working
   
 
   
Untitled Document
موجودہ شمارہ

Untitled Document


Untitled Document
 
Bookmark and Share
10 April 2015
تاریخ اشاعت

 آرمی پبلک سکول پر حملے کے بعد دینی مدارس کا مسئلہ

خصوصی گوشہ ۔۔مدارس کا مسئلہ

مدارس کا مسئلہ نیشنل ایکشن پلان اور موجودہ تناظر

صاحبزدہ محمد امانت رسول

صاحبزادہ امانت رسول ادارہ فکرِجدید لاہور کے سربراہ ،ماہنامہ ’’روحِ بلند‘‘ کے مدیر اور کئی کتابوں کے مصنف ہیں ۔ پاکستان میں مدارس کا مسئلہ کیسے شروع ہوا اورآج یہ مسئلہ کس نہج پر پہنچ چکا ہے ، اس موضوع کا احاطہ کرتے ہوئے انھوں نے اس مسئلے کے حل کی تجاویز بھی دی ہیں ۔

ہمارا سماج، مذہب اور رسوم کی بنیاد پر تفریقات کا شکار ہے یہ گھاؤ اتنا گہرا ہے کہ اس کا علاج اتنا آسان نہیں ہے جتنا ہمیں پڑھایا اور بتایا جاتا ہے۔ بدقسمتی سے، اس زخم کو گہرا کرنے میں ’’اہل مذہب‘‘ نے بھی ایک بھیانک کردار ادا کیا ہے۔ ہمارے معاشرے میں مذہب کے نمائندہ مرکز، مسجد اور مدرسہ ہیں اور یہ دونوں فرقوں کی بنیاد پر تقسیم ہیں۔ تخلیق پاکستان کے ساتھ ہی فرقہ واریت کا زہر بھی پاکستان میں منتقل ہوا کیوں کہ اس وقت تک اہل سنت میں دو فرقے بریلوی اور دیوبندی کے نام سے وجود میں آچکے تھے۔ دنیا کے کسی کونے میں اتنی تفریق نہیں ہو گی جتنی تفریق برصغیر میں موجود ہے۔ بریلوی، دیوبندی اور اہلحدیث کا نصاب تعلیم کچھ فرق کے ساتھ ایک جیسا ہونے کے باوجود، سوچ اور ماحول ایک جیسا نہیں تھا اور نہ ہے۔ چونکہ مدارس تقسیم، تکفیر اور تردید کی بنیاد پر وجود میں آئے، لہٰذا اس میں دو عنصر کا پیدا ہونا لامحالہ تھا۔ ایک سوچ یہ کہ ہم ہی حق پر ہیں اور دوسرا بطلان پر قائم ہے، دوسرا یہ کہ ہم اِسے دلائل سے ثابت کر سکتے ہیں کہ ہم ہی اسلاف کے مسلک پر قائم ہیں۔ اسی سوچ سے مکالمہ کے بجائے مناظرہ کا کلچر پیدا ہوا، اصل فساد یہاں سے پیدا ہوا۔ اہم پہلو یہ بھی ہے کہ مدارس سے رجالِ کار تیار نہ ہو سکے۔ معاشرے میں ان کا کردار مسجد اور مدرسہ تک ہی محدود رہا کیونکہ ان کی قابلیت اور تعلیم اس سے زیادہ نہیں تھی شاید اس لئے پاکستانی معاشرے میں مساجد، مدارس اور اب خانقاہیں زیادہ وجود میں آچکی ہیں۔

اس مسئلے کا حل یہ تھا کہ ایسے افراد کی سرپرستی ریاست کرتی اور انہیں Business unitبنا کر دیتی۔ یہ تجویز تخلیق پاکستان کے فوراً بعد بھی دی گئی تھی کہ روائتی مذہبی تعلیم سے وابستہ افراد بڑی تعداد میں ہجرت کر کے پاکستان آرہے ہیں۔ ان افراد کو Business unit بنا کر دئیے جائیں ورنہ پاکستان کی ہر گلی میں ہر مسلک کی مساجد ہوں گی۔ اس کا نتیجہ یہ ہو گا پاکستان میں فرقہ وارنہ جنگ شروع ہو جائے گی۔ قائد اعظم رحمۃ اللہ علیہ دنیا سے جلد رخصت ہو گئے اور بعد کے آنے والوں کا مسئلہ پاکستان نہیں تھا۔

پاکستان کی تخلیق کو 69سال ہونے والے ہیں ہم اور ہماری ریاست نے کبھی اس مسئلے کی طرف توجہ ہی نہ کی، اگر توجہ نہ کرتے تو پھر بھی معاملہ کہیں ٹھہر جاتا لیکن ہم نے اس تفریق کو instigateکیا جس وجہ سے اس کی جڑیں اور مضبوط ہو گئیں۔ جب افغانستان کی جنگ کا زمانہ آیا تو مدارس کے علماء اور طلباء کو اس جنگ میں جھونک دیا گیا۔ جناب ضیاء الحق مرحوم نے مذہبی طبقے سے حمایت حاصل کرنے کے لئے مدارس کو سالانہ امداد دینا شروع کر دی۔ بہت سے مذہبی شعبے اور عہدے تخلیق کئے گئے جن پہ علماء کرام کو براجمان کیا گیا، یہ سب کچھ اسلامائزیشن کے نام پہ ہوا۔ اسلام اور مذہبی طبقے کو باہمی طور پر لازم و ملزوم کر دیا گیا۔ ضیاء الحق مرحوم کے پاس سنہری موقع تھا کہ وہ بھٹو مرحوم کا طرزِ حکومت اختیار کرنے کے بجائے اعتدال و توازن کا راستہ اختیار کرتے کہ جس میں اسلام کے اصول و ہدایات تو ہوتیں لیکن مذہبی طبقہ کے اثرات و اختیارات نہ ہوتے لیکن ایسا نہ ہو سکا۔ اسلام کے نام پہ مدارس و مساجد کے علماء کرام کو Enpowerکیا گیا۔ اس کے نتائج دو خرابیوں کی صورت میں دکھائی دئیے۔ ایک یہ کہ پاکستان میں فرقہ وارانہ جنگ شروع ہو گئی، فرقہ واریت کی جنگ میں شیعہ سنی قتل ہونے لگے۔ 1990سے 1999ء تک، 411شیعہ، اور 212 سنی قتل کر دئیے گئے۔ دوسرا یہ کہ 9/11 کے بعد ریاست نے جب اپنی پالیسی بدلی تو افغانستان کی جنگ سے معطل ’’مجاہدین‘‘ کے ایک گروہ نے ’’اسلام اور کفر کی جنگ‘‘ کا مرکز پاکستان کو بنا لیا اور پاکستان میں بم دھماکے اور خود کش حملے شروع ہو گئے۔ بم دھماکوں اور خودکش حملوں میں بلاتفریق مسالک و مشارب عوام و خواص سب مارے جانے لگے۔ ظلم بالائے ظلم جب بم دھماکوں اور خودکش حملوں نے گھر گھر صف ماتم بچھا رکھی تھی اس وقت مذہبی سیاست کے قائدین نے قوم کو اس بحث میں الجھا رکھا تھا کہ جب ہم انہیں ماریں گے تو واضح بات ہے وہ بھی ہم پر حملہ کریں گے، خودکش حملے ردّعمل ہیں، ہمیں دہشت گردوں کے ساتھ بیٹھ کر مذاکرات کرنے چاہئیں۔ مذاکرات کے لئے ٹیمیں بنائیں گئیں، عوام کو بتایا گیا کہ حکومت و ریاست مذاکرات کے لئے مخلص نہیں ہیں۔ ورنہ دہشت گرد تو مذاکرات کی میز پہ آنے کے لئے بے قرار و بے چین ہیں۔ یہی مذہبی طبقہ ہے جو دہشت گردوں کو شہید کہتا اور عوام کو Confuse کرتا تھا۔ اگر ان رہنماؤں کے پس منظر میں جائیں تو ان کا تعلق یا فرقہ سے ہے یا مدرسہ سے۔ بدقسمتی سے ہم نے کبھی اس کے گہرے اثرات اور نتائج کی طرف توجہ نہیں کی۔ ایک طبقہ خودکش بموں کی مخالفت فقط اقرار کی حد تک کر رہا تھا کیونکہ دہشت گرد ان کے ہم فرقہ تھے۔ دوسرا مسلک ان کی مخالفت تکرار سے کر رہا تھا کہ یہ اس کے مخالف مسلک کے لوگ کر رہے ہیں۔

بریلوی مسلک کے علماء نے افغانستان جنگ کی مخالفت کی تھی جب کہ دیوبندی علماء نے اس کی حمایت کی تھی اس لئے مسلک دیوبند آج تک اس کے نتائج بھگت رہا ہے اور شیعہ سنی فسادات میں بھی ایسے ہی علماء کا کردار ہے جن کا تعلق بھی اسی مسلک سے رہا وجہ صرف ایک ہے جب آپ قلم و کتاب کے بجائے تلوار و تفنگ ہاتھ میں پکڑا دیں گے تو پھر پکڑنے والے کی مرضی ہے کہ وہ کسے مارے اور کسے نہ مارے۔ خیر! ہم نے تو قلم و کتاب سے بھی تلوار و تفنگ کا کام ہی لیا ہے کہ نوبت بایں جا رسید۔

16دسمبر 2014ء کا دن پاکستانی تاریخ بلکہ انسانی تاریخ کا المناک دن ہے۔ آرمی پبلک سکول (پشاور )میں دہشت گردوں نے فائرنگ سے 145کے قریب بچوں کو موت کی نیند سُلا دیا۔ بد قسمتی سے، قتل و غارت، دہشت گردی، اور فساد فی الارض کی یہ تمام کاروائیاں اسلام کے نام پہ کی جارہی تھیں ان کاروائیوں کا جواز بھی اسلام سے پیش کیا جارہا تھا ....... دنیا میں ایسے واقعات ہوتے ہیں جن میں سکول، کالج یا یونیورسٹی کے نوجوانوں کو نشانہ بنایا گیا۔ لیکن ایسی حرکت کرنے والا نفسیاتی مریض یا پاگل ہوتا ہے۔ پاکستان میں ایسی بہیمانہ اور ظالمانہ حرکت پہ باقاعدہ دلائل پیش کیے جاتے اور دین کی روشنی میں اُس کا جواز تلاش کیا جاتا رہا۔ دہشت گردوں کے ہر واقعہ کو غیر مسلم قوتوں کے کھاتے میں ڈالنے والوں سے سوال کیا جانا چاہیے کہ اس منہجِ فکر کا محاکمہ و خاتمہ کیسے ہو؟ جو اپنے غیر انسانی فعل کو بھی دین کی روشنی میں جائز قرار دیتے ہیں۔ کیا یہ بھی یہود و ہنود کی سازش ہے یا ہم مسلمانوں کا علمی و اخلاقی زوال جس وجہ سے، ہم آج اس مقام پہ پہنچے ہیں کہ 145بچوں کے قتلِ عام کے جواز کی دلیل بھی دین سے پیش کی گئی۔ وہ دین جو، رحمۃ اللعالمین اور رب العالمین کا دین ہے۔

اس سانحہ کے بعد نواز حکومت نے 24دسمبر 2014ء کو تمام سیاسی جماعتوں کی کانفرنس منعقد کی جس میں دہشت گردی کے مسئلے کو حل کرنے کے لئے نیشنل ایکشن پلان کو تشکیل دینے کی منظوری دی گئی۔

نیشنل ایکشن پلان میں کچھ ایسے نکات ہیں جن کا بلاواسطہ یا بالواسطہ جامعات سے تعلق بنتا ہے، مثلاً

(1) مذہبی انتہا پسندی کا خاتمہ۔

(2) مدارس کی رجسٹریشن اور انہیں نظام میں لانا۔

(3) فرقہ واریت پھیلانے والے عناصر کے خلاف ایکشن۔

تادم تحریر رپورٹ کے مطابق نیشنل ایکشن پلان کے تحت اس وقت ملک میں رجسٹرڈ مدارس کی تعداد 699ہے۔ 16 فروری تک نفرت انگیز تقریر اور مواد کی مد میں 2471 مقدمات رجسٹرڈ کئے گئے اور ان مقدمات کے تحت 2345 افراد گرفتار ہوئے اور 73 دکانوں کو بند کر دیا گیا۔ لاؤڈ اسپیکر کے غلط استعمال پر 9945 مقدمات درج کئے گئے جن میں گرفتار افراد کی تعداد 10177 ہے۔ ملک میں 182 مشکوک مدارس کو بند کر دیا گیا جن میں پنجاب میں 2، سندھ میں 167اور کے پی کے میں 13 مدارس شامل ہیں جبکہ سندھ میں 92 غیر اندراج شدہ مدارس کو بھی بند کر دیا گیا۔ ملک میں غیر ملکی امداد سے چلنے والے 190 مدارس جن میں پنجاب کے 147 سندھ کے 6، خیبرپختونخواہ کے 7 اور بلوچستان کے 30 مدارس شامل ہیں۔

نیشنل ایکشن پلان کے ذریعے دہشت گردی پہ کافی حد تک قابو پایا جا چکا ہے اور مزید قابو پالیا جائے گا لیکن انتہا پسندی کے خاتمے کے لئے ہمیں اپنے سماج کی اصلاح کی طرف لوٹنا ہو گا۔ اس میں دوبارہ ریاست کو اپنا کردار ادا کرنا ہو گا کہ وہ مساجد کے نظام کو بھی اپنے ماتحت لائے، چونکہ مسجد میں جمعہ کا خطبہ ریاست کا نمائندہ دیتا ہے، مقرر کردہ خطیب بھی ایک لحاظ سے ریاست کا نمائندہ ہوتا ہے۔ اگر ریاست خطبات کی ذمہ داری اپنی زیرِنگرانی رکھے تو اِس فرقہ واریت اور انتہا پسندی کو کنٹرول کیا جا سکتا ہے اِسی طرح مدارس کا نصاب جس کی Expiry dateگزر چکی ہے اس میں اصلاح کی کوشش کر سکے تو انتہا پسندی اور فرقہ واریت کے عفریت کو مزید قابو کیا جا سکتا ہے ورنہ کچھ سالوں بعد ہمیں دوبارہ انہی حالات سے گزرنا ہو گا جن حالات سے ہم اب گزر رہے ہیں کیونکہ ریت کے گھروندے کبھی مستحکم اور دیرپا نہیں ہوتے۔

مدارس و جامعات کے متعلق چند گزارشات ہم پیش کرنا چاہتے ہیں ہماری ان گزارشات کو محدود تناظر اور مختصر المیعاد بنیادوں پر دیکھا جائے، ورنہ وسیع تناظر اور طویل المدت بنیادوں پر اس نظام کی اصلاح کے لئے مسلسل علیحدہ کوششوں کی ضرورت ہے۔

تجاویز:

(1) جامعات کے موجودہ نظام میں جدید عربی کی طرف توجہ کی ضرورت ہے۔

(2) تمام مسالک کے علماء و مدرسین کو ایک دوسرے کے ہاں دعوت گفتگو دی جائے

(3) ایمان اور محبت (خدا و رسول ﷺ) جیسے مشترکات پہ باہمی تعلقات کو رواج دیا جائے۔

(4) ایک دوسرے کے نقطہ نظر کو تکفیر و تضلیل کے فتووں کی نظر کرنے کے بجائے، علم و استدلال سے موضوع بحث بنایا جائے۔

(5) طلباء کرام کی ظاہری بود و باش کو کسی خاص طرز کا پابند نہ بنایا جائے تاکہ وہ معاشرے سے علیحدہ طبقہ متصور نہ ہوں۔

(6) طلباء کرام میں Civic Sence بھی تعلیم و تربیت کے ذریعے پیدا کی جائے۔

(7) جامعات میں طعام و قیام کا ایسا انتظام کیا جائے جو مہنگا نہ ہو لیکن انسانی انا کے خلاف بھی نہ ہو۔

(8) جامعات میں مہتممین و منتظمین کی اولاد کے لئے حصول تعلیم لازمی ہو تاکہ جس مادر علمی سے دوسروں کی اولادیں فیض یاب ہو رہی ہیں ان کی اولادیں بھی وہیں سے فیض یاب ہوں۔

(9) مسالک کے تعلیمی بورڈ مدرسین و طلباء کرام کے لئے، خصوصاً عالم عرب کے اداروں کے تعلیمی دوروں کا بھی انتظام کریں تاکہ علماء کرام کو جہاں نصاب تعلیم سے آگاہی ہو وہاں انہیں دنیا کی ترقی و تبدیلی سے بھی آشنائی ہو۔

(10) مدارس میں داخلے کے لئے عصری تعلیم کی کم از کم حد مقرر کی جائے اس سے پہلے کوئی بھی داخلہ لینے کا مجاز نہ ہو۔

(11) جامعات میں مدرسین کی تقرری کے لئے ایک رائٹیریا مقرر کیا جائے۔

(12) مختلف مسالک کے اساتذہ کا مدارس میں تدریس کے لئے تقرری کو بھی رواج دیا جائے۔

ریاست کے علاوہ یہ بھاری ذمہ داری اہل علم و دانش پہ بھی عائد ہوتی ہے کہ وہ اس معاملے میں حکومت کی رہنمائی کریں اور معاشرے کی اصلاح کا کام بھی جاری رکھیں۔ حکومت فقط قانون سازی کر سکتی ہے اور اس قانون کا اطلاق و نفاذ کر سکتی ہے لیکن ذہن سازی اور انسان سازی کا کام معاشرے کے اہل علم و دانش ہی کرتے ہیں لہٰذا انہیں بھی اپنی ذمہ داریوں سے غافل نہیں ہونا چاہیے۔