working
   
 
   
Untitled Document
موجودہ شمارہ

Untitled Document


Untitled Document
 
Bookmark and Share
10 April 2015
تاریخ اشاعت

 آرمی پبلک سکول پر حملے کے بعد دینی مدارس کا مسئلہ

خصوصی گوشہ ۔۔مدارس کا مسئلہ

مشرقِ وسطیٰ سے مشرقِ بعید تک، مدارس پر ایک نظر

سجاد اظہر

سجاد اظہر پیشے کے اعتبار سے صحافی ہیں اور تجزیات کے ساتھ بطور مدیر منتظم وابستہ ہیں۔انھوں نے اس مضمون میں مسلمانوں کے علمی ادوار کا جائزہ مدرسے کی روایت میں لیا ہے اور یہ دیکھنے کی کوشش کی ہے کہ مشرقِ وسطیٰ سے ہوتی ہوئی یہ روایت جب مشرقِ بعید پہنچی تو اس پر کیا اثرات مرتب ہوئے۔بنگلہ دیش کا کیس بھی بڑا منفرد ہے۔کیونکہ وہاں بھی روایت پسند اور جدت پسند آمنے سامنے ہیں۔بنگلہ دیش میں اہل مدرسہ کی مماثلت پاکستان کے ساتھ کچھ حد تک ہے۔

اسلام میں تعلیم و تربیّت کی تاریخ اتنی ہی قدیم ہے جتنی کہ تبلیغِ اسلام کی تاریخ ہے۔تعلیم و تربیّت کا جوسلسلہ صدرِ اسلام میں مساجد کے ذریعے انجام پاتاتھا وقت کے ساتھ ساتھ مستقل طور پر دینی مدارس کی صورت میں ڈھل گیااور یوں اسلامی دنیا میں دینی مدارس کو مرکزی حیثیت حاصل ہوئی۔اسلامی تاریخ پر نگاہ ڈالیں تو مذہبی تعلیم کے چار بڑے ادوار نظر آتے ہیں۔پہلا دور وہ ہے جو نبی کریم ﷺ کے ظہور سے شروع ہو کر بنو امیہ کے عہد کے اختتام تک محیط ہے۔اس دور میں مذہبی تعلیم کے نمایاں خدوخال اس طرح سے تھے :

1۔ مذہبی تعلیم مکمل طور پر عربی میں تھی۔

2۔ یہ اسلام کی اساس کو مضبوط بناتے ہوئے اس کی ترویج و اشاعت کا احاطہ کرتی تھی۔

3۔ یہ مذہبی سائنسز اور عربی گرائمر پر زور دیتی تھی۔

4۔ یہ حدیث اور اصول فقہ کی تعلیم دیتی تھی۔

5۔ عربی گرائمر کے ساتھ عربی ادب بھی اس کا حصہ تھا۔

6۔ دیگر زبانوں کا سرسری مطالعہ بھی اس میں شامل تھا۔

یہ وہ عہد تھا جب اسلامی تعلیمات میں مرکزی حیثیت مسجدکو ہی حاصل تھی۔مذہبی تعلیم کے حوالے سے مسلمانوں کا دوسرا عہد بڑا متحرک تھا۔جس کی ابتدا عباسی خلفاء کے دور میں ہوئی اور یہ تاتاریوں کے عہد کے آغاز (659ہجری اور 1258ء )تک جاری رہا۔بنو امیہ کے دور میں اندلس کے اندر مسلمان ایک بڑا اور مؤثر نظام تعلیم رکھتے تھے۔یہ وہ دور تھاجب پہلی بار غیر مذہبی مضامین بھی نصاب کا حصہ بنائے گئے۔مسلمانوں کے تعلیمی مراکز حجاز میں مکہ اور مدینہ، عراق میں بصرہ اور کوفہ، شام میں دمشق، مصر میں قاہرہ اور اندلس میں غرناطہ اور اشبیلیہ تک پھیلے ہوئے تھے۔

تیسرا دور وہ ہے جو کہ ابتری اور زوال کا ہے جس کا دورانیہ خلافت عثمانیہ کے عروج سے شروع ہو کرمسلمان ممالک کی آزادی تک ہے۔اس دور میں مذہبی تعلیم کے نمایاں خدوخال یہ تھے :

1۔ تمام نصاب الہٰامی تعلیم کا ہی احاطہ کرتا تھا۔

2۔ عربی زبان کی جگہ دیگر زبانوں کی ترویج

3۔ طریقہ تعلیم یاداشت پر مبنی۔

4۔ سوچنے سمجھنے اور تحقیق کی راہیں مسدود کر کے صرف ماضی کے سکالروں کی تحقیق کو ہی حرفِ آخر مان لیا گیا۔

چوتھا دور تجدیدِ نو کا ہے۔جس میں مسلمان ممالک میں تعلیم کا ایک باقاعدہ نظام شروع ہوا۔یہ دور مسلمان ممالک کی آزادی سے شروع ہوتا ہے جو آج تک جاری ہے۔اس دور میں تعلیم کے مقاصد اور نمایاں خدوخال اس طرح سے ہیں :

1۔ مغربی طرز تعلیم کو اختیار کیا گیا۔

2۔ سائنسی مضامین بالخصوص فطری سائنس کے بارے میں خدشات بڑھ گئے۔

3۔ مغربی ثقافت کو فروغ ملا۔

4۔ خیر و شر کے تصور کو ختم کرتے ہوئے جدید اور مذہبی تعلیم کو یکجا کرنے کی کوشش کی گئی۔

عرب ممالک میں مذہبی تعلیم کے شعبے میں اصلاحات اور جنوبی ایشیاء پر اس کے اثرات

جب مسلم ممالک میں تعلیمی نظام کو بہتر بنانے کی کوششوں کا آغاز ہوا تو مصر ان میں سب سے آگے تھاجس نے سب سے پہلے مغربی تعلیم کو اختیار کیا۔

مصر میں بیداری کی لہر اور تعلیم پر اثرات

-1 1798ء میں مصر پر فرانس حملہ آور ہوا تو اہلیانِ مصر فرانس کے جدید جنگی ساز و سامان کے آگے مزاحمت نہ کر سکے۔جب مصر نے اپنی شکست کی وجوہات جاننا چاہئیں تو انھیں معلوم ہوا کہ ان کے پاس جدید علوم و فنون کی کمی ہے۔چنانچہ مصر نے اپنے تعلیمی نظام میں اصلاحات لانے کے لئے کمر کس لی۔جن لوگوں نے مصر کا نیا نظام بنانے میں اہم کردار دا کیا ان میں سب سے نمایاں نام رفاہ الطحتاوی اور علی مبارک کا ہے۔یہ دونوں اس پہلے طلباء وفد کا حصہ تھے جو فرانس گیا تاکہ وہاں کے تعلیمی نظام کا جائزہ لے سکے۔جب یہ واپس آئے تو انھوں نے مصر کے تعلیمی نظام میں اصلاحات تجویز کیں۔انھوں نے 1872 ء میں" دارالعلم" کی بنیاد رکھی جہاں پر اساتذہ کو تربیت فراہم کی جاتی تھی۔اسی ادارے نے بعد ازاں جامعہ الاظہر کی شکل اختیار کر لی۔ مصرمیں اصلاحات کے حوالے سے سب سے اہم نام محمد عبدہ(1849۔1904) کا ہے مگرانھوں نے الطحتاوی اور علی مبارک کے سلسلے کو ہی آگے بڑھایا۔محمد عبدہ کا جمال الدین افغانی (1897)سے بھی قریبی تعلق تھا جو کہ مطلق العنانی، جمود اور جہالت کے خلاف تھے۔محمد عبدہ بھی جب فرانس سے پلٹے تو انھوں نے جامعہ الاظہر میں وسیع اصلاحات کیں۔اس سے قبل جامعہ الاظہر میں تعلیم کا دورانیہ طے شدہ نہیں تھا۔طلباء جب تک چاہتے زیر تعلیم رہتے۔امتحانات کا نظام مروج ہی نہیں تھا۔اس نے آکر نہ صرف دورانیہ مقرر کیا بلکہ غیر ضروری کتب کو نکال کر ایسی کتابیں نصاب کا حصہ بنائیں جن کا تعلق معاشرے کے عصری مسائل سے تھا۔

2۔ الاظہر کے مفتی اعظم محمد مصطفیٰ المراگے نے جامعہ میں اصلاحات کیں۔انھوں نے 1930ء میں 29 دفعات پر مشتمل اصلاحات تجویز کیں جن کا تعلق نصاب، اساتذہ اور طلباء سے تھا۔

3۔ جامعہ الاظہر میں اصلاحات کا دوسرا دور 1936ء میں آیا۔جس کو سب حلقوں نے خوش آمدید کہا حالانکہ محمد عبدہ کے وقت اس سلسلے میں کافی مزاحمت ہوئی تھی۔

4۔ 1961 ء کا سال جامعہ الاظہر کے لئے سب سے اہم ہے کیونکہ اس سال یہاں جدید تعلیم کے شعبہ جات کا اضافہ ہوا۔جن میں ادویات، دندان، زراعت، معاشیات، سائنس، لڑکیوں کی تعلیم، مذہب اور زبان کی تعلیم کے شعبے شامل تھے۔

انڈونیشیا میں مذہبی تعلیم میں ہونے والی اصلاحات

خلافت عثمانیہ کے زوال کے بعد پوری مسلم امہ نو آبادیاتی طاقتوں کے ماتحت آگئی۔بالخصوص انگریز، فرانسیسی، ہسپانوی، ولندیزی اور کئی دوسری طاقتیں تھیں جنھوں نے مسلم ممالک پر قبضہ جما رکھا تھا۔جنوب مشرقی ایشیاء میں برطانیہ نے ملائشیاء اوربرونائی پرقبضہ کیاہواتھا ۔جبکہ ولندیزی انڈونیشیاکے حکمران تھے۔انھوں نے انڈونیشیا پر قریباً تین سو سال تک حکومت کی۔انھوں نے بغاوت کے شبے کی وجہ سے مقامی افراد کواپنے تعلیمی ادارے کھولنے کی اجازت ہی نہ دی۔اسلام انڈونیشیا کا اکثریتی مذہب ہے اور یہاں کی 88فیصد آبادی مسلمان ہے۔یہ آبادی کے لحاظ سے آج بھی سب سے بڑا اسلامی ملک ہے۔

سیکھولہ تنگی سکول

جاپان نے انڈونیشیاء پر 1942-45 تین سال حکمرانی کی۔اس دوران ولندیزیوں کے سکولوں کی جگہ جاپانی سکولوں نے لے لی۔انڈونیشیاکے حریت پسندوں کی سفارش پر جاپان نے اسلامک ہائیر ایجوکیشن آف لرننگ (Sekolah Tinggi Islam ) قائم کئے گئے جس کاتصور انڈونیشا کی مسلم شوری ٰ نے دیاتھا۔اس کے ساتھ حزب اللہ کے نام سے ایک مسلمان فوج بھی تشکیل دی گئی۔انڈونیشا کے بڑے مسلم رہنما ؤں نے سکولوں کا انتظام اپنے ہاتھ میں لے لیا۔سیکھولہ تنگی سکولوں کے چار شعبہ جات تھے۔قانون، مذہب، معیشت اور تعلیم۔انڈونیشا کو جب آزادی ملی تومذہب کے شعبے کی نگرانی وزارت مذہبی امور نے اپنے ذمے لے لی اور گورنمنٹ انسٹی ٹیوٹ آف ریلیجس ایجوکیشن کے نام سے ادارے بنائے گئے۔اس کا نصاب ان لوگوں نے مرتب کیا جو جامعہ الاظہر کے فارغ التحصیل تھے۔اس لئے یہ ہو بہو جامعہ الاظہر کی ہی طرح کا تھا۔الاظہر کی طرح شروع میں اس کے تین شعبے تھے۔اصلاح الدین، شریعہ اور عربی زبان۔بعد میں اس میں تربیت کے شعبے کا اضافہ کر دیا گیا۔محمدیہ نام کی ایک تنظیم نے ولندیزیوں کے عہد میں کچھ سکول بنائے تھے جن کا ذریعہ تعلیم ولندیزی زبان ہی تھی دوسری تنظیمیں جن میں نہضتہ ، مرص الاسلام، الارشاد وغیرہ شامل ہیں نے ایسے تعلیمی ادارے قائم کئے جنھوں نے جدید اسلامی تعلیم کو رواج دیا۔مدرسے اور بورڈنگ سکول بنائے گئے تاکہ مقامی بچوں کوولندیزیوں کے سکولوں میں جانے کی ضرورت نہ رہے۔انڈونیشیا میں 50 کی دہائی میں مذہبی اساتذہ کی تربیت کے ادارے بنائے گئے۔جن کا مقصد سرکاری سکولوں کے لئے ایسے اساتذہ کی دستیابی تھی جو کہ بچوں کی مذہبی ضروریات پوری کر سکیں۔بعد ازاں انہی اساتذہ سے عدالتوں میں شریعت کے تحت فیصلوں میں بھی مدد لی گئی۔لیکن وہاں کے اسلام پسندوں کے لئے یہ سب کچھ کافی نہیں تھا۔محمدیہ جیسی تنظیمیں سکولوں کے معاملے میں مکمل طور پر بالا دست تھیں۔پچاس کی دہائی میں انڈونیشیا میں مدرسے کی طرز پر کافی تعداد میں سکول کھل گئے جن کی تعداد 1970میں 20 ہزار تک پہنچ گئی اور ان میں 90 لاکھ طلباء زیر تعلیم تھے۔خیال ر ہے کہ اب یہ تعداد بہت زیادہ ہو چکی ہے کیونکہ تب انڈونیشیاء کی آبادی 15 کروڑ تھی جو اب بڑھ کر 22 کروڑ ہو چکی ہے۔

اسلامی سکولوں کی تعداد میں اضافہ

انڈونیشامیں مدرسہ بہت مقبول ہو چکا ہے اور وہاں سکول جانے والے بچوں کی تعداد کے 20۔25 فیصد بچے مدارس میں زیر تعلیم ہیں۔تاہم ان مدارس میں جدید تعلیم دی جاتی ہے اور اسلام کے صوفی چہرے کو رواج دیا جاتا ہے۔انڈونیشیا کی حکومت کے پا س وسائل محدود ہیں اس لئے وہ تمام بچوں کی تعلیم کا انتظام نہیں کر سکتی۔لیکن وہ صورتحال کو بہتر بنانے پر لگی ہوئی ہے۔

1۔ مدرسوں کو پبلک سکولوں کے معیار کے مطابق لایا جا رہا ہے

2۔ مدرسوں کے طلباء کو پبلک سکولوں میں داخلے پر راغب کیا جاتا ہے۔

3۔ مدرسوں کے سر ٹیفکیٹ کو پرائیویٹ سکولوں کے سر ٹیفکیٹ کے مساوی قرار دیا گیا ہے تاکہ مدرسوں کے طلباء آگے جا کر روایتی اور اعلی ٰ تعلیم حاصل کر سکیں۔

یہ بات دلچسپی سے خالی نہیں کہ جنوب مشرقی ایشیاء میں مدارس کی تعداد میں اضافے کے پیچھے عالمی سطح پر اسلام کی نشاۃالثانیہ کا خواب بھی ہے۔جس کے لئے پہلی انٹرنیشنل کانفرنس آف مسلم ایجوکیشن 1979ء میں مکہ میں ہوئی دوسری 1980ء میں اسلام آباد میں ہوئی، تیسری 1981 میں ڈھاکہ، چوتھی 1982 میں جکارتہ، پانچویں 1987ء میں قاہرہ، چھٹی 1994ء میں مکہ اور ساتویں 1996 ء میں جنوبی افریقہ میں منعقد ہوئی۔جس نے اسلامی تعلیم کو ابتدائی درجے سے ثانوی درجے پر ترقی دینے کی سفارش کی اور ساتھ ہی کچھ رہنما اصول بھی دیئے۔مگر سوال یہ ہے کہ مسلمان ممالک ان رہنما اصولوں سے کیا رہنمائی حاصل کر تے ہیں اور ان کے مطابق اپنے نصاب کو ترتیب دیتے ہیں۔ان کانفرنسوں کا مقصد عالمی سطح پر مسلمان ممالک کے لئے یکساں نظام اور نصاب کا اجراء تھا۔

ملائشیاء کا تجربہ آزادی سے پہلے اور بعد

ملائشیاء میں 19 ویں صدی کے اختتام پر ایسے مذہبی تعلیمی ادارے موجود تھے جہاں طلباء کی رہائش اور کھانے کا انتظام موجود تھا یہاں ذریعہ تعلیم عربی تھا۔برطانوی عہد میں مقامی سکول متعارف ہوئے۔ ملائشیاء میں سکولنگ کا آغاز 1821ء میں Penang Free Schoolsسے ہوا۔اس سے بہت پہلے 13 ویں صدی میں جب اسلام یہاں آیا تو مذہبی تعلیم کا بھی آغاز ہوا۔جوچار مدارج طے کر کے مدرسے تک پہنچی۔

1۔ اساتذہ اپنے گھروں میں پڑھاتے

2۔ مسجدوں میں تعلیم دی جاتی

3۔ مذہبی ادارے چھوٹے چھوٹے مکانوں میں بنائے گئے

4۔ مدرسوں کا قیام ہوا

شروع شروع میں اساتذہ کے گھروں میں قرآن اور اسلامی تعلیمات کا انتظام ہوتا تھا۔جب بچوں کی تعداد بڑھی تو مسجدوں میں پڑھانا شروع کر دیا گیا۔ان اساتذہ کا کردار صرف دینی تعلیم تک محدود نہیں تھا بلکہ یہ دیہاتیوں اور مقامی افراد کے لئے مشیر کا درجہ بھی رکھتے جن سے لوگ دین اور شریعت کے بارے میں رہنمائی حاصل کرتے تھے۔ شاہی گھرانوں میں دینی تعلیم بھی انہی کے ذمے تھی۔جوطلباء فارغ التحصیل ہو جاتے وہ مزید تعلیم کے لئے مشرق وسطیٰ کے ممالک کارخ کرتے یا پھر اپنے اپنے آبائی علاقوں میں جا کر درس و تدریس سے منسلک ہو جاتے۔ملائشیاء میں انڈونیشیاء کی طرز پر ہی مدرسے قائم ہوئے مگر ان کا نصاب مختلف تھا۔یہاں بھی توحید، قرآن، فقہ، حدیث، صرف و نہو، تصوف اور اخلاق کے مضامین پڑھائے جاتے تھے۔ ملائشیاء کے طلبہ جامعہ الاظہر گئے تو انھوں نے وہاں کے اثرات قبول کئے اور جب وہ واپس آئے تو انھوں نے اپنے مدارس کو بھی انہی خطوط پر چلانے کی کوشش کی۔یہ صورتحال موجودہ دور تک جاری رہی۔ مصر، پاکستان اور مشرق وسطیٰ کے دوسرے ممالک کے برعکس ملائشیاکی قومی یونیورسٹیاں مدارس کے سرٹیفکیٹ تسلیم نہیں کرتیں کیونکہ ان کا خیال ہے کہ یہ معیاری تعلیم نہیں دیتے۔19 ویں صدی کے اختتام پر جنگ عظیم اوّل کے اختتام پر جمال الدین افغانی کی تحریک نے جنم لیا جس کا اثر یہ ہوا کہ ملائشیاء میں روایتی سکولوں کی جگہ مدرسے کھلنے لگے۔کیونکہ یہ تاثر مسلمانوں میں پختہ ہونے لگا کہ روایتی سکول نو آبادیاتی دور کے چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کی سکت نہیں رکھتے۔جمال الدین افغانی اور مصر کے محمد عبدہ کی فکر سے متاثر ہو کر ملائشیا کے شیخ طاہر جلال الدین اور شیخ احمد الحادی نے 1916ء میں مدرسہ المشہور الاسلامیہ کی بنیاد رکھی جہاں عربی زبان میں تعلیم دی جاتی تھی۔شیخ احمد نے رٹے کی بجائے جدید طرز تعلیم کو رواج دیا اور نصاب کو بھی ترقی دی۔اس مدرسہ میں نہ صرف اسلامی تعلیم، توحید، حدیث، روحانیت کی تعلیم دی جاتی بلکہ عربی، ریاضی اور جغرافیہ بھی پڑھایا جاتا تھا۔

جاپان نے برطانیہ کو شکست دے کر 1946 ء میں ملائشیاء پر قبضہ کر لیا۔برطانو ی دور میں تعلیم مذہبی اور غیر مذہبی میں منقسم تھی۔برطانیہ نے ملائشیاء میں سیکولر تعلیم کو رواج دیا۔ملائشیاء میں عمومی تعلیم کا آغاز 1957 ء میں آزادی کے بعد ہوا۔ قومی تعلیمی نظام وضع کیا گیا۔ملائی زبان کوقومی زبان کا درجہ ملا۔1961 ء میں ایک ایکٹ کے ذریعے مرکزی نظام امتحانات قائم کیا گیا۔قومی ترجیحات طے کر کے اس کے مطابق نصاب ترتیب دیا گیا۔یکساں سیکنڈری سکول رائج کئے گئے جن میں ملائی اور انگریزی لازمی مضمون کے طور پر پڑھائے جاتے تھے۔ساتھ ہی مذہبی تعلیم کو روحانی ترقی کا زینہ قرار دیا گیا۔اور اعلان کیا گیا کہ جن مذہبی سکولوں میں طلباء کی تعداد 15 یا اس سے زائد ہوگی اس کے اخراجات بھی حکومت ادا کرے گی۔اس پالیسی کی وجہ سے مذہبی سکولوں کی تعداد بہت بڑھ گئی۔شروع میں مذہبی تعلیم سکول کے اوقات کے بعد دی جاتی تھی مگر بعد ازاں 1962 ء میں ایک ایکٹ کے تحت مذہبی تعلیم کو بھی سکول کے ٹائم ٹیبل میں شامل کر دیا گیا۔جہاں ہر ہفتے دو گھنٹے مذہبی تعلیم کے لئے وقف کر دیئے گئے۔ا س کا اثر یہ ہوا کہ خالصتاً مذہبی اداروں میں طلباء کے داخلے کا رجحان کم ہونے لگا کیونکہ والدین کے لئے سرکاری سکولوں میں زیادہ کشش تھی جہاں مذہبی تعلیم کے ساتھ ساتھ جدید مضامین بھی پڑھائے جاتے تھے۔مدرسوں پر دوسری ضرب ا س وقت لگی جب نیشنل ایجوکیشن پالیسی کے تحت مدارس کے نصاب میں عربی کی جگہ ملائی زبان کو ذریعہ تعلیم قرار دیا گیا۔اور ساتھ ہی دیگر مضامین کی تعلیم بھی لازمی قرار دی گئی جن میں ملائی، انگریزی، ریاضی، تاریخ، جغرافیہ اور سائنس شامل تھے۔ مدرسوں کے اساتذہ بھی بہتر مراعات کی خاطرسرکاری سکولوں میں چلے گئے جس سے مدارس کا نظام بری طرح متاثر ہوا۔چنانچہ پوری مسلم دنیامیں 70کی دہائی میں اسلام پسندی کی جو تحریک شروع ہوئی تھی اور اس کے پیش نظر ملائشیاء میں دھڑا دھڑ مدارس قائم ہوئے تھے اسی تیزی کے ساتھ اب وہ بند بھی ہونے لگے۔اگرچہ ملائشیاء میں الارقم اور تبلیغی جماعت کی سرگرمیوں سے اسلام کو فروغ ملا۔جس کی وجہ سے جب مہاتیر محمد آئے تو انھوں نے 1983 ء میں اسلامائزیشن کی پالیسی متعارف کروائی۔اسلامک بینکنگ کے ساتھ اسلامی یونیورسٹی بھی قائم کی گئی۔1982 میں وزارت تعلیم نے پرائمری سکولوں اور پھر سیکنڈری سکولوں کا نصاب مرتب کیا جن میں ملائشیاء کی قومی ترجیحات کو اولیت دی گئی تھی۔ اور ساتھ ہی ورلڈ مسلم کانفرنس آن ایجو کیشن کی سفارشات کو بھی عملی جامہ پہنایا گیا تھا۔ 1996ء میں نیشنل ایجو کیشن فلاسفی میں ا س بات کا اعادہ کیاگیا تھا کہ ملائشیاء ایسی نسل تیار کرے گا جو عصری مسائل سے نبرد آزما ہونے کی پوری صلاحیت رکھتی ہو گی۔ 2003ء تک ملائشیاء میں مذہبی تعلیمی اداروں میں 126000 طلباء زیر تعلیم تھے۔ان میں جو نصاب پڑھایا جاتا تھا اس کو ریاست کی وزارت مذہبی امور نے مرتب کیا تھا۔ ان تمام تعلیمی اداروں کو سرکاری گرانٹ ملتی تھی مگر 2002ء میں حکومت نے یہ کہہ کرگرانٹ بند کر دی کہ ان کی تعلیم معیاری نہیں ہے۔ بہت سے سکول بند ہو گئے جس کا اثر یہ ہوا کہ مذہبی تعلیمی اداروں کے طلباء سرکاری تعلیمی اداروں میں شفٹ ہونا شروع ہو گئے۔

بنگلہ دیش میں مدارس

7 اگست 2005 کو بنگلہ دیش کے 64 اضلاع میں سے 63 اضلاع میں مختلف جگہوں پر 400کے قریب بم دھماکے ہوئے۔اس کے بعد بنگلہ دیش کی تاریخ میں پہلے خود کش حملے میں دو جج اور متعدد افراد جاں بحق ہوئے۔آبادی کے حوالے سے دوسرے بڑے اسلامی ملک میں یہ واقعات باعثِ تشویش تھے۔بنگلہ دیش میں انتہا پسندی کا عمل 1990ء کے بعد شروع ہوا۔جس کی ایک وجہ مدرسوں کو قرار دیا جا تا ہے۔چند روز پہلے بنگلہ دیش کی سپریم کورٹ نے 28 سال سے التوا میں پڑی ایک درخواست کی سماعت شروع کر دی جس میں درخواست گزار نے کہا تھا کہ بنگلہ دیش کے سرکاری مذہب کے حوالے سے اسلام کی حیثیت ختم کی جائے۔واضح رہے کہ ریاست کے آئین کی شق 2۔اے کے تحت بنگلہ دیش کا سرکاری مذہب اسلام ہے۔جس پر بنگلہ دیش کے مدارس نے دھمکی دی کہ اگر اسلام کی سرکاری حیثیت ختم کی گئی تو وہ پورے ملک کو مفلوج کر دیں گے۔دو روز بعد بنگلہ دیش کی سپریم کورٹ نے یہ درخواست خارج کر دی۔بنگلہ دیش میں مذہبی اور سیکولر افراد آمنے سامنے آ رہے ہیں۔یہ عمل بنگلہ دیش میں عوامی لیگ کی حکومت کے بعد شروع ہوا۔شیخ حسینہ واجد نے جماعت اسلامی کے رہنماؤ ں کو پھانسی پر لٹکایا۔اس وجہ سے وہاں پر شدت پسند اور روشن خیال آمنے سامنے ہیں۔2015ء کے بعد چھ روشن خیال لکھاریوں کو قتل کیا جا چکا ہے۔ان حالات میں بنگلہ دیش میں مدرسوں کے خلاف بھی ایک مہم چل نکلی ہے اور وہاں بھی مدرسے بند کرنے تک کی باتیں ہونے لگی ہیں۔بنگلہ دیش نے سینکڑوں اسلامی مدرسوں کو وہاں کے مرکزی سیکولر نظام تعلیم میں ضم کرنے کا پروگرام بنایا ہے۔ حکام کے مطابق اس پروگرام پر 70 ملین ڈالر خرچ ہوں گے بنگلہ دیش میں مجموعی طور پر تین کروڑ بیس لاکھ بچے زیر تعلیم ہیں، جن میں سے پچاس لاکھ سے زائد مدرسوں میں پڑھتے ہیں۔ 2010 میں حکومت کی طرف سے کروائے گئے ایک سروے کے مطابق سرکاری سکولوں میں تعلیم حاصل کرنے والے بچوں کے مقابلے میں مدرسوں میں پڑھنے والے بچے انگلش اور ریاضی کے مضامین میں کمزور تھے۔وزارت تعلیم کے ایک ترجمان کے مطابق مدرسوں کے نظام تعلیم میں قومی معیار کے مطابق بہتری لائی جائے گی اور وہاں کے اساتذہ کو ٹریننگ دی جائے گی۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ مدرسوں میں بہتر سہولیات کا بندوبست بھی کیا جائے گا، مدارس کے اساتذہ کی تربیت کی جائے گی تاکہ وہ ریاضی، سائنس، انگریزی اور انفارمیشن ٹیکنالوجی جیسے مضامین پڑھا سکیں۔ اس پروگرام کو ایشائی ترقیاتی بینک کی معاونت حاصل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مدارس پر تنقید کی جاتی ہے کہ وہاں پر بچوں کو صرف اسلامی علوم کی تعلیم دی جاتی ہے اور عصر حاضر کے علوم سے محروم رکھا جاتا ہے۔ اس پروگرام کے تحت مدارس کے طلباء کو جدید علوم کی تعلیم دی جائے گی تاکہ وہ ملک کے سیکولر اداروں سے تعلیم حاصل کرنے والے بچوں کے تعلیمی معیار کے برابر آ سکیں۔ اس پروگرام کا مقصد صدیوں پرانے نظام تعلیم کو آہستہ آہستہ جدید بنانا ہے۔‘‘یہ نیا منصوبہ اس پروگرام کا تسلسل ہے جو گزشتہ برس بنگلہ دیش کی حکومت نے متعارف کروایا تھا۔ اس اصلاحاتی پروگرام کے تحت مدارس میں سائنس، انگریزی اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کی تعلیم لازمی قرار دے دی جائے گی۔بنگلہ دیش میں اب کئی مدارس کو حکومتی امدادی رقوم سے چلایا جا رہا ہے، جبکہ بدلے میں مدارس کی طرف سے حکومت کو نصاب میں تبدیلی جیسے اختیارات دیے گئے ہیں۔ بنگلہ دیشی حکومت کی طرف سے یہ بھی مطالبہ کیا گیاہے کہ بچوں اور بچیوں کو اکٹھے تعلیم حاصل کرنے کی اجازت دی جائے۔گزشتہ برس جب انڈیا کی کرکٹ ٹیم نے بنگلہ دیش کادورہ کیا تھا تواس موقع پر مدارس کو بھی بند کر دیا گیا تھا۔

بنگلہ دیش میں دو طرح کے مدارس ہیں ایک عالیہ اور دوسرے قومی، دونوں مدارس میں ابتدائی سے لے کر اعلی ٰ سطح تک تعلیم دی جاتی ہے۔عالیہ کی نگرانی اور امور پر حکومت کی دسترس ہے۔جبکہ قومی مدارس کو عطیات، زکواۃاور صدقات سے چلایا جاتا ہے۔دونوں مدارس کی ڈگریوں کو ملک کے اعلی ٰ تعلیمی ادارے تسلیم کرتے ہیں۔مساجد کی حد تک مکتب اور نورانی مدرسے قائم کئے گئے ہیں۔بنگلہ دیش میں اسلامی تعلیم کا باقاعدہ آغاز سترھویں صدی کے ابتدائی سالوں میں ہوا جب علاقے کے پہلے مسلمان حکمران بختیار خلجی نے مساجد اور خانقاہوں میں مدرسے قائم کئے۔یہ سلسلہ اٹھارویں صدی میں انگریزوں کی آمد تک رہا۔فارسی اس دور میں سرکاری زبان تھی اور عدالتوں میں فقہ حنفی رائج تھی، اس لئے درسِ نظامی کا یہ نصاب اس دور کی دفتری اور عدالتی ضروریات کو پورا کرتا تھا، دینی تقاضوں کی تکمیل بھی اس سے ہوجاتی تھی۔ اس لئے اکثر و بیشتر مدارس کا نصاب یہی تھا اور تقریباً تمام مدارس سرکار کے تعاون سے بلکہ سرکار کی بخشی ہوئی زمینوں اور جاگیروں کے باعث تعلیمی خدمات سرانجام دیتے چلے آرہے تھے۔

مدرسہ عالیہ

برطانوی نظام تعلیم کا مقصد نو آبادیاتی ضروریات کو پورا کرنا تھا۔چونکہ ایسٹ انڈیا کمپنی کو عدالتوں میں شرعی قوانین کے بارے میں مسئلہ تھا جس کا حل یہ نکالا گیا کہ کلکتہ میں 1780ء میں مدرسہ عالیہ قائم کیا گیا۔اس کا نصاب بھی درس نظامی ہی کوچنا گیا۔ جسے لکھنو کے ایک مدبر اور عالم دین ملا نظام الدین سہالوی نے 1747ء میں ترتیب دیا تھا۔درس نظامی میں تب گرامر، عربی، فلسفہ، ریاضی اور فلکیات کی تعلیم بھی دی جاتی تھی۔1857ء کی جنگِ آزادی میں مسلمانوں کی ناکامی کے بعد جب دہلی کا اقتدار ایسٹ انڈیا کمپنی سے براہِ راست تاجِ برطانیہ کو منتقل ہوا اور باقاعدہ انگریزی حکومت قائم ہوگئی تو سرکاری زبان فارسی کی بجائے انگریزی کردی گئی اور عدالت سے فقہ حنفی کوخارج کرکے برطانوی قوانین نافذ کردیئے گئے۔جس کے بعد مدرسہ عالیہ کی حیثیت ختم ہو کر رہ گئی کیونکہ اس کی ڈگری کو کلکتہ یونیورسٹی بھی تسلیم نہیں کرتی تھی۔

لیکن مدرسہ عالیہ کا نظام موجود رہا۔یہ اپنی مثال میں یکتا ہے جس کی مثال دنیا کے دیگر ممالک میں کہیں نہیں ملتی۔کیونکہ یہ مذہبی اور جدید تعلیم کا امتزاج ہے۔اس کی تعلیم کا دورانیہ بھی 16 سال ہے۔جنہیں پانچ درجوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ابتدائی (ایلیمنٹری)، داخلی(سیکنڈری)، عالم (ہائیر سیکنڈری)، فاضل (بی اے)اور کامل (ایم اے )۔اسلامی علوم کے ساتھ ان مدارس میں انگریزی، بنگالی، سائنس، اخلاقیات، ریاضی، جغرافیہ اور تاریخ وغیرہ بھی پڑھائے جاتے ہیں۔عالیہ مدارس کے تین بڑے مدارس کے سوا باقی کا انتظام لوگوں کے پاس ہے۔سرکاری مدارس کے 80 فیصد اخراجات حکومت برداشت کرتی ہے۔عالیہ مدارس کی تعداد میں گزشتہ 60 سالوں کے دوران 55فیصد اضافہ ہوا ہے۔ان کے فارغ التحصیل طلباء کو مساوی مواقع میسر ہیں۔اس وقت بنگلہ دیش کی یونیورسٹیوں میں 32 فیصد اساتذہ عالیہ مدارس سے پڑھے ہوئے ہیں۔عالیہ مدارس کی اکثریت کاتعلق بریلوی مکتب فکر سے ہے، اس کے بعد کچھ تعداد دیو بندی اور پھر اہل حدیث مدرسوں کی بھی ہے۔ان کا کنٹرول بنگلہ دیش ایجوکیشن بورڈ کے پاس ہے۔

قومی مدارس

قومی مدرسوں میں بھی درس نظامی ہی پڑھایا جاتا ہے تاہم اس کی تاریخ اور نظریاتی وابستگی کی داستان الگ ہے۔1857ء میں جنگ آزادی میں ناکامی کے بعد مسلمانوں کا رد عمل دو طرح کا تھاایک سرسید احمد خان اور سید امیر علی کی طرح کے لوگ تھے جومسلمانوں کے لئے جدید تعلیم کے حامی تھے۔دوسری طرف وہ مذہبی رہنما تھے جو مسلمانوں کی تہذیب و تمدن کا دفاع ہر صورت میں روایتی تعلیم سے ہی کرنا چاہتے تھے۔ ان میں جنگ آزادی کے دو سرکردہ رہنماؤں محمد قاسم ناناتوی اور رشید احمدگنگوہی نے 1866ء میں اتر پردیش میں دیو بند کے مقام پر ایک مدرسہ "دالعلوم " کی بنیاد رکھی یہ سلسلہ اتنا پھیلا کہ آج دیو بند کے نام سے نہ صرف پاک و ہند اور بنگلہ دیش میں ہزاروں مدارس قائم ہیں بلکہ یہ مدارس کے لئے ایک ماڈل بھی قرار پاچکا ہے۔ قومی مدارس کی ساخت بھی دیو بند سے ہی اخذ کی گئی ہے۔ ان کا تعلیمی دورانیہ بھی 16 سال ہے۔ابتدائی (ایلیمنٹری )، متوسط (لوئر سیکنڈری )، ثانوی عائمہ(سیکنڈری )، ثانوی اعلی ٰ (ہائیر سیکنڈری )فضیلت (بی اے )اور تکمیل (ایم اے )۔ دیوبندمدارس میں مضامین کو دو درجوں میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ علوم نقلیہ اور علوم عقلیہ، مضامین میں گرامر، علم النشاء، علم العروض، منطق، فلسفہ، عربی ادب، علم الہٰیات، سیرت، ریاضی اور فقہ شامل ہیں۔ یہ بات بھی دلچسپی سے خالی نہیں کہ بنگلہ دیش میں بریلوی، دیوبندی اور اہل حدیث مدرسوں کے نصاب میں کوئی فرق نہیں۔ تاہم قومی مدرسوں سے فارغ التحصیل ہونے والے طلباء کی ڈگریوں کو حکومت تسلیم نہیں کرتی اس لئے ان طلباء کے لئے مدارس اور مساجد ہی جائے پناہ ثابت ہوتے ہیں۔ چونکہ یہ مدارس لوگوں کے عطیات سے چلتے ہیں اس لئے ان کے منتظمین با اختیار ہیں اور وہ مختلف معاملات پر حکومت پر تنقید کرتے رہتے ہیں۔حکومت ان مدارس میں اصلاحات کی بات بھی کرتی ہے۔قومی مدارس کی تنظیم وفاق المدارس العربیہ کے زیر انتظام 1146مدارس ہیں۔قومی مدارس کے مزید 12 بورڈ بھی ہیں۔جن میں اتحاد المدارس اور دیگر شامل ہیں۔ تما م 3651 قومی مدرسوں میں درس نظامی ہی پڑھایا جاتا ہے۔ کچھ لوگ افراد ی سطح پر بھی بڑے بڑے مدارس چلا رہے ہیں۔ مثال کے طور پر مولانا شیخ مجیب الرحمٰن جکتیبادی کے زیر انتظام سو سے زیادہ مدارس چل رہے ہیں۔

دیو بندی مدارس

بنگلہ دیش کے قومی مدرسے بھی دیو بندی ماڈل پر ہی قائم ہیں۔ تاہم دیو بند قرآن و حدیث کے معاملے پر زیادہ توجہ دیتے ہیں۔ ان کے مدارس میں طلباء کو ہم نصابی سرگرمیوں اور مناظرے کی تربیت دی جاتی ہے۔ تاکہ وہ بریلویوں کے ساتھ دلائل سے بات کر سکیں۔ بنگلہ دیش کی جماعت اسلامی دیو بندی مدارس کی مخالف ہے کیونکہ یہاں پر مولانا مودودی کی کتب پڑھانے کی ممانعت ہے۔ دیو بندی مدارس سیاست میں حصہ نہیں لیتے۔مگر وہ مدارس جن کا کنٹرول سیاسی طور پر متحرک علماء کے پاس ہے ان کے جلسوں میں ان کے اپنے مدارس کے طلبہ شرکت کرتے ہیں۔

بریلوی مدارس

پاکستان و انڈیا کے برعکس بنگلہ دیش میں بریلویوں کو حنفی کہا جاتا ہے۔ ان کے مخصوص مدارس کی تعداد محدود ہے اس لئے ان کا الگ کوئی وفاق بھی نہیں ہے۔ چونکہ عالیہ مدارس کی اکثریت بریلوی مکتب فکر کی ہے ا س لئے جو مدارس بریلوی مدارس کے نام پر قائم ہیں ان کی تعداد پچاس کے قریب ہے اور ان میں سے بھی زیادہ تر کو پیر وں کے خاندان ہی چلا رہے ہیں، یہاں بھی درس نظامی ہی پڑھایا جاتا ہے۔یہ دیو بنداور اہل حدیث کی مخالفت کرتے ہیں۔سیاسی طور پر ان کی وابستگی عوامی لیگ کے ساتھ ہے۔

اہل حدیث مدارس

بیسویں صدی کے آغاز میں یہ مغربی اور شمالی بنگال میں قائم ہوئے۔جن میں سب سے بڑا مدرسہ مولانا بشیر الدین بنگالی کے زیر انتظام تھا۔ جس کا آغاز 1910ء میں ہوا۔1980 میں انقلاب ایران کے بعدان کی تعداد میں اضافہ ہوا کیونکہ سعودی عرب شیعہ انقلاب کے خلاف صف آراء ہو رہا تھا۔ سعودی عرب اور کویت کے عطیات سے کئی مدارس قائم ہوئے۔اس وقت بنگلہ دیش میں قومی اور عالیہ مدارس میں 2000مدارس اہل حدیث کے ہیں۔نصابِ تعلیم وہی ہے جو قومی اور عالیہ مدارس کا ہے تاہم فقہ کے کچھ ابواب اضافی ہیں۔

بنگلہ دیش میں جس تیزی سے آبادی بڑھ رہی ہے اس سے بھی زیادہ تیزی کے ساتھ مدارس کی تعداد بڑھ رہی ہے۔ اس وقت وہاں پر قومی مدارس کی تعداد 6500ہے جن میں 15لاکھ طلباء زیر تعلیم ہیں جبکہ عالیہ مدارس کی تعداد 8410ہے جن میں زیر تعلیم طلباء کی تعداد 3597453ہے۔