہد میں ہے۔ ایسے زمانے میں ہی تقلید میں پناہ کو لازمی سمجھا جانے لگتا ہے۔
مضمحل گرد چو تقویم حیات
ملت از تقلید می گیرد ثبات
راہ ا?با رو کہ ایں جمعیت است
معنی تقلید ضبط ملت است
(جب زندگی کی ترتیب کمزور پڑتی ہے تو قوم ٹھہراو¿ کے لئے تقلید کا سہارا لیتی ہے۔ بزرگوں کی راہ پر چلتے رہو کہ یہی جوڑ کے رکھتی ہے۔ تقلید کا مطلب قوم کا نظم و ضبط ہے)۔
ضرب کلیم میں اقبال نے ہند کی حالت زار کا جو نقشہ کھینچا ہے اس میں اجتہاد کی اہلیت کہاں سے آتی۔ اس میں نہ لذت کردار تھی نہ افکار عمیق، حکمت دین کیسے راہ پاتی۔ محکومی اور تقلید میں تحقیق زوال پذیر ہو جاتی ہے، جرا¿ت اندیشہ کیسے پیدا ہوتی۔
آزادی افکار سے ہے ان کی تباہی
رکھتے نہیں جو فکر و تدبر کا سلیقہ
ہو فکر اگر خام تو آزادی افکار
انسان کو حیوان بنانے کا طریقہ
ہمارے خیال میں ان اشعار سے یہ دلیل لانا کہ اقبال اجتہاد کے خلاف تھے یا اسے خطرہ سمجھتے تھے اقبال کے ساتھ زیادتی ہے۔ اقبال اجتہاد کے لئے تحقیق اور جرا¿ت اندیشہ ضروری سمجھتے تھے اور زوال زدہ ذہن میں نہ جرا¿ت اندیشہ ہوتی ہے نہ تحقیق کا حوصلہ۔ ایسے لوگوں کا اجتہاد تو خطرناک ہی ہوگا۔ اقبال کو فقیہان حرم کی بے توفیقی پر افسوس تھا کہ اپنے میں تبدیلی نہیں لاتے لیکن قرآن کو بدل دیتے ہیں۔ ملا اور فقیہ کی نظر میں توحید فقط ایک مسئلہ علم کلام ہے۔ اسی لئے اب مدرسے سے لا الہ الا اللہ کی صدا کی توقع نہیں۔ اجتہاد کی شرائط اس لئے گنائی جاتی ہیں کہ اجتہاد کے ناممکن ہونے کا تصور مستحکم ہو۔ اجتہاد اصل میں تحقیق اور استنباط کی استعداد کا نام ہے۔ اجتہاد کے جن مدارج کا ذکر ہوا وہ سب علم فقہ کے حصول اور اجتہاد کی استعداد کے درجے ہیں۔ مقلد سے مراد جاہل ہر گز نہیں۔ جس فقیہ میں ان میں سے اجتہاد کی کسی درجہ کی استعداد نہ ہو وہ مقلد کہلاتا ہے۔ مقلد عامی ان پڑھ شخص نہیں فقہ کا عالم ہوتا ہے۔ عام آدمی اور مقلد میں فرق علم کا نہیں اجتہاد کی استعداد کا ہے۔ سنی مدارس میں اجتہاد کے لئے ان اصولوں کی تعلیم اور ان مختلف مدارج کی استعداد کی تربیت کا کوئی باقاعد نظام نہ ہونے کی وجہ سے یہ درجہ بندی اجتہاد کی استعداد کی بجائے فقہا کوزمانی لحاظ سے مختلف طبقات میں تقسیم کے کام لائی جاتی ہے.
ضرورت اس بات کی ہے کہ مدارس اور جامعات فقہ اور قانون اسلامی کے طلبا میں تحقیق اور استنباط کی یہ استعداد پیدا کریں۔ قانون سازی کے اداروں، عدالتوں، اور نفاذ قانون سے متعلق افراد اور مفتیان کرام کو ان مہارتوں کی مناسب تربیت دی جائے تو وہ اپنا کردار بخوبی ادا کر پائیں گے۔ شریعت اور قانون کے بارے میں اعتماد کی فضا پیدا ہوگی تو اختلاف رائے کو مثبت زاویے سے دیکھنا ممکن ہوگا۔ اختلافات کمزوری کی بجائے فکرو تدبر کی قوت بن جاتے ہیں۔ اختلافات کو منفی نقطہ نظر سے دیکھیں تو خطرناک نظر آنے لگتے ہیں۔ باہم بد اعتمادی کی فضا میں بحث اصل موضوع سے ہٹ کر تعصب کی راہ اختیار کر لیتی ہے۔ گفتگو علمی نہیں رہتی اپنی بقا کا مسئلہ یا اپنے مسلک کے غلبے کی خواہش بن جاتی ہے۔